خبر ونظر

پرواز رحمانی

یو پی میں مدارس کا سروے
اتر پردیش کی حکومت نے تمام اسلامی مدارس کے سروے کا حکم جاری کیا ہے۔ یہ ایک مبہم حکم ہے جس کی وجہ واضح نہیں ہے۔ یو پی کی حکومت لگاتار ایسی احمقانہ حرکتیں کر رہی ہے، اس لیے کہ اس کے پاس کرنے کے لیے کوئی اور کام نہیں ہے۔ مسلم رہنما بجا طور پر احتجاج کر رہے ہیں۔ مسلم رہنماوں، جماعتوں، تنظیموں اور اداروں کا بھی کام اب یہی رہ گیا ہے۔ حکومت مسلم کمیونٹی کو ہراساں کرنے کے لیے ایک شوشہ چھوڑتی ہے اور سارے مسلمان اس پر احتجاج میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ حکومت، مرکزی ہو یا ریاستی، اپنی اس بدعملی کی کوئی وجہ بھی نہیں بتاتی۔ یو پی میں دینی مدارس کے سروے کا حکم سراسر بے تکا ہے۔ وہاں تمام مدارس دستور کی دفعہ 30 کے تحت چلائے جا رہے ہیں۔ کوئی مدرسہ غیر قانونی نہیں ہے۔ کچھ مدارس باضابطہ مدرسہ بورڈ کے تحت آتے ہیں۔ تمام مدارس مسلمانوں کے اپنے قائم کردہ ہیں۔ یہ مدارس کسی سے کچھ نہیں مانگتے، کسی کے کام میں دخل نہیں دیتے۔ پرامن طریقے سے اپنا کام کرتے ہیں۔ ان کی تمام ضروریات رعایتوں اور چندوں سے پوری ہوتی ہیں۔ وہ صرف مسلمانوں سے اعانت طلب کرتے ہیں۔

یہ شرارتیں کیوں؟
پھر پتہ نہیں یو پی سرکار سروے کرواکے کیا دیکھنا چاہتی ہے۔ یو پی کے وزیر اعلیٰ یوگی ہندوتوا کے صف اول کے لیڈر بننا چاہتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ان کی نظر وزارت عظمیٰ پر بھی ہے، اسی لیے وہ مودی جیسی حرکتیں کر رہے ہیں۔ مودی بھی یہی سب کرکے لائم لائٹ میں آئے تھے۔ مگر یہ آسام جیسی چھوٹی سرحدی ریاست کے وزیر اعلیٰ کو کیا ہوگیا کہ ہر ہفتہ ایک گھٹیا شرارت کر رہے ہیں۔ حال ہی میں حکم دیا ہے کہ اگر ریاست میں کہیں بھی کوئی نیا امام آئے تو اس کی اطلاع پولیس کو دی جائے۔ گویا مساجد کے پیش امام کوئی نہ کوئی غلط یا خلاف قانون کام کرنے کے لیے آتے ہیں۔ ان احکام سے ہوتا تو کچھ نہیں البتہ غیر مسلم آبادیوں میں شکوک ضرور پیدا ہو جاتے ہیں اور شرپسند پارٹیوں کا مقصد بھی یہی ہوتا ہے۔ حکمراں پارٹی ان طریقوں ہی سے آگے بڑھی ہے۔ جب تک وہ موجود ہے، یہ طریقے جاری رہیں گے۔ پارٹی کا پٹارا اس قسم کی شرارتوں سے بھرا پڑا ہے۔ انہیں بروئے کار لانے والے بھی جوش وجذبے سے سرشار ہیں۔ ایک سال کی شرارتوں پر نظر ڈالیے، سینکڑوں مل جائیں گے۔ پارٹی اپنی اس کارکردگی پر مطمئن ہے۔

نئے انتخابات ہوں
نہیں کہا جا سکتا کہ ملک کی یہ افسوسناک صورت حال کب تک قائم رہے گی۔ سیاسی پارٹیاں یا شہریوں کا کوئی اور طبقہ کچھ کرنے کی پوزیشن میں نظر نہیں آتا۔ کچھ لوگ سیاسی طور پر آواز اٹھا رہے ہیں مگر ان میں زیادہ جان نہیں ہے۔ ملکی مسلمانوں پر دہری ذمہ داری ہے۔ انہیں اپنے مسائل کو بھی دیکھنا ہے، ملک کی دگرگوں حالت کو بھی دیکھنا ہے اور اس کا طریقہ یہی ہے کہ وہ اپنی بکھری ہوئی قوت کو سمیٹیں۔ مسلمانوں کی نمائندہ تنظیمیں دو ہیں ایک مسلم پرسنل لا بورڈ اور دوسری مسلم مجلس مشاورت۔ بورڈ تو بحمداللہ متحد اور اپنے کام میں یکسو ہے لیکن مشاورت میں دو تین سال سے ناخوشگوار صورت حال پیدا ہوگئی ہے، اسے فی الفور دور کیا جانا چاہیے۔ بعض لوگ اختیارات کا غلط استعمال کر کے مشاورت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا رہے ہیں۔ منفی اور متضاد باتیں پھیلا کر انہوں نے مشاورت کو بحرانی کیفیت سے دوچار کر رکھا ہے۔ اللہ رب العزت اس اجتماعی ادارے کو فتنوں سے محفوظ رکھے تاکہ وہ ملک اور امت کی بہتری کے لیے کچھ کام کر سکے۔ موجودہ دو سالہ میقات اختتام پذیر ہے۔ نئے انتخابات کی مساعی شروع ہو جانی چاہیے۔

 

***

 


ہفت روزہ دعوت، شمارہ  11 ستمبر تا 17 ستمبر 2022