اسلام کی خاطر صحابیات کی قربانیاں

نشرہ کامران، بلریا گنج، اعظم گڑھ

 

نبی اکرم ﷺ پوری انسانیت کی ہدایت و رہنمائی کے لیے اللہ کا پیغام لے کر تشریف لے آئے۔ اس پیغام کو اپنے سینے سے لگانے، اسے اپنی زندگی کا دستور عمل بنانے اور اس راہ کی تکالیف کو برداشت کرنے میں جہاں مردوں نے جرأت و ہمت کے مظاہرے کیے وہیں خواتین اسلام نے بھی اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ وفاداری عقیدت و محبت کی حیرت انگیز نظیریں قائم کیں، دین کے لیے بڑی قربانیاں پیش کیں مصیبتیں سہیں اور محاذ جنگ پر مختلف خدمات انجام دیں۔
اس مضمون میں ان بہادر و باہمت خواتین میں سے چند کا ذکر کیا جا رہا ہے جن کے ایمانی جذبہ سے آج بھی ملت اسلامیہ کا ہر فرد عمل کی تحریک حاصل کرسکتا ہے۔
عورت چاہے وہ ماں، بہن، بیوی اور بیٹی ہو ہر روپ میں قدرت کا قیمتی تحفہ ہے جس کے بغیر کائنات انسانی کی ہر شے پھیکی اور ماند ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مرد کو اس کا محافظ بنایا ہے مگر عورت اپنی ذات میں ایک تناور درخت کی مانند ہے جو ہر قسم کے سرد و گرم حالات کا دلیری سے مقابلہ کرتی ہے۔ اس کے عزم وحوصلے اور استقامت کی بنیاد پر اللہ تعالیٰ نے جنت کو اس کے قدموں تلے بچھا دیا ہے۔ نامور خواتین کا تذکرہ قرآن و حدیث اور تاریخ اسلام میں موجود ہے جن کی قربانیوں اور خدمات کے ذکر کے بغیر اسلامی تاریخ نامکمل رہتی ہے۔
اسلام کی دعوت وتبلیغ میں مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ تمام آزمائشوں اور مصیبتوں کو سہتے ہوئے ہر حال میں ثابت قدم رہیں۔ ان خواتین پر مصیبتوں اور ظلم و ستم کی انتہا کر دی گئی لیکن اپنے ایثار، تقوی و پرہیزگاری سے ثابت کر دیا کہ خواتین کسی صورت مردوں سے پیچھے نہیں۔ اسلام کی ابتدائی تاریخ میں مسلم خواتین کا جو کردار رہا ہے وہ رہتی دنیا کے لیے ایک واضح سبق ہے۔
حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا
نبیؐ کی رسالت کی تصدیق کا اولین شرف ایک عورت ہی کے حصے میں آیا ہے۔ پہلی وحی نازل ہونے کے بعد آپؐ پر اضطراری کیفیت طاری تھی اس موقع پر خدیجہؓ نے نبیؐ سے جو تسلی بخش اور حوصلہ افزاء کلمات کہے ان سے آپ کی طبیعت کا بوجھ بہت ہلکا ہوا خدیجۃ الکبریؓ کی زندگی فہم و فراست حکمت و تدبر خدمت و اطاعت رحم دلی اور غریب پروری کی عظیم مثال ہے۔ آپؐ کی بعثت کے بعد تقریباً نو سال زندہ رہیں۔ اس تمام مدت کے دوران اللہ کے رسولؐ کے ساتھ ہر طرح کے مصائب کو نہایت ہمت سے برداشت کیا۔ اپنے غیر مسلم رشتہ داروں کے ساتھ طعن و تشنیع اور ملامت کو سہا اور اپنا سارا مال تبلیغ دین میں لگا دیا۔ تین سال تک شعب ابی طالب میں محصور رہ کر تکالیف و مصائب برداشت کیے۔ لیکن اس دوران غذا، پانی کی کمی اور دیگر مصائب کا شکار ہوکر نہایت بیمار اور کمزور ہو گئیں اور اسی بیماری کے عالم میں خالقِ حقیقی سے جا ملیں۔
حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا
حضرت صفیہؓ آپؐ کی پھوپھی تھیں۔ آپؓ نہایت بہادر اور نڈر خاتون تھیں۔ آپؓ دوران جنگ بے خوف و خطر ہو کر زخمیوں کو میدان جنگ سے باہر لاتیں اور ان کی مرہم پٹی کرتی تھیں۔ آپؓ نے غزوہ ٔخندق میں نہایت بہادری کا مظاہرہ کیا۔ جب دوران جنگ ایک یہودی مسلمان خواتین پر حملہ آور ہوا تو آپ نے اس پر ایسا کاری وار کیا کہ اس کا سر کاٹ کر دشمن فوج میں پھینک دیا اس کے بعد دشمن فوج کے کسی سپاہی میں اتنی ہمت نہ تھی کہ وہ مسلمان خواتین پر حملہ کرتا۔
حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا
واقعۂ کربلا جہاں نواسہ رسول امام عالیؓ کی قربانیوں کا مظہر ہے وہیں دختر بتول سیدہ زینبؓ کے کامل کردار کی عظمتوں کا امین بھی ہے۔حضرت زینبؓ ایک بلند کردار خاتون تھیں۔ انہوں نے نہ صرف اپنے بیٹوں کی شہادت کا غم سہا بلکہ اپنے شیر خوار بھتیجوں، باوفا بھائی فخر انسانیت امام حسینؓ کی شہادت کا غم سہہ کر قربانیوں کی تاریخ میں تمام خواتین کے لیے واضح نمونہ عمل قائم کر دیا۔
حضرت ام عمارہ رضی اللہ عنہا
آپ کا شمار سابقون الاوّلین میں ہوتا ہے۔ ہجرت نبوی کے تیسرے سال مسلمانوں کو احد کا معرکہ پیش آیا۔ آپ اس میں شریک ہوئیں اور ایسی شجاعت جانبازی اور عزم و ثبات کا مظاہرہ کیا کہ تاریخ میں خاتونِ احد کے لقب سے مشہور ہوئیں۔ جب تک جنگ میں مسلمانوں کا پلڑا بھاری رہا آپ مجاہدین کو پانی پلاتی رہیں اور زخمیوں کی خبر گیری کرتی رہیں اور جب ایک اتفاقی غلطی سے جنگ کا پانسہ پلٹ گیا اور مجاہدین انتشار کا شکار ہوگئے تو اس وقت رسول اکرمؐ کے پاس چند سرفروش باقی رہ گئے۔ آپ نے یہ کیفیت دیکھ کر مشکیزہ پھینک کر تلوار اور ڈھال سنبھالی اور بہادری سے دشمن کا مقابلہ کیا آپ کے جسم پر ستر سے زیادہ زخم لگے آپؐ نے کہا آج میں جدھر دیکھتا ہوں میں ام عمارہ کو پاتا ہوں۔ ام عمارہ نے عرض کیا یا رسول اللہ میرے ماں باپ آپ پر قربان میرے لیے دعا کریں کہ میں جنت میں بھی آپ کی معیت میں رہوں۔ حضرت ام عمارہ کا یہ جذبہ جہاد و شوق صرف دور نبویؐ تک ہی محدود نہ رہا بلکہ جب مسیلمہ کذاب نے تاج و تخت نبوت پر ڈاکہ ڈالا ڈالنا چاہا اور نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا تو اس کی سرکوبی کرنے والے لشکر میں آپ بھی اپنے بیٹے حضرت عبداللہ کے ساتھ شامل ہوئی تھیں۔ اس جنگ میں آپؓ کا ایک ہاتھ مفلوج ہوا اور جسم پر تلوار اور نیزے کی بارہ زخم آئے آپؓ کا ہاتھ چونکہ ناموس رسالت کی حفاظت میں مفلوج ہوا تھا لہٰذا بارگاہ خداوندی میں آپ کی یہ قربانی کچھ یوں مقبول ہوئی کہ آپ اپنا یہ ہاتھ جس بھی مریض کو مس کر کے اس کے لیے دعا کرتیں وہ شفایاب ہو جاتا۔
دین کی خاطر صحابیات کی قربانیاں
خیر و بھلائی حاصل کرنے کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے یہ بھی ہے کہ راہ خدا میں ہمیشہ ایسی چیز کا نذرانہ پیش کیا جائے جو پسندیدہ محبوب ہو جیسا کہ اللہ عزوجل کا ارشاد ہے:
لَنْ تَنَالُوْ الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْنَ مِمَّا ُتُحِبُّوْنَ
تم اس وقت تک بھلائی نہیں پا سکتے جب تک کی تمام چیزوں کو نہ خرچ کرو جسے تم پسند کرتے ہو جس سے تم پیار کرتے ہو۔
غور کرنے سے یہ بات پتہ چلتی ہے کہ تین ہی چیزیں ایسی ہیں جن سے انسان پیار کرتا ہے۔ مال، جان، خاندان۔ اگر صحابیاتؓ کی سیرت کی روشنی میں ان چیزوں کا جائزہ لیا جائے تو عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ انہوں نے اسلام کی خاطر مال تو مال اپنی یا اپنے خاندان والوں کی جان کا نذرانہ پیش کرنے سے بھی کبھی دریغ نہ کیا۔
آیئے ذیل میں صحابیات کی راہ خدا میں مال، جان اور خاندان کے حوالے سے دی جانے والی چند قربانیاں ملاحظہ کرتے ہیں:
مال کی قربانی
اسلام نے صحابیاتؓ سے جیسی بھی قربانی مانگی ان نفوس قدسیہ نے فوراً پیش کردیں۔صحابیات کی سیرت کا مطالعہ کرنے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ راہ خدا میں مال خرچ کرنے میں انہوں نے کبھی بھی لیت و لعل سے کام نہ لیا۔ بلکہ ان کے پیش نظر ہمیشہ رضائے خداوندی کا حصول رہا ہے۔ چنانچہ روایت میں آتا ہے کہ ایک شام ایک صحابیہ بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئیں ان کے ہاتھ میں سونے کے دو بڑے کنگن تھے جنہیں دیکھ کر آپؐ نے دریافت فرمایا کیا تم ان کی زکوٰۃ دیتی ہو؟ عرض کیا نہیں۔ ارشاد فرمایا: تو کیا یہ پسند کرتی ہو کہ قیامت کے دن اللہ تمہیں آگ کے کنگن پہنائے؟ یہ سن کر اس نیک بخت صحابیہ نے فوراً وہ کنگن اتار کر حضورؐ کی خدمت میں پیش کرتے ہوئے عرض کیا ”یہ اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہیں۔‘‘
اس صحابیہ کی عظمت پر قربان جائیے کہ جیسے ہی نبیؐ کی زبان مبارک سے حکم شریعت اور عذاب الٰہی کی وعید سنی فوراً کنگن رسول اکرمؐ کے قدموں میں رکھ دیا۔
جان کی قربانی
راہ خدا کی شہیدہ اوّل حضرت سمیہؓ وہ شیر دل خاتون ہیں جنہوں نے سب سے پہلے اپنے خون کا نذرانہ پیش کرکے شجر اسلام کی جڑوں کو مضبوط کیا۔آپ کا شجر اسلام کے ثمرات سے فیض یاب ہونا ہی آپ کا جرم بن گیا اور کفر کے اندھوں نے آپؓ پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے کہ الامان الحفیظ ۔ چنانچہ مروی ہے کہ رسول اکرمؐ جب آپؓ کو آپ کے بیٹے اور شوہر سمیت مکہ کے تپتے صحرا میں ایذائیں پاتے دیکھتے تو ارشاد فرماتے:’’ اے آل یاسر ! صبر کرو۔ تمہارے لیے جنت کا وعدہ ہے۔‘‘
اہل مکہ بالخصوص دشمن اسلام ابو جہل نے کون سا ستم تھا جو ان پر نہ کیا ہو مگر قربان جائیے شہیدۂ اوّل کی عظمت و استقامت پر آپؓ کے دل میں اللہ اور اس کے رسول کی محبت اس قدر گھر کر چکی تھی کہ اتنی سخت تکالیف کے باوجود آپؓ نے اسلام کا دامن نہیں چھوڑا بلکہ ڈٹ کر ان مشکلات کا سامنا کیا۔ آپ کا صبر و استقامت سے اسلام پر ڈٹ جانا سرداران قریش کے منہ پر گویا ایک طمانچہ تھا، یہی وجہ تھی کہ وہ اس ہزیمت کو برداشت نہ کرسکے اور آپ کے خون سے سر زمین کو سیراب کر کے اپنے تئیں آپ کا قصہ تمام کر دیا۔
بیان کیا جاتا ہے ایک مرتبہ ابو جہل نے نیزہ تان کر آپ کو دھمکاتے ہوئے کہا کہ تو کلمہ نہ پڑھ ورنہ میں تجھے نیزہ مار دوں گا۔ حضرت سمیہؓ نے سینہ تان کر زور زور سے کلمہ پڑھنا شروع کر دیا۔ ابوجہل نے غصہ میں بھر کر ان کے ناف کے نیچے اس زور سے نیزہ مارا کی وہ خون میں لت پت ہو کر گر پڑیں اور شہید ہو گئیں۔
یوں انہیں جہاں اسلام کی شہیدۂ اوّل ہونے کا اعزاز حاصل ہوا تو وہیں آپؓ کو یہ شرف بھی ملا کی آپؓ راہ خدا میں جان کا نذرانہ پیش کرنے والی واحد صحابیہ بن گئیں۔
اہل وعیال کی قربانی
صحابیات، طیباتؓ نے دین کی خاطر اپنی ہر محبوب چیز قربان کردی۔ ان مقدس ہستیوں نے باغ اسلام کی آبیاری کے لیے اپنے جگر گوشوں تک کے خون کا نذرانہ پیش کرنے میں کبھی دریغ نہ کیا۔ آئیے ان میں سے چند ایک کی قربانیاں ملاحظہ کرتے ہیں:
بنتؓ صدیق اکبر کی قربانی
حضرت اسماءؓ بنت ابی بکر نے دین اسلام کے خاطر جس قدر قربانیاں دی ہیں زمانہ انہیں صبح قیامت تک یاد رکھے گا۔ بڑھاپے میں ہر ماں کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کی اولاد اس کا سرمایہ بنے لیکن اس اللہ کی بندی نے عین بڑھاپے کے عالم میں بھی اپنے بیٹے کو دین کی ناموس پر قربان ہونے کا درس کیا اور اس نیک بخت بیٹے نے اپنی ماں کا کہا سچ کر دکھایا۔
چنانچہ مروی ہے کہ آپ کے شہزادے حضرت عبداللہؓ بن زبیر شہادت سے دس دن قبل آپ کی عیادت کے لیے حاضر ہوئے اور طبیعت کی ناسازی کے متعلق پوچھا آپ نے جواب دیا کہ ابھی بیمار ہوں تو عبداللہؓ بن زبیر نے عرض کیا کہ مرنے میں عافیت ہے اس پر آپؓ بولیں شاید تم میری موت کو پسند کرتے ہو لیکن جب تک دو باتوں میں سے ایک نہ ہوجائے میں مرنا نہیں چاہتی یا تو تم شہید ہو جاؤ اور میں صبر کر لو یا دشمن کے مقابلے میں کامیابی حاصل کرو تاکہ میری آنکھیں ٹھنڈی ہو جائیں۔
چنانچہ جب حضرت عبداللہؓ بن زبیر حجاج کا مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہوگئے اور حجاج نے آپ کو سولی پر لٹکا دیا تو اسماؓ بنت ابی بکر شدید بڑھاپے کے باوجود حجاج کے مجبور کر دینے پر وہاں تشریف لائیں اور یہ منظر دیکھ کر اسے مخاطب کرتے ہوئے فرمایا :کیا ابھی اس سوار کے اترنے کا وقت نہیں آیا ہے؟
چار بیٹے قربان کرنے والی ماں
حضرت خنساؓجنگ قادسیہ میں اپنے چاروں شہزادوں سمیت شریک ہوئی تھیں۔ جنگ سے ایک روز قبل اپنے چاروں شہزادوں کو اس طرح نصیحت فرماتی ہیں: میرے پیارے بیٹو! تم اپنی خوشی سے مسلمان ہوئے اور اپنی خوشی سے ہجرت کی۔
تمہیں معلوم ہے کہ اللہ نے کفار سے مقابلہ کرنے میں مجاہدین کے لیے عظیم الشان ثواب رکھا ہے ۔یاد رکھو آخرت کی زندگی دنیا کی زندگی سے بدرجہا بہتر ہے۔ صبح کو ہوشیاری کے ساتھ جنگ میں شرکت کرو اور دشمنوں کے مقابلے میں اللہ والوں سے مدد طلب کرتے ہوئے آگے بڑھو اور جب جنگ کے شعلے بھڑکنے لگیں تو اس شعلہ زن آگ میں کود جانا اور کافروں کے سردار کا مقابلہ کرنا انشاء اللہ عزت و احترام کے ساتھ جنت میں رہوگے۔
چنانچہ جنگ میں حضرت خنساؓ کے بیٹوں نے بڑھ چڑھ کر کفار کا مقابلہ کیا اور یکے بعد دیگرے جام شہادت نوش کر گئے۔
جب ان کی والدہ ماجدہ حضرت خنساؓ کو ان کی شہادت کی خبر پہنچی تو انہوں نے کہا اس اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے چار شہید بیٹوں کی ماں بننے کا شرف عطا فرمایا۔ مجھے اللہ رب العزت کی رحمت سے امید ہے کہ میں بھی ان چاروں کے ساتھ جنت میں رہوں گی۔
حرف آخر
اولین مسلمان خواتین نے اسلام کی خاطر کیسی کیسی مشقتیں برداشت کیں اور اس راہ میں کیا کچھ قربان نہیں کیا ۔تاریخ ان کی جرأت و بے باکی پر آج بھی حیران ہے۔ اس کی جڑوں کو مضبوط کرنے کے لیے سب سے پہلے ایک خاتون نے ہی اپنے خون کا نذرانہ پیش کیا۔ یہی نہیں بلکہ جب بھی دین کی خاطر اپنی یا اپنے گھر والوں کی جان دینے یا کسی کی جان لینے کی ضرورت پڑی تو ان خواتین کے ماتھے پر ایک شکن تک نہ ابھری انہوں نے گھر بار لٹا دیے خون کے رشتوں کو خوشی خوشی موت کے حوالے کردیا انہیں تپتے صحراؤں میں لٹایا گیا دہکتے کوئلے پر بٹھایا گیا غرض ظلم وجبر اور سفاکی کی کوئی کسر نہ اٹھا رکھی گئی مگر تپتے صحرا اور اندھیری کالی ٹھٹھرتی راتیں گواہ ہیں کہ اس صنف نازک کی استقامت میں ذرہ برابر بھی جنبش نہ آئی۔ زمانے کے ظلم و ستم ان نفوس قدسیہ سے ان کی دولت ایمان نہ چھین سکے اور ہمیشہ کے لیے اوراق تاریخ کو ان کی قربانیاں محفوظ کرنی پڑیں۔صحابیات طیباتؓ نے جو قربانیاں دیں گرچہ ہمارا آج کا عمل اس کے ہزارویں حصہ کے برابر بھی نہیں ہو سکتا لیکن اگر ان نفوس قدسیہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ہم دین اسلام کی پاسداری کریں اور شریعت کے مطابق زندگی بسر کریں تو انشاء اللہ ہمیں اللہ رب العزت کا فیضان حاصل ہوگا اور ہمارا خاتمہ بالخیر ہو گا۔
***

صحابیات طیباتؓ نے جو قربانیاں دیں گرچہ ہمارا آج کا عمل اس کے ہزارویں حصہ کے برابر بھی نہیں ہو سکتا لیکن اگر ان نفوس قدسیہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ہم دین اسلام کی پاسداری کریں اور شریعت کے مطابق زندگی بسر کریں تو انشاء اللہ ہمیں اللہ رب العزت کا فیضان حاصل ہوگا اور ہمارا خاتمہ بالخیر ہو گا۔

مشمولہ: ہفت روزہ دعوت، نئی دلی، شمارہ 15 تا 21 نومبر، 2020