بابری مسجد پر سپریم کورٹ کا فیصلہ غلط، کئی خامیاں موجود: یشونت سنہا

ایودھیا اراضی تنازعہ پر سپریم کورٹ کے فیصلے میں کئی ماہرین قانون اور مذہبی لیڈروں نے خامیاں نکالی ہیں اور اب ان میں بی جے پی کے سابق لیڈر یشونت سنہا کا نام بھی شامل ہو گیا ہے۔ انھوں نے اتوار کے روز ممبئی میں ایک تقریب کے دوران واضح لفظوں میں کہا کہ ’’فیصلے میں کئی خامیاں ہیں، لیکن ہمیں آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ مسلم طبقہ کو عدالتی فیصلہ قبول کر لینا چاہیے۔

میڈیا ذرائع کے مطابق یشونت سنہا نے  ممبئی ساہتیہ مہوتسو کے دوران پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’سپریم کورٹ کا فیصلہ غلط فیصلہ ہے، اس میں کئی خامیاں ہیں، لیکن میں پھر بھی مسلم طبقہ سے فیصلے کو قبول کرنے کے لیے کہوں گا۔‘‘ یشونت سنہا نے مزید کہا کہ ’’چلیے آگے بڑھتے ہیں۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد کوئی فیصلہ نہیں ہے۔‘‘

یشونت سنہا نے بابری مسجد انہدام سے متعلق بھی کچھ اہم باتیں میڈیا کے سامنے رکھیں۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی کے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی اور کئی دیگر افراد بھی شروع میں بابری مسجد انہدام کو لے کر ’پچھتاوا‘ ظاہر کر رہے تھے لیکن بعد میں وہ رام مندر تحریک کا سہرا لینے لگے۔ یشونت سنہا کی باتیں اس لیے انتہائی اہم ہیں کیونکہ وہ لال کرشن اڈوانی اور اٹل بہاری واجپئی کے بہت قریبی رہ چکے ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ 9 نومبر کو سپریم کورٹ کی پانچ ججوں کی بنچ نے ایودھیا میں بابری مسجد اور رام جنم بھومی اراضی تنازعہ پر اپنا فیصلہ سنایا تھا۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ایودھیا کے متنازعہ ڈھانچے والی زمین پر مندر بنے گا۔ وہیں اس کے بدلے حکومت مسجد کے لیے مسلمانوں کو پانچ ایکڑ زمین مناسب جگہ پر دے گی۔ اس فیصلے کو کئی مسلم لیڈروں نے قبول کیا تھا، جب کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے کئی اراکین نے اس پر مخالفت ظاہر کی اور اس کو چیلنج پیش کرنے کی بات کہی ہے۔