طلاقِ حسن مسئلہ نہیں،مسئلہ کا حل ہے

شرعی طریقے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کے پیچھے غلط عزائم کارفرما!

ڈاکٹر سلیم خان، ممبئی

ناگزیر علیحدگی کے احسن طریقے پر اعتراض کرنےوالوں کا طلاقِ سنیاس کے بارے میں کیا خیال ہے؟
وطن عزیز میں خواتین کے مسائل اور خاص طور پر ازدواجی مشکلات پر گفتگو کی ابتداء کثرت ازدواج سے ہوتی ہے۔ اس کے بعد طلاق پر گفتگو شروع ہوجاتی ہے۔ شاہ بانو اور تین طلاق کا معاملہ زیر بحث آتا ہے، بالآخر یکساں سیول کوڈ پر جاکر تان ٹوٹ جاتی ہے۔ اس طرح مسلمان اور اسلام پر مختلف زاویوں سے تنقید کرکے لوگ گویا خواتین سے ہمدردی اور یکجہتی کا حق ادا کردیتے ہیں ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مسلم خواتین کے علاوہ باقی ’سب کچھ چنگا ہی چنگا ‘ ہے ۔لیکن کیا حقیقت میں ایسا ہے؟یہ بیانیہ غیر مسلم خواتین کے مسائل کی جانب سے توجہ ہٹانے کی سازش کا ایک حصہ بھی ہوسکتا ہے۔ اس کو ایک مثال سے سمجھیں ۔ ابھی حال ہی میں عامر خان کی لال سنگھ چڈھا کے ساتھ اکشے کمار کی رکشا بندھن ریلیز ہوئی ۔ اگرچہ دونوں فلمیں فلاپ ہوئیں لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہےکہ بین الاقوامی بازار میں لال سنگھ چڈھا اس سال کی سب سے کامیاب ہندی فلم رہی ہے۔ وہ 180کروڑ میں بنی اور کل ملاکر ابھی تک 187کروڑ کماچکی ہے۔ اس کے مقابلے میں رکشابندھن 70کروڑ میں بن کر تیار ہوئی اور اس کا کل کاروبار صرف 43 کروڑ رہا لیکن ذرائع ابلاغ میں ہر روز لال سنگھ چڈھا پر ایک تبصرہ آجاتا ہے اور اس کے پردے میں رکشابندھن کی ناکامی کو چھپا دیاجاتاہے۔ عامر خان کی بیوی کے ہندوستان چھوڑنے کی خواہش سے ناراض بھکت یہ بات بھول جاتے ہیں کہ اکشے کمار نے ہندوستانی شہر یت چھوڑ کر کینیڈا کا پاسپورٹ لے رکھا ہے۔
طلاق ثلاثہ پراعتراض پرانا ہے اب تو طلاق حسن بھی تنقید کا نشانہ بنی ہوئی ہے۔ بے نظیر حنا نے سپریم کورٹ میں اس کے خلاف کہا ہے کہ مسلمانوں میں رائج طلاق حسن آئین کی شق 14، 15، 21 اور 25 کی خلاف ورزی ہے۔ اس عمل میں شوہر یکطرفہ طلاق دے دیتا ہے۔ عورت سے اتفاق یا اختلاف بے معنیٰ ہے۔ اس کے تحت شوہر کوتو طلاق دینے کا حق حاصل ہے، لیکن بیوی کو نہیں۔ اس مقدمہ کے ذریعہ بے نظیر حنا نے سرکار ، عدلیہ اور میڈیا کواسلام کی مخالفت کا نادر موقع عنایت تو کردیا لیکن بات نہیں بنی ۔ 16؍ اگست کو عدالت عظمیٰ نے طلاق حسن کو چیلنج کرنے والی درخواست پر یہ کہہ کر اسلام دشمنوں کا مزہ کرکرا کردیا کہ طلاق حسن غلط نہیں لگتی ۔ جسٹس سنجے کشن کول نے کہا مسلم سماج کی خواتین کو بھی طلاق کا حق حاصل ہے۔ وہ خلع کے ذریعے طلاق لے سکتی ہیں۔ اس کا علم بے نظیر حنا کو ہوتا تو مقدمہ دائر کرنے کی زحمت نہ فرماتیں یا ممکن ہے کہ انہیں یہ معلوم ہو مگر کسی خاص ایجنڈے کے تحت وہ اس معاملے کو اچھال رہی ہوں ۔ ویسے جسٹس کول نے واضح کردیا کہ ’ ہم نہیں چاہتے کہ یہ کسی اور قسم کا ایجنڈا بن جائے‘۔
2019 میں سپریم کورٹ بیک وقت تین طلاق یا طلاقِ بدعہ پر پابندی لگا چکا ہے۔طلاق حسن ایک ایسا عمل ہے جس میں مسلمان مرد اپنی بیوی کو 90 دنوں میں ایک ایک کرکے طلاق دیتا ہےاور تیسری بارمیں اسے نافذالعمل کردیا جاتا ہے۔ اس طرح طلاق حسن کے تحت شوہر اپنی بیوی کو پہلی بار طلاق دینے کے بعد ایک ماہ تک انتظار کرتا ہے۔ مہینہ پورا ہوجانے کے بعد دوسری بار طلاق دیتا ہے اور پھر ایک ماہ انتظار کرکے تیسری بار طلاق دیتا ہے۔ اس دوران میاں بیوی ایک ساتھ رہتے ہیں اور من مٹاو کا موقع بھی ہوتا ہے۔ ناگزیر صورتحال میں رشتۂ نکاح کو ختم کرنے کا اس سے مہذب کوئی اور طریقہ ممکن نہیں ہے۔ اس میں فریقین کو باہم مصالحت کا معقول وقت بھی مل جاتا ہے اور اگر بات نہ بنے توبیجا عدالتی مشقت اور بے شمار طوالت کی زحمت سے وہ بچ جاتے ہیں لیکن اگر کوئی اس رحمت کو زحمت سمجھنے لگے تو اس کا کوئی علاج نہیں ہے۔
بے نظیر حنا کے معاملے میں جسٹس سنجے کشن کول نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ یہ یکمشت تین طلاق کا معاملہ نہیں ہے۔ مسلم سماج کی خواتین کوحاصل خلع کے حق سے بیوی اگر اپنے شوہر سے خوش نہ ہو تو ان کی طلاق ہو سکتی ہے۔ عدالت اور شریعت نے بھی انہیں ایسا کرنے کی اجازت دے رکھی ہے۔ عدلیہ کا ایک مسئلہ یہ ہے کہ وہ ہر شئے کو مغربی اقدار کی عینک لگا کر دیکھتی ہے یہی وجہ ہے کہ جج صاحب نے فرما دیا اگر معاملہ مہر کی رقم کا ہے تو عدالت اس میں اضافہ کا حکم دے سکتی ہے حالانکہ جس شئے پر نکاح کے وقت باہمی رضامندی ہوگئی ہو اس میں عدالت کی مداخلت ، اضافہ و حذف بے معنیٰ ہے۔ عدالت نے جب درخواست گزار سے پوچھا کہ کیا آپ کو مہر سے زیادہ معاوضہ دیا جائے یا آپ باہمی رضامندی سے طلاق لینا چاہیں گی؟ تو بے نظیر کی وکیل گڑبڑا گئیں اور جواب دینے کے لیے مزید وقت مانگ لیا ۔ اس طرح مقدمہ 29؍ اگست تک کے لیے ٹل گیا ۔
عدالت کی اگلی سماعت میں سپریم کورٹ نے یہ وضاحت کی کہ اس کے پیش نظر دو خواتین درخواست گزاروں کو راحت دینا مقصود ہے، جو طلاق حسن سے متاثر ہونے کا دعویٰ کرتی ہیں، نہ کہ طلاق کی آئینی حیثیت کا فیصلہ کرنا ہے۔اس کے برعکس بےنظیر حنا اور نظرین نشا نے اپنی درخواستوں میں طلاق حسن کے آئینی جواز کو چیلنج کررکھا ہے۔ اس پر بنچ کاموقف ہے کہ ’’ہم نے سوچا کہ آپ اپنے لیے کوئی حل چاہتی ہیں۔ ہماری تشویش یہ ہے کہ بعض اوقات ایک بڑا مسئلہ اٹھانے کی کوشش میں فریقین کو درکار سہولت ضائع ہو جاتی ہے۔‘‘ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ان دونوں خواتین کا نہ تو کوئی گمبھیر مسئلہ اور نہ اس کے حل میں انہیں دلچسپی ہے۔ وہ دونوں وہی چاہتی ہیں جس کا جج صاحب کو اندیشہ ہے۔ اس معاملے میں ابھی تک چونکہ سیاسی عمل دخل شروع نہیں ہوا ہے اس لیے عدلیہ کا رویہ معقول ہے مگر کل کو اگر سرکار دربار درمیان میں کود جائے تو کیا ہوگا کچھ کہا نہیں جاسکتا۔
بےنظیر حنا اور نظرین نشا کا معاملہ تو بہت سیدھا سادہ ہے لیکن مدھیہ پردیش کے بھنڈ میں ایک نہایت پیچیدہ اور دلچسپ واقعہ پیش آگیا۔ اس میں ایک میاں بیوی18 ؍سال سے الگ رہ رہے ہیں ۔ 2008میں شوہر نے فیملی کورٹ میں رجوع کرکے طلاق کی درخواست داخل کی اور بتایا کہ اب وہ سادھو بن چکا ہے ۔ فیملی کورٹ نے اس کی درخواست کو خارج کردیا یعنی اسے طلاق دینے کا حقدار نہیں ٹھہرایا۔ وہ نہیں مانا اور اس فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ پہنچ گیا ۔ وہاں جج صاحب کو اس پر رحم آگیا اور انہوں نے طلاق نافذ کردی ۔ ہندو میرج ایکٹ 1955کی شق 13 میں درج ہے کہ رہبانیت کی خاطر اگر کوئی دنیا کو چھوڑ کر سادھو بن جائے تو یہ بھی طلاق کی ایک بنیاد بن سکتا ہے۔ یہاں یہ وضاحت بھی موجود ہے کہ اگر شوہر یا بیوی میں سے کسی ایک نے بھی رہبانیت اختیار کرلی تو اسے یکطرفہ طلاق مل سکتی ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے فیملی کورٹ کے جج اس سےنا واقف تھے لیکن ہائی کورٹ میں جانے کے بعد یہ مسئلہ حسبِ قانون حل ہوگیا مگر بیوی نہیں مانی اور وہ ہائی کورٹ کے فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئےسپریم کورٹ پہنچ گئی ۔ امسال 18 اگست کوسپریم کورٹ نے طلاق کو خارج کردیا یعنی ڈھاک کے تین پات کی مانند 14؍سال بعد بات وہیں پہنچ گئی جہاں سے چلی تھی
سپریم کورٹ کے مذکورہ فیصلے کے بعد ماہرین کی رائے کے مطابق اب شوہر دوبارہ عدالتِ عظمیٰ میں پھر سےاپیل کرسکتا ہے۔ اس بار اپنا آئینی حق حاصل کرنے کی خاطراسے نئے دلائل پیش کرنے ہوں گے۔یہ سہولت یکطرفہ اور باہمی رضامندی دونوں طریقوں سے حاصل کی جانے والے طلاق کے معاملے میں موجود ہے۔ مزید قانونی چارہ جوئی کے دوران وہ جوڑا نہ جانے کس کرب سے گزرے گا ۔ ویسے بھی وہ اس سے قبل مختلف عدالتوں کے چکر میں نہ جانے کتنا وقت اورتوانائی برباد کر چکا ہے۔ ایسے میں یہ سوال پیداہوتا ہے کہ برسوں چلنے والا پریشان کن پیچیدہ نظام بہتر ہے یا طلاق حسن ؟ اس معمولی سے سوال کا جواب نہ مغرب زدہ ماہرین قانون کے پاس ہے اور ہندو نواز دانشور اسے تسلیم کرتے ہیں کیونکہ ان سب نے اسلام دشمنی کی عینک لگا رکھی ہے۔ یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا کہ خاوند سنیاسی بن چکا ہے۔ اس نے اپنی بیوی سے سارے رشتے توڑ لیے ہیں اور ایک طویل عرصہ سے الگ رہ رہے ہیں۔قانونی طور پر اسے طلاق دینے کا حق حاصل ہے اس کے باوجود بیوی کو کیا پریشانی ہے اور سپریم کورٹ اس طلاق کو منظوری کیوں نہیں دے رہا ہے ؟ اس سوال کا جواب آگے چل کر معلوم کرنے کی کوشش کی جائے گی ۔
اس مرحلے میں یکساں سیول کوڈ کی دہائی دینے والوں کو سمجھنا چاہیے کہ اس شوہر کے معاملے میں ہندو کوڈ بل پر بھی عدالت عملدرآمد نہیں کرپارہی ہے لیکن غیر اعلانیہ ہندو راشٹر میں اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہے۔ آر ایس ایس خاموش ہے۔ وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل نے عدالت کے سامنے کوئی مظاہرہ نہیں کیا اور شیوسینا یا ہندو مہا سبھا کو بھی اس میں دلچسپی نہیں ہے کیونکہ کوئی مسلمان فریق موجود نہیں ہے۔ ان کی رگِ حمیت اپنے دھرم کی خاطر نہیں بلکہ مسلمانوں کو اذیت دینے کے لیے پھڑکتی ہے۔ ان سارے لوگوں کو دلچسپی اس بات میں ہے کہ مسلمان کسی طرح اپنی شریعت پر عمل نہ کرسکیں جس کی جیسی تیسی شکل بھی پرسنل لاکے طور پر موجود ہے۔ ہندووں اور مسلمانوں کے درمیان بنیادی فرق یہ ہے کہ اول الذکر کو اپنے مذہب یا قوانین سے کوئی لینا دینا نہیں ہے اس لیے وہ اس کو سنجیدگی سے نہیں لیتے اور عدالتی خرد برد پر خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں ۔ اس کے برعکس مسلمان چونکہ دین پر عمل کرنا چاہتے ہیں اس لیے جب کوئی مداخلت ہوتی ہے تو اس پر احتجاج کرنے کی خاطر سڑکوں پر اتر جاتے ہیں اور یہ فطری ردعمل ہے۔
سپریم کورٹ میں جب سادھو کی طلاق کا معاملہ آیا تو اس نے کہا وہ چونکہ سادھو بن چکا ہےاس لیے گھر گرہستی سے اس کا کوئی سروکارنہیں ہے۔ اس نے دنیا کو تیاگ دیا ہے۔ اس پر سپریم کورٹ کی دلیل یہ تھی کہ اگر شوہر سادھو بن گیا ہے تو اس کو طلاق ملنے یا نہ ملنے سے کوئی فرق نہیں پڑنا چاہیے کیونکہ یہ اس دنیاکا بندھن ہے جس سے اس نے کنارہ کشی اختیار کرلی ہے۔ اس صورتحال میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے شوہر کے سادھو بن جانے پر اگر اسے یکطرفہ طلاق مل جائے تو بیوی کو نان نفقہ کیسے ملے گا؟اسی پر شاہ بانو کے رائی کو پہاڑ بنادیا گیا تھا۔ ہندو میرج ایکٹ 1955کی شق24کے مطابق شوہر یا بیوی کے پاس اگر اپنا گزارہ کرنے کے لیے کوئی ذرائع آمدنی نہیں ہو تو اس کے تحت وہ عارضی نان و نفقہ کا دعویٰ کرسکتا ہے۔ یعنی اگر بیوی کماتی ہے تو اسے الٹا اپنے شوہر کو پالنا پڑے گا ۔ جب تک مقدمہ چلتا ہے تب تک تو نان نفقہ دینا ہی پڑے گا یعنی سادھو مہاراج ایک طرف شاگروں کی دان دکشنا پر عیش فرمائیں گے اور دوسری جانب اپنی کماو بیوی کی آمدنی میں حق جمائیں گے ۔
یہ پہلو بھی قابلِ غور ہے کہ مسلم سماج کودن رات اصلاح کی ترغیب دینے والوں نے ان قوانین میں پچھلے 57؍سالوں میں کوئی تبدیلی کرنے کی کوشش نہیں کی۔ بچوں کی پرورش کا خرچ بھی نان نفقہ میں شامل ہے یعنی جب تک لڑکا 18؍سال کا یا لڑکی شادی شدہ نہ ہوجائے اس وقت تک یہ سلسلہ جاری رہے گا لیکن عدالت کو اس میں کمی بیشی بلکہ سرے سے ختم کرنے کا بھی اختیار ہے ۔یہ کیسا دوغلا پن ہے کہ عدالت کے ذریعہ نان نفقہ بند کردینے سے خواتین کی کوئی حق تلفی نہیں ہوتی لیکن شریعت میں اگر اس کی گنجائش نہ ہو آسمان پھٹ پڑتاہے ۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ مذکورہ بیوی طلاق کے ساتھ نان نفقہ لینے کے بجائے نکاح میں رہنے پر کیوں اصرار کررہی ہے؟ ہندو معاشرے کی پریشانی یہ ہے کہ وہاں شوہر سے الگ رہتے ہوئے بھی ز وجہ اس کے نام پر سیندور لگاکر شادی شدہ جیسی زندگی گزارنا چاہتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس سماج میں مطلقہ کی کوئی عزت نہیں ہے اسے منحوس اور کمتر سمجھا جاتا ہے۔ اس لیے وہ طلاق کو مسترد کرنے کی فریاد کرنے پر مجبور ہے اور عدالت رحم کھا کر اس کی درخواست کو قبول کرلیتی ہے۔
ملک میں فی الحال لاکھوں سادھو وں نے اپنی بیویوں کو چھوڑ رکھا ہے بلکہ جھولے والے وزیر اعظم بھی ان میں سے ایک ہیں۔ دیش بھکتی کی آڑ میں انہوں نے خود اپنی بیوی کے حقوق سلب کردیئے مگر مسلم خواتین کی ہمدردی میں ٹسوے بہانے سے باز نہیں آتے۔ یہ ایک سنگین معاشرتی مسئلہ ہے لیکن کبھی بھی زیر بحث نہیں آتا کیونکہ اسلامی شریعت پر اول فول بکواس کرنے سے ملک کے دانشوروں کو فرصت ملے تووہ اس جانب توجہ فرمائیں ۔ اس منفرد مسئلہ سے قطع نظر عام طور پر مسلمانوں کے تعدد ازدواج کو بدنام کرنے کی خاطر ہم پانچ ہمارے پچیس کا نعرہ بلند کیا جاتا ہے۔ اس موضوع پر بھی جذبات سے اوپر اٹھ کر اعدادو شمار کی روشنی میں گفتگو ہونی چاہیے۔
اسلام میں ایک سے زیادہ بیوی کی اجازت تو ہے مگر ساتھ ہی نان نفقہ اور انصاف کی شرائط بھی ہیں اس لیے کم لوگ اس کی جرأت کرپاتے ہیں ۔ ہندو سماج میں کثرتِ ازدواج ممنوع ہے اس کے باوجود وہاں بھی قانون سے علی الرغم یہ رواج موجود ہے۔ ویسے گوا اور ساحلی علاقہ کے ہندووں کو دو شادیاں کرنے کی قانونی اجازت حاصل ہے۔ ہندووں کی مذہبی کتابوں میں دیوتاوں کی ایک سے زیادہ بیویاں کوئی حیرت کی بات نہیں ہے۔ راجہ دشرتھ کی چار بیویوں کے نام زبان زدِ عام ہیں ۔ انیسویں صدی میں شیر پنجاب کا لقب پانے والے راجہ رنجیت سنگھ کی بیس بیویاں اور کئی داشتائیں تھیں۔ ان میں سے چار ہندو بیویوں نے اس کی چتا پر بیٹھ کر (ستی) خودسوزی بھی کرلی تھی ۔ اس لیے ہندو سماج میں یک زوجگی کا رواج انگریزوں سے متاثر ہونے کے بعد عام ہوا۔ ان کے یہاں چونکہ کوئی شریعت نہیں ہے اس لیے غالب نظریہ و تہذیب کو وہ لوگ بڑے آرام سے اپنا لیتے ہیں۔
1961 میں آخری بار سرکار نے مردم شماری میں مذہب کی بنیاد پر کثرتِ ازدواج کا جائزہ لیا تو پتہ چلا کہ مسلمانوں میں اس کی شرح 5.7 فیصد تھی جبکہ ہندو معاشرے میں وہ 5.8 فیصد تھی ۔ 1974 میں ایک نجی تحقیق میں یہ فرق اعشاریہ دو فیصد ہوچکا تھا۔ اس میں ایک فرق یہ ہے مسلم سماج میں دوسری بیوی قانونی ہوتی ہے اور اس کے حقوق و احترام کا تحفظ ہوتا ہے۔ اس کے برعکس ہندو معاشرے میں ان غیر قانونی بیویوں کو نہ کوئی حق حاصل ہوتا ہے اور نہ عزت و احترام ملتا ہے۔ بودھ اور جینی بھی اس معاملے میں پیچھے نہیں ہیں اور قبائل کے اندر تو یہ شرح 15.25 فیصد تھی۔ ان کی کسی کوفکر نہیں ہر کوئی مسلمانوں کا رونا ،رونے لگ جاتا ہے۔ میزورم میں پاول نامی ایک عیسائی قبیلہ ہے جس میں تعدد ازدواج کا چلن عام ہے۔ اس قبیلے کے سربراہ زیونا کا گزشتہ سال انتقال ہوا ۔ موت کے وقت اس کی 38 بیویاں 94 بچے اور 33 پوتے نواسے تھے۔ 14 بہووں کو جوڑ لیا جائے تو اس کے خاندان میں 181؍افراد رہتے تھے ۔ پانچ اور پچیس کا راگ الاپنے والوں کو یہ سب نظر نہیں آتا۔
ملک کے کچھ حصوں میں آج بھی ایک سے زیادہ شوہروں کا چلن ہے۔ ہماچل پردیش کے کنور علاقے کے لوگ اس کا یہ جواز پیش کرتے ہیں کہ مہابھارت کے پانڈو ان کے آباو اجداد تھے۔ان کے یہاں دروپدی کے پانچ شوہر تھے۔ جنوبی ہند میں نیلگری ٹراونکور کے کچھ علاقوں میں بھی یہ رواج باقی ہے۔ شمالی ہند کے جونسور باور اور دہرہ دون میں بھی یہ چیز پائی جاتی ہے۔ پنجاب کے مالوہ علاقہ میں بلکہ ہریانہ کے اندر بھی زمین کی تقسیم روکنے کے لیے ایسا کیا جاتا ہے۔ ان خواتین کے ازدواجی مسائل پر کوئی غور نہیں کرتا ۔ ان کو اس رسم سے نجات دلانے کے لیے نہ تو قانون سازی ہوتی ہے اور کوئی تحریک چلائی جاتی ہے بلکہ اس پر بحث و مباحثہ کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی جاتی حالانکہ وہ بھی گوشت و پوست کی انسان ہیں ۔ ان کے بھی جذبات و احساسات ہیں اور حقوق ہیں ۔ اس پر بھی سنجیدگی سے غور و خوض کرکے انہیں حل کرنے کی سعی ہونی چاہیے لیکن چونکہ اس سےکوئی سیاسی مفاد وابستہ نہیں ہے اس لیے توجہ نہیں دی جاتی۔ انسانی و نسوانی حقوق کے معاملے میں سیاست سے اوپر اٹھ کر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
(ڈاکٹر سلیم خان نیوکلیر کیمسٹری میں پی ایچ ڈی ہیں جن کی تحریریں ملک و بیرونِ ملک بڑے پیمانے پر پڑھی جاتی ہیں۔)
***

 

***

 عدلیہ کا ایک مسئلہ یہ ہے کہ وہ ہر شئے کو مغربی اقدار کی عینک لگا کر دیکھتی ہے یہی وجہ ہے کہ جج صاحب نے فرما دیا اگر معاملہ مہر کی رقم کا ہے تو عدالت اس میں اضافہ کا حکم دے سکتی ہے حالانکہ جس شئے پر نکاح کے وقت باہمی رضامندی ہوگئی ہو اس میں عدالت کی مداخلت ، اضافہ و حذف بے معنیٰ ہے۔ عدالت نے جب درخواست گزار سے پوچھا کہ کیا آپ کو مہر سے زیادہ معاوضہ دیا جائے یا آپ باہمی رضامندی سے طلاق لینا چاہیں گی؟ تو بے نظیر کی وکیل گڑبڑا گئیں اور جواب دینے کے لیے مزید وقت مانگ لیا ۔


ہفت روزہ دعوت، شمارہ  11 ستمبر تا 17 ستمبر 2022