تمام مضامین

تازہ ترین

محمد مسلمؒ : ’دعوت‘ کا معمار، شعور کا پاسبان

محمد مسلمؒ صرف ایک صحافی نہ تھے؛ وہ صلح جو طبیعت، عملی مزاج اور فکری بلندی کے حسین امتزاج کی حامل شخصیت تھے۔ ان کی شخصیت میں اردو کے باوقار صحافی اور تحریک کے باشعور کارکن کا ایسا توازن تھا جو بہت کم دیکھنے کو ملتا ہے۔ اگرچہ جماعت کی دیگر مصروفیات نے انہیں یکسوئی کے ساتھ تصنیف و تالیف کا وقت کم دیا، پھر بھی ان کی جو تحریریں منظر عام پر آئیں، وہ اس قدر مکمل اور مربوط ہوتی تھیں کہ یوں لگتا تھا جیسے وہ قلم کو اپنا کُل وقت دے رہے ہوں۔

دعوت نیوز10 جولائی 2025
تازہ ترین

امتِ مسلمہ کا بحران : اسباب ،انحرافات اور اصلاح کی راہیں

امتِ مسلمہ کا بحران وقتی نہیں بلکہ گہرے داخلی انحرافات کا نتیجہ ہے۔ اس بحران سے نکلنے کے لیے ایک ہمہ جہتی علمی، فکری، اعتقادی، سیاسی اور معاشرتی بیداری کی ضرورت ہے۔ خلافتِ راشدہ کے سنہری اصولوں کی طرف واپسی، مقاصدِ شریعت کی بازیافت اور امت کے اجتماعی مفاد کو انفرادی مفاد پر ترجیح دینا ہی ہمیں ایک نئی صبح کی امید دلا سکتا ہے۔

دعوت نیوز10 جولائی 2025
تازہ ترین

ما بعد جنگ کے عالم گیر اثرات۔صرف ایرانی حملے سے 5کھرب روپے کا نقصان

دفاعی ماہرین کے مطابق یہ جنگ بندی محض وقتی وقفہ ہے نہ کہ دیرپا امن؟ کیونکہ نہ تو بنیادی سیاسی مسائل حل ہوئے ہیں نہ ہی ایران کی جوہری صلاحیت ختم ہوئی ہے۔ اسرائیل اقتصادی و سفارتی طور پر کمزور ہوا ہے، اور اب خود کو تنہا محسوس کر رہا ہے۔ جنگ کے اثرات صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں بلکہ معیشت، سیاست اور سفارت کاری کے میدان میں بھی ظاہر ہو رہے ہیں

دعوت نیوز10 جولائی 2025
تازہ ترین

اور اب ووٹ بندی ۔۔!

یہ ایک بنیادی اور اہم سوال ہے کہ اگر شہریت ثابت کرنے یا ووٹر لسٹ میں نام شامل کرنے کے لیے درکار دستاویزات دستیاب نہ ہوں تو اس مسئلے کا حل کیا ہوگا؟ اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ سپریم کورٹ بہار اسمبلی انتخابات تک اس عمل کو روک دیتی ہے اور بعد میں اس کے دوبارہ آغاز کی ہدایت دیتی ہے، تب بھی دستاویز کی دستیابی یا عدم دستیابی کا سوال اپنی جگہ باقی رہے گا۔یہ سوال بھی نہایت اہم ہے کہ جب ریاست شہریت ثابت کرنے کے لیے کسی ایک مستند دستاویز کا تعین کرنے میں ناکام ہے تو اس کی عدم موجودگی پر کسی شہری کو سزا ک

دعوت نیوز10 جولائی 2025
تازہ ترین

!شہادتِ حسینؓ :سیاسی معرکہ یا دین کا تقاضا

اسلامی معاشرے اور ریاست کے صحیح راستے پر چلنے کا انحصار اس بات پر تھاکہ لوگوں کے ضمیر اور ان کی زبانیں آزاد ہوں، وہ ہر غلط کام پر بڑے سے بڑے آدمی کو ٹوک سکیں اور حق بات برملا کہہ سکیں۔ خلافت راشدہؓ میں صرف یہی نہیں کہ لوگوں کا یہ حق پوری طرح محفوظ تھا، بلکہ خلفائے راشدینؓ اسے ان کافرض سمجھتے تھے اور اس فرض کے ادا کرنے میں ان کی ہمت افزائی کرتے تھے۔ ان کی مجلس شوریٰ کے ممبروں ہی کو نہیں ، قوم کے ہر شخص کو بولنے اور ٹوکنے اور خود خلیفہ سے باز پُرس کرنے کی مکمل آزادی تھی ، جس کے استعمال پر یہ ل

دعوت نیوز10 جولائی 2025