تازہ ترینمہذب اور ترقی یافتہ سماج میں صنف کی بنیاد پر امتیاز کی کوئی گنجائش نہیں
مہذب اور ترقی یافتہ سماج میں صنف کی بنیاد پر امتیاز کی کوئی گنجائش نہیں
دعوت نیوز20 مارچ 2025
تازہ ترینمہذب اور ترقی یافتہ سماج میں صنف کی بنیاد پر امتیاز کی کوئی گنجائش نہیں
تازہ ترینشدید سردی میں قومی راج دھانی دلی میں شہریت ترمیمی قانون، این پی آر اور این آر سی کے خلاف احتجاج سو دن سے زیادہ مدت تک جاری رہا۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں پولیس کی بربریت کے بعد سیکڑوں خواتین، بچے اور طلبا نے شاہین باغ کی سڑکوں پر نریندر مودی حکومت کی شہریت کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کرنے کا عزم کیا اور آزاد ہندوستان میں پہلی مرتبہ خواتین کی تحریک کے لیے احتجاج کی مثال قائم کی۔
تازہ ترین
تازہ ترین
تازہ ترین
تازہ ترین
تازہ ترینانتخاب: مسلمانوں کی قوت قومیت نہیں، حق کی شہادت ہے
تازہ ترین
تازہ ترینرسائل و مسائل: دعوتِ دین کے منہج سے متعلق چند اشکالات
تازہ ترین
تازہ ترینقرآن کریم سے استفادہ: اکیس نکاتی چارٹر
خاص مضموناللہ کی مشیت: ایمان کی زبردست طاقت، عمل کی طاقت ور محرک
خاص مضمون
تازہ ترین
تازہ تریندلی حکومت نے ایسے سات ویڈیو کلپ دلی پولیس کو سونپے ہیں، جن میں شمال مشرقی دلی فسادات کے دوران دو پولیس اہل کار بلوائیوں کے ساتھ مل کر پتھر اور انڈے پھینکتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ایک ویڈیو میں پولیس اہل کارپانچ زخمی لوگوں کو زمین پر لٹاکر ان کوقومی ترانہ گانےکو مجبور کر رہے ہیں۔
شمارہ 4 تا 10 اکتوبر 2020 - ہفت روزہ دعوت
ملی مسائل350سے زیادہ گواہوں اور 600دستاویزی ثبوتوں کا مطالعہ کرنے کے بعد عدالت نے 2800صفحات کے فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ملزمان کے خلاف پیش کیے گئے ثبوت ناکافی ہیں اس لیے سبھی 32ملزمان کو بری کیا جاتا ہے۔ سی بی آئی نے جب یہ مقدمہ قائم کیا تھا تو اس وقت ملزمان کی تعداد 49تھی لیکن ان میں سے 17کی موت ہو چکی ہے اور 32ہی زندہ ہیں۔ جب تک اس معاملے کو ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا اور اس کا حتمی فیصلہ صادر ہوگا تو اس وقت تک باقی 32ملزمان بھی پرلوک سدھار چکے ہوں گے اور اس طرح بابری مسجد کی شہادت
ہفت روزہ دعوتکیریئر گائڈنس: آج ہمارے لیے سِول سروسز کیوں ضروری ہیں؟
ہفت روزہ دعوتیہ بھی ضروری ہے کہ اس ’’خیر‘‘اور” معروف‘‘ کی طرف دوسروں کو بھی بلایا جائے جس کو خود قبول کیا گیا ہے، اور اس”منکر” کو اپنے مقدور بھرمٹا ڈالنے کی مسلسل کوشش جاری رکھی جائے جس کو خود ترک کیا گیا ہے۔
سیاستیوگی کو جمہوریت کی اجتماعی آبرو ریزی کرتے ہوئے حزبِ اختلاف کے رہنماوں کو ہاتھرس جانے سے روکنا مہنگا پڑا ہے اس لیے کہ خود نریندر مودی نربھیا کے گھر جاچکے ہیں لیکن ان پر سیاست کا الزام لگا کر کسی نے نہیں روکا تھا۔ اومابھارتی نے بھی یوگی کے اس فیصلے پر تنقید کی ہے۔ بات دراصل یہ ہے اس سے قبل کوئی حکومت اس قدر عدم تحفظ کاشکار نہیں تھی کہ مخالفین کی نقل و حرکت پر ایسی پابندی لگائے۔ ان لوگوں کو اقتدار کی محبت اور اس کے ہاتھ سے نکل جانے کا خوف کچھ زیادہ ہی ستا رہا ہے شاید انہیں احساس ہو گیا ہے کہ اقتدا
