آئندہ ماہ شروع ہونے والی مردم شماری کی تاریخ جیسے جیسے قریب آرہی ہے عوام وخواص میں تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔ عام خیال یہ ہے کہ پیش آمدہ مردم شماری سال2011ء کی مردم شماری کے طرز پر ہونی چاہیے۔ اس میں این پی آر کو شامل نہیں کیا جانا چاہیے۔ اسی ضمن میں ماہرین معاشیات اور سماجی جہد کاروں کے 190افراد پر مشتمل ایک گروپ نے حکومت کو درخواست پیش کی ہے کہ مردم شماری 2021 سے نیشنل پاپولیشن رجسٹر (این پی آر) کو الگ کیا جائے۔ کیوں کہ اس بات کا خدشہ ہے این پی آر کو شہریت کی بنیاد بنایا جائے گا جو کہ مردم شماری ایکٹ 1948 کے خلاف ہے۔ انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ اکانومکس اسوسی ایشن کی ویب سائٹ پر ایک بیان نشر کیا گیا جس میں یہ بھی بتایا گیا کہ کیرالا، راجستھان اور مغربی بنگال نے این پی آر کو مردم شماری کے ساتھ شامل نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ این پی آر کو این آر سی کی جانب پہلا قدم تصور کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ سال 24 دسمبر کو کابینہ نے 3900 کروڑ روپے کا بجٹ بھی اس تعلق سے منظور کیا ہے۔ گروپ میں شامل ارکان میں اے کے شیو کمار نئی دہلی، اے وی جوس ترواننتاپورم، اجیت کارنیک دبئی، الیکس تھامس بنگلورو، امیلا کروا ممبئی، انربن مکرجی کولکتہ، بلویندرسنگھ ٹکانا پٹیالہ، بیبھاس سہا برطانیہ، دیپنکر باسو امریکہ، یوشیمی اسامی جاپان، سمیت گلاٹی، کینڈا اور سنندا سین دہلی شامل ہیں۔



