مرکز اور ریاست کے درمیان سیاسی کشمکش سے فلاحی کام متاثر

دیہی عوام بھاری قیمت چکانے پر مجبور۔ ممتا بنرجی کے مودی حکومت سے مفاہمت کے اشارے!

کولکاتہ:(دعوت نیوز نیٹ ورک )

مغربی بنگال حکومت اور مرکزی حکومت کے درمیان تنازع اور تعطل گزشتہ کئی سالوں سے جاری ہے۔ تاہم 2021 کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی شکست کے بعد جہاں ممتا بنرجی کی خود اعتمادی ساتویں آسمان تک پہنچ گئی وہیں بی جے پی کے لیے یہ شکست توقع کے برخلاف تھی اس لیے اس نے کئی ایسے اقدامات کیے ہیں جس کی قیمت نہ صرف ممتا بنرجی کو چکانی پڑ رہی ہے بلکہ ریاست کے عوام بھی متاثر ہوئے ہیں۔ پہلے مرکزی حکومت کی اسکیموں کی فنڈنگ کے اجرا میں تاخیر کی گئی اور اب کئی اسکیموں کی فنڈنگ ایک سال سے روک دی گئی ہے۔ان حالات میں بنگال حکومت کے خزانہ پر جو پہلے ہی سے قرضوں سے بوجھل ہے بوجھ مزید بڑھ گیا ہے اور اگر فنڈنگ کے اجرا میں مزید تاخیر کی گئی تو حکومت کے لیے فلاحی اسکیموں کو جاری رکھنا مشکل ہو جائے گا۔ظاہر ہے کہ یہ ممتا بنرجی کی سیاست کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ گزشتہ ایک سال سے مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی اسکیم (MGNREGS) سمیت کئی فلاحی اسکیموں کے لیے مرکزی حکومت نے فنڈز جاری نہیں کیے ہیں۔ سیاسی ماہرین بتاتے ہیں کہ دراصل اس کا سیدھا اثر پنچایت انتخابات کے نتائج پر ہوگا۔
چٹ فنڈ گھوٹالہ، ناردا گھوٹالہ اور اب اساتذہ کی تقرری میں بڑے پیمانے پر گھوٹالے نے ممتا حکومت کی ساکھ کو بری طرح سے متاثر کر دیا ہے۔ اساتذہ کی تقرری میں گھوٹالے نے بنگالی نوجوانوں کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔ برسوں سے نوکری کے لیے انتظار کرنے والے قابل نوجوان اس گھوٹالے کی وجہ سے نوکری سے محروم ہو چکے ہیں ۔ان حالات میں ممتا بنرجی نے مرکز سے جاری رسہ کشی اور تعطل کو ختم کرنے کے لیے اپنے طور پر کوشش شروع کر دی ہے۔ وہ بی جے پی اور وزیر اعظم کے خلاف روایتی سخت لہجہ اختیار کرنے کے بجائے مرکزی حکومت سے مفاہمت کرتی ہوئی نظر آ رہی ہیں۔ حتی کہ ایک پروگرام میں انہوں نے آر ایس ایس اور وزیر اعظم کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم مودی کے علم میں لائے بغیر فنڈز روکے گئے ہیں۔ گجرات کے موربی پل سانحہ کے بعد جب صحافیوں نے ان سے اس تعلق سے سوال کیا تو انہوں نے صاف لفظوں میں کہا کہ ’’میں وزیر اعظم کے خلاف کچھ نہیں کہوں گی۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ممتا بنرجی مودی کے سخت ناقد رہی ہیں، ان کے قومی سیاست میں آنے کے عزائم ہیں۔اس کے باوجود ان کی جانب سے مفاہمت کے اشارے بتاتے ہیں کہ ممتا بنرجی اپنی زمین کسی بھی قیمت میں کھونا نہیں چاہتیں۔ اس کے لیے وہ اپنے رویے اور لہجے میں نرمی لانے اور قومی سیاست کے خواب کو چھوڑنے کو تیار ہیں۔ ممتا بنرجی کی مفاہمت کی سیاست کی وجہ سے مرکزی حکومت کا دل نرم ہوگا یا نہیں اب تک اس کے اشارے نہیں ملے ہیں۔
اگرچہ ممتا بنرجی نے ریاست میں صنعت کاری کے لیے حالیہ برسوں میں بنگال گلوبل بزنس سمٹ کے بڑے بڑے پروگرام کیے ہیں، امبانی اور اڈانی جیسے صنعت کاروں نے ان کانفرنسوں میں شرکت کی ہے مگر توقع کے مطابق ریاست میں سرمایہ کاری نہیں ہو سکی ہے۔ حالیہ برسوں میں کوئی بڑی صنعت ریاست میں نہیں آئی ہے۔ امفان، یاس طوفان اور موسمیاتی تبدیلی نے ریاست میں زراعت کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔ اگرچہ ممتا بنرجی کسانوں کو فصل بیمہ اور مالی مدد کرتی ہیں مگر مرکزی حکومت اور ریاست کے درمیان ٹکراو کی وجہ سے بنگال کے کسان ’’مرکزی اسکیم کسان ندھی یوجنا جس کے تحت سالانہ چھ ہزار روپے ملتے ہیں سے محروم ہیں۔ بنگال کے دیہی علاقوں کے عام شہریوں کا انحصار منریگا جیسی اسکیموں پر ہے۔ چناں چہ حالیہ برسوں میں ممتا بنرجی کی حکومت نے منریگا کو نافذ کرنے میں ہمیشہ پہل کی ہے اور اس معاملے میں ریاست کو پہلی پوزیشن رہی ہے۔ 2021-22 کے مالی سال میں مغربی بنگال میں اس اسکیم کے تحت کام کرنے والوں کی تعداد 1,11,19,765 رہی ہے۔اس معاملے میں بنگال ملک بھر میں سر فہرست رہا ہے۔ اس کے بعد راجستھان نے سب سے زیادہ منریگا اسکیم کے تحت روزگار کے مواقع دیے ہیں۔دسمبر 2021کے بعد مرکزی حکومت نے فنڈز جاری کرنا بند کردیے ہیں۔چناں چہ اکتوبر 2022 تک اس میں نمایاں کمی آئی ہے۔
جولائی میں راجیہ سبھا میں ایک سوال کے جواب میں دیہی ترقی کی وزارت نے بتایا کہ MGNREGS کے لیے ریاستوں کے ذمے 3,989.58 کروڑ روپے ہیں۔ اکیلے بنگال کے لیے 2,605.82 کروڑ روپے تھے۔ ایک ماہ بعد وزارت نے ترنمول راجیہ سبھا کے رکن جوہر سرکار کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ مغربی بنگال واحد ریاست ہے جسے سو دنوں کے کام کے لیے کوئی فنڈ نہیں ملا ہے۔ اس کی وجہ مرکزی حکومت کی ہدایات پر عمل نہیں کیا جانا ہے۔
مرکزی حکومت ان اسکیموں کی فنڈنگ روکنے کی کئی وجوہات پیش کرتی ہے۔بی جے پی کی شکایت ہے کہ فنڈ مرکزی حکومت دیتی ہے مگر بنگال میں اس کا نام تبدیل کر دیا جاتا ہے، کئی ایسی اسکیمیں جن کا نام تبدیل کر دیا گیا ہے۔ پردھان منتری گرامین سڑک یوجنا، پردھان منتری گھر یوجنا اور دیگر ہیں جن کے نام بنگال میں تبدیل کر دیے گئے ہیں۔دوسری سب سے بڑی شکایت مرکزی فنڈز کے استعمال میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی کی ہے۔ منریگا اسکیم کے تحت جاب کارڈ رکھنے والے غیر ہنر مند مزدوروں کو جاب ملنا چاہیے مگر اس اسکیم سے ہنر مند افراد بھی فیضیاب ہو رہے ہیں۔مغربی بنگال میں منریگا کے لیے تقریبا 4.42 کروڑ افراد رجسٹرڈ ہیں۔
اس مسئلے پر وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنے تازہ ترین خط میں ممتا بنرجی نے لکھا ہے کہ ’’منریگا دیہی علاقوں میں معاشی طور پر کمزور طبقوں کی اجرت کمانے کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ آواس یوجنا اور گرامین سڑک یوجنا، بے گھر افراد کو مکان فراہم کرنے اور دیہی رابطوں کو بڑھانے کی اہم اسکیمیں ہیں۔ ان اسکیموں پر مرکزی حکومت کی طرف سے اب تقریباً 17,996.32 کروڑ روپے کا فنڈ واجب الادا ہے۔ ریاستی حکومت مرکزی حکومت کی تمام ہدایات کی تعمیل کر رہی ہے۔ اس کے باوجود فنڈز جاری نہیں کیے جارہے ہیں۔دیہی علاقے کے لوگ پریشان ہیں۔
ممتا بنرجی کو تیسری مرتبہ اقتدار میں پہنچانے میں ان کی فلاحی اسکیموں کا بڑا رول رہا ہے۔ مرکزی فلاحی اسکیموں کے علاوہ ممتا بنرجی نے اپنے طور پر کئی فلاحی اسکیمیں شروع کر رکھی ہیں جن میں کنیا شری اسکیم ہے جس کے تحت لڑکیوں کو اعلیٰ تعلیم کے لیے ایک مرتبہ 25 ہزار روپے دیے جاتے ہیں، روپا شری اسکیم ہے جو شادی کے موقع پر دی جاتی ہے۔سواتھی ساتھی کارڈ اسکیم کے تحت فی خاندان علاج کے لیے پانچ لاکھ روپے کا انسورنش فراہم کیا جاتا ہے۔ مگر فنڈ جاری ہونے میں تاخیر کی وجہ سے پرائیوٹ اسپتالیں اس کارڈ کو قبول کرنے میں لیت و لعل سے کام لیتے ہیں۔اسی طرح بنگال کی عام خواتین کو ماہانہ 500 روپے اور قبائلی اور دلت خواتین کو ایک ہزار روپے دیے جاتے ہیں۔ظاہر ہے کہ ان اسکیموں کی وجہ سے ریاستی حکومت کا خزانہ متاثر ہوتا ہے۔ممتا بنرجی کی حکومت پر ایک الزام یہ بھی ہے کہ مرکزی فنڈز کی اسکیموں کو ریاستی حکومت اپنی اسکیموں پر خرچ کر رہی ہے۔
ریاستی حکومت کو اس بات کا علم ہے کہ اگر فلاحی اسکیمیں بند ہوگئیں تو اس سے ممتا بنرجی کی شبیہ کو نقصان پہنچے گا اور اس کا خمیازہ پنچایت انتخابات میں بھگتنا پڑے گا۔اس لیے حکومت نے منریگا کو جاری رکھنے کے لیے کئی ترقیاتی کاموں کی رفتار کو سست کر دیا ہے۔ کئی اداروں سے فنڈز کو روک دیا ہے۔کئی ایسے ادارے ہیں جو حکومت کے فنڈز سے چلتے تھے فنڈز کی قلت کی وجہ سے ٹھپ پڑے ہوئے ہیں۔بنگال اردو اکیڈمی، عالیہ یونیورسٹی اور دیگر تعلیمی اداروں کی فنڈ میں کٹوتی کی گئی ہے۔ان اداروں میں ترقیاتی کاموں کو روک دیا گیا ہے۔ایک سینئر آفیسر نے بتایا کہ ان کے فنڈز کا استعمال حکومت فلاحی اسکیموں پر کر رہی ہے۔دوسری طرف حکومت نے دیہی علاقوں اور زرعی کام کرنے والوں کی بجلی بقایا میں 50 فیصد معاف کرکے انہیں خوش کرنے کی کوشش کی ہے۔
سماجی و قانونی محقق اور آر ٹی آئی کارکن بسوناتھ گوسوامی نے کہا کہ کمپٹرولر اور آڈیٹر جنرل نے 2011-12 کے بعد مغربی بنگال میں MGNREGS پر کوئی آڈٹ نہیں کیا ہے۔ گوسوامی نے لکھتے ہیں ’’مغربی بنگال میں منریگا ہمیشہ سے فنڈنگ اور نفاذ کرنے والی ایجنسیوں کے درمیان تنگ سیاست کا ایک آلہ رہا ہے اور ریاست کی طرف سے فنڈز کی بد انتظامی اور ان میں ہیرا پھیری کے بار بار واقعات ہوتے رہے ہیں۔بسوناتھ چکرورتی کے مطابق مرکزی فنڈز کو منجمد کرنے سے ترنمول کے دیہی علاقوں کے کارکنوں اور لیڈروں کو بھی سخت نقصان پہنچے گا۔ پنچایت کی سطح کے لیڈر اور کارکنان اس طرح کی فلاحی اسکیموں سے بہت ہی مستفید ہوتے ہیں۔ پیسے کے بہاؤ کے خشک ہونے کے ساتھ ترنمول کانگریس کا دیہی کیڈر بھی مایوس ہوتا جا رہا ہے اور کام کا جوش کھو رہا ہے۔ اگر یہ جاری رہا تو پنچایتی انتخابات میں اس کا اثر پڑنا لازمی ہے۔
2021 کے اسمبلی انتخابات کے بعد سے ہی بی جے پی ریاست میں تیزی سے غیر مقبول ہوئی ہے، ضمنی انتخابات میں بائیں محاذ کی واپسی نظر آ رہی ہے۔ ایسے میں یہ کہنا مشکل ہے کہ فنڈنگ روک دیے جانے کا اثر بی جے پی پر نہیں پڑے گا کیوں کہ ممتا بنرجی نے اگرچہ مفاہمت کی سیاست کا اشارہ دیا ہے مگر وہ عوامی جلسوں میں مرکزی حکومت کے رویے اور ان کے ذریعہ فنڈ روکے جانے کو بنگال کے ساتھ ناانصافی سے جوڑتی ہیں۔اس لیے فنڈ روکے جانے کا خمیازہ بی جے پی کو بھی اٹھانا پڑتا سکتا ہے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ ان دونوں کی آپسی رسہ کشی کا خمیازہ کسے بھگتنا پڑ رہا ہے۔ظاہر ہے کہ عام غریب لوگوں کا اس کا بھگتنان بھگتنا پڑتا ہے جن کی زندگی کا انحصار ان اسکیموں پر ہوتا ہے۔سیاسی مبصر اور ماہر تعلیم سورجیت سی مکوپادھیائے کہتے ہیں کہ ’’سیاست کچھ بھی ہو یہ غریبوں کا شکار ہے’’ سیاسی طور پر یہ مناسب ہے کہ مرکز کے فنڈز کو روکے جانے کو بدعنوانی کے خلاف اقدام قرار دیا جائے لیکن اس کا مقصد ریاستی حکومت کو پنچایتی انتخابات سے قبل نقصان پہنچانا ہے۔ اس کے نتیجے میں غریبوں کو اور بھی زیادہ نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ اس میں مرکز اور ریاست دونوں برابر کے قصور وار ہیں۔

 

***

 


ہفت روزہ دعوت – شمارہ 04 ڈسمبر تا 10 ڈسمبر 2022