میثاقِ مدینہ کی ضرورت واہمیت
آج دنیا میں قانونی ودستوری میدان میں ترقی کے باوجود میثاق مدینہ کا متبادل نہیں ہے۔ میثاق مدینہ کی سب سے بڑی کامیابی یہ تھی کہ آنحضرت ﷺ نے یہود سے اپنی سیادت تسلیم کرائی، جو صدیوں سے مدینہ کے حکم راں چلے آرہے تھے۔
ہفت روزہ دعوت کے شمارے اور مضامین
آج دنیا میں قانونی ودستوری میدان میں ترقی کے باوجود میثاق مدینہ کا متبادل نہیں ہے۔ میثاق مدینہ کی سب سے بڑی کامیابی یہ تھی کہ آنحضرت ﷺ نے یہود سے اپنی سیادت تسلیم کرائی، جو صدیوں سے مدینہ کے حکم راں چلے آرہے تھے۔
شمارہ 31 مئی تا 6 جون 2020 – ہفت روزہ دعوت
یہ تو واضح ہے کہ اس سہ طرفہ سرحدی تنازعے کا لنک ایک دوسرے سے کہیں نہ کہیں ملتا ضرور ہے اور یہ بھی غور طلب ہے کہ بھارت کے اپنے پڑوسی ممالک پاکستان اور چین کے ساتھ ایک عرصے سے جاری سرحدی تنازعات کی فہرست میں نیپال کے شامل ہو جانے سے مودی حکومت کی سر دردی میں اضافہ ہوا ہے۔
امریکہ اور چین کے مابین پیدا ہونے والی کشیدگی کا جیو پولیٹیکل فائدہ اٹھانے کا ہندوستان کے پاس سنہری موقع ہے بشرطیکہ ہمارے ملک کی قیادت چیلنجوں سے پیدا ہونے والے امکانات کو اپنے حق میں کرنے کے لیے درست ترجیحات کے ساتھ بر وقت فیصلے کرے
ایسے حالات میں یہ فرامین انٹرنیشنل لیبر آگنائزیشن کی قرارداد ۲۰۱۷ کی بھی خلاف ورزی ہے کیوں کہ اس میں سفارش کی گئی ہے کہ کسی آفت کے موقع پر ریاستوں کو یقینی بنانا ہوگا کہ کمزور اور حاشیے پر کھڑے لوگوں کو اپنی مرضی کے مطابق روزگار چننے کی آزادی ہو۔ مگر ہماری حکومتیں بین الاقوامی عہد وپیماں کی خلاف ورزی کرنے پر تلی ہوتی ہیں ۔
ملک کے تقریباً ۸۰ فیصد مالی مراکز، بنگلور، کولکتہ، دلی، حیدرآباد، ممبئی، پونے، لکھنو، کانپور، جے پور، گورگاوں، نوئیڈا، احمد آباد ، سورت اور چینئی کورونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاون میں ہیں۔ ملک میں ہوٹل، ریسٹورنٹس، نائٹ کلب، بار، ایرلائنس، بی پی او، سیاحت، انٹرٹینمنٹ اور بالی ووڈ ، آٹو موبائل، ابھیشن، کنزیومر آلات، الکٹرانکس، پولٹری اور آبی غذائیں، تعمیرات، ریلوے، ٹرانسپورٹ اور اس سے ملحقہ دیگر شعبہ جات پر بھی بہت شدید اثرات پڑے ہیں۔
سابق وزیر مالیات ارون جیٹلی کا گھسا پٹا جملہ۔\nکو اپریٹیو وفاق نہ تو کو اپریٹیو ہے اور نہ ہی اس بحران کے موقع پر وفاقیت ہے۔
ہر سال ہندوستان میں شراب پینے کی وجہ سے ڈھائی لاکھ اموات ہوتی ہیں۔ شراب لاکھوں جرائم کا باعث بنتی ہے۔ ملک میں 40 فیصد قتل شراب پینے سے ہوتے ہیں۔ زیادہ تر لوگ نشے میں ہی عصمت ریزی کرتے ہیں۔ کار حادثات اور شراب نوشی کا بھی رشتہ پرانا ہے۔
امریکہ کی نگرانی میں اسرائیل اور پی ایل او کے درمیان اوسلو میں جو معاہدہ ہوا تھا جسے اب بھی اوسلو پیس پیکٹ کہا جاتا ہے اس کے مطابق فلسطینی اتھارٹی کا قیام عمل میں آیا تھا۔ اتھارٹی اور فلسطینی عوام بالعموم اس کا احترام کرتے ہیں، اس معاہدے کے تحت فلسطینی اتھارٹی کو مغربی کنارے پر تسلط بھی حاصل ہوا تھا۔ اس معاہدے کی رو سے ایک مکمل آزاد فلسطینی ریاست کے لیے راستہ بھی ہموار ہوتا ہے لیکن اسرائیل کی غاصب حکومت اور شدت پسند پارٹیاں اوسلو معاہدے کی جا بجا خلاف ورزی کرتی ہوئی نظر آتی ہیں اور مغربی کنار
اس دوران وزیر اعظم جشن مناتے رہے یعنی کبھی تالی اور تھالی پٹواتے تو کبھی دیا اور بتی جلواتے۔ جب عوام بیزار ہوگئے تو فوج کو پھول برسانے کا حکم دے دیا اور جب بہاروں نے پھول بھی برسا دیا تب جاکر عظیم معاشی پیکیج کا اعلان کر دیا۔ اس طرح تقریباً دو ماہ کے اندر غریب عوام کی وہی حالت ہوگئی جو دلہن کے غریب باپ کی ہوتی ہے لیکن ملک کے 130 کروڑ باراتی خوش ہوگئے

