زندگی کی قیمت پر کاروبار

دوا سازی کی صنعت پرنکیل کسنے کی ضرورت

پروفیسر ظفیر احمد، کولکاتا

ہمارا ملک دنیا کا فارماسیوٹیکل ہب ہے وہ اس لیے کہ اس نے کورونا قہر کے زمانے میں ساری دنیا کو کورونا ویکسین اور دوائیں سپلائی کی تھیں۔ خصوصاً تیسری دنیا کے کمزور ممالک کو سستی اور معیاری دوا بنا کر دینے کے معاملے میں ہماری ایک عالمی شناخت ہے۔ مگر کچھ دوا ساز کمپنیاں دولت کمانے کی ہوس میں غلط قسم کی دواؤں کو بازار میں لاتی ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ملک میں ایسے گِدھوں پر لگام لگانے کے لیے جرمانہ کا معقول قانونی نظم نہیں ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) نے اطلاع دی کہ افریقی ملک گامبیا کے 66 بچے بھارتی دوا ساز کمپنی کی نقلی اور غیر معیاری دوا کے استعمال سے بیمار ہو کر موت کی آغوش میں چلے گئے۔ اس لیے ڈبلیو ایچ او نے اب ان چار کھانسی کے مشروبات کے تعلق سے الرٹ جاری کرتے ہوئے بہت سارے ممالک میں ان کی خرید و فروخت پر پابندی لگا دی ہے۔ تجربہ گاہ میں تجزیہ کے بعد پایا گیا ہے کہ ان دواؤں میں ڈائی ایتھاٹیلین گلائیکول کی مقدار طے شدہ مقدار سے زیادہ پائی گئی ہے۔ یہ کیمیکل انسانوں کے لیے خطرناک اور زہریلا ہے۔ اس پر سنٹرل ڈگرس اسٹینڈرڈ کنٹرول آرگنائزیشن (CDSCO) نے تیزی سے تحقیق شروع کردی ہے۔
اندرون ملک برانڈیڈ ادویات عوام الناس کی قوت خرید پر سخت دباو ڈالتی ہیں اس لیے اس کے متبادل کے طورپر وزیر اعظم نے جنرک دواؤں کو بازار میں لانے کا اعلان کیا ہے تاکہ بیماریوں سے نجات اور شفا کے لیے سبھی طبقہ کے لوگ اس سے مستفید ہو سکیں مگر یہ تحریک نفع خور کمپنیوں اور رشوت خور ڈاکٹروں کو پسند نہیں آئی کیونکہ جنرک دوائیں تجویز کرنے سے ڈاکٹروں کو کمیشن ختم ہونے کا خدشہ ہے لیکن حکومت نے ڈاکٹروں کے لیے لازم کیا ہے کہ مریضوں کے لیے سستی اور جنرک دوائیں تجویز کریں اس لیے کہ دیگر برانڈیڈ اور جنرک دواؤں میں تاثیر کے لحاظ سے کوئی زیادہ فرق نہیں ہوتا۔ ہمارے ملک میں بیماری کے علاج میں اور بیٹیوں کی شادی میں اکثر متوسط گھرانے خط افلاس کے قریب پہنچ جاتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ڈاکٹروں کی اکثریت غیر ضروری معائنے کروا کر پیتھولوجیکل لیب سے 30تا40 فیصد کے حساب سے اپنا کمیشن وصول کرتی ہے۔ اس کے علاوہ دوا ساز کمپنیاں اپنے میڈیکل ریپرزینٹیٹیوز کی وساطت سے ڈاکٹروں پر اپنی دوائیں تجویز کرنے کے لیے لاکھوں روپیہ خرچ کرتے ہیں۔ اس طرح ڈاکٹر، ایم آر اور میڈیکل اسٹورس کی ملی بھگت سے مریضوں کو تباہ کرنے کا دھندا خوب زوروں پر چلتا ہے۔ یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ برانڈیڈ اور جنرک دواؤں کی قیمت کا فرق 80تا90 فیصد تک رہتا ہے۔ یہ کیفیت ایسی دواؤں میں دیکھی گئی ہیں جو جان بچانے والی ہوتی ہیں۔ مثلاً کینسر، دل کے امراض اور ذیابطیس کے علاج میں استعمال ہونے والی دواؤں میں دونوں کی طرح کی دواؤں کے فرق کو سمجھا جاسکتا ہے۔ ویسے ہمارے یہاں اچھے ڈاکٹروں کی کمی نہیں ہے۔ بعض تو فرشتہ صفت ہوتے ہیں۔ مرکزی حکومت نے لازمی دواؤں کی قیمت طے کرنے اور عارضہ قلب کے لیے ضروری اسٹینٹ کی قیمت میں کمی تو کر دی مگر ڈاکٹرس متعینہ قیمت کے ساتھ مریضوں کو مالی طور سے لوٹنے کے لیے مذکورہ قیمت میں دیگر اخراجات جوڑ کر وصول کرتے ہیں۔ مرکزی حکومت نے جنرک دواؤں کی دستیابی کے لیے جگہ جگہ پر عوامی میڈیکل سنٹرس قائم کر رکھے ہیں مگر ایسے مراکز میں عموماً دوائیاں دستیاب نہیں ہوتی ہیں کیونکہ ہمارے سسٹم کی ’ہر شاخ پر الّو بیٹھا ہے‘۔ کرپشن کی وجہ سے جنرک ادویات کا فائدہ عام لوگوں کو نہیں مل پاتا۔ واضح رہے کہ ہمارا ملک دنیا کے 130 ممالک کو جنرک دوائیں برآمد کرتا ہے لیکن اپنے ملک کے عام شہری کم قیمت والی دواؤں سے محروم رہ جاتے ہیں کیونکہ گزشتہ چند سالوں میں فارماسیوٹیکل کمپنیاں ڈاکٹروں کو اپنی دوائیں تجویز کرانے کے لیے ایک ہزار کروڑ روپے سے زائد رقم بطور رشوت دیتی ہیں۔ اس کے علاوہ بہار، بنگال، جھارکھنڈ اور اترپردیش جیسی ریاستوں سے نقلی اور گھٹیا دواؤں کی فروخت کی بھی خبریں آتی رہتی ہیں اس لیے مرکزی حکومت نے دواؤں کی اصلیت کی جانچ کے لیے پیداوار پر کوئک ریسپانس (QR) عائد کرنے کا فیصلہ ہے۔ طبی اور دواؤں کے شعبوں میں کرپشن کے زور پر قابو پانے کے لیے حکومت کو سخت ترین قانون سازی کرنی ہو گی تاکہ مجرمین کو بر وقت سزاد ی جا سکے اور دوا ساز کمپنیوں کو بھی ڈسپلن میں رکھا جا سکے۔ عالمی بدنامی سے بچنے کے لیے بھارت کی میڈیکل ریگولیٹری باڈی سنٹرل ڈرگس اسٹینڈرڈ کنٹرول آرگنائزیشن (CDSCO) اور حکومت ہریانہ نے میڈیسن فارماسیوٹیکل کے ذریعہ تیار شدہ گھٹیا اور ملاوٹی کھانسی کی مشروبات کے تعلق سے جانچ شروع کر دی ہے۔ عالمی صحت ایجنسی نے تجرباتی تجزیہ کے بعد کہا ہے کہ پرومیتھا زائن اورل سولوشن، کوفیکسما لین بے بی کف سیرپ، میکوف بے بی کف سیرپ اور میگرپ این کولڈ سیرپوں میں ڈائی امیتھائیلین گائیکول اور امتھالین گلائیکول مقدار ضرورت سے زیادہ ہے۔ یہ دونوں کیمیکلس انسانوں کے لیے انتہائی خطرناک اور زہریلے ہیں جن سے پیٹ میں درد، قے، دست اور پیشاب کے اخراج میں پریشانی کے علاوہ سردرد، دماغی توازن کا بگڑ جانا جیسی کیفیات پیدا ہو جاتی ہیں۔ بچوں میں گردے کی خرابیاں پیدا ہوتی ہیں اور وہ موت کی آغوش میں چلے جاتے ہیں۔ 2020ء میں کشمیر کے 17 بچے ایسے ہی سیرپوں کے استعمال سے مر گئے تھے کیونکہ ان سیرپوں میں ایتھائیلین گلائیکول کی حد سے زائد مقدار تھی۔ اس کے بعد انہیں بازار سے ہٹا دیا گیا تھا۔ اب اسے سسپنشن کے طور پر بازار میں لایا گیا ہے۔ ابتدائی انکوائری سے پتہ چلا ہے کہ میڈن فارماسیوٹیکلس نے مذکورہ کف سیرپوں کو نامبیا اکسپورٹ کے لیے تیار کیا تھا۔ اس لیے حکومت کو ایسی دوا ساز کمپنیوں سے سختی سے نمٹنا چاہیے۔ اب سنٹرل ڈرگس اسٹنڈرڈ کنٹرول آرگنائزیشن ایسے کمپنیوں پر نکیل کسنے کے لیے ملک کے تمام ریاستوں کے لیے ضروری ضابطہ بنائے تاکہ لوگوں کے زندگیوں سے کھلواڑ نہ ہو سکے۔ جموں و کشمیر کی 2020ء کی ٹریجڈی سے یہ واضح ہوا کہ ریاست اور مرکز کے درمیان رابطہ کا بڑا فقدان ہے کیونکہ جو دوائیں ریاست کی جانچ میں فیل ہو جاتی ہیں وہ ملک کے دیگر حصوں میں دھڑلے سے فروخت ہوتی رہتی ہیں۔ سی ڈی ایس سی او کے 2014-16 کے سروے کے مطابق ملک کی بڑی فارما کمپنیوں کی تیار کردہ پانچ فیصد سے زیادہ ادویات ہی ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے ہوشیار کیے جانے پر فارما اکسپورٹرس باڈی فار میکسیل نے میڈن فارما سیوٹیکلس کی رکنیت معطل کر دی ہے۔ صنعت کاروں کے آرگنائزیشن کو بھی اس سے زیادہ بھی کچھ کرنا چاہیے۔ مگر جو نقصان میڈن فارما سیوٹیکلس سے ملک کی نیک نامی کو ہوا ہے وہ ناقابل تلافی ہے۔ اس سے ہمارے ملک کی تیسری دنیا کی فارمیسی کی شہرت کو بٹہ لگا ہے۔ انڈیا کی برانڈ ایکویٹی فاونڈیشن کی فارما رپورٹ کے مطابق بھارتی دواؤں کی صنعت دنیا بھر میں تقریباً پچاس فیصد امریکہ میں جنرک دواؤں کی طلب کا چالیس فیصد اور برطانیہ میں بھی ادویات کا پچیس فیصد سپلائی کرتی ہے۔ ملک میں تقریبا تین ہزار دوا ساز کمپنیاں اور دس ہزار سے زائد دوا ساز اکائیاں متحرک اور قابل عمل ہیں۔ ساری دنیا میں 70تا80 فیصد سے زائد اینٹی ریٹرو وائرل دوائیں سستی قیمتوں پر برآمد کی جاتی ہیں۔
کورونا قہر کے دوران اچھی اور سستی دوائیں ترقی پذیر اور غریب ممالک کو برآمد کر کے بھارت نے بڑی نیک نامی کمائی تھی۔ اس لیے سب ملکوں سے بھارت کے خوش گوار تعلقات بھی استوار ہوئے مگر ایسی ٹریجڈی سے ملک کے وقار کو گہرا زخم لگا ہے۔ اس لیے اس مسئلہ پر دوا ساز کمپنیوں اور ان کمپنیوں میں کام کرنے والے آفیسرس پر بھی سخت کاروائی ہونی چاہیے۔ انڈین میڈیکل اسوسی ایشن نے کہا کہ جب کسی دوسرے ملکوں میں دوائیں برآمد کی جائیں تو اس کی سختی سے جانچ ہونی چاہیے۔ ساتھ ہی ڈبلیو ایچ او کو بھی اپنی تحقیقی رپورٹ جلد ہی ارسال کرنی چاہیے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے۔
***

 

***

 کورونا قہر کے دوران اچھی اور سستی دوائیں ترقی پذیر اور غریب ممالک کو برآمد کر کے بھارت نے بڑی نیک نامی کمائی تھی۔ اس لیے سب ملکوں سے بھارت کے خوش گوار تعلقات بھی استوار ہوئے مگر ایسی ٹریجڈی سے ملک کے وقار کو گہرا زخم لگا ہے۔ اس لیے اس مسئلہ پر دوا ساز کمپنیوں اور ان کمپنیوں میں کام کرنے والے آفیسرس پر بھی سخت کاروائی ہونی چاہیے۔ انڈین میڈیکل اسوسی ایشن نے کہا کہ جب کسی دوسرے ملکوں میں دوائیں برآمد کی جائیں تو اس کی سختی سے جانچ ہونی چاہیے۔ ساتھ ہی ڈبلیو ایچ او کو بھی اپنی تحقیقی رپورٹ جلد ہی ارسال کرنی چاہیے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے۔


ہفت روزہ دعوت – شمارہ 30 اکتوبر تا 05 نومبر 2022