ہندی مسلمانوں کا مستقبل اور موجودہ حالات

اپنی شناخت پر سمجھوتہ کے بغیر واضح اہداف کے ساتھ جدوجہد وقت کا تقاضہ

پروفیسر ایازاحمد اصلاحی، لکھنو

ایس آئی او آف انڈیا کی مرکزی وصوبائی قیادت سے وابستہ بعض نوجوانوں کی گرفتاری اس بات کا عندیہ ہے کہ فسطائی قوتیں اپنے ان اہداف کی طرف بڑی تیزی سے بڑھ رہی ہیں جن کا مقصد بحیثیت قوم مسلمانوں کی جڑوں کو کھوکھلا کرنا ہے۔تبلیغی جماعت کو ہدف بنا کر انہوں نے پہلے ہی دیکھ لیا کہ مسلمانوں کے قومی اتحاد اور ان کی دینی قیادتوں میں کتنا دم ہے، اب وہ تحریک اسلامی کو آزما رہے ہیں۔ پاپولر فرنٹ اور جماعت اسلامی ہند جیسی مسلم جماعتیں بہت پہلے سے ان کے نشانے پر ہیں۔ تحریک اسلامی کی سرگرمیاں ان کی آنکھوں میں برسوں سے ایسے ہی چبھ رہی ہیں جیسے شیطان کی آنکھوں میں انسانی وجود۔ یہ قوتیں ایک مدت سے کسی ایسے وقت کی منتظر تھیں جب انہیں مسلمانوں کی اس بیدار مغز و حدی خواں تنظیم پر ہاتھ ڈالنے کا آسان موقع مل جائے۔ آج وہ اقتدار پر پوری طرح قابض ہیں اس لیے ان کے لیے ملتِ اسلامیہ کے سب سے منظم ومضبوط محاذ پر حملہ کرنا آسان ہو گیا ہے۔ وہ یہاں وہی کہانی دہرانا چاہتے ہیں جو اندلس، سسلی، بوسنیا، سنٹرل افریقہ، مقبوضہ فلسطین اور میانمار میں اسلام دشمنوں کے ذریعہ دہرائی جا چکی ہے۔
ان حالات میں ان کا اگلا منصوبہ کیا ہو سکتا ہے اس سوال سے زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ ہمارا منصوبہ کیا ہونا چاہیے؟ خود سپردگی اور غفلت کا تسلسل یا کسی اقدام کی تیاری؟ دعوت، ڈائیلاگ، حکام کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر انہیں مسلمانوں کے دو ٹوک موقف اور ممکنہ مزاحمت سے آگاہ کرنا، بین الاقوامی پلیٹ فارم پر مضبوطی سے اپنا مقدمہ پیش کرنا، تمام ممکنہ خود حفاظتی تدابیر اور اس کی تیاری کرنا، ملک کے تمام کمزور طبقوں سے بامعنی وعملی اتحاد کرنا اور دوسری ضروری سرگرمیاں اس اقدام کا حصہ ہو سکتی ہیں۔
اس حقیقت سے انکار نہیں کہ بھارت میں مسلم دشمن قوتوں کے پاس حکومت واقتدار ہے، وہ ہر سیاہ وسفید کی مالک مالک بن چکی ہیں، ان کے پاس مسلح افواج، پولیس، سیکورٹی فورسز سبھی کچھ ہیں۔دنیا کی چند بڑی طاقتیں بھی انہیں کی طرفدار ہیں۔ لیکن یہ چیزیں زندہ قوموں کو مایوس کرنے کی بجائے مزید حوصلہ دیتی ہیں اور متحرک رکھتی ہیں۔
حالات کی ستم ظریفی دیکھیے کہ جو مسلمان بھی اپنے اوپر ہو رہی زیادتیوں پر احتجاج کرتا ہے اور ملی حمیت کا اظہار کرنے کہ جراءت کرتا ہے اور ظالموں کو للکارتا ہے وہ غدار قرار پاتا ہے پھر یا تو اسے خاموش کر دیا جاتا ہے یا نذرِ زنداں کرکے اس پر ہر طرح کے ظلم کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔ حد یہ ہے کہ ان گرفتاریوں اور فرضی مقدمات کا سلسلہ لاک ڈاؤن اور رمضان میں بھی نہیں رکا بلکہ ان حالات کی وجہ سے ان کا کام اور آسان ہو گیا، کیونکہ لاک ڈاون کی وجہ سے نہ تو کہیں سے کسی احتجاج کا اندیشہ تھا اور نہ فوری رد عمل کا۔ جامعہ کے طلبہ میران حیدر، صفورہ زرگر، آصف اقبال (سکریٹری ایس آئی او آف انڈیا)، جے این یو کے طالب علم شرجیل امام اور ایس آئی او مشرقی یو پی کے صدر، عمر خالد کی گرفتاریاں اور دلی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر ظفر الاسلام خان پر غداری کا مقدمہ، اسی طرح شاہین باغ احتجاج میں سرگرم کارکنوں کو نشانہ بنانا وغیرہ یہ سب اسی اسکیم کی مختلف کڑیاں ہیں۔ اس میں اسرائیلی فورسز کے طرز پر کام کر رہی دلی پولیس ظلم ونا انصافیوں کی تمام حدیں پھلانگ رہی ہے۔
ان تمام کارروائیوں کا سب سے بڑا مقصد جو صاف نظر آ رہا ہے وہ یہ ہے کہ حکومت پولیس کے ذریعے مسلمانوں کے حوصلوں کو اتنا پست کر دینا چاہتی ہے کہ وہ اپنے اوپر ہو نے والی زیادتیوں کا جواب دینے کی ہمت نہ کر سکیں۔ اس کی سب سے بڑی مثال حالیہ دلی فساد ہے جس میں محتاط اندازے کے مطابق ۹۰ فیصد جانی ومالی نقصان مسلمانوں کا ہوا ہے، اس کے باوجود المیہ در المیہ یہ ہے کہ اس فساد میں مسلمانوں نے فسادیوں کے مقابلے میں جو تھوڑی بہت مزاحمت کی تھی اس نے سنگھیوں کے کان کھڑے کر دیے اور اس کی سزا انہیں یہ دی گئی کہ ۹۰ فیصد سے زائد گرفتاریاں مسلمانوں کی عمل میں لائی گئیں جب کہ فساد بھڑکانے والے بی جی پی کے لیڈر اور مسجدوں پر حملہ کرنے والے مجرم جن کے کرتوت ویڈیوز میں محفوظ ہیں، بلا کسی خوف وخطر کے آزاد گھوم رہے ہیں۔ گویا مسلمانوں کا ظلم پر احتجاج بھی جرم بن گیا ہے۔ ظلم پر چھوٹ اور احتجاج پر پابندی! یہ ہے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا چہرہ!! کیا مسلمانوں کے اس ملک میں دوسرے درجے کے شہری ہونے کا اس سے بڑا کوئی اور ثبوت ہو سکتا ہے؟
کلدیپ نیر نے اپنے آخری کالم میں وزیر اعظم نریندر مودی کو ان کے غیر جمہوری طرز حکومت پر ٹوکتے ہوئے مشورہ دیا تھا کہ وہ ملک کے شمال مشرقی حصے میں ’’ہندوتو کا نظریہ‘‘مسلط کرنے کے بجائے جمہوریت اور ملک کے استحکام کے لیے اچھی حکومت
(Good Governance) پر توجہ دیں۔ مگر آر ایس ایس کے ماتحت مودی اور ان کے انتہا پسند وزاراء پر ان باتوں کا اثر نہ ہونا تھا نہیں ہوا۔ آج مودی حکومت وہی سب کچھ پورے ملک میں کر رہی ہے جس کا آغاز اس نے آسام اور کشمیر سے کیا تھا اور جس پر کلدیپ نیر نے ’’فلسفہ ہندتوا‘‘
(Hindutva Philosophy) کہہ کر اس پر تنقید کی تھی۔ آج نوبت یہ ہے کہ مسلمانوں پر کشمیر سے دلی تک مظالم کا سلسلہ دن بدن دراز ہوتا جا رہا ہے اور جو مسلمان ان کھلے مظالم پر صدائے احتجاج بلند کرتے ہیں تو انہیں طرح طرح سے ستایا جا رہا ہے تاکہ وہ ہر ظلم کو اپنی تقدیر سمجھ کر خاموشی سے اسے برداشت کرتے رہیں اور دلتوں نے برسوں ظلم سہنے کے بعد جو جگہ خالی کی ہے وہ مسلمانوں سے پر کردی جائے۔تو پھر کیا کیا جائے؟ ہم ان حالات کو اپنی تقدیر سمجھ کر خاموشی اختیار کر لیں اور ہاتھ پر ہاتھ دھرے ہر نئے مورچے پر شکست کا ماتم اور اگلے سانحے کا انتظار کریں یا پھر اپنے احکم الحاکمین رب اور جباروں کے جبار اللہ پر بھروسہ کر کے اپنی بے سر وسامانی کو ہی سامان بنا کر حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے آٹھ کھڑے ہوں؟ ہمارے پاس دو راستے ہیں، ہر حال میں خدا کی اطاعت یا خدا سے بغاوت اور ایمانی تقاضوں سے فرار۔ اگر ہم حالات کی مجبوری کا بہانہ بنا کر دین کا سودا کرتے ہیں تو یہ اللہ سے بغاوت کا راستہ ہوگا جس کا نتیجہ دنیا وآخرت کی تباہی کے سوا کچھ نہیں نکلے گا۔ اس کے مقابلے میں اگر ہم طاغوتی قوانین اور ظالمانہ اقدامات سے بغاوت کا اعلان کر کے خدا کی اطاعت کی راہ پر چلتے ہیں تو دونوں جہانوں کی کامیابیاں ہمارا مقدر ہوں گی۔ بالفاظ دیگر اگر ہم اپنے پیروں میں پڑی ظلم وجبر کی زنجیروں کے باوجود اللہ کی اطاعت پر جمے رہتے ہیں اور اس کی رضا کے لیے غیر اسلامی فیصلوں اور ظلم پرور نظام کو رد کرکے مزاحمت و انکارِ طاغوت کی ہمت دکھاتے ہیں تو یہ عین اسلام ہوگا جو کہ مطلوب ہے اور اسی میں ہماری کامیابی ہے۔
’’فمن یكفر بالطاغوت و یؤمن بالله فقد استمسك بالعروة الوثقى لا انفصام لها‘‘اسلامیان ہند اس وقت جس مرحلے سے گزر رہے ہیں وہ قوموں کی زندگی میں لرزہ خیز مرحلہ ہوتا ہے، جب سب کچھ متزلزل ہوتا ہوا نظر آتا ہے، جب اپنی راہ پر ثابت قدمی دنیا کا سب سے دشوار گزار عمل بن جاتا ہے۔ اس مرحلے میں سب سے زیادہ اہم چیز یقین کامل ہے کہ ہم نے جس راستے کو اختیار کیا ہے وہی حق ہے باقی سب باطل۔ رسول کریم کی مکی زندگی اسی سخت ترین آزمائشی مرحلے کی علامت ہے جب ان کے اپنے وطن مکہ کی گلیاں ہی ان پر تنگ کر دی گئی تھیں۔ اس پورے مرحلے میں قرآن کریم کی بہت ساری ایسی آیات نازل ہوئیں جو محض آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھیوں کے ایمان ویقین کو مضبوط کرنے والی تھیں۔ چنانچہ فرمایا گیا فتوكل على الله، انك علی الحق المبین (اللہ پر بھروسہ رکھو اور جان لو کہ تم ہی واضح حق پر ہو)، دوسری جگہ فرمایا: فاستمسك بالذی أوحی إلیك انك على صراط مستقیم (جو کچھ تم پر نازل کیا جارہا ہے اسے مضبوطی سے تھامے رہو، بے شک تم ہی راہ راست پر ہو)۔
ان مشکلات میں آپ کی تسلی ودلاسہ کے لیے ہی نہیں بلکہ آپ کے یقین وخود اعتمادی کو بڑھانے والی آیات بھی اتریں، کہا گیا ’’ولسوف یعطیك ربک فترضى‘‘ اور یقین دلایا گیا کہ’’ عنقریب تمہارے دشمن کی جڑ کٹ جائے گی ‘‘إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ ۔
حسن البنا شہید کے انقلابی رسالہ ’’دعوتنا فی طور جدید‘‘کا مرکزی موضوع یہی ہے انہوں نے لکھا ہے کہ اس یقین کے بغیر وہ دعوتی کارواں تیار ہی نہیں ہو سکتا جو ’’عالمی ربانی دعوت‘‘ کا حق ادا کر سکے۔ وہ کہتے ہیں’’ اس صبر آزما مرحلے میں یہ یقین صبر وثبات کا وسیلہ بنتا ہے کہ رسول کوجس دین کے ساتھ مبعوث کیا گیا ہے وہی حق ہے اور اس کے سوا جو کچھ ہے وہ باطل ہے، ان کی راہ تمام راہوں میں درست ترین ہے۔۔۔ اور اصل روشنی ان کے پاس ہے اور اس کے علاوہ سب کچھ ظلمت ہے‘‘۔
سچائی پر مبنی یہ طرزِ فکر اس وقت سب سے زیادہ حوصلہ افزا ثابت ہوتا ہے جب حق وباطل کی کشمکش اپنے شباب پر ہو اور اہل اسلام پر زمین کو اس قدر تنگ کر دیا گیا ہو کہ تھڑ دلے لوگ نہ صرف ہمت ہارنے لگتے ہیں بلکہ حالات کے شدید دباؤ میں اپنے نظریے کی حقانیت پر ان کا یقین بھی متزلزل ہونے لگتا ہے اور اپنی جان ومال پر منڈلا رہے خطرے کا خیال کرکے وہ قافلہ سخت جاں میں شامل ہونے کو حماقت تصور کرنے لگتے ہیں۔ اس سلسلے میں سابق صدر بوسنیا علی عزت بیگوچ نے 1992 میں بوسنیا پر کوہ غم ٹوٹنے سے بہت پہلے اپنی معروف کتاب Islam Between East and West میں جو حقیقت بیان کی تھی اس کے اولین مخاطب مسلمان تھے لیکن اسے مسلمانوں نے اس وقت بھی ان سنی کر دی تھی اور شاید آج بھی وہ ان پیشین گوئی نما نصیحتوں کو نظر انداز کرنے کی تاریخی غلطی کر رہے ہیں، ان کے یہ الفاظ ہندوستانی مسلمانوں پر بھی پوری صادق آتے ہیں: ’’جب انسان اپنی کوتاہی اور عدم تحفظ کا شکار ہوتا ہے تو خدا کے آگے جھک جانے سے اسے نئی قوت اور نیا تحفظ فراہم ہوتا ہے، خدا پر اور اس کی رحمت پر ایمان ہی انسان کو احساسِ تحفظ عطا کرتا ہے اور یہ جذبہ واحساس اسے کہیں اور سے نہیں مل سکتا۔ یہ ایمان ہے جو گوہر ادراک اور روح کی طاقت کے ساتھ اطاعتِ خداوندی کی صداقت سے تشکیل پاتا ہے اور یہی اسلام ہے‘‘۔
تقریبا اسی لہجے میں بر صغیر میں مفکر اسلام مولانا مودودی علیہ الرحمة اور مصر وعالم عرب میں اخوان المسلمین کے بانی حسن البنا شہید، عرب اخوانی مفکر سید قطب شہید اور بعض دوسرے مسلم مفکرین نے اپنے یہاں کے مسلمانوں کو ان خطرات سے آگاہ کیا تھا۔ حالات جیسے بھی ہوں اگر ہماری عملی شہادت اسلام کے خلاف ہوگی اور ہم اللہ و رسول کے احکام سے غداری کے مرتکب ہوں گے تو اس کی سزا بہت بھیانک ہوگی۔ اس دین کی شہادت مسلمانوں کی امتیازی شان ہے اگر ہم نے خود کو ہوا کے رخ پر ڈال کر اسے فراموش کر دیا تو ہم اپنی یہ شان زیادہ دنوں تک برقرار نہیں رہ سکتے۔ مولانا مودودی نے آج سے دہائیوں پہلے ہمیں اپنے عہد کی مختلف مثالیں دے کر اس ذلت ورسوائی کے انجام سے آگاہ کیا تھا اور خدا کے اس فطری ودائمی اصول کی یہ تشریح کی تھی کہ ’’جب کوئی قوم خدا کی نعمت کو ٹھکراتی ہے اور اپنے خالق سے غداری کرتی ہے تو خدا دنیا میں بھی اس کو عذاب دیتا ہے اور آخرت میں بھی، یہودیوں کے معاملہ میں خدا کی یہ سنت پوری ہو چکی ہے اور اب ہم مجرموں کے کٹہرے میں کھڑے ہیں‘‘۔ اس کے بعد انہوں نے جو مثال دی ہے وہ اتفاق سے (غیر منقسم) ہندوستان کی ہی ہے، ان کے یہ الفاظ اس لحاظ سے بڑے اہم ہیں کہ جس خطرے کی نشان دہی انہوں نے تقریبا ۷۴ سال پہلے کی تھی اس کی پوری تصویر آج ہندوستان کا مسلمان اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے: وہ لکھتے ہیں: ’’دور کیوں جائیے خود ہندوستان میں اپنی حالت دیکھ لیجیے، ادائے شہادت میں جو کوتاہی آپ نے کی بلکہ الٹی خلاف حق شہادت جو آپ اپنے قول وعمل سے دیتے رہے اس کا تو نتیجہ یہ ہوا کہ ملک کا ملک آپ کے ہاتھ سے نکل گیا، پہلے مرہٹوں اور سکھوں کے ہاتھوں آپ پامال ہوئے پھر انگریز کی غلامی آپ کو نصیب ہوئی اور اب پچھلی پامالیوں سے بڑھ کر پامالیاں آپ کے سامنے آ رہی ہیں۔ آج آپ کے سامنے سب سے بڑا سوال اکثریت واقلیت کا ہے اور آپ اس اندیشے سے کانپ رہے ہیں کہ کہیں ہندو اکثریت آپ کو اپنا محکوم نہ بنالے اور آپ وہ انجام نہ دیکھیں جو شودر قومیں دیکھ چکی ہیں‘‘۔
پھر وہ ایک سوال کرتے ہیں’’مگر خدارا مجھے بتائیے کہ اگر آپ اسلام کے سچے گواہ ہوتے تو یہاں کوئی اکثریت ایسی ہو سکتی تھی جس سے آپ کو کوئی خطرہ ہوتا؟‘‘۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ سوال آج بھی ایک اژدھے کی طرح ہمارے سامنے منھ کھولے کھڑا ہے اور ہم سے کوئی جواب نہیں بن پا رہا ہے۔ اس بیچ بہت سا وقت نکل گیا، تاریخ کے وہ صفحات جو کبھی ہماری جراءت وعزیمت کی داستانوں سے بھرے رہتے تھے وہ ہمارے خوں آشام ایام کے مرثیوں سے بھر گئے، اس دوران خلافت کی قبا چاک ہوگئی، پاکستان دو لخت ہو گیا، ہندوستانی مسلمان غلام بنتا چلا گیا، بوسنیا تباہ ہو گیا فلسطین کو اسرائیل نے غصب کر لیا اور خلیجی جنگوں نے محض صہیونیت ریاست کے تحفظ کے لیے پورے مشرق وسطی کو کھنڈر بنادیا تب بھی غافل قوم پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ دوسرے مقامات کے مسلمانوں کے بارے میں یہاں تبصرے کی گنجائش نہیں لیکن ہندوستانی ملت اسلامیہ کے تعلق سے یہ کہنا بالکل خلاف واقعہ نہیں ہوگا کہ ہماری مزید غفلت یہاں ہماری یکسر تباہی کا پیش خیمہ بن جائے گی اور وہ خطرہ مزید بڑھ جائے گا جس سے ہم کو مدتوں پہلے آگاہ کیا گیا تھا۔بہرحال آج حالات ایسے نہیں ہیں کہ انہیں سمجھنے کے لیے بڑی بڑی گرہیں کھولنی پڑے، اب یہاں ہر چیز دو اور دو چار کی طرح عیاں ہے۔ اب صرف ہندوستان میں تحریک اسلامی ہی نہیں پورا کا پورا اسلام ہندتوا کی زد میں ہے، اب ہمارے پاس دو ہی راستے بچے ہیں یا مقابلہ کیجیے یا ہمیشہ کے لیے ہتھیار ڈال کر ہوا کے رخ پر چل پڑیے، یا ایمان پر جان دیجیے یا جان بچانے کے لیے ایمان کا سودا کر لیجیے، اپنے دینی وجود کے تحفظ کے لیے اپنا ظاہری وجود داؤ پر لگا دیجیے یا پھر ظاہری وجود کو بچانے کے لیے اپنے دینی وجود کو ہمیشہ کے لیے خیر باد کہہ دیجیے۔۔۔یہ الفاظ لکھنا آسان نہیں ہے، ایسا لکھتے ہوئے جگر ٹکڑے ہو رہا ہے اور دل خون کے آنسو رو رہا ہے لیکن کوئی مجھے بتائے کیا اس کے علاوہ اور کوئی راستہ بچا ہے ہمارے پاس؟۔اس وقت مسلم قوم کو جن فوری اقدامات کی ضرورت ہے ان کی طرف اشارہ کرنے سے پہلے چند دائمی اصولوں کو نظر میں رکھنا ضروری ہے۔
٭ انسانی جسم کسی مرض یا وبا سے مرتےہیں لیکن زندہ قوموں کی موت ذہنی وفکری تعطل سے ہوتی ہے، بیمار جسم کا علاج دواؤں سے ہوتا ہے جب کہ بیمار قوموں کا علاج حرکت وعمل کے علاوہ کچھ اور نہیں ہے۔
٭ دوسری قوموں کی پہچان ان کی نسل یا وطن سے ہوتی ہے جب کہ مسلمان قوم کی پہچان اسلام ہے، دوسری قوموں کی ترقی فوجی برتری اور مادی وسائل پر منحصر ہے جب کہ اہل اسلام کی ترقی کا راز جہاد (جد وجہد) و اجتہاد ہے، ایک کے ذریعہ مثبت تبدیلیوں کی راہ کھلتی ہے اور قوم حیاتِ تازہ پاتی ہے جب کہ دوسرا راستہ تحقیق وجستجو کا ہے جو اسلام کو ایک قابل عمل نظریہ اور حقیقت منتظر کی شکل میں دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے اور خود مسلمانوں کو دوسروں کی ذہنی وفکری غلامی سے نجات دیتا ہے
٭ یہ بھی یاد رکھیے کہ دوسری قومیں محکومی وغلامی کے ساتھ سمجھوتہ کر کے جی سکتی ہیں مگر قوم مسلم اس کے ساتھ ایک پل بھی باقی نہیں رہ سکتی کیونکہ اسلام کی روح اس کا اپنا نظریہ حیات ہے جو حریت فکر وعمل سے عبارت ہے اور یہ چیز غلاموں اور محکوموں کو حاصل نہیں ہوتی۔
٭ دوسری قومیں یہودیوں کی طرح مکر ومنافقت کو اپنے اخلاقی اصول کی بنیاد بنا کر اور اپنے اصل نسل پرستانہ فکر وفلسفہ چھپا کر دوسروں کو دھوکا دے سکتی ہیں اور مکر وفریب کے سہارے صدیوں زندہ رہ سکتی ہیں لیکن اسلام میں اس منافقت کی گنجائش نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قومِ مسلم کی بقاء اس کا نظریہ توحید ہے نہ کہ اس کا قومی ونسلی وجود۔ مسلمان خلافت ارضی کا وارث ہے اور وہ صرف اپنے اسی دینی وجود کے ساتھ زندہ رہ سکتا ہے چاہے اس کے لیے اسے کتنی ہی بڑی قربانیاں دینی پڑیں۔
ان حالات میں ہندی مسلمانوں کے لیے پیغام یہی ہے کہ وہ اپنی شناخت کے ساتھ جہاد واجتہاد کی صورت میں حرکت وعمل کا آغاز کریں ورنہ ان کا اصل وجود ان کے ظاہری وجود کے باوجود مٹ جائے گا جس کے بعد ان کا جینا مرنا یکساں ہو جا ئےگا۔ اس لیے ائے مسلمانو! اگر تم واقعی اسلام کا جھنڈا ہاتھ میں لیے جینا چاہتے ہو تو کبھی باطل کے ساتھ سمجھوتہ نہ کرنا اور نہ کسی قربانی سے گریز کرنا کہ یہی تمہارے دینی وتہذیبی وجود کی اصل ضمانت ہے۔
مسقبل کے لائحہ عمل کے بنیادی نکات:
ان حالات میں فسطائی قوتوں کے منصوبوں کو ناکام بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ہمارا بھی اپنا منصوبہ ہو، واقعات وحادثات کے بعد صرف ردعمل ظاہر کرنا اس مسئلے کا حل نہیں ہے۔ اس منصوبے کے دو بنیادی پہلو ہیں: پہلا دعوت وشہادتِ حق ہے اور دوسرا دفاع ومزاحمت۔
اس کی دو بنیادی قسمیں ہیں ، ایک وقتی اور فوری فیصلوں اور اقدامات پر مشتمل ہے، دوسرا طویل مدتی فیصلوں اور اقدامات کا متقاضی ہے۔ یہاں ان دونوں قسموں کی بعض شقوں کو محض نکات کی صورت میں بیان کیا جا رہا ہے تاکہ ارباب فکر ونظر اس پر غور کریں۔ ممکن ہوا تو کسی اور موقع سے اس کا تفصیلی خاکہ بھی پیش کیا جائے گا۔ یہ منصوبہ یا مستقبل کا لائحہ عمل درج ذیل اہداف پر مشتمل ہو سکتا ہے:

قلیل مدتی اہداف
۱۔۔ بین الاقوامی سطح پر اس مسئلے کو منصوبہ بند طریقے سے اٹھایا جائے اور جس طرح ہندوستان میں لاک ڈاؤن کو مسلمانوں کے خلاف کریک ڈاؤن میں بدل دیا گیا ہے، ضروری ہے کہ یو این او اور او آئی سی جیسے ادارے اس سے واقف ہوں اور وہاں اس غیر انسانی حرکت کے خلاف آواز اٹھائی جائے۔
۲۔۔ وزیر اعظم، صدر مملکت اور اعلیٰ پولیس آفسروں سے فوری ملاقات کی جائے اور ان کے آفس میں جا کر ان کے روبرو بیٹھ کر مسلمانوں پر ہو رہی مسلسل زیادتیوں اور حکومت کے غلط فیصلوں کے خلاف ان کی تشویش، غصے اور ممکنہ احتجاج سے دو ٹوک انداز میں واقف کرایا جائے۔ اس سے وہ کچھ تو ہماری تشویش سے آگاہ ہوں گے۔ ساتھ ہی انہیں بتایا جائے کہ اگر ان گرفتاریوں اور مسلمانوں کو ہراساں کرنے کا مقصد نئے قوانین شہریت کے خلاف ہندوستانیوں کی جمہوری اور پرامن آواز کو دبانا ہے تو وہ نا ممکن ہے بلکہ اس مسئلے کا حل صرف جمہوری طور سے ہی ممکن ہے۔
۳۔۔ لاک ڈاؤن کے بعد کا ایک پورا منصوبہ تیار کیا جائے جس کا اصل مقصد یہ ہو کہ اگر حکومت نئے قوانینِ شہریت واپس نہیں لیتی ہے تو ہمارا فوری اقدام کیا ہوگا اور ہمارے احتجاج کی نوعیت کیا ہو گی۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ قوم کو فسطائی قوتوں کے مسلم کش منصوبوں اور اس پر ہو رہی عمل آوریوں کے خلاف بیدار ومتحد کرنے کا ایک پورا منصوبہ بھی ہمارے پاس ہو۔ منتشر اور غیر منظم احتجاجات نہ تو دیر پا ثابت ہوں گے اور نہ نتیجہ خیز، اس کے لیے ہمیں ہر سطح پر ایک بے خوف قیادت تیار کرنی ہو گی جس میں حالات سے لڑنے کی بھر پور صلاحیت ہو۔
طویل مدتی اہداف ۱ ان اہداف میں دعوت دین وشہادت حق ہی کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہے، اس کام کے نہ ہونے کے جو نقصانات ہوئے ہیں ان کا ذکر کیا جا چکا ہے۔ مسلمان دوسری قوموں کی طرح کسی ایک قومی یا قبائلی گروہ کا نام نہیں ہے جو محض اپنے مفادات کے لیے جیتے ہیں بلکہ یہ ایک زندہ نظریہ اور جیتے جاگتے تصور کا نام ہے۔ جب تک ہم یہ تصورِ حیات سارے ہندوستانیوں کے سامنے نہیں پیش کر لیتے اس وقت تک اتمام حجت کا کام نا تمام رہے گا اور اس حالت میں اسلام کے غلبے کا خواب دیکھنا یا حسن البنا علیہ الرحمة کے الفاظ میں’’ اساتذہ عالم‘‘ بننا یا مولانا مودودی کے قول کے مطابق ’’غالب اکثریت‘‘ میں تبدیل ہونا نا ممکن ہے۔ اپنے علاوہ دوسروں کو کافر کہنا اور نفرت کا جواب نفرت سے دینا (جیسا کہ سوشل میڈیا میں نظر آتا ہے) اس مسئلے کا قطعاً حل نہیں ہے، بلکہ یہ کارِ دعوت کے لیے سخت مضر ہے۔ یہ امت ’’خیر امت‘‘ اسی شرط پر بنائی گئی ہے کہ وہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی منصبی ذمہ داری ادا کرتی رہے گی۔ جس طرح خیر امت ہونے کے یقین کا دلوں میں جاگزیں ہونا اس امت کی قوت کا راز ہے اسی طرح اس مفوضہ ذمہ داری کی ادائیگی، اس کے غلبہ وعروج کی کنجی ہے اور اس کے تحفظ ودفاع کی ضمانت بھی۔ اس کے بغیر وہ مظالم سے کبھی نجات حاصل نہیں کر سکتی۔ کیونکہ دشمنانِ اسلام کو دائرہ اسلام میں داخل کرنے کی طاقت، دعوت وشہادتِ حق کے علاوہ کسی اور ذریعے سے نہیں مل سکتی۔تحریک اسلامی واحد تنظیم ہے جس نے اول روز سے اسے اپنے منصوبے کا حصہ بنایا ہے، اگر اس کے ذریعہ یہ تھوڑا بہت کام بھی نہ ہوتا تو شاید ہمارا حال مزید ابتر ہوتا۔ کورونا نامی وبا کے دوران ضرورت مندوں اور بے یار ومدگار مزدوروں کی خدمت کر کے اس امت نے ملک میں جو پہچان قائم کی ہے اور شہریوں کے دلوں میں جو جگہ بنائی ہے وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر ہم اپنے اخلاق وعمل سے شہادت کا حق ادا کرتے رہیں گے اور با کردار مسلمان ہونے کا ثبوت دیتے رہیں گے تو ان شاء اللہ حالات بدلنے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی۔ اس ہندو خاتون کا یہ جملہ یہ دنیا کیسے بھول سکتی ہے جس نے کہا تھا کہ لاک ڈاؤن کے مارے ہوئے تمام مزدوروں کو انہی راستوں سے اپنے گھر واپس ہونا چاہیے جو روزہ دار مسلمانوں کی بستیوں کے قریب سے گزرتے ہیں کیونکہ ان کے علاوہ اس تپتی دھوپ میں ان کو کھانا دینے والا اور کوئی نہیں ملے گا۔ یہی اسلام کی عملی شہادت ہے۔
۲ اپنے تحفظ ودفاع کا ایک بھر پور منصوبہ بھی وقت کا اہم تقاضا ہے۔ اس منصوبے کی اہم کڑیاں یہ ہیں: اکثریتی مسلم آبادیوں والے مضبوط گڑھ کی تیاری، دستوری حدود میں رہتے ہوئے مارشل آرٹس اور نشانہ باز نوجوانوں کی تیاری، نہتے پن کو کم کرنے کی تدبیروں پر غور، مسلم آبادی کے تناسب کے لحاظ سے ایک چست وپھرتیلے دفاعی جتھے کی تیاری جن میں ایسے نوجوان شامل ہوں جو وقت پڑنے پر اپنی آبادی کی حفاظت اور موب لنچنگ کرنے والے فسادی عناصر کا مقابلہ کر سکیں۔
کارِ دعوت ہمارا فرض اولین ہے لیکن یہ آپ کے اپنے حق دفاع سے غافل رہنے کو پسند نہیں کرتا، اپنے دفاع کی تدبیروں پر مستقل طور سے غور کرنا اور امت مسلمہ کے تحفظ کو یقینی بنانا خود ہمارے دعوتی محاذ کی حفاظت کے لیے بھی ضروری ہے۔ اپنے دفاع کو مستحکم کرنا دعوت کا ہی ایک پہلو ہے نہ کہ اس کے خلاف، اس کے بغیر نہ تو دعوت کے اصل مقاصد حاصل ہو سکتے ہیں اور نہ دعوتی عمل جاری رہ سکتا ہے، فتح مکہ ’فتح مبین‘ اسی لیے بنی کیونکہ بدر وحنین کے غزوات نے دعوت کی راہ مسدود کرنے والے دشمنوں کو شکست دے کر پورے عرب کو دار الاسلام بنانے اور اسلام کے پیغام کو عام بندگان خدا تک پہنچانے کی راہ ہموار کر دی تھی۔ جو لوگ دفاع کو دعوت سے الگ کر کے دیکھتے ہیں وہ دعوت الی اللہ جیسے عظیم کام کو نری مفاہمت سمجھتے ہیں وہ نہ تو روح دعوت سے واقف ہیں اور نہ روح اسلام سے۔
۳ مسلمانوں کے علاوہ دیگر اقلیتوں، دلتوں، مزدوروں اور سماج کے تمام کمزور طبقوں کا ایک ایسا متحدہ پلیٹ فارم بنانا جو ان طبقوں پر ہو رہے ظلم وزیادتیوں کے خلاف ہر سطح پر احتجاج ومزاحمت کی قیادت کر سکے، اور لوگوں کو یہ باور کرا سکے کہ فسطائی قوتیں ایک خالص برہمنی ریاست کے قیام کے لیے صرف مسلمانوں کو ہی نہیں بلکہ سماج کے ہر کمزور وپسماندہ طبقے کو اپنا نشانہ بنانا چاہتی ہیں۔
۴ داخلی ہجرت اور آبادی کی منتقلی بھی ایک آپشن ہے، اس کی عملی صورت گری کیا ہو اس پر ایک مستقل منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔
۵ عالم اسلام سے رابطہ اور دنیا کو یہاں کی حقیقی صورت حال سے آگاہ کرنا بھی ہمارے منصوبے کا مستقل جز ہونا چاہیے، یہ کام اس حقیقت کو دیکھتے ہوئے زیادہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ہمارا دشمن بہت شاطر ہے۔ ہم نے دیکھا کہ سوشل میڈیا پر جب کورونا وائرس کے دوران مسلمانوں پر ہو رہی زیادتیوں کی وجہ سے اس کی پول کھلنی شروع ہوئی اور اس کے اثر سے بعض عرب خلیجی ریاستوں کے عوام اور حکم راں بھی احتجاج کرنے لگے تو کس طرح ہندی اور اردو ٹویٹس کو پاکستانی مہم کا حصہ بتا کر دلی پولیس نے گمراہ کن پروپیگنڈے کے ذریعہ اسے من پسند رخ دینے کی کوشش کی تاکہ ہندی و اردو نہ جاننے والے عربوں کو آسانی سے گمراہ کیا جا سکے۔


 

اگر ہم اپنے پیروں میں پڑی ظلم وجبر کی زنجیروں کے باوجود اللہ کی اطاعت پر جمے رہتے ہیں اور اس کی رضا کے لیے غیر اسلامی فیصلوں اور ظلم پرور نظام کو رد کرکے مزاحمت و انکارِ طاغوت کی ہمت دکھاتے ہیں تو یہ عین اسلام ہوگا جو کہ مطلوب ہے اور اسی میں ہماری کامیابی ہے۔