ہفت روزہ دعوت کے شمارے اور مضامین
اس عزم اور قصد کے ساتھ قرآن کا مطالعہ اور اس کی تفسیر کرنا چاہیے کہ خود بھی اپنی فکر ونظر اپنے اخلاق وکردار اور اپنے انفرادی واجتماعی رویے کو اس کے مطابق ڈھالیں گے اور دوسروں کو بھی اس کی طرف متوجہ کریں گے
دنیا بھر میں مسلمان جو اپنی تہذیبی اور اخلاقی وراثت کو باقی رکھے ہوئے ہیں وہ محض خاندانی نظام کی حفاظت کی وجہ سے ہے۔ لیکن خدشہ ہے کہ صارفیت، مہنگی شادیاں، شہری زندگی کی چکا چوند اور پاپولر کلچر جس تیزی سے مسلمانوں کو متاثر کر رہا ہے اس سے کہیں ان کے خاندان کا قلعہ منہدم نہ ہوجائے۔
مجھے اپنے اس فیصلے پر خدشہ تھا کہ جب والدین کو اس بات کا علم ہوگا تو وہ خفا نہ ہوجائیں ۔ لیکن ان کے بزرگ والد کا یہ جواب حوصلوں کو مزید جلا بخش گیا کہ اگر تم جان بچاتے ہوئے اپنی جان کھو بھی دیتے تو مجھے غم نہ ہوتا اس لیے کہ شہادت پر غم کیسا !\nڈاکٹر زاہد
سال 2018کے دسمبر مہینے تک انڈیا کی 1,339 جیلوں میں 4,66,084قیدی بند ہیں۔ ملک کی جیلوں میں اوسطاً قیدیوں کی تعداد 117.6فیصد ہے۔ اتر پردیش اور سکم میں یہ شرح بالترتیب 176.5فیصد اور 157.3فیصد ہے۔\n (نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو)
فی ا لحال یہ ایک اَن کہی کہانی ہے لیکن جب کبھی وقت کا مورخ اسے الم ناکیوں کے قلم اورمحرومیوں کی سیاہی سے لکھ کر سامنے لائے گا تو پڑھنے والوں کے دل دہل جائیں گے۔ تاریخ کی یہ دلدوز کہا نی ضرور بتائے گی کہ یوپی، بہار، بنگال، اوڑیسہ اور دیگر ریاستوں کے یومیہ مزدور کہیںکام کاج سے فارغ اور کہیں نوکری سے برخواست بے سر وسامانی، بھوک،بے نوائی اور بے گھری کی کڑی مار سہہ رہے تھے اوریہ بے خانمان لاکھوں لوگ جا بجا سینکڑوں ہزاروں میل پیدل مارچ کر کے گھرواپسی کا جان لیواجوکھم اُٹھارہے تھے۔
مودی جی کو چاہیے کورونا وائرس کے خلاف جنگ کے اس مرحلے پر ایک قدم اور آگے بڑھاتے ہوئے اپنے ہی حامیوں کے خلاف مثالی قانونی کارروائی کا حکم دیں، جو فرقہ وارانہ وائرس کو پھیلاتے ہوئے ماحول کو خراب کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔
حکومت نے اس کے بعد کی اپنی سیاسی حکمتِ عملی پہلے ہی بنا رکھی ہے۔ عوام زبان نہیں کھول سکیں گے۔ واقعی بعض مبصرین بجا طور پر کہہ رہے ہیں کہ کرونا وائرس کے بعد ایک نئی دنیا وجود میں آئے یا نہ آئے لیکن نیا بھارت ضرور وجود میں آئے گا۔

