ہفت روزہ دعوت کے شمارے اور مضامین
بی جے پی نے 7برس سے بھی کم مدت میں ہندوستان کے ہر اس دستوری ادارے اور ہر اس جمہوری روایت کو ختم کرنے میں کامیابی حاصل کرلی ہے جو ملک کے معماروں نے گزشتہ 70برسوں کے دوران قائم کیے تھے
اٹھارہ سال قبل گجرات میں یک طرفہ مسلم کش فسادات کے بعد جب گجرات کے وزیر اعلیٰ کو ملک کا سچا خیر خواہ بنا کر عوام کے سامنے پیش کیا جانے لگا اور کانگریس ایک ایک قدم پیچھے ہٹنے لگی تو اندازہ ہو گیا تھا کہ آنے والے دن ہندتوا کے ہوں گے اور وہی کچھ ہونے لگے گا جس کا سبق ماضی میں چانکیہ نامی ودوان بھارتی سماج اور سیاست کو پڑھا گیا تھا۔ اس میں شبہ نہیں کہ چانکیہ نے چندر گپت موریہ کو راجہ بنا کر ایک ویدک حکومت قائم کرنی چاہی تو اس مقصد کے لیے ابتدا میں اس نے کچھ مثبت اور اچھے طریقے اختیار کیے تھے لیکن ا
پاکستان یا نیپال جیسا ہم سایہ اگر ایسی جرأت کرتا تو مودی جی ہرگز اس طرح کے صبر و ضبط کا مظاہرہ نہیں کرتے لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ پاکستان اور نیپال نے جس طرح کا جواب دیا ویسا ردعمل بھی سامنے نہیں آسکا۔ ہند نیپال سرحدی تنازع پر وزیر اعظم کھڑک پرشاد شرما اولی نے بڑی سختی کے ساتھ اپنے موقف کی مدافعت کی اور جنگ کی دھمکی دے دی۔ اولی نے ایوان پارلیمان میں ہندوستان کی مرضی کے خلاف نقشہ منظور کرکےکالاپانی پر اپنے دعویٰ کو مہربند کردیا
اس وقت وادی کشمیر میں اُم الخبائث کا ذکر ہر جانب چھڑاہوا ہے۔ عوام الناس، مذہبی حلقے اور سماجی ویب سائٹس پر تبادلہ خیال کرنے والے سنجیدہ صارفین متحد الخیال ہیں کہ اس شراب پر ایل جی انتظامیہ کو مکمل پابندی عائد کرنی چاہیے۔ عام لوگ زیر بحث سرکاری اقدام پر نہ صرف مخالفانہ تبصرے کررہے ہیں بلکہ اُن میں حکام کی نیت کے تئیں شکوک وشبہات بھی بڑھ رہے ہیں ،غم وغصہ کی چنگاریاں بھی سلگ رہی ہیں، علی الخصوص والدین اس فکر وتشویش مبتلا ہیں کہ وہ اپنے معصوم بچوں کو اس نئی بلا سے کیسے بچائیں۔
جھار کھنڈ میں ہیمنت سورین کی حکومت بننے سے پہلے ان کے والد شیبو سورین مقتول منہاج انصاری کے والدین سے ملاقات کر کے انہیں انصاف دلانے کی یقین دہانی کراتے ہیں لیکن آج جب کہ خود کی حکومت بن چکی ہے انصاف کا دور دور تک پتہ نہیں ہے۔
مسلمانوں کو انصاف کی امید چھوڑ دینی چاہیے!
جماعت اسلامی ہند کا ایک اہم کام یہ بھی رہا کہ جن لوگوں کی کوویڈ 19 کی موت ہو رہی تھی اور ان کے گھر کا کوئی فرد ان تک نہیں پہونچ رہا تھا، ایسی لاوارث لاشوں کو احترام کے ساتھ شمشان اور قبرستان پہونچانے کا کام بھی جماعت اسلامی ہند کے کارکنوں نے انجام دیا ہے۔ جئے پور، تمل ناڈو اور دہلی میں ایسی101 لاشوں کی تدفین جماعت نے کروائی ہے

