دنیا کے 25 سب سے بڑے جمہوری ممالک میں ہندوستان کے جمہوری اقدار میں بھاری گراوٹ درج

ہندوستان مسلسل انحطاط کی سمت ۔۔!

افروز عالم ساحل

10دسمبر عالمی یوم انسانی حقوق کا دن ہے۔ اقوام متحدہ کی جانب سے اعلان کردہ یہ خاص دن پوری دنیا میں پورے جوش و خروش کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ ہمارے ملک ہندوستان میں بھی یہ رسم ادائیگی ہر سال کی جاتی ہے لیکن یہاں دلتوں و اقلیتوں اور اب کسانوں کے ساتھ امتیازی سلوک و مظالم بلا روک ٹوک جاری ہے۔ انسانی حقوق پر کام کرنے والی تمام بین الاقوامی تنظیموں کی رپورٹیں بتاتی ہیں کہ ہندوستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں اضافہ ہوا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیم ’فریڈم ہاؤس‘ نے اپنی حالیہ رپورٹ میں دنیا کے 25 سب سے بڑے جمہوری ممالک میں ہندوستان کے جمہوری اقدار میں بھاری گراوٹ درج کی گئی ہے۔ ہندوستان کا مقام ’فریڈم ان دی ورلڈ رپورٹ 2020‘ میں 83واں ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق ان کے اسکور میں ہندوستان کے چار پوائنٹس کم ہوئے ہیں، جو اس سال دنیا کے 25سب سے بڑے جمہوری ممالک میں بد ترین کمی ہے۔

اس تنظیم نے ہندوستان کے جمہوری اقدار میں تیزی سے آئے زوال کے پیچھے تین وجوہات بتائی ہیں: پہلا ریاست جموں و کشمیر میں آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنا۔ دوسرا آسام میں شہریوں کے لیے این آر سی کا نفاذ اور تیسرا شہریت ترمیمی قانون کا نفاذ۔

اس رپورٹ میں مودی حکومت پر تنقید کی گئی ہے کہ وہ ملک کو ’’تکثیریت اور انفرادی حقوق سے دور کر رہے ہیں جس کے بغیر جمہوریت زیادہ دیر تک زندہ نہیں رہ سکتی‘‘۔

’فریڈم ہاؤس‘ ایک قدیم اور معروف تنظیم ہے جو 1941 میں نیو یارک میں تشکیل دی گئی تھی، جس کا مقصد دوسری جنگ عظیم میں امریکی شمولیت اور فاشزم کے خلاف جنگ کو فروغ دینا تھا۔ اس وقت یہ تنظیم دنیا بھر میں جمہوریت کی حمایت اور دفاع کے لیے کام کر رہی ہے اور سال 1971 سے ہر سال ’فریڈم ان دی ورلڈ رپورٹ‘ جاری کرتی ہے۔

اس سے قبل مئی 2020 میں ہندوستان میں جمہوری اقدار کی پامالی پر یورپی پارلیمنٹ نے بھی ایک رپورٹ پیش کی تھی۔ ’’ہندوستان کی جمہوریت اور معیشت کو درپیش مسائل‘‘ کے عنوان سے حالیہ سماجی صورت حال کے جائزے پر مشتمل اس رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ مودی حکومت نے ہندوستان کی سیکولر بنیادوں کو نقصان پہنچاتے ہوئے ملک میں مذہبی بنیادوں پر قوانین میں تبدیلی اور اقلیتوں پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق وہ ملک جو 70سال سے جمہوریت پسند، قانون کی حکم رانی، مختلف مذاہب اور کلچر کے درمیان بھائی چارے کا ریکارڈ رکھتا تھا وہاں وزیر اعظم مودی کی قیادت میں بننے والی بی جے پی حکومت کی نئی میعاد میں صورت حال مسلسل اور تیزی سے بدل رہی ہے۔ ہندو قوم پرستی نے سماج اور سیاست پر اپنی گرفت مضبوط کر لی ہے۔

اس رپورٹ میں اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل اور یو این ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کی اس تشویش کا بھی ذکر کیا گیا ہے جو انہوں نے مودی حکومت کی جانب سے پیش کردہ این آر سی اور سی اے اے قانون پر کی تھی۔ ساتھ ہی یہ رپورٹ ہندوستان کو انٹرنیٹ بند کرنے کا عالمی لیڈر بھی قرار دے رہی ہے، جہاں فسادات روکنے کے نام پر صرف 2019 میں 106 مرتبہ انٹرنیٹ سروسز معطل کی گئیں۔

یہ رپورٹ یورپین پارلیمنٹ کے ممبران اور ان کے اسٹاف کی مدد سے تیار کی گئی تھی۔ اس رپورٹ میں مودی حکومت کی جانب سے کشمیر کی صورت حال، ہندوتوا کے تناظر میں اس کی خصوصی حیثیت کے خاتمے اور وہاں ہزاروں سیاسی کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریوں کا خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے۔ اس رپورٹ میں دو علیحدہ عنوانات کے تحت ہندوستانی جمہوریت اور اس کی معاشی صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہوئے اس کی کمزوریوں کی بھر پور نشاندہی بھی کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ اس رپورٹ میں اور بھی بہت کچھ ہے جو ہندوستان کی شناخت کو بدنام کرتا ہے۔

وہیں ہیومن رائٹس واچ نے اپنے 652صفحات پر مبنی عالمی رپورٹ 2020 میں کہا ہے کہ اگست 2019میں جموں وکشمیر میں ہندوستانی حکومت کے یک طرفہ اقدامات نے کشمیری عوام کے لیے بھاری تکالیف ومشکلات پیدا کی ہیں اور انسانی حقوق کی زیادتیوں کا موجب بنے ہیں۔ بی جے پی کی حکومت نے صوبے کا خصوصی آئینی موقف ختم کیا اور اسے دو مختلف علاقوں میں تقسیم کر دیا جنہیں وفاق کے ذریعے کنٹرول کیا جائے گا۔

یہی نہیں، یہ رپورٹ یہ بھی کہتی ہے کہ مودی حکومت مذہبی اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہی، پُرامن اختلاف رائے کو خاموش کرنے کے لیے بغاوت اور انسداد دہشت گردی کے ظالمانہ قوانین کا استعمال کیا اور حکومتی اقدامات اور پالیسیوں پر تنقید کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں کی زبان بندی کے لیے غیر ملکی فنڈنگ قواعد اور دیگر قوانین کا استعمال کیا۔

یہ رپورٹ بتاتی ہے کہ حکومت مذہبی اقلیتوں اور دیگر غیر محفوظ طبقوں پر بلوائی حملے جو اکثر بی جے پی کے حامیوں نے کیے، رکوانے کے لیے عدالت عظمیٰ کی ہدایات کے مؤثر اطلاق میں نا کام رہی ہے۔ مئی 2015سے اب تک، انتہاپسند ہندو گروہ گوشت کے حصول کے لیے گائے کی تجارت یا اسے ذبح کرنے کی افواہوں پر کان دھرتے ہوئے 50 لوگوں کو قتل اور 250 سے زائد کو زخمی کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ مسلمانوں کو مارا پیٹا گیا اور ہندو مذہبی نعرے لگانے پر مجبور کیا گیا۔ پولیس جرائم کی باقاعدہ تحقیقات کرنے میں ناکام رہی، تحقیقات روک دی گئیں، قواعد وضوابط نظر انداز کیے گئے اور گواہوں کو ڈرانے دھمکانے کے لیے اُن کے خلاف فوج داری مقدمے درج کیے گئے۔ ہیومن رائٹس واچ نے اپنی اس رپورٹ میں میں لگ بھگ 100 ممالک میں انسانی حقوق کی صورت حال کا جائزہ لیا ہے۔ ہندوستان میں انسانی حقوق کی پامالی کے تعلق سے جو باتیں سامنے آئی ہیں وہ پریشان کر دینے والی ہیں۔

کینیڈا کے آزاد تحقیقاتی ادارے نے اپنے ’ہیومن فریڈم انڈیکس— 2019‘ میں ہندوستان میں انسانی حقوق کی پامالی پر متعدد سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ ہندوستانی حکومت ملک میں انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیاں روکنے میں ناکام رہی ہے۔

162 ممالک پر مشتمل اس ’ہیومن فریڈم انڈیکس‘ میں ہندوستان 94ویں نمبر پر ہے اور اس کا کل اسکور محض 6.64ہے۔ یہ ’ہیومن فریڈم انڈیکس‘ کینیڈا کے کیٹو انسٹی ٹیوٹ ٹیوٹ، فریزر انسٹی ٹیوٹ اور فریڈریچ نومن فاؤنڈیشن فار فریڈم کی لبرلس انسٹی ٹیوٹ مشترکہ طور پر شائع کرتی ہیں۔

اس درمیان ستمبر کے مہینے میں یہ بھی خبر آئی کہ مودی حکومت کی جانب سے ہراسانی کی وجہ سے انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ’ایمنسٹی انٹرنیشنل‘ ہندوستان میں اپنے دفاتر بند کرنے پر مجبور ہوئی۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے صاف طور پر کہا کہ انہیں اپنے کام کی وجہ سے ہندوستان کی حکومت کی جانب سے نشانہ بنایا جا رہا ہے اور وہ اس وجہ سے ہندوستان میں اپنے آپریشن بند کر رہے ہیں۔

ایک رپورٹ میں ایمنسٹی نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ دہلی پولیس نے فروری میں ہونے والے فسادات کے دوران انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کیں۔ تاہم دہلی پولیس نے روزنامہ ہندو کو دیے گئے ایک بیان میں ان دعوؤں کو رد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایمنسٹی کی رپورٹ: ’یک طرفہ، متعصبانہ اور بد نیتی پر مبنی ہے۔‘ اس تنظیم نے مودی حکومت پر یہ بھی الزام لگایا کہ وہ انسانی حقوق کی تنظیموں کے خلاف ایک مہم چلا رہی ہے۔

کیا ہے عالمی یوم انسانی حقوق کی تاریخ؟

جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ ہر انسان آزاد پیدا ہوا ہے۔ آزادانہ طور پر اپنی زندگی گزارنا اس کی خواہش ہے۔ وہ ایک ایسے ماحول میں زندہ رہنا چاہتا ہے جہاں کسی قسم کے خوف و ہراس کی کوئی جگہ نہ ہو۔ کسی کے ساتھ کوئی بدسلوکی نہ ہو۔ کوئی بھی ظلم و ستم کا شکار نہ نہ بنے۔ کسی کے حقوق کی پامالی نہ ہو۔ کسی کا استحصال نہ ہو۔ یہ صدیوں پرانی انسانی خواہشات، آج تک خواہش ہی بنی ہوئی ہیں۔ دراصل بنیادی انسانی حقوق انسان کے پیدائشی حقوق ہیں۔ یہ وہ حقوق ہیں جو انسان کو کسی بھی ملک کے شہری ہونے کے ناطے نہیں، بلکہ ایک انسان ہونے کے ناطے ملتے ہیں۔ اسی لیے انسانی حقوق کو یورپ میں قدرتی حقوق کا نام دیا گیا تھا۔ویسےتو کہا جاتا ہے کہ انسانی حقوق کی جنگ اتنی ہی پرانی ہے جتنی کہ انسانی تاریخ ہے۔ دراصل مذہب، ذات، رنگ، نسل وغیرہ کی بنیاد پر لوگوں کے ساتھ امتیازی سلوک اس زمین پر ہمیشہ سے ہی ہوتا آیا ہے۔ پھر بھی اگر مورخین کے مطابق انسانی حقوق کی لڑائی یورپ میں تقریبا 350 سال پہلے شروع ہوئی، جب یونان میں غلاموں کی زندگی جانوروں سے کچھ بھی بہتر نہ تھی بلکہ ان کی حالت انتہائی قابل رحم تھی۔ ان کی یہ حالت دیکھ کر سب سے پہلے اسٹوکس نے آواز اٹھائی۔ وہیں زینو نے انسانی مساوات کی راہ ہموار کرنے کے مقصد کے لیے قدرتی قانون کا تصور پیش کیا۔

ماہرین یہ بھی بتاتے ہیں کہ انسانی حقوق کے جنگ کی شروعات 11 ویں صدی میں سن 1037 میں کنگ کونارڈ (سیکینڈ) کےذریعہ ایک چارٹر جاری کر کے اور پارلیمنٹ کے اختیارات کی نشاندہی کرنے سے ہوا۔ 1215 میں میگنا کارٹا جاری کیا گیا جسے والٹیئر نے چارٹر آف فریڈم کہا۔

پرانی تاریخ کی باتوں کو اگر ہم چھوڑ دیں تو اس کی جدید تاریخ 10 دسمبر 1948 سے شروع ہوتی ہے، جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 30 دفعات والا ایک بین الاقوامی انسانی حقوق کا اعلامیہ جاری کیا۔ اسی کے ساتھ دنیا کی حکومتوں نے بھی اپنے اپنے طریقے سے عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے آئینی قوانین بنائے۔
***

ہندوستان کا مقام ’فریڈم ان دی ورلڈ رپورٹ 2020‘ میں 83واں ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق ان کے اسکور میں ہندوستان کے چار پوائنٹس کم ہوئے ہیں

مشمولہ: ہفت روزہ دعوت، نئی دلی، شمارہ 13 تا 19 دسمبر، 2020