بنگلورو تشدد :بےقصور مسلمانوں کی بڑی تعداد جیل میں

300سے زائد نوجوانوں پر یو اے پی اے کے تحت کارروائی ’’ملزمین کے خلاف سیاہ قانون کے تحت کارروائی نامناسب ‘‘۔ ایڈووکیٹ سید عشرت اللہ

جاوید اختر

 

بنگلورو کے ڈی جے ہلی اور کے جی ہلی میں مشتعل ہجوم کے ذریعہ تشدد معاملے میں گرفتار نوجوانوں کی ضمانت کے لیے ان کے رشتہ دار ہر طرح کی قانونی چارہ جوئی کر رہے ہیں لیکن اس کے باوجود بے قصور نوجوانوں کی رہائی اب تک ممکن نہیں ہو پائی ہے۔ گرفتار نوجوانوں کے ایک رشتہ دار کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’’یو اے پی اے کے تحت کارروائی نامناسب ہے‘‘ ۔ ان کا کہنا ہے کہ تشدد بھڑکنے سے قبل پولیس نے معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لیا اور اہم ملزم نوین کی گرفتاری میں تاخیر سے کام لیا۔ اسی دوران مشتعل ہجوم کی آڑ لے کر شر پسند عناصر نے رکن اسمبلی کے گھر کو آگ لگا دی۔ جس کے بعد پولیس کی کارروائی میں سینکڑوں افراد کو گرفتار کیا گیا۔ ایک مقامی شخص نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پردعوت اخبار کو بتایا کہ پولیس دیر رات کو ان کے گھر آئی اور ان کے تین قریبی رشتہ داروں کو پکڑ کر لے گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے پولیس کو ہر ممکن سمجھانے کی کوشش کی کہ یہ لوگ فساد میں شامل نہیں ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے ثبوت بھی پیش کرنے کی کوشش کی کہ یہ لوگ بے قصور ہیں لیکن پولیس نے ان کی ایک نہ سنی اور انہیں گرفتار کر کے اپنے ساتھ لے گئی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ گرفتار مسلم نوجوانوں کی مدد کے لیے کوئی سیاسی جماعت سامنے نہیں آ رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں سب سے زیادہ مایوس سیاسی رہنماؤں نے کیا ہے اور وہ دوبارہ زندگی میں کسی سیاسی جماعت کو ووٹ نہیں دیں گے۔ انہوں نے نہایت ہی غمگین ہو کر کہا کہ ایسی مشکل گھڑی میں کوئی مسلم سیاسی جماعت بھی ان کی مدد کو نہیں آرہی ہے۔ وہیں دوسری جانب چند سماجی اورملی تنظیمیں متاثرین کو مالی اور قانونی مدد فراہم کرنے کے لیے سامنے آئی ہیں۔ اسی میں سے ایک نام سیکولر ایڈووکیٹس فرنٹ کا ہے جو متاثرہ خاندانوں کو مفت قانونی مدد فراہم کر رہا ہے۔ سیکولر ایڈووکیٹس فرنٹ نے یو اے پی اے کے خلاف کرناٹک ہائی کورٹ میں عرضداشت داخل کی ہے۔ فرنٹ کے نائب صدر سید عشرت اللہ کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ قوم دشمن کیسے ہوسکتا ہے؟ عشرت اللہ کہتے ہیں کہ بھیڑ کے ذریعہ تشدد کے معاملے میں یو اے پی اے کے تحت کارروائی کرنا مناسب نہیں ہے اور وہ اس کے خلاف اپنی لڑائی جاری رکھیں گے۔ ایڈووکیٹ عشرت اللہ نے یہ بھی کہا کہ اگر یو اے پی اے کے تحت کارروائی کو برقرار رکھا گیا تو گرفتار شدگان کو ضمانت ملنے میں مہینوں یا پھر سالوں لگ سکتے ہیں اس لیے ان کی سب سے پہلے کوشش ہوگی کہ یو اے پی اے کے تحت چارجیز کو منسوخ کروایا جائے۔
آرٹیکل فورٹین ڈاٹ کام کی ایک رپورٹ کے مطابق بنگلورو کے شام پورہ علاقے میں آدھی رات کو چند پولیس والے ایک اپارٹمنٹ میں داخل ہوئے اور کیرم کھیل رہے چار نوجوانوں میں سے تین کو پکڑ کر باہر لے آئے جبکہ چوتھا شخص جو ہندو واچ مین تھا اسے وہیں چھوڑ دیا۔ رپورٹ میں ایک خاتون کا ذکر ہے جن کے شوہر ان تین نوجوانوں میں سے ایک ہیں جنہیں پولیس نے گرفتار کیا تھا۔ وہ خاتون کہتی ہیں کہ رات کے اندھیرے میں پولیس والے اپارٹمنٹ کی پہلی، چوتھی منزل اور گراؤنڈ فلور کے فلیٹس میں زبردستی داخل ہوئے اور گہری نیند میں سوئے ہوئے نوجوانوں کو اٹھا کر پولیس اسٹیشن لے گئے۔ خاتون کے مطابق قریب سولہ افراد کو پولیس رات کے اندھیرے میں پکڑ کر لے گئی۔ قریب ایک ہفتے تک انتظار کے بعد اس خاتون کو پولیس کی جانب سے یہ اطلاع دی گئی کہ اس کے شوہر کو ڈی جے ہلی اور کے جے ہلی فساد میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ اور بعد میں اس کے شوہر پر یو اے پی اے کے تحت مقدمہ درج کر دیا گیا۔ آرٹیکل فورٹین ڈاٹ کام کی ہی ایک رپورٹ کے مطابق شام پورہ کے ہی نو افراد کو یواے پی اے کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔ گرفتار نوجوانوں کے رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ ابھی چھ مہینے قبل ہی وہ لوگ اس علاقے میں رہنے کے لیے آئے ہیں اور ان کے بچوں کا یہاں کی سیاست سے بھی کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ شام پورہ کی ایک اور متاثرہ خاتون منیرہ (تبدیل شدہ نام) کو اپنے شوہر کے واپس آنے کا انتظار ہے۔ اس خاتون کے گھر میں ان کے شوہر ہی کمانے والے واحد شخص تھے لیکن اب روزی کا کوئی ذریعہ باقی نہیں بچا۔ گھر کا کرایہ دو مہینے سے باقی ہے۔ اگر ان کے شوہر واپس نہیں آتے ہیں تو ان کے سر سے سایہ چلا جائے گا اور پتہ نہیں آگے کی زندگی شہر کے کس کونے میں بھوک و پیاس کی شدت سے ساتھ گزارنا پڑے گی۔
سول سوسائٹی کے 24نمائندوں نے فساد زدہ علاقوں کا دورہ کیا اور متاثرین و مقامی افراد سمیت کئی لوگوں سے بات چیت کے بعد اپنی رپورٹ پیش کرتےہوئے کہا کہ تشدد کسی سازش کے تحت نہیں برپا ہوا اور نہ ہی تشدد برپا کرنا بھیڑ کا منشا تھا بلکہ اہانت آمیز پوسٹ کے بعد عوام مشتعل ہوئے تھے جس کے بعد شرپسند عناصر نے آگ زنی کی اور املاک کو نقصان پہنچایا۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ حکومت ایک ایسی کہانی گڑھ رہی ہے جس سے یہ ثابت کیا جا سکے کہ تشدد ایک دہشت گردانہ عمل تھا اور یہی وجہ ہے کہ یو اے پی اے کے تحت کارروائی کی گئی ہے۔
آخر یو اے پی اے کیا ہے؟
یو اے پی اے کو پہلے 1967میں میں منظور کیا گیا تھا اور اپنی اصل شکل میں اس سے حکومت کو کسی بھی تنظیم کو غیر قانونی قرار دینے کی طاقت مل گئی تھی۔ اس میں غیر قانونی سرگرمیوں اور جرم کی وضاحت بھی کی گئی تھی۔ 2004میں دہشت گردی کو جرم کے دائرے میں لانے کے لیے اس قانون میں ترمیم کی گئی تھی اور کسی بھی تنظیم کو دہشت گرد قرار دینے اور اس پر پابندی عائد کرنے کا اختیار حکومت کو دیا گیا تھا۔ لیکن 2019 میں اس ایکٹ میں ترمیم کرتے ہوئے دو اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ اس ترمیم کے ذریعہ این آئی اے کو ریاستی پولیس کے معاملات میں تفتیش کرنے کا اختیار ملا اس کے علاوہ اس ترمیم سے مرکز کو نہ صرف تنظیم بلکہ کسی بھی شخص کو دہشت گرد قرار دینے کا اختیار دے دیا گیا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس ترمیم سے بھارتی جمہوریت میں وفاقی نظام کو دھکہ پہنچا ہے اور مرکزی حکومت کی طاقت میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
یو اے پی اے کا بے جا استعمال پہلی بار نہیں ہوا ہے
ایسا پہلی بار نہیں ہے جب یو اے پی اے کا بے جا استعمال کیا جا رہا ہے بلکہ اس سے قبل بھی مدھیہ پردیش میں اس ’کالے قانون‘ کا مسلمان شکار ہوئے ہیں۔
بی بی سی اردو پورٹل کی نو نومبر 2013 کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ مدھیہ پردیش میں پولیس غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف قانون (يو اے پی اے) کے ذریعہ مسلم نوجوانوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ اُس وقت جامعہ ٹیچرس سولیڈاریٹی ایسوسی ایشن نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ مدھیہ پردیش پولیس نے ’نعرے لگانے‘، ’پوسٹر چسپاں کرنے‘ یا ممنوعہ تنظیم سیمی کے مبینہ حامی ہونے کے الزام میں مسلم نوجوانوں کو یو اے پی اے کے تحت گرفتار کیا ہے۔ اور آج بھی اس خطرناک قانون کا استعمال مسلمانوں کے خلاف کیا جا رہا ہے۔ جے این یو کے سابق اسٹوڈنٹ لیڈر عمر خالد سمیت کئی نوجوانوں کو دہلی فسادات میں ملوث ہونے کے الزام میں یو اے پی اے کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔
دو اہم واقعات کو بھی ملحوظ رکھنے کی ضرورت
بنگلورو تشدد کا ایک اور اہم پہلو ہے جسے اصل دھارے کی میڈیا میں جگہ نہیں ملی یا پھر جان بوجھ کر اس کو نظر انداز کیا گیا۔ تشدد کے دوران جہاں ایک طرف رکن اسمبلی اکھنڈا سرینواس مورتی کا پتلا جلایا جا رہا تھا وہیں مسلمانوں نے اس شخص کے ماں باپ کی زندگی کی حفاظت کی جس کی وجہ سے یہ پورا معاملہ پرتشدد ہوا۔ نبی پاک کی شان میں گستاخی کرنے والے شخص پی نوین کے خاندان کی حفاظت انہیں مسلمانوں نے کی جنہیں آج یو اے پی اے کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔ اس دوران ایک اور اہم واقعہ پیش آیا تھا جس کا یہ ذکر کرنا نہایت ضروری ہے۔ تشدد کے مقام سے کچھ ہی دوری پر واقع ایک ہنومان مندر کو شر پسندوں سے بچانے کے لیے مسلم نوجوانوں نے انسانی زنجیر کی شکل اختیار کی اور اس مندر کو اپنی جان پر کھیل کر تحفظ فراہم کیا۔ بنگلورو تشدد معاملے میں ان دو واقعات کو ہرگز نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے بلکہ این آئی اے کو اپنی تفتیش میں ان دو واقعات کو بھی ملحوظ رکھتے ہوئے جانچ کرنی چاہیے کہ کس طرح مسلمانوں نے ایک طرف مندر کی حفاظت کی تو دوسری طرف اصل ملزم پی نوین کے گھر والوں کو شر پسندوں سے بچایا۔
پی نوین کون ہے؟
پی نوین، پلی کیشی نگر سے رکن اسمبلی اکھنڈ سرینواس مورتی کا بھانجا ہے۔ انگریزی نیوز پورٹل
’’دا پرِنٹ‘‘ کی چودہ اگست کی ایک رپورٹ میں ایک مقامی کانگریس لیڈر کا بیان ہے کہ ’’کسی ایک پارٹی کی طرف وفاداری نہیں ہونے کی وجہ سے نوین سیاست میں اپنی جگہ نہیں بنا پایا۔ اس لیڈر کا مزید کہنا تھا کہ ’’حالانکہ نوین کے رشتہ دار کانگریس کے ساتھ ہیں لیکن نوین بی جے پی کے مختلف واٹس ایپ گروپ کا حصہ ہے‘‘ یہاں تک کہ پی ایم مودی نے جب ایودھیا میں بھومی پوجن کیا تھا تو نوین نے اپنے محلے میں مٹھائیاں تقسیم کیں اور ایک شخص کے مطابق نوین مسلمانوں کے پاس بھی مٹھائیاں لے کر گیا تھا۔ ’’دا پرِنٹ‘‘کی اسی رپورٹ میں نوین کے والد کا بھی ایک بیان ہے جس میں اس کے والد کہتے ہیں کہ ایک دن نوین انہیں پریشانی میں ڈال دے گا۔ اور آخر کار نوین کے ایک مبینہ اہانت آمیز پوسٹ کے بعد تشدد برپا ہوا۔ مشتعل بھیڑ نے پولیس اسٹیشن کو آگ لگا دی رکن اسمبلی اکھنڈ سرینواس مورتی کے گھر کو نذر آتش کیا گیا جس کے بعد نوجوانوں کی گرفتاریاں شروع ہوئیں۔ پولیس کو اس معاملہ کی تفتیش بھی سنجیدگی سے کرنے کی ضرورت ہے کہ نوین نے ایسا پوسٹ کیوں کیا اور اس پورے کھیل کے پیچھے کون لوگ شامل ہیں؟
کرناٹک مسلم متحدہ محاذ کے جنرل سکریٹری اقبال احمد کے مطابق قریب 450 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جن میں تین سو سے زیادہ گرفتاریاں یو اے پی اے کے تحت ہوئی ہیں۔ گرفتاریوں میں قریب دو کو چھوڑ کر سبھی افراد مسلمان ہیں۔ اقبال احمد کا یہ بھی الزام ہے کہ مشتعل بھیڑ کی آڑ میں مقامی سیاسی لیڈروں نے اپنی اپنی روٹیاں سینکنے کی کوشش کی ہے۔ واضح رہے کہ سنٹرل کرائم برانچ کی چارج شیٹ میں سابق میئر آر سمپت راج اور کارپوریٹر عبدالرقیب ذاکر کے نام شامل ہیں۔ یہ دونوں کانگریس پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔ کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ کانگریس کی آپسی سیاسی لڑائی نے مشتعل ہجوم کو بھڑکانے کا کام کیا ہے۔ وہیں کچھ لوگوں کا یہ بھی الزام ہے کہ ایس ڈی پی آئی کے کارکنان نے بھیڑ کو مشتعل کیا جس کے بعد تشدد برپا ہوا۔ بہرحال اس پورے معاملہ کی تفتیش جاری ہے اور ہو سکتا ہے کہ ملزمین کی ایک بڑی تعداد جیل سے باہر آجائے جیسا کے گرفتار شدگان کے رشتہ داروں کو امید ہے۔ لیکن نہ جانے اس پوری کارروائی میں کتنا وقت لگ جائے؟ حکومت کو اصل مسئلہ پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اہانت آمیز پوسٹ کا یہ معاملہ کوئی نیا نہیں ہے بلکہ اس سے پہلے بھی اس طرح کے واقعات رونما ہوچکے ہیں اور آگے بھی ہوتے رہیں گے۔ اگرایسے واقعات سے ہمیں بچنا ہے توحکومت مذہبی جذبات مجروح کرنے کے عمل کو جرم قرار دے تاکہ مستقبل میں کوئی بھی شخص اس عمل کو کرنے سے پہلے سینکڑوں بار سوچے۔
***

’’ہمیں سب سے زیادہ مایوس سیاسی رہنماؤں نے کیا ہے اور وہ دوبارہ زندگی میں کسی سیاسی جماعت کو ووٹ نہیں دیں گے۔ انہوں نے نہایت ہی غمگین ہو کر کہا کہ ایسی مشکل گھڑی میں کوئی مسلم سیاسی جماعت بھی ان کی مدد کو نہیں آرہی ہے‘‘۔
۔۔۔۔
چند سماجی اورملی تنظیمیں متاثرین کو مالی اور قانونی مدد فراہم کرنے کے لیے سامنے آئی ہیں۔ اسی میں سے ایک نام سیکولر ایڈووکیٹس فرنٹ کا ہے جو متاثرہ خاندانوں کو مفت قانونی مدد فراہم کر رہا ہے۔

مشمولہ: ہفت روزہ دعوت، نئی دلی، شمارہ 25 اکتوبر تا 3 نومبر، 2020