آخر سڑکوں پر کیوں ہیں کسان؟

کسانوں کی خدمت میں مصروف مسلم تنظیمیں

افروز عالم ساحل

پنجاب سے اٹھی کسانوں کی تحریک حکومت کے ذریعے لائے گئے تین متنازعہ زرعی قوانین کے خلاف ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ قوانین کسانوں کے مفاد میں لائے گئے ہیں۔ لیکن کسانوں کا کہنا ہے کہ یہ فائدے ہمیں چاہیے ہی نہیں۔ حکومت اپنے ان قوانین کو واپس لے۔

پچھلے 3 ماہ سے جاری کسانوں کی یہ تحریک جن تین متنازعہ قوانین کی مخالفت میں چل رہی ہے وہ یہ ہیں:

کسان پیداوار تجارت قانون یعنی
Farmers’ Produce Trade and Commerce (Promotion and Facilitation) Act-2020
کسان بااختیار و تحفظ قانون
The Farmers (Empowerment and Protection) Agreement of Price Assurance and Farm Services Act -2020
اور زراعت خدمات و اشیائے ضروریہ قانون
Farm Services and The Essential Commodities (Amendment) Act -2020

کسانوں کا ماننا ہے کہ یہ قانون دھیرے دھیرے زرعی پیداوار مارکیٹنگ کمیٹی (اے پی ایم سی) یعنی منڈیوں کی موجودہ شکل کو ختم کر دے گا اور نجی کمپنیوں کو بڑھاوا دے گا جس سے کسانوں کو ان کی فصل کے مناسب دام نہیں مل سکیں گے۔ حالانکہ وزیر اعظم نریندر مودی کئی بار کہہ چکے ہیں کہ دلال درمیان سے ہٹ جائیں گے جس سے کسانوں کو فائدہ ہی ہوگا پھر کمپنیاں ان کو زیادہ لاگت دیں گی۔ بلکہ وزیر اعظم مودی نے اسی بات کو ۲۹، نومبر کے اپنے ’من کی بات‘ ایپی سوڈ میں بھی دوہرایا کہ وہ ’’کسانوں کی بہبود کے لیے پابندِ عہد ہے‘‘۔

اس بارے میں ’مزدور کسان شکتی سنگٹھن‘ کے بانی ممبر نِکھل ڈے کہتے ہیں کہ پرائیوٹ آدمی کو کسانوں کی پیداوار کے لیے زیادہ رقم دینے سے روک کون رہا ہے؟ اس کے لیے قانون کی کیا ضرورت ہے؟ کسان پہلے سے ہی اپنے اناجوں کو سرکاری منڈیوں سے باہر یا ‘ملک میں کہیں بھی’ فروخت کر رہے ہیں۔ یہ تجویز پہلے سے ہے۔ اس میں نیا کیا ہے؟

احتجاجی کسانوں کی دلیل ہے کہ کمپنیوں کو جب زیادہ اختیارات ملیں گے تو وہ اناج کو کم قیمت میں خریدنا چاہیں گے کیونکہ انہوں نے پوری دنیا میں ایسا ہی کیا ہے۔ ایسے میں یہ قانون ان کارپوریٹ کمپنیوں کو براہ راست فائدہ پہنچانے کی نیت سے لایا گیا ہے۔ اس سے ذخیرہ اندوزی بھی بڑھے گی اور فصلوں کی خریداری کے لیے ایسی شرائط طے ہوں گے جو کسان کے مفاد میں نہیں ہوں گے۔

عام زبان میں کہا جائے تو یہ ٹھیک اسی طرح ہے جیسے سرکاری اسکولوں کے نظام کو مکمل طور پر ختم کرنے کے بعد غریبوں سے کہا جائے کہ ’آپ کے بچوں کو اب ملک کے کسی بھی اسکول میں تعلیم حاصل کرنے کی آزادی ہوگی‘۔ ان حالات میں غریب کہاں جائے گا؟ آج کسانوں کو جو کہا جا رہا ہے، وہ بالکل اسی صورتحال کو جنم دے گا۔

وہیں دوسرے قانون کے ذریعہ مودی حکومت ’کنٹریکٹ فارمنگ‘ یعنی معاہدے پر مبنی کاشتکاری کو قانونی حیثیت دے رہی ہے۔ یعنی یہ ’کنٹریکٹ فارمنگ‘ کے تحت کسانوں کے آنے کے لیے ایک فریم ورک مہیا کرارہا ہے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ قانون میں حکومت کی طرف سے جو بھی کہا گیا ہے ویسا پہلے بھی ہوتا رہا ہے، لیکن اس بار یہ قانون صرف ’امبانی۔اڈانی‘ جیسے تاجروں کو فائدہ پہنونچانے کے لیے لایا گیا ہے۔

کسانوں کا یہ بھی سوال ہے کہ کسان اب ’’کنٹریکٹ فارمنگ‘‘ کرے گا تو کوئی تنازعہ ہونے پر وہ صرف ایس ڈی ایم کے پاس جاسکتا ہے، جبکہ پہلے وہ عدالت بھی جاسکتا تھا۔ آخر اس طرح کی پابندی کیوں عائد کی گئی؟ اس سے تو لگتا ہے کہ حکومت کسانوں کو باندھ رہی ہے اور کارپوریٹ کمپنیوں کو کھلا چھوڑ رہی ہے۔ کیونکہ کمپنیوں کو اب انہیں فصل خریدنے کے لیے کسی لائسنس کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ اگر کسان عدالت میں چلا بھی جائے تو وہاں طاقتور خاطی کارپوریٹ کے مقابلے میں اپنا وکیل کھڑا کرنے کی سَکت کسی کسان کے اندر نہیں ہوگی۔

اس طرح سے دیکھا جائے تو ان تینوں قوانین کے نافذ ہونے کے بعد کسانوں کے پاس سودے بازی کی طاقت نہیں ہوگی، بلکہ ان کے پاس کوئی اختیار ہی نہیں بچے گا۔ کیونکہ قانوناً تنازعہ حل کرنے کے لیے ان کے پاس تحریری دستاویز بھی موجود نہیں ہوں گے۔ یہاں تک کہ متاثرہ کسان سِوِل کورٹ میں بھی نہیں جاسکتا۔ تو یہ ایسا ہی ہوگا جیسے کسان خود کو ’غلاموں‘ میں تبدیل کرنے کا کوئی ٹھیکہ لے رہے ہوں۔

بتا دیں کہ وزیراعظم مودی نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ مینیمم سپورٹ پرائس (ایم ایس پی) کو کبھی ختم نہیں ہونے دیں گے اور وعدہ کیا ہے کہ وہ سال 2022 تک کسانوں کی آمدنی کو دوگنا کر دیں گے۔ اس پر سینئر صحافی پی سائی ناتھ نے مودی حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ ’وہ ان تینوں زرعی قوانین کے ساتھ ایک اور قانون لے آئیں جو اس بات کی ضمانت دیتا ہو کہ ایم ایس پی کبھی ختم نہیں ہوگا۔‘

***

کسان پیداوار تجارت قانون یعنی
Farmers’ Produce Trade and Commerce (Promotion and Facilitation) Act-2020
کسان بااختیار و تحفظ قانون
The Farmers (Empowerment and Protection) Agreement of Price Assurance and Farm Services Act -2020
اور زراعت خدمات و اشیائے ضروریہ قانون
Farm Services and The Essential Commodities (Amendment) Act -2020

مشمولہ: ہفت روزہ دعوت، نئی دلی، شمارہ 15 تا 21 نومبر، 2020