بھگوا تنظیموں کی مذہبی بنیاد پر فتنہ انگیزی

مستند تاریخی حقائق کو غلط ثابت کرنے میں شرم ناک حد تک پیش رفت

راماچندرا گوہا

کنڑی ادب کے ایک مشہور و معروف قلم کار شری دیوانور امہا دیو کا ادبی دنیا میں تعارف ان کے بامقصد اور دلچسپ افسانوں، کہانیوں کے علاوہ ایک کنڑی ناول ’’گُسُمابالے‘‘ سے ہوتا ہے۔ یہ اپنے افسانوں میں سماج کے پیچیدہ عوامی، سماجی اورسیاسی مسائل اور ان کا مناسب حل بھی بڑی عمدگی اور مہارت کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔انہوں نے اپنے افسانوں میں سماج کے پسماندہ، پچھڑے کچلے اور بنیادی سہولتوں سے محروم طبقات کے سماجی اور سیاسی مسائل کا بہترین انداز میں تذکرہ کیا ہے۔ ان کے بیباک قلم سے لکھی گئی بامعنی اور بامقصد عنوانات کہانیوں اور افسانوں کے خلاف، ان کے مخالفین کی شدید مخالفت کے باوجود انہوں نے اپنے موضوع سے کبھی قدم پیچھے نہیں ہٹائے نہ ہی ان مخالفین کے ساتھ کوئی سمجھوتہ کیا۔ وہ آج بھی بین مذہبی اتحاد و اتفاق کے ایک عظیم المرتبت سپاہی مانے جاتے ہیں۔ ملک کے مختلف سماجوں کے افراد کے درمیان مذہبی و ثقافتی اتحاد و اتفاق کا ماحول پیداکرنے میں ان کی جد وجہد کا ثبوت اس بات سے بھی ملتا ہے جب وہ میسورکے ایک بازار میں ان دنوں علی الاعلان ’حلال گوشت‘ خریدنے نکلے تھے جب ہندتوا کے نام نہاد دھوکہ باز غنڈہ عناصر نے پوری ریاست میں حلال گوشت کی فروخت پرجبراًغیر قانونی امتناع عائد کر رکھی تھی۔
آر ایس ایس کی ذہنیت کے تعلق سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اسی سال جولائی میں شری مہادیو نے ایک کتابچہ لکھا تھاجس کی اشاعت کے ایک ہفتہ بعد ہی ایک آن لائن چینل The News Minute نے اپنے ویب سائٹ پر اس کتابچے پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ آر ایس ایس کے بارے میں لکھا گیا یہ کتابچہ سچے بھارتیوں کے لیے ایک تحقیقی اورتنقیدی مقالہ ہے۔ کتابچے کی اشاعت اور اجرائی کے بعد یہ اس قدر مقبول ہوا کہ دیکھتے ہی دیکھتے، چند دنوں کے اندر، اس کی ساری کاپیاں فروخت ہوگئیں۔ کتابچے کی غیر معمولی مقبولیت کا ہندوتوا فاشسٹ طاقتوں نے سنجیدگی سے نوٹ لیااور انتقاماْ، کتابچے اور اس کے مصنف کو بلا وجہ اور بلا ثبوت، شخصی طور پربدنام کرنے کی ناپاک مہم شروع کردی۔ مصنف اور اس کے اس کتابچے کی مخالفت میں شروع کی گئی اپنی اس مہم میں بی جے پی جے ارکان پارلیمنٹ کہاں خاموش بیٹھنے والے تھے، چنانچہ وہ اس کتابچے اور اس کے مصنف کے خلاف آواز میں آواز ملانے کی دوڑمیں شامل ہو گئے۔ ان کے ساتھ کئی موقع پرست ، شہرت پسند،نام نہاد دانشور بھی مصنف کی بے بنیاد کردار کشی میں سیاسی آقاوں کی تائید میں، سب کے ساتھ آواز میں آواز ملانے لگے۔ کتابچے کی اس درجہ مخالفت سے عوام میں اس کی شہرت اور پسندیدگی میں نفسیاتی طور پر اضافہ ہی ہوتا رہا ، نتیجتاًکتابچے کو خریدنے والوں کی قطار لگ گئی اور بیشمار کاپیاں فروخت ہونے لگیں۔ اس کے بعد ریاست کرناٹک کے گھر گھر، محفل محفل اور گلی کوچوں میں دور دور تک آر ایس ایس کے حقیقی نظریے کا چرچا عام ہونے لگا۔جو لوگ کنڑی زبان سے واقف نہیں ہیں، ان کے لیے بھی ایک اچھی خبر یہ ہے کہ اب اس کتابچے کے ترجمے تمل، تلگو، ملیالم اور انگریزی زبانوں میں بھی شائع ہو چکے ہیں۔ انگریزی زبان میں اس کتابچے کا ترجمہ شری ایس آر راما کرشنا نے کیا ہے۔ خبر یہ بھی ہے کہ بہت جلد انگریزی کتابچے کو باضابطہ کتابی شکل دی جائے گی۔
ہندوؤں کے مختلف طبقات کے درمیان عدم مساوات کی تصدیق:
ایم ایس گولوالکر اور وی ڈی ساورکر، جنہوں نے آج کے ہندوتوا کو حتمی شکل دی تھی، انہیں کے نظریات کی بنیاد پر اس کتابچے کے مضمون کی ابتداء ہوتی ہے۔ چنانچہ گولوالکر نے خود ساختہ ہندو قیادت کی بنیاد پر ہندوؤں کے مختلف طبقات پر مبنی، ہندوسماجی نظام کو صحیح قرار دیا ہے جس کی ان کی اپنی مذہبی کتابوں سے تصدیق بھی ہوتی ہے۔ باوجودیکہ فرقہ اور جنس کی بنیاد پر دستور ہند میں درج، ان کے حقوق میں کافی تضاد پایا جاتا ہے پھر بھی ساورکر نے منوسمرتی کی عبادت کرنے کو بنیادی اصول اور ضرورت بتایا ہے۔ اس پر مہادیوا نے ساورکر کے قول کو نقل کیا ہے کہ’’ہندو قوم کے لیے ویدوں کے بعد منوسمرتی ہی قابل اعتبار مقدس مذہبی کتاب ہے جس کی ہندو قوم سب سے زیادہ پرستش کرتی ہے۔ ویسے بھی قدیم زمانے سے ہندو مذہب کے ماننے والوں کے لیے یہ قانون بھی ہے اور بنیاد بھی۔ آر ایس ایس کا نظریہ ساز ٹولہ، ہندو دھرم کے بنیادی قوانین کے بارے میں دوسرا مستند حوالہ، گولوالکر کا دیا کرتاہے جو بھارت میں متحدہ وفاقی سیاسی نظام پر مبنی نظام حکومت کو قوم کے لیے سم قاتل قرار دیتا ہے۔ اسی نظریے کی بنیاد پرآج بی جے پی حکومت ’’ایک ملک، ایک ریاست، ایک مقننہ اور ایک ہی منتظم اعلی‘‘ کے اصول پر اکھنڈ بھارت کی تشکیل کو ہر حال میں ترجیح دیتی ہے۔ دیوانورا نے اپنے اس کتابچے میں آر ایس ایس کی ایسی محدود اور خطرناک ذہنیت اور سوچ کو بہت بڑی خامی اور فاش غلطی کہا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ گولوالکر کی کتاب Bunch of Thoughts درحقیقت، آر ایس ایس اور سنگھ پریوار کے نزدیک، بائبل کا درجہ رکھتی ہے۔کوئی بھی سمجھدار شخص اس کتاب کے مطالعے کے بعد آپ خود محسوس کرے گا کہ اس کتاب میں جس بات کو انہوں نے ’’اصول یا چنتن’’ کہا ہے وہ ایک بے معنی تشریح ہے یعنی اس کی کوئی حقیقت ہی نہیں ہے۔ اس کتاب میں گزرے زمانے کے فضول، بے تکے، ضرر رساں اور خطرناک عقائد درج ہیں۔ مضمون نگار نے لکھا کہ میں نے خود اس کتاب کا کئی مرتبہ مطالعہ کیا ہے جس کے بعد مجھے بھی دیوانورا مہادیو کا خیال، بالکل صحیح لگا۔ آر ایس ایس کا ہندوتوا کا نظریہ بلاشبہ تنگ نظری پر ٹکا ہوا ہے جسے کوئی عام ہندو کو چھوڑیے، کوئی عام سمجھدار برہمن بھی آر ایس ایس کے اس شیطانی نظریے کو قبول نہیں کرے گا۔
ہم نے محسوس کیا کہ مہادیوا جب بھی لکھتے ہیں، دستور ہند کے پاسدار کی حیثیت سے اسی کے پس منظر میں اور ہمیشہ اس کی حمایت ہی میں لکھتے ہیں۔سچ بھی یہی ہے کہ آر ایس ایس اور بی جے پی کی لمبی لمبی زبان والے قائدین، اس کتابچے کی اشاعت سے سخت ناراض ہیں کیوں کہ اس میں عورت اور مرد کے حقوق میں مساوات، اظہار خیال کی آزادی، اتحاد اور وفاق پرستی کی پرزور وکالت کی گئی ہے۔ اس سے بھی دو قدم آگے بڑھ کر مہادیوا نے لکھا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس جب جب دستور ہند کو تباہ کرنے کے اپنے نصب العین پر عمل کرتے رہیں گے تب تب وہ اپنے آپ کو کامیاب و کامران تصور کرتے رہیں گے کیوں کہ یہی ان کاحقیقی ہدف ہے۔ آگے انہوں نے لکھا کہ آج آر ایس ایس اور اس سے ملحقہ تمام تنظیمیں، دستور ہند کو نقصان پہنچانے اور اسے تباہ کرنے کے لیے ناقابل بیان اور شرمناک چالیں چلنے میں دن رات مصروف ہیں۔ ہمیں کسی بھی حال میں انہیں اس خطرناک کھیل سے دور رکھنے کی جستجو کرنی چاہیے کیوں کہ وہ ہمیشہ سے دستور ہند کی بنیادوں کو تباہ و تاراج کرنے کی فراق میں ہیں۔ بالفاظ دیگر انہوں نے بھارت کے سیکولر جمہوری نظام حکومت کو مکمل تباہ کرنے کے لیے ایک جنگ چھیڑ رکھی ہے جس سے ہمیں ہر لمحہ چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔
مہادیوا نے نہایت سخت اور چبھتے ہوئے انداز میں لکھا ہے کہ2014ء سے مرکز میں جب سے بی جے پی برسراقتدار آئی ہے اس دن سے وہ جمہوریت کا گلہ گھونٹ کر دستور کودفن کرنے کے لیے متنازعہ معاملات کوبڑھاوا دیتے ہوئے گولوالکر کی گرو دکھشنا، پیش کرتی آرہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایک طرف بی جے پی، مستند تاریخی حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے میں شرمناک حد تک آگے بڑھ چکی ہے تو دوسری طرف ہندوؤں کے حقوق کی حفاظت کے جھوٹے نعرے پر ملک بھر میں مذہبی جذبات بھڑکانے میں بھی بہت آگے نکل چکی ہے۔ اس کام کے لیے وہ واٹس ایپ، فیس بک اور ٹویٹر پر جھوٹا پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے کروڑوں روپے خرچ کررہی ہے اور الکٹرانک میڈیا کے لاکھوں ماہرین کی خدمات حاصل کی گئی ہیں چنانچہ الکٹرانک میڈیا کے ذریعے وہ جھوٹے پروپگنڈوں کو رائی کا پہاڑ بنانے میں بڑی حد تک کامیاب بھی ہے۔ الکٹرانک میڈیا کے ذریعے جھوٹ، بے ایمانی اور بدمعاشی پر مبنی پروپیگنڈا آج ان کا مقدس پیشہ بن چکاہے۔ معصوم بچوں کے ذہنوں کو آلودہ کرنے لیے نصابی کتابوں میں حقائق کو الٹ پھیر کرنے کا کام ان تمام ریاستوں میں جاری ہے جہاں بی جے پی برسراقتدار ہے اور آر ایس ایس کے کنٹرول میں پورا انتظامیہ ہے۔ یہ ٹولہ معصوم بچوں کے ذہنوں میں یہ بات بٹھانے میں کامیاب ہورہا ہے کہ بھارت میں رہنے بسنے والا ہر ایک غیرہندو، ہندوؤں کا دشمن ہے۔
ملک کی ایک اور قابل ذکر حالت کا نقشہ کھینچتے ہوئے مہادیوا نے نہایت افسوس کے ساتھ اس حقیقت کو بھی تسلیم کیاکہ آرایس ایس اور بی جے پی کے علاوہ ملک کی دیگر سیاسی جماعتیں بھی بالواسطہ ملک میں جمہوریت کی عمارت کو ڈھانے میں برابر کی ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم ملک کی دیگر سیاسی جماعتوں پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں سمجھ میں آتا ہے کہ ملک کی دیگر سیاسی جماعتیں بھی تین قسم کی ہیں۔ پہلی وہ جو کسی ایک قدآور قائد کی قیادت میں چل رہی ہوں، دوسری وہ جو عوام میں کسی ایک خاندان کے افرادکی مقبولیت پر ٹکی ہوئی ہوں اور تیسری وہ جن کی باگ ڈور غیر دستوری تنظیموں کے ہاتھوں میں ہو۔
آج مرکز کے علاوہ ملک کی کئی بڑی ریاستوں میں بی جے پی کی حکومتیں قائم ہیں۔ مہادیوا لکھتے ہیں کہ ان تمام ریاستوں میں بی جے پی، آرایس ایس، پوری آزادی کے ساتھ عوام کے درمیان غلط، گمراہ کن اور خطرناک سماجی نفرت پر مبنی نظریات پھیلانے میں مصروف ہے۔ ان کی یہ حد سے زیادہ خطرناک مہم ملک کا مستقبل تباہ و تاراج کرکے رکھ دے گی۔آر ایس ایس کے تاحیات پرچارک ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی جب سے اقتدار میں آئے ہیں، انتخابات سے پہلے اور بعد میں ان کے عوام سے کیے گئے تمام جھوٹے وعدوں کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ بیرون ملک سے کالا دھن ملک واپس لانے کا کسانوں کی آمدنی دگنی کرنے کا، کروڑوں نوجوانوں کو روزگار مہیا کرنے کا انہوں نے وعدہ کیا تھا لیکن آج سارا بھارت جانتا ہے کہ نہ صرف ان کے یہ تمام وعدے جھوٹے نکلے بلکہ معاشی عدم مساوات، قدم قدم پر عوام کے ساتھ ناانصافی، ظلم و زیادتی اور قومی دولت کی غیر متوازن تقسیم نے آج ملک کی معیشت کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کردیا ہے۔البتہ چند گنے چنے افراد اور خاندانوں کی دولت میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے جن میں گوتم اڈانی اور مکیش امبانی کا نام سرفہرست ہے اور دونوں کا تعلق وزیر اعظم کی آبائی ریاست، گجرات سے ہے۔
آر ایس ایس اور بی جے پی کی ان تمام تر سیاسی اور مذہبی کوششوں کی اساس، معاشی تدبرسے عاری، محض نظریاتی ہے جس سے ملک و قوم کو کسی قسم کا کوئی فائدہ پہنچنے والا نہیں۔ یہی نکتہ ہمیں آر ایس ایس کے کالے کرتوتوں اور اس کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھنے میں بے حد کامیاب ثابت ہوگا۔ اس موضوع پر دئیے جانے والے بیشمار تفصیلی بیانات کے درمیان، مہادیوا کے اس بیان کی اہمیت اور اس کے دور رس اثرات کا اندازہ لگاناہمارے لیے مشکل ہے۔ یہاں پر انہوں نے واضح کیا کہ آر ایس ایس کا حقیقی ہدف ان کا اپنا یکطرفہ تحکمانہ نظریہ حیات ہے جس کی بنیاد پر وہ ہر قیمت پر سماج کو تقسیم کرکے بھارت میں ہندو اکثریت کی بنیاد پرہندوحکومت قائم کرنا چاہتے ہیں۔ ایک مرتبہ حکومت قائم ہوجانے کے بعد ذات پات کی بنیاد پر درجہ بندی کرکے اپنی من مانی حکومت مسلط کرنے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔
محض مصلحتاً نرم لہجے میں گفتگو کرنے والے آر ایس ایس کے سرسنگھ سنچالک نے کچھ دن پہلے نئی دلی میں مسلمانوں کے چند منتخب مرد نمائندوں کو آپس میں دوستانہ گفت و شنید کے لیے مدعو کیا تھا۔ مسلمانوں کے اس وفد نے خوش فہمی میں ان کی دعوت قبول کرلی کہ شاید سنگھ پریوار کی روایتی فرقہ پرستی میں کوئی خوشگوار تبدیلی رونما نہ ہوئی ہو ۔ مہادیوا اس کتابچے میں لکھتے ہیں کہ بات چیت چیت کے لیے آر ایس ایس کی دعوت قبول کرنے سے پہلے اگر مسلمان دیوانورا مہادیو کے اس کتابچے کا مطالعہ کرلیتے تویقینا ان کی آنکھیں کھل جاتیں اور وہ اس غلط فہمی میں مبتلا نہ ہوتے۔ میں تو کہتا ہوں کہ نہ صرف مسلمان بلکہ ہر ہندوستانی کو، بلا لحاظ مذہب و فرقہ اس پمفلٹ کا مطالعہ کرنا چاہیے جو انہوں نے کئی برسوں کی تحقیق، تجربات، مشاہدات اور آر ایس ایس کے نظریات کا عرق ریزی سے تحقیق کے بعد لکھا ہے۔ انہوں نے شخصی طور پر خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ کس طرح ریاست کرناٹک میں آر ایس ایس، وی ایچ پی اور بجرنگ دل جیسی فرقہ پرست تنظیموں نے بنیادی سطح پر سرکاری انتظامیہ، عدلیہ اور پولیس میں اپنا ذاتی اثر و رسوخ مضبوط کرلیا ہے۔ اس ٹولے کے بدمعاش اور غنڈہ عناصر، کسی بھی عنوان پر، بستیوں، محلوں، گلی کوچوں، سڑکوں، اسکولوں، کالجوں اور عبادت گاہوں میں نت نئے فتنے کھڑا کرنے کے ماہر ہوچکے ہیں۔ انہیں اس بات کا خدشہ لاحق تھا کہ کرناٹک میں بی جے پی کے برسر اقتدار آنے کے بعد یہاں صدیوں سے پرورش پانے والا بھائی چارہ، مذہبی ہم آہنگی، بے مثال ہندو مسلم اتحاد، باشعور سماج، مہذب سماجی فضاء، پرسکون تعلیمی ماحول، ایک دوسرے کے ساتھ بہترین انسانی سلوک ، عنقاہو جائے گا، آخر کار وہی ہوا جس کا انہیں اندیشہ تھا۔
انہوں نے تمام سیاسی اور سماجی تنظیموں کے سربراہوں اور ان تمام قائدین سے جو آر ایس ایس اور بی جے پی کے نظریات اور حکمت عملی سے اتفاق نہیں کرتے، درد مندانہ اپیل کی ہے کہ وہ ایک متحدہ پلیٹ فارم پر جمع ہوں تاکہ جمہوریت کی بنیادوں کو دوبارہ مضبوط کرنے کے لیے، جسے بی جے پی اور آر ایس ایس کے متعصب، فرقہ پرست اور فاشسٹ ٹولہ تباہ کرنے پر پوری طرح مستعدہے، ان بنیادوں کو مزید کوئی نقصان نہ پہنچا سکیں۔ وہ لکھتے ہیں ’’یہی وقت ہے کہ ملک کی ترقی کی راہوں کی منتظر و متلاشی تنظیمیں، انجمنیں اور جماعتیں آپسی اتحاد کا ثبوت دیں جس طرح الگ الگ مقامات سے چھوٹی چھوٹی پانی کی نالیاں نکل کر آگے بڑھتی ہیں اور پھر ایک طاقتور دریا بن جاتی ہیں جس کے تیز بہاو میں کوئی شئے ٹک نہیں سکتی۔ آپسی اتحاد کے کام میں پہل کرنے کے لیے سب سے پہلے ہمیں اپنے اندر کی انا اور احساس برتری کونکال پھینکنا ہوگا۔ دستور کی بحالی کے لیے ملک سے مذہبی منافرت کا ماحول ختم کرنے کے لیے ہمیں چھوٹے چھوٹے اختلافات بالائے طاق رکھنے ہوں گے۔ ملک میں سیاسی، معاشی اور مذہبی استحکام کی خاطر ہمیں یہ قربانی تودینی ہی ہوگی۔ اس کے علاوہ کوتاہ ذہن سیاسی بھنور سے بچتے ہوئے آگے بڑھنا ہوگا۔ یہ کہنا چھوڑ دیجیے کہ میں فلاں شخص یا فلاں پارٹی کی قیادت میں کام کرنا پسند نہیں کرتا۔ ہمارا مقصد اگر جمہوریت کو نادانوں کے ہاتھوں ہونے والے نقصان سے محفوظ رکھنا ہے تو ہمیں اپنی ان انسانی فطری کمزوریوں سے اوپر اٹھ کر ایک متحدہ محاذکے پرچم تلے، فاشسٹ، فرقہ پرست، غیرسماجی خطرناک عناصر کواقتدار میں آنے سے روکنا ہوگا۔ اس نظریے پر عمل آوری کے نتیجے میں حاصل ہونے والی کامیابی کے بعد تمام ہم خیال جمہوری اقدار کی حامل سیاسی جماعتوں کی ایک متحدہ مخلوط حکومت تشکیل دینے کے راستے خود بخود ہموار ہوجائیں گے۔ ایسی حکومت کی تائید ضرور ہر مذہب سے تعلق رکھنے والا سمجھ دار شہری کرے گا اور ایک مضبوط سیاسی نظام تشکیل پائے گا، ملک میں ہر طرف بھائی چارہ اور خلوص کا ماحول پیدا ہوگا۔ عوام کے مزاج میں قوت برداشت، خود بخود پیدا ہوگی، سارے عوام یکساں اہمیت کے حامل ہوں گے۔جہاں اونچ نیچ کے لیے کوئی مقام نہیں ہوگا، جہاں کوئی چھوٹا یا کوئی بڑا، ادنیٰ یا اعلی، کمتر یا برتر نہیں ہوگا۔
(بشکریہ :اسکرال ڈاٹ اِن۔ ترجمہ:سلیم الہندی)
***

 

***

 


ہفت روزہ دعوت – شمارہ 04 ڈسمبر تا 10 ڈسمبر 2022