پھر وہی ہندو۔ مسلم سیاست، بنگال اور آسام میں ماحول خراب کیا جارہا ہے

کیا لوک سبھا انتخابات میں بھی عوامی مسائل پر فرقہ پرستی حاوی رہے گی ؟

شبانہ اعجاز

نفرت کی سیاست کو ختم کرنے کے لیے سول سوسائٹی کو آگے آنے کی ضرورت
انتخابات کا موقع آتے ہی جہاں لیڈروں کی سیاسی سرگرمیاں تیز ہوجاتی ہیں اور وہ نئے وعدوں کی لمبی فہرست کے ساتھ عوام کے درمیان نظرآتے ہیں وہیں عوام بھی لیڈروں کے ساتھ حساب کتاب کرتے نظر آتے ہیں۔ حساب کتاب ان باتوں کا جو لیڈروں نے گزشتہ الیکشن میں عوام سے کیے تھے۔ عوام ان اسکیموں اور وعدوں کا حساب کتاب ان سے لیتے ہیں۔ لیکن حالیہ برسوں میں دیکھا گیا ہے کہ اب ملک میں انتخابات ترقی، تعلیم ،صحت ، روزگار اور دیگر اہم مسائل کو سامنے رکھ کر نہیں لڑے جاتے نہ ہی عوام کو حساب کتاب کا موقع دیا جاتا ہے۔ اب فرقہ پرستی کا جنون اس قدر حاوی ہوگیا ہے کہ تمام اہم مسائل پس منظر میں چلے گئے۔ امسال ملک میں ہونے والے لوک سبھا انتخابات کی تیاریاں شروع ہو چکی ہیں۔ ہر پارٹی کے تمام بڑے اور چھوٹے لیڈر اپنی اپنی سیاسی سرگرمیوں کے ساتھ میدان میں ہیں۔ وہیں مرکز میں برسر اقتدار بی جے پی کی جانب سے بھی انتخابات کی تیاریاں زوروں پر ہیں۔ بی جے پی کے تمام بڑے لیڈروں نے الیکشن کے لیے اپنا مورچہ سنبھال لیا ہے ۔ وزیراعظم بھی الیکشن مہم میں پیش پیش نظر آرہے ہیں لیکن یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا اس بار پچھلے انتخابات کے دوران کیے گئے وعدوں کا حساب عوام کے سامنے رکھا جائے گا یا پھر فرقہ ورانہ چال ہی حاوی ہوگی؟ انتخابات کی سرگرمیوں پر نظر ڈالیں تو کچھ ایسا ہی نظر آتا ہے۔ وزیراعظم نے بنگال میں گزشتہ 2 مارچ کو کئی اسکیموں کا افتتاح کیا ہے اور ساتھ ہی ترنمول کانگریس اور دیگر اپوزیشن پارٹیوں پر سیاسی وار بھی کیے۔ وزیراعظم نے صاف طور پہ کہا کہ بنگال میں فنڈ بھیجے جانے کے باوجود بنگال کی برسراقتدار ترنمول کانگریس خرچ نہیں کرتی ۔ حکومت بدعنوانی پر قابو پانے میں ناکام ہے۔ ان دنوں بنگال میں سندیش کھالی کا موضوع چھایا ہوا ہے۔ ترنمول کانگرس اس معاملے میں عوام کی ناراضگی کا سامنا کر رہی ہے جبکہ بی جے پی بھی اس کو عوام کے قریب جانے کا موقع ہاتھ سے دینا نہیں چاہتی۔ سندیش کھالی میں خواتین کے احتجاج کے بعد ترنمول کانگرس کے جن تین لیڈروں پر الزام لگائے گئے تھے انہیں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ گرفتارشدہ تین مجرمین میں ایک کا نام شیخ شاہجہاں ہے اور بس اس معاملے کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کے لیے یہی ایک نام کافی تھا۔ خواتین نے الزام لگایا ہے کہ تینوں لیڈر انہیں زیادتیوں کا نشانہ بناتے اور ان کی زمینوں پر قبضے کرتے تھے۔ خواتین کے الزامات حیران و پریشان کن ہیں لیکن اس معاملے کو جس سیاسی رنگ میں پیش کیا گیا اس نے خواتین کی تحریک کو بھی متاثر کیا ہے ۔اس پورے معاملے کو ہندو مسلم کا رنگ دے کر بھاجپا بنگال سے دلّی تک احتجاج کررہی ہے۔ سپریم کورٹ میں اس معاملے پر عرضی داخل کی گئی ہے لیکن سپریم کورٹ نے سندیش کھالی معاملے کا موازنہ منی پور سے کیے جانے پر ناراضگی ظاہر کی ہے اور سی بی آئی اور ایس ائی ٹی ٹیم کی نگرانی میں تحقیقات کے مطالبے کو رد کرتے ہوئے کہا کہ ایسا مت کریں بلکہ وہ یعنی عرضی گزار کلکتہ ہائی کورٹ جائیں ۔ شاہ جہاں شیخ کی گرفتاری کے ساتھ اب ہندو مسلم کارڈ تیز ہوتا جا رہا ہے۔ شاہ جہاں کی گرفتاری کے بعد ایسے الفاظ کا استعمال کیا جارہا جن سے مسلمانوں کی تضحیک ہوتی ہے ۔ سوال یہ کہ کیا ہر الیکشن صرف ہندو مسلم زاویے کو ہی سامنے رکھ کر لڑا جائے گا اور عوام اس کی قیمت چکاتے رہیں گے۔ حالات ایسے بنے ہیں کہ سیول سوسائٹی نے بھی اب اس معاملے پر بولنا شروع کردیا ہے۔ سیول سوسائٹی نے سندیش کھالی کے واقعہ پر مسلمانوں کو نشانہ بنائے جانے پر حیرانی کا اظہار کیا ہے۔ کولکاتہ پریس کلب میں منعقدہ پریس کانفرنس میں سیول سوسائٹی کی جانب صاف طور پر کہا گیا کہ اس معاملے پہ جو بھی قصوروار پایا جائے اسے سزا دی جائے اس کے خلاف کارروائی کی جائے اور جو اس کے ظلم کا شکار ہوئے ہیں ان کی مدد کی جائے انہیں تحفظ کا احساس دلایا جائے۔ لیکن ان سب سے پرے صرف ہندو مسلم کی سیاست کی جا رہی ہے جس سے بنگال میں تناؤ دیکھا جا رہا ہے۔ سماجی کارکنوں نے جلد ہی سندیش کھالی کا دورہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ عوام میں پھیلی ہوئی ایک دوسرے کے خلاف نفرت کو ختم کیا جاسکے۔ سماجی کارکن محمد اشفاق نے کہا کہ نفرت کی سیاست کو ختم کرنے کے لیے سماجی کارکنوں کو آگے آنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ملک کی موجودہ صورتحال کے لیے بی جے پی کو ذمہ دار بتاتے ہوئے کہا کہ بی جے پی صرف ہندو مسلم کی سیاست کے سہارے ہی جیت حاصل کرنا چاہتی ہے۔ سندیش کھالی میں شاہ جہاں شیخ ایک دبنگ لیڈر ضرور تھا لیکن اس سے صرف ایک خاص طبقے کے لوگ ہی پریشان نہیں تھے بلکہ اس کی دادا گیری کا خمیازہ ہر کمیونٹی کے لوگوں کو بھگتنا پڑتا تھا۔ ساتھ ہی کولکاتہ سے 70 کیلو میٹر دور ضلع 24 پرگنہ کےگاؤں سندیش کھالی میں لوگ ہمیشہ ہی آپسی اتحاد کا مظاہرہ کرتے نظر آتے تھے لیکن یہاں خواتین کے احتجاج کو جس طرح ہندو مسلم فرقہ وارانہ رنگ دیا گیا، اس کے اثرات واضح نظر آرہے ہیں ۔
ادھر آسام میں بھی کئی ایسے مسائل ہیں جن پر آسام حکومت کو جواب دینا ہے۔ خاص کر بیروزگاری آسام میں ایک بڑا مسئلہ ہے۔ کرپشن کے معاملے میں بھی آسام حکومت سوالوں کے گھیرے میں ہے لیکن بجائے اس کے کہ ان سب مسائل پر عوامی بحث شروع ہوتی، ہندو مسلم معاملے کو اچھالنے کی سیاسی کوشش تیز کردی گئی ہے۔ آسام کے وزیر اعلی کی جانب سے میاں جی کے لفظ استعمال کیے جارہے ہیں ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا گیا کہ راہل گاندھی کی نیائے یاترا مسلمانوں کو لبھانے کی کوشش ہے ۔ مدارس کو نشانہ بنایا گیا اور آب آسام سرکار نے مسلم میرج ایکٹ میں ترمیم کا فیصلہ کر کے ایک بار پھر مسلمانوں میں بے چینی پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ ایک طرف مسلم طبقہ اپنے حقوق پر کی جانے والی سیاست سے بےچینی کا شکار ہے تو دوسری طرف ہندو طبقے کے لوگ یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر اس طرح کا فیصلہ کیا جا رہا ہے تو اس میں غلط کیا ہے۔ انتخابات سے پہلے این آر سی کے نام پر بھی مسلمانوں کو کہیں نہ کہیں خوفزدہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ مرکزی حکومت کی جانب سے صاف طور پر کہا گیا کہ انتخابات سے پہلے این آر سی لاگو کیا جائے گا۔ اس اعلان کے ساتھ ہی مسلمانوں میں بے چینی نظر آئی۔ کئی سیاسی پارٹیوں کے لیڈروں نے اس معاملے پر گرما گرم بیانات دے کر این آر سی کے معاملے کو خاص بنا دیا ہے۔ بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے صاف طور پر کہا کہ وہ جب تک زندہ رہیں گی بنگال میں این آر سی لاگو ہونے نہیں دیں گی۔ ممتا بنرجی نے اپنے اس بیان سے اپنے ووٹ بینک کو محفوظ کرنے کی کوشش کی ہے۔ بنگال کے لوگوں کو بھی احساس ہے کہ بنگال میں وہ این آر سی کے معاملے پر ان کے ساتھ کھڑی ہوں گی۔ وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے گزشتہ دنوں یہ کہا کہ مرکزی حکومت نے بنگال کے کئی اضلاع میں آدھار کارڈ کو غیر فعال کردیا ہے جو ہو سکتا ہے کہ این آر سی کی پہل ہو۔ ان کے اس بیان سے بھی لوگوں میں بے چینی دیکھی گئی اور سماجی تنظیموں نے بھی این آر سی کے خلاف اپنی مہم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ایسے میں کہا جاسکتا ہے کہ جو ملک کے سلگتے ہوئے مسائل ہیں وہ پیچھے رہ گئے ہیں۔ مرکز کی جانب سے کئی اسکیموں کو بند کردیا گیا ہے۔ لیکن اس پر کوئی سوال نہیں اٹھائے جارہے ہیں۔ فرقہ وارانہ موضوعات پر انتخابات لڑنے کی کوشش میں شاید کامیابی مل جائے اور فاتح پارٹی اپنی فتح کا جشن بھی منالے لیکن ملک میں جگہ جگہ نفرت کے جو بیج بوئے گئے ہیں اسے ختم کرنے میں شاید برسوں لگ جائیں۔

 

***

 


ہفت روزہ دعوت – شمارہ 10 مارچ تا 16 مارچ 2024