جامعہ ملیہ اسلامیہ ہر دور میں ظلم اور استبداد کے خلاف برسرِ پیکار

تحریک آزادی کی ذہن سازی کے لیے جامعہ کی بنیاد رکھی گئی ۔ گاندھی جی کی خاص دلچسپی

افروز عالم ساحل

وہ خلافت تحریک کا دور تھا۔ مولانا محمد علی اور شوکت علی، گاندھی جی کے ساتھ اُس وقت ملک کا دورہ کررہے تھے۔ وہ لوگوں سے برطانوی حکومت کے ساتھ عدم تعاون کی اپیل کر رہے تھے۔ ستمبر 1920میں کلکتہ کانگریس کے خصوصی اجلاس میں گاندھی جی نے یہ تحریک پیش کی کہ ملک کی آزادی کے لیے سرکاری تعلیم کا بائیکاٹ کیا جانا چاہیے، یعنی برطانوی حکومت سے اسکولوں اور کالجوں کے لیے سرکاری اعانت نہ لی جائے۔ گاندھی کی نظر میں سرکار سے اعانت لینے کی وجہ سے یہ ادارے ’محکوم ذہنیت‘ کے گہوارے بن گئے تھے۔ گاندھی چاہتے تھے کہ ملک کے اسکولوں اور کالج کے طلباء کو آزادی کے حصول کے لیے قومی نظریے کی تعلیم دی جائے۔ ساتھ ہی سمجھ دار طلباء آزادی کے پیغام کو عام کرنے کے لیے پورے ہندوستان کے دیہی علاقوں میں پھیل جائیں۔ گاندھی کا نظریہ واضح تھا کہ ’’اس حکومت نے رولٹ ایکٹ بنایا خلافت سے متعلق اپنا وعدہ توڑا بدنام زمانہ فوجی عدالتیں قائم کیں ہمارے بچوں کو برطانوی پرچم کے سامنے سر جھکانے پر مجبور کیا۔ اس حکومت کے ساتھ تعاون کرنا، اس کی قانون ساز کونسلوں میں بیٹھنا یا اپنے بچوں کو ان کے اسکولوں میں بھیجنا حرام ہے‘‘۔ مگر محمڈن اینگلو اورینٹل کالج انتظامیہ گاندھی کے اس نظریہ کے خلاف تھا۔

یہی وجہ ہے کہ ٹھیک سو سال پہلے 29اکتوبر 1920کو علی گڑھ مسجد میں شیخ الہند مولانا محمود حسن کی تقریر کے ساتھ ہی جامعہ ملیہ اسلامیہ کے افتتاح کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس وقت علی گڑھ کالج کی مسجد میں پُرجوش طلباء اور استاد موجود تھے۔ شیخ الہند کے ہاتھوں رسم تاسیس ادا ہوئی۔ شیخ الہند کی طبیعت کافی ناساز تھی، اس لیے مشہور خطبہ تاسیس مولانا شبیر احمد عثمانی نے پڑھ کر سنایا۔ وہاں موجود طلباء سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ’’مجھے لیڈروں سے زیادہ ان نونہالان وطن کی ہمّتِ بلند پر آفریں اور شاباش کہنا چاہیے جنہوں نے اس نیک مقصد کی انجام دہی کے لیے اپنی ہزاروں امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ اور باوجود ہر قسم کی طمع اور خوف کے وہ موالات نصاریٰ کے ترک پر نہایت مضبوطی اور استقلال کے ساتھ قائم رہے اور اپنی عزیز زندگیوں کو ملت اور قوم کے نام پر وقف کردیا‘‘۔

شیخ الہند اپنی تقریر میں گاندھی کا ذکر کرنا نہ بھولے۔ انہوں نے طلباء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’’… آپ ہی انصاف کیجیے کہ یہ تعلیم سے روکنا تھا یا اس کے اثر بد سے؟ اور کیا یہ وہی بات نہیں جس کو آج مسٹر گاندھی اس طرح ادا کر رہے ہیں کہ ’’ان کالجوں کی اعلیٰ تعلیم بہت اچھے صاف اور شفاف دودھ کی طرح ہے جس میں تھوڑا سا زہر ملا دیا گیا ہو‘‘۔ خدا کا شکر ہے کہ اس نے میری قوم کے نوجوانوں کو توفیق دی کہ وہ اپنے نفع و ضرر کا موازنہ کریں، اور دودھ میں جو زہر ملا ہوا ہے اس کو کسی بھپکے کے ذریعہ علیحدہ کرلیں۔ آج ہم وہی بھپکا نصب کرنے کے لیے یہاں جمع ہوئے ہیں اور آپ نے مجھ سے پہلے سمجھ لیا ہوگا کہ وہ بھپکا ’’مسلم نیشنل یونیورسٹی‘‘ ہے‘‘۔

اپنی تقریر میں انہوں نے مزید یہ بھی کہا ’’مطلق تعلیم کے فضائل بیان کرنے کی ضرورت اب میری قوم کو نہیں رہی کیونکہ زمانہ نے خوب بتلا دیا ہے کہ تعلیم سے ہی بلند خیالی اور بلند تر اور ہوشمندی کے پودے نشوونما پاتے ہیں اور اسی کی روشنی میں آدمی نجات و فلاح کے رستے پر چل سکتا ہے۔ ہاں ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ تعلیم مسلمانوں کے ہاتھوں میں ہو، اور اغیار کے اثر سے کلیتہً آزاد ہو۔ کیا باعتبار عقائد و خیالات اور کیا باعتبار اخلاق و اعمال اور کیا باعتبار اوضاع و اطوار کے ہم غیروں کے اثرات سے پاک ہوں گے۔ ہماری عظیم الشان قومیت کا اب یہ فیصلہ نہ ہونا چاہیے کہ ہم اپنے کالجوں سے بہت سستے داموں کے غلام پیدا کرتے رہیں… بلکہ ہمارے کالج بغداد اور قرطبہ کی یونیورسٹیوں کے مماثل ہونے چاہئیں۔ اور اس سے پیشتر کہ ہم ان کو اپنا استاد بناتے ہمارے عظیم الشان درس گاہوں کی مماثلت اس طرح ہونی چاہیے جنہوں نے یورپ کو اپنا شاگرد بنایا۔ آپ نے سنا ہوگا کہ بغداد میں جب مدرسہ سلطانیہ کی بنیاد اسلامی حکومت کے ہاتھوں سے رکھی گئی تو اس دن علما نے جمع ہو کر علم کا ماتم کیا کہ ’’افسوس آج سے علم حکومت کے عہدے اور منصب حاصل کرنے کے لیے پڑھا جائے گا‘‘۔ تو کیا آپ ایک ایسے کالج سے فلاح ِ قومی کی امید رکھتے ہیں جس کی امداد اور نظام میں بڑا قوی ہاتھ ایک غیراسلامی حکومت کا ہو‘‘۔

اس موقع پر مولانا محمد علی جوہر نے اپنی تقریر میں یہ واضح کیا کہ ان کا ارادہ ایک علیحدہ ادارہ شروع کرنے کا نہیں تھا، بلکہ علی گڑھ کالج کو حکومت کی چاپلوسی سے آزاد کرنا تھا۔ اس جامعہ کی آنکھ ایک قومی اور سیاسی تحریک کی آغوش میں کھلی۔

جامعہ کھلنے کے ساتھ ہی چرچے میں آگئی۔ لاہور کے ’دی نیشن‘ اخبار نے تو جامعہ کا موازنہ مصر کی الازہر یونیورسٹی سے کیا۔ اخبار نے لکھا ’’مصر میں الازہر مصری قوم پرستی کی جائے پیدائش تھی اور لارڈ ایلنبی کی پالیسیوں کی سب سے بڑی مخالف ہے۔ اور ہم یہ مانتے ہیں کہ علی گڑھ کی ’’نیشنل مسلم یونیورسٹی‘‘ ہندوستان کا ’’الازہر‘‘ ثابت ہوگی۔‘‘

علی گڑھ کی یہ تحریک شاید تھوڑا اور پہلے شروع ہو چکی ہوتی اگر گاندھی جی کو سورت نہ جانا ہوتا۔ اس کا ذکر مولانا محمد علی نے مئی 1927 میں بمبئی میں منعقدہ اشاعت اسلام کے جلسے میں کیا تھا۔ مولانا محمد علی نے اپنی تقریر میں بتایا کہ ’’4اکتوبر 1920 کو میں بمبئی آیا۔ ہم یہاں سے عدم تعاون کا سبق لے کر چلے تو شوکت علی صاحب نے کہا کہ پہلے علی گڑھ چلیں، مگر گاندھی جی نے کہا کہ پہلے سورت چلو، جہاں ایک ایسے اسکول کا افتتاح کرنا ہے، جو حکومت کی مدد نہیں لے گا۔ افسوس کی بات ہے کہ ہم پہلے علی گڑھ نہیں جاسکے‘‘۔

جامعہ سے بیحد پریشان تھی برطانوی حکومت!

محمڈن اینگلو اورینٹل کالج سے الگ ہوکر اس جامعہ کے بننے کے بعد سب سے زیادہ پریشان برطانوی حکمران تھے۔ برطانوی عہدیدار اس یونیورسٹی کی سرگرمیوں کی مسلسل نگرانی کر رہے تھے۔ انہوں نے اس کو اپنی حکومت کے لیے خطرہ سمجھا جس کا تذکرہ خود ان کی رپورٹس میں ملتا ہے۔

16 اکتوبر 1920کو محمڈن اینگلو اورینٹل کالج کے انگلش ہاؤس سے مسز ایف ایم اسکاٹ نے جنرل میکمون کو ایک خط لکھ کر بتایا تھا ’’تین آندولن کاری گاندھی، شوکت علی اور محمد علی یہاں رہ رہے ہیں اور اس کالج میں بغاوت کے لیے 1,800 طلباء پر یہ کہتے ہوئے کام کرہے ہیں کہ ہمیں انگریزوں کو ہندوستان سے بھگا دینا چاہیے‘‘۔
اس خط میں مسز ایف ایم اسکاٹ نے علی گڑھ کے حالات کو امرتسر سے بھی زیادہ بدتر بتایا ہے۔ وہ یہ بھی لکھتی ہیں کہ ’’طلبا نے اپنی پڑھائی بند کردی ہے اور قومی گیت گا رہے ہیں کہہ رہے ہیں کہ کسی کو بھی ان انگریزوں کی زبان نہیں بولنی چاہیے جن کے ہاتھ ہندوستانیوں کے خون سے لال ہیں۔ موجودہ صورتحال یہی ہے‘‘ وہیں 19 اکتوبر 1920 کو حکومت ہند میں محکمہ داخلہ کے سکریٹری ایچ میکفرسن کی جانب سے جنرل میکمون کو لکھے گئے ایک خط میں بتایا گیا ’’ہم نے مقامی حکومت سے اس بات پر غور کرنے کو کہا ہے کہ کیا علی گڑھ میں یورپی برادری کو محفوظ بنانے کے لیے کوئی اضافی حفاظتی اقدامات کیے جانے چاہئیں؟ ‘‘

محکمہ داخلہ میں انٹیلیجنس بیورو کے ڈپٹی ڈائریکٹر پی سی بمفورڈ نے ایک رپورٹ میں لکھا ’’یہاں طلبا کو انگریزی کھیل کو حرام بتایا گیا ہے۔ 180 کے قریب طلباء اس پر عمل پیرا ہیں۔ نیشنل مسلم یونیورسٹی کے طلباء نے دسمبر 1920میں ناگپور کانگریس میں شرکت کی۔ 1921کے اوائل میں یہ پتہ چلا کہ ان میں سے کچھ کابل کے ہربیہ کالج میں ہندوستانیوں سے بات چیت کر رہے ہیں۔ یہی نہیں طالب علموں کو برطانوی حکومت مخالف تشہیر کے مقصد کے لیے بھیجا جارہا تھا۔ نیز شمال مغربی سرحدی صوبہ سے تعلق رکھنے والے افراد کو مختلف برطانوی مخالف عناصر سے رابطے کی خاطر افغانستان جانے کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔ جولائی میں یہ اعلان کیا گیا تھا کہ یہ یونیورسٹی ہندوستان کے ہر صوبے میں قومی اسکولوں کو منسلک کرے گی۔ اکتوبر میں یونیورسٹی میں صرف 62طلبا تھے۔ پرنسپل نے مالی تعاون کے لیے مرکزی خلافت کمیٹی پر دباؤ بنایا۔ گاندھی کی تجویز کے مطابق یونیورسٹی میں ہینڈ اسپننگ اور ویونگ فیکٹری شروع کردی گئی ہے۔ یہ سستا کھدر جلد فروخت کے لیے دستیاب ہوگا۔ 200طلباء برطانوی حکومت کے خلاف پروپیگنڈے کے کام میں مصروف ہیں اور یونیورسٹی 6000 روپے مقروض ہے‘‘۔

محکمہ داخلہ کو بھیجی گئی انٹلی جنس بیورو کی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ گاندھی جی اگست 1921میں علی گڑھ میں تھے۔ انہوں نے وہاں تقریر کی اور کہا کہ ’’سوراجیہ کے حصول کا مطلب یہ ہے کہ پورا ہندوستان ہمارے قابو میں آجائے۔‘‘

جب جامعہ کے طلبا پر گولی چلی…

وزیر اعظم نریندر مودی نے شہریت ترمیمی قانون کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف تبصرہ کیا ہے کہ ان کی شناخت ان کے کپڑوں سے ہوسکتی ہے۔ یہ بات دل چسپی سے خالی نہیں ہوگی کہ جب ملک میں عدم تعاون اور تحریک خلافت چل رہی تھی، تب آزادی کے پروانوں کو بھی ان کے لباس سے پہچانا جاتا تھا۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ گاندھی جی نے 1921 میں غیر ملکی کپڑوں کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل کی تھی۔

گاندھی کی اس اپیل پر تحریک عدم تعاون کے رفقا نے غیر ملکی کپڑے جلانے کے لیے علی گڑھ میں ستیہ گرہ شروع کیا۔ اہل جامعہ اس کی قیادت کر رہے تھے۔ ملحوظ رہے کہ تب جامعہ ملیہ اسلامیہ علی گڑھ میں تھا۔ اسی عدم تعاون کی تحریک کے درمیان 5 جولائی 1921کو علی گڑھ میں فساد ہوا۔ وہ نام نہاد ’دیش بھکت‘ جنہوں نے انگریزوں سے معافی مانگ لی تھی، وہ پولیس کی حمایت کر رہے تھے۔ انہوں نے پولیس کی حمایت میں خواجہ عبدالمجیدصاحب کا گھر جلادیا تھا۔ وہیں پولیس احتجاج کرنے والوں کو ’’لے سوراج ‘‘کہتے ہوئے لاٹھیوں سے بری طرح پیٹ رہی تھی۔ اس سانحے میں ایک پولیس اہلکار سمیت پانچ افراد کی موت واقع ہوگئی تھی۔

جب مہاتما گاندھی کو علی گڑھ سانحے کی خبر ملی تو انہیں اس سے بہت تکلیف پہنچی۔ اس خبر نے ان کو پریشان کر دیا تھا۔ اسی پریشانی میں انہوں نے اس سلسلے میں ایک مراسلہ جاری کیا۔ مراسلے میں لکھا کہ منزل کے اتنے قریب پہنچنے پر اب علی گڑھ کے عوام جوش میں تشدد کا سہارا لے کر تحریک عدم تعاون کے رفقا یا دوسروں کے ذریعہ کیے گئے تشدد کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کرکے کسی قسم کی کمزوری نہیں دکھائیں گے اور یوں گھڑی کی سوئی پیچھے کی جانب گھمانے کی کوشش سے گریز کریں گے۔گاندھی کا یہ پیغام اردو اور ہندی، دونوں زبانوں میں عام کیا گیا اور مقامی قائدین نے علی گڑھ واقعے کی حقیقت کا پتہ لگانے میں بڑی مستعدی دکھائی تھی۔

گاندھی نے علی گڑھ واقعہ کو ایک لمبے عرصے تک یاد رکھا۔ 14 اگست 1921 کے نوجیون (گجراتی) میں ’موت کا خوف‘ کے عنوان سے ایک مضمون میں گاندھی نے لکھا تھا ’’اب تک ملک میں صرف نوجوانوں کی موت ہوئی ہے۔ علی گڑھ میں جن لوگوں نے اپنی جانیں گنوائیں ان کی عمریں 21 سال سے کم تھی۔ انہیں کوئی نہیں جانتا تھا۔ لیکن اب بھی اگر حکومت خون خرابے پر تلی ہوئی ہے تو مجھے یقین ہے کہ اس وقت پہلی جماعت کے کسی فرد کی قربانی دی جائے گی‘‘۔

علی گڑھ واقعہ میں جامعہ کے لوگوں کو مسلسل ہراساں کیا جاتا رہا۔ بہت سے افراد گرفتار بھی کیے گئے۔ گاندھی اس پر مستقل نظر رکھے ہوئے تھے۔

گاندھی جامعہ کے لیے بھیک مانگنے کو تیار تھے

29-28جنوری 1925کو دہلی کے قرول باغ میں مقیم حکیم اجمل خاں صاحب کی رہائش گاہ شریف منزل میں جامعہ؛ کی فاؤنڈیشن کمیٹی کا جلسہ ہوا، جس کے آخر میں فیصلہ کیا گیا کہ جامعہ کو باقی رہنا چاہیے۔ دوسرے دن یعنی 29 جنوری کو گاندھی بھی موجود تھے۔ انہوں نے حکیم صاحب کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ مشکلات اور مالی پریشانیوں کے باوجود جامعہ کو چلانا ہی ہوگا، بھلے ہی اس کے لیے مجھے بھیک ہی کیوں نہ مانگنی پڑے۔ عبد الغفار مدھولی صاحب اپنی کتاب ’جامعہ کی کہانی‘ میں گاندھی جی پر رقم طراز ہیں ’’اگر آپ کو روپیے پیسے کی تنگی کا سامنا ہے تو میں بھیک مانگ لوں گا‘‘۔ اس پر حکیم صاحب نے کہا،’’ گاندھی جی کی اس بات سے میری ہمت بندھی ہے اور میں نے طے کر لیا کہ جامعہ کا کام ہرگز بند نہ ہونے دیا جائے گا‘‘۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ سے لفظ ’اسلامیہ‘ خارج کرنے کی گاندھی نے کی تھی مخالفت ایک موقع پر جب گاندھی کو جب یہ معلوم ہوا کہ ان کے ایک قریبی دوست نے تجویز پیش کی ہے کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ اپنا نام بدل دے، اس سے غیر مسلم ذرائع سے فنڈ حاصل کرنا آسان ہوجائے گا، تو اس پر گاندھی نے کہا، اگر’’اسلامیہ‘‘ لفظ نکال دیا گیا تو انہیں اس تعلیمی ادارے میں کوئی دل چسپی نہیں ہوگی۔

اس بات کا ذکر پروفیسر محمد مجیب نے اپنے ایک مضمون ’’مہاتما گاندھی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ“ میں کہا ہے۔ ان کا یہ مضمون 1969میں جامعہ سے نکلنے والے اردو رسالہ ’جامعہ‘ کے نومبر کے شمارے میں شائع ہوا تھا۔ یہی نہیں، سید مسرور علی اختر ہاشمی اپنی کتاب میں یہ بھی لکھتے ہیں، ’گاندھی جی نے نہ صرف جامعہ ملیہ کے ساتھ لفظ ’اسلامیہ‘ قائم رکھنے پر زور دیا بلکہ وہ یہ بھی چاہتے تھے کہ اس کے اسلامی کردار کو بھی برقرار رکھا جائے۔‘‘

ملحوظ رہے کہ پروفیسر محمد مجیب(1985-1902) ایک عظیم مجاہد آزادی، ماہر تعلیم اور انگریزی و اردو ادب کے اسکالر تھے۔ مجیب صاحب نے آکسفورڈ میں تاریخ کا مطالعہ کیا۔ پھر پرنٹنگ کے مطالعے کے لیے جرمنی چلے گئے۔ وہاں ذاکر حسین صاحب سے ان کی ملاقات ہوئی۔ 1926 میں اپنے دو دوستوں، عابد حسین اور ذاکر حسین کے ساتھ وہ ہندوستان واپس لوٹ کر جامعہ کی خدمت میں لگ گئے۔ 1948سے 1973تک جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر رہے۔ 1965میں حکومت ہند کی طرف سے ادب اور تعلیم کے میدان میں انہیں پدم بھوشن ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔

گاندھی جی کا سوال:کیا جامعہ محفوظ ہے؟

ہندوستان کی آزادی کے بعد ملک کے جو حالات تھے، ان سے قارئین بخوبی واقف ہوں گے۔ اس مشکل دور میں گاندھی نے 9 ستمبر 1947کی صبح دہلی اسٹیشن پہنچ کر پہلا سوال یہی کیا تھا کہ ’’کیا ذاکر حسین خیریت سے ہیں؟ کیا جامعہ ملیہ اسلامیہ محفوظ ہے؟‘‘ اتنا ہی نہیں، دوسرے ہی دن صبح صبح اپنا بھروسا پکا کرنے کے لیے خود جامعہ آئے۔

11 ستمبر 1947کے ٹائمس آف انڈیا کی ایک خبر کے مطابق، مہاتما گاندھی جب اوکھلا میں جامعہ کے پناہ گزین کیمپ میں آئے تو یہاں ذاکر حسین نے ان کا استقبال کیا۔ مسلمان مہاجرین نے گاندھی کو بتایا کہ ان کے گاؤں میں ان کے ساتھ کیا آفت نازل ہوئی تھی۔ گاندھی نے یہاں برقعہ پوش مسلمان خواتین کے ایک گروپ سے خوف پر قابو پانے اور ہمت برقرار رکھنے کے لیے کہا۔ گاندھی کو یہاں ایک نوزائیدہ بچہ بھی دکھایا گیا جس کے والدین کو بلوائیوں نے قتل کردیا تھا۔ اس دن جامعہ کے ایک دروازے میں گاندھی کی ایک انگلی دبنے کی وجہ سے تھوڑا زخم بھی آگیا تھا۔6 اپریل 1947 کو گاندھی نئی دہلی میں منعقدہ ایک ’’پرارتھنا سبھا‘‘ میں تقریر کررہے تھے۔ اس تقریر میں انہوں نے کہا ’’… پرانے دن لوٹ آئیں گے، جب ہندوؤں اور مسلمانوں کے دلوں میں محبت تھی۔ خواجہ صاحب اب بھی قومی مسلمانوں کے صدر ہیں۔ دوسرے بھی جو قومی جذبے والے مسلمان لڑکے ان دنوں علی گڑھ (ایم اے او کالج) سے نکلے تھے، وہ آج جامعہ کے اچھے طلبا اور کام کرنے والے بنے ہوئے ہیں۔ یہ سب صحارا کے ریگستان میں نخلستان کی طرح ہیں…۔‘‘

جامعہ میں اس ملک کی قومیت کا احساس اندر تک موجود ہے۔ خود گاندھی نے کئی موقعوں پر اس سچائی کی گواہی دی۔ جامعہ کے قیام سے لے کر جامعہ کو ڈوبنے سے بچانے تک گاندھی نے جی جان لگا دیا۔ یہ وہی جامعہ ہے، جہاں گاندھی کے بیٹے دیوداس کے بچوں نے تعلیم کے زیور سے خود کو آراستہ کیا۔ جہاں گاندھی کے پوتے رسک لال نے تعلیم پائی۔ رسک کی موت صرف 17 سال کی عمر میں یہیں ہوگئی تھی۔ یہ وہی جامعہ ہے، جہاں کستوربا نے اپنی زندگی کے اہم دن گزارے تھے۔ گاندھی نے جامعہ کو بہت کچھ دیا۔ بدلے میں جامعہ سے بھی بہت کچھ پایا بھی۔ گاندھی کو جامعہ سے بہت لگاؤ تھا۔ انہوں نے جتنا جامعہ کو اپنا سمجھا، جامعہ نے بھی گاندھی کو اتنا ہی پیار اور عزت دی۔ گاندھی جی کا جامعہ آج پھر ملک کے ’تاناشاہوں‘ کے خلاف نہ صرف اٹھ کھڑا ہوا ہے، بلکہ پورے ملک کو جگا رہا ہے۔

انسانوں کی طرح اداروں کی بھی عمر ہوتی ہے۔ جامعہ نے اپنی زندگی کے 100 سال پورے کر لیے ہیں۔ لیکن خوشی کے موقع پر ہمیں ان عظیم شخصیتوں کو یاد کرنے کی ضرورت ہے جنہوں نے اس جامعہ کے لیے سب کچھ ترک کردیا۔ ہمیں محمد مجیب، عابد حسین اور ڈاکٹر ذاکر حسین صاحب جیسے لوگوں سے حوصلہ لینے کی بھی ضرورت ہے۔ ایسے لوگ اس دور میں اگر چاہتے تو دنیا کی کسی بھی یونیورسٹی میں بڑے عہدوں اور موٹی تنخواہ پر ایک شاندار زندگی گزار سکتے تھے۔ لیکن انہوں نے برطانیہ اور جرمنی جیسے ترقی یافتہ ممالک سے واپس آ کر بعد جامعہ ملیہ اسلامیہ جیسے ادارے کی بے لوث خدمات انجام دیں۔

آج جب ہم جامعہ کا سو سالہ جشن منا رہے ہیں تو ہمیں ذاکر صاحب کا وہ بیان یاد رکھنا چاہیے جو انہوں نے جامعہ کی سلور جوبلی کے موقع پر کہا تھا ’’جب بھی جامعہ میں کسی نئی عمارت کا سنگ بنیاد رکھا جاتا ہے تو میرا دل تھرتھراتا ہے۔ ایسے موقعوں سے فائدہ اٹھا کے میں اہل جامعہ کو یاد دلاتا ہوں کہ عمارتوں کی کثرت کسی ادارے کے لیے قابل فخر نہیں ہے۔ اکثر عمارتیں یا تو مقبرہ ثابت ہوتی ہیں یا قید خانے۔ اگر عمارت میں رہنے والے اصل مقصد کو بھول جائیں تو وہ عمارتیں ان کے مقاصد اور ارادوں کا مقبرہ بن جاتی ہیں۔ جامعہ کی پہلی عمارت کا سنگ بنیاد رکھتے وقت میں نے کہا تھا کہ کہیں ہم لوگ عظیم الشان اور فلک بوس عمارتوں میں بیٹھ کر اپنے مقاصد کو نہ بھول جائیں۔ اگر ہم ایسا کریں تو آئندہ آنے والی نسلوں کو یہ حق ہوگا کہ وہ ہم کو ان عمارتوں سے دھکے دے کر نکال دیں اور ہمارے مقاصد اور ارادوں کے ان مقبروں کو گرا دیں۔ مجھے امید ہے کہ جامعہ والے اس مقصد کو نہیں بھولیں گے‘‘۔
***

مشمولہ: ہفت روزہ دعوت، نئی دلی، شمارہ 8 تا 14 نومبر، 2020