’کشمیر فائلز‘ حقائق سے دور فلم۔ ملک میں نفرت پھیلانے کا ذریعہ بنے گی

وی پی سنگھ کی حکومت میں شریک بی جے پی نے اس وقت مخالفت کیوں نہیں کی ؟

افروز عالم ساحل

’گزشتہ تیس برسوں میں کشمیری پنڈتوں کے کسی بھی قاتل کو سزا کیوں نہیں ہوئی؟ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ یہ لوگ عدالت کیوں نہیں گئے؟ سوچنے کی بات یہ بھی ہے کہ عسکریت پسند تنظیم کا ایک کارکن جس نے یونیورسٹی کے ایک لیکچرر کو مارا تھا اس کی عصمت دری کی تھی، اس معاملے کو یہ لوگ بہت اچھالتے ہیں اور بعد میں یہی کارکن بی ایس ایف کا حصہ بن گیا اور اس نے سوپور میں حالات کافی خراب کروائے۔ اس نے نہ جانے کتنے لوگوں کو انکاؤنٹر میں مروادیا۔ بعد میں اسی شخص نے ایک ایسی سیاسی پارٹی جوائن کی جس کی بی جے پی حمایت کرتی تھی۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جس شخص نے تیس لوگوں کے قتل کا اعتراف کیا تھا اس کے خلاف بھی کبھی چارج شیٹ داخل نہیں ہوئی۔ آخر اس کی کیا وجہ ہے؟‘

یہ سوالات مشہور سینئر جرنلسٹ افتخار گیلانی نے ہفت روزہ دعوت کے ساتھ خاص بات چیت میں اٹھائے ہیں۔ جناب افتخار گیلانی ان دنوں ترکی کے انادولو ایجنسی میں انٹرنیشنل ڈپارٹمنٹ کے ایڈیٹر ہیں۔ اس سے قبل وہ  DNA/WION میں تھے، جہاں انہوں نے بطور ایڈیٹر (اسٹریٹجک افیئرس) اپنی خدمات انجام دیں۔  انہوں نے تہلکہ، کشمیرٹائمس سمیت متعدد اشاعتوں کے لیے بھی کام کیا ہے۔ ان کا تعلق کشمیر کے ضلع سوپور سے ہے۔ وہ 1990 کے آس پاس کشمیری پنڈتوں پر ہونے والے مظالم کے چشم دید گواہ بھی ہیں۔

تیس برسوں میں صرف ایک ہی شخص کو سزا

نمائندہ ہفت روزہ دعوت کے ساتھ خصوصی گفتگو میں افتخار گیلانی نے بتایا کہ گزشتہ تیس برسوں میں اب تک صرف ایک معاملے میں ایک شخص کو سزا ہوئی ہے۔ یہ کیس ایچ این وانگچو کا تھا، وہ ٹریڈ یونین لیڈر تھے۔ اس کیس میں جو سب سے اہم گواہ تھا، وہ مسلمان ہی تھا، اور مسلمانوں کی گواہی کی وجہ سے ہی سزا مل پائی تھی۔

وہ مزید بتاتے ہیں کہ ہردئے ناتھ وانگچو کا قتل 6 دسمبر 1992 کے آس پاس ہوا تھا۔ اس وقت جہاں پورے ہندوستان کے مسلمان بابری مسجد کی شہادت پر آنسو بہا رہے تھے، کشمیر کے مسلمان وانگچو کے قتل پر آنسو بہا رہے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ ان کے قاتلوں کے لیے سزائے موت کا مطالبہ کرتے ہوئے کشمیر کے مسلمانوں نے پورے چار دنوں تک ہڑتال کی تھی۔

افتخار گیلانی کہتے ہیں کہ ٹاڈا کورٹ جموں میں تھا، اس لیے یہ کہنا بھی غلط ہو گا کہ سرینگر میں کوئی گواہی دینے نہیں آ سکتا تھا۔ ٹاڈا کورٹ جموں میں بنایا ہی اس لیے گیا تھا کہ بلا کسی خوف وخطر کے کوئی بھی گواہی دینے کے لیے آسکے۔ لیکن اس کے باوجود بھی کچھ نہیں ہوا۔ دراصل نہ حکومتوں نے اور نہ ہی کشمیری پنڈتوں نے عدالت میں کوئی دلچسپی دکھائی۔

پنڈتوں کو جموں کیوں لے جایا گیا؟

ایک طویل گفتگو میں افتخار گیلانی کہتے ہیں کہ 1990 کے آس پاس کشمیر میں جو حالات پیدا ہوئے، اس کے بارے میں میرا یہی کہنا ہے کہ یہ حالات پیدا کروائے گئے۔ اگر یہ مان لیں کہ جگموہن اس میں براہ راست شامل نہ تھے پھر بھی یہ ایک بڑی انتظامی ناکامی تھی۔ سوپور میں پندرہ سو گھر تھے، اگر وہاں کوئی مسئلہ تھا تو قریب ہی آرمی کا ڈویژنل ہیڈکوارٹر تھا، سی آر پی ایف کا کیمپ تھا، وہاں ان کو رکھ سکتے تھے، لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ غور طلب بات ہے کہ گجرات فسادات میں جب دو ہزار لوگ مارے گئے تو کیا اس کے بعد وہاں کے مسلمانوں کو لے جا کر دہلی یا کسی دوسرے صوبے میں بسایا گیا؟ نہیں! ان کو وہیں کیمپوں میں رکھا گیا۔ اسی طرح کشمیری پنڈتوں کو بھی حالات کے قابو میں آنے تک کیمپوں میں رکھا جا سکتا تھا۔ وہاں سے انہیں تین چار سو کلومیٹر دور جموں کیوں لے جایا گیا؟

وہ مزید بتاتے ہیں کہ 1989 میں گورنر کے طور پر جگموہن نے کشمیر آتے ہی پہلا کام یہ کیا کہ جو لوگ حالات کو سنبھال سکتے تھے، کنٹرول کر سکتے تھے، ان کو گرفتار کر جیلوں میں ڈال دیا۔ کسی کو جودھپور تو کسی کو الہ آباد اور نہ جانے کہاں کہاں بھیج دیا گیا۔ اگر یہ باہر ہوتے تو یقیناً حالات کو سنبھال سکتے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ جموں وکشمیر میں گورنر جگموہن نے حالات ہی ایسے پیدا کر دیے کہ ہر حساس شخص محفوظ پناہ گاہ ڈھونڈنے پر مجبور تھا۔ ہم کشمیری لوگ ہمیشہ سے یہ مانتے ہوئے آئے ہیں کہ اکثریتی برادری کا فرض نہیں بلکہ ڈیوٹی ہے کہ وہ اقلیتوں کی حفاظت کرے، لیکن کشمیر کی اکثریتی کمیونٹی کو تو خود کی زندگی پر ہی کوئی اختیار نہیں ہے۔

’’ہمارے مسلمان پڑوسی ہی ہماری سکیورٹی ہیں‘‘

افتخار گیلانی اس وقت کے حالات کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مجھے یاد ہے کہ 1989 میں گورنر جگموہن کے آتے ہی افواہوں کا بازار گرم ہو گیا تھا کہ ’’آبادیوں پر بمباری ہونے والی ہے‘‘۔ یاد رہے کہ سردیوں کے آتے ہی دارالحکومت سری نگر سے جموں منتقل ہو جاتا ہے۔ چنانچہ اس بار بھی سردیوں میں جونہی دارالحکومت جموں منتقل ہوا، میرے محلے کے اطراف کے آسودہ حال ہندو بھی معمول کے مطابق جموں چلے گئے۔ مگر صوفی حمام کے ہندو وہیں مقیم رہے۔ ایک دن آئی ٹی بی پی یعنی ’انڈیا تبت بارڈر پولیس‘ کے ایک کمانڈنٹ مقامی پولیس افسروں کے ساتھ محلے میں آئے اور پنڈتوں کی سیکیورٹی کا جائزہ لیا۔ مقامی مسجد میں محلہ کے ذی عزت افراد اور پنڈتوں کے نمائندوں کو بلایا گیا۔ کشمیری پنڈتوں نے صاف طور پر کمانڈنٹ سے کہا کہ ’’ہماری سیکیورٹی کی فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، ہمارے مسلمان پڑوسی ہی ہماری سیکیورٹی ہیں‘‘۔ محلے کے مقتدر افراد نے بھی افسروں کو یقین دلایا کہ ’’اقلیتی افراد کی حفاظت کرنا ان کا فرض ہے اور وہ یہ فرض نبھائیں گے‘‘۔ مگر دو دن بعد ہی آدھی رات کے لگ بھگ اماوس کی رات، جب بجلی بھی بند تھی، لاؤڈ اسپیکروں سے کرفیو کا اعلان کیا گیا۔ سڑک پر فوجی بوٹوں کے ٹاپوں اور ٹرکوں کی آوازیں آرہی تھیں۔ پنڈتوں کے مکانوں سے بھی چیخ وپکار کی آوازیں بلند ہو رہی تھیں۔ گھپ اندھیرے میں پتہ نہیں چل رہا تھا کہ کیا ہو رہا ہے؟ ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ شاید فوجی آپریشن شروع ہو گیا ہے۔

اس رات کو یاد کرتے ہوئے افتخار گیلانی کہتے ہیں کہ اس رات ہمارے دروازے پر بھی دستک ہوئی۔ میرے والد صاحب نے جب دروازہ کھولا تو سامنے ان کے دیرینہ بے تکلف پنڈت دوست اور آفس کے ساتھی امرناتھ بھٹ تھے۔ وہ کہہ رہے تھے کہ ’’نیم فوجی تنظیم کا افسر پورے لاؤ لشکر اور ٹرکوں کے ساتھ وارد ہوا ہے اور سبھی پنڈت برادری کو جموں لے جا رہا ہے۔ وہ ہم سے کہہ رہے ہیں کہ اگلے چند روز کے اندر کوئی بڑا آپریشن ہونے والا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ہوائی بمباری بھی ہو۔‘‘ امرناتھ انکل بضد تھے کہ ہم بھی ان کے ساتھ منتقل ہو جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’میں نے اس سلسلے میں افسر سے بات کی ہے‘‘۔ جب میرے والد نے انکار کیا تو امرناتھ انکل نے میرا ہاتھ پکڑ کر میرے والد سے فریاد کی کہ ’اگر تمہیں مرنا ہی ہے، تو کم از کم اپنے بیٹے کو ہمارے ساتھ روانہ کردو‘ اسے تو زندہ رہنے دو‘۔ مگر میرے والد کے مسلسل انکار کے بعد وہ روتے ہوئے تاریکی میں گم ہو گئے۔ اگلے دن صبح یہ عقدہ کھلا کہ پوری پنڈت برادری کو ٹرکوں میں ساز وسامان کے ساتھ زبردستی بٹھا کر جموں کے پناہ گزیں کیمپوں میں منتقل کر دیا گیا ہے جہاں وہ ابھی تک مقیم تھے۔ جب یہ لوگ گئے تھے تو اگلی صبح پورے محلے کے لوگ رو رہے تھے کہ یہ لوگ کہاں چلے گئے۔ میں اپنے گھر کی حالت تو بتا بھی نہیں سکتا۔

وہ مزید بتاتے ہیں کہ امرناتھ انکل کے گھر سے ہمارے گھریلو رشتے تھے۔ میرے والد اور وہ ایک ہی ڈپارٹمنٹ میں ملازم تھے۔ میرے والد جب بھی دہلی آتے تھے تو سب سے پہلے ان کے گھر ادھم پور جاتے تھے، وہاں امرناتھ انکل کے گھر میں رکتے تھے۔ امرناتھ انکل کا بیٹا کرنال میں تھا۔ میرے والد ادھم پور سے اس سے ملنے پہلے کرنال جاتے اور اس کے گھر رکتے۔ اس کے بعد وہ دہلی میرے گھر آتے تھے۔ واپسی میں بھی میرے والد ان سے مل کر ہی گھر واپس ہوتے تھے۔

کشمیر میں پہلا قتل ایک مسلمان کا ہوا تھا

افتخار گیلانی کہتے ہیں کہ میں مانتا ہوں کہ عسکریت پسند تنظیموں کی وجہ سے کشمیری پنڈتوں کو دشواری تھی۔ لیکن عسکریت پسند تنظیموں کی اس انارکی کا شکار ہم لوگ بھی تھے۔ اس کا خمیازہ محض کشمیری پنڈتوں کو ہی نہیں بلکہ مقامی اکثریتی آبادی مسلمانوں کو بھی بھگتنا پڑا۔ کشمیر میں پہلا قتل ایک مسلمان کا ہی ہوا تھا۔ اس وقت کے تمام قتل سیاسی سطح کے تھے، اسے ’کمیونل کلنگ‘ نہیں کہا جا سکتا۔ میں اس قتل عام کا دفاع نہیں کر رہا ہوں۔ کسی کو بھی مارنا غلط ہے۔ لیکن کسی کو بھی مذہب کی بنیاد پر نہیں مارا گیا۔ اس زمانے میں جو کچھ بھی ہوا، وہ کہیں نہ کہیں ایک ’سیاسی کھیل‘ تھا۔

بی جے پی کو کتنی ہے کشمیری پنڈتوں کی فکر؟

افتخار گیلانی سوال کرتے ہیں کہ کشمیر سے پنڈتوں کی ہجرت کیوں ہوئی؟ کس کے اشارے پر کشمیر کی وادیوں سے اٹھاکر انہیں جموں بھیج دیا گیا؟ کیسے اتنی بڑی آبادی کو ہجرت کرنے پر مجبور کر دیا گیا؟ پران ناتھ جلالی کا قصہ یہ دنیا کے سامنے کیوں نہیں لاتے؟ پھر وہ آگے کہتے ہیں کہ کشمیر میں اس وقت کوئی بھی گاؤں ایسا نہیں تھا جہاں آرمی کا کیمپ نہ ہو۔ اس کے باوجود اگر ان کو بھاگنا پڑا یا انہیں ٹرکوں میں زبردستی بھر کر جمو ں لایا گیا تو کیا اسے ’ انتظامی ناکامی‘ نہیں کہا جائے گا؟ وہ مزید کہتے ہیں کہ اس وقت مرکز میں وی پی سنگھ کی حکومت تھی، بی جے پی اس حکومت کی حمایت کر رہی تھی۔ اگر بی جے پی کے لوگوں کو کشمیری پنڈتوں کو بچانے کی فکر ہے تو وہ 1990 میں کیوں خاموش تھی؟ اس وقت انہیں بچانے کے لیے بی جے پی کے لوگ آگے کیوں نہیں آئے؟ ان کی ہجرت کو روکنے کی کوشش کیوں نہیں کی؟ اس کے بعد بھی چھ سال بی جے پی کی حکومت رہی اور اب گزشتہ آٹھ سالوں سے ملک میں اسی کی حکومت ہے۔ اب بھی ان کو واپس کشمیر میں کیوں نہیں بسایا گیا؟ وہاں کے لوگ تو ان کا استقبال کے لیے تیار ہیں۔ دراصل یہ لوگ خود نہیں چاہتے کہ کشمیری پنڈت واپس کشمیر جائیں۔ اگر کشمیری پنڈت واپس کشمیر میں بس گئے تو ان کا مقصد اور ان کے نام پر چلنے والی پوری سیاست ختم ہو جائے گی۔ ان کو تو کشمیری پنڈتوں کو صرف اور صرف اپنے مقصدکے لیے استعمال کرنا ہے اور یہ استعمال ہو رہے ہیں۔

یہ پوچھنے پر کہ پران ناتھ جلالی کا کیا قصہ ہے؟ افتخار گیلانی بتاتے ہیں کہ شیخ عبداللہ نے بطور چیف ایڈمنسٹریٹر جب زمامِ کار سنبھالی تو پنڈت پران ناتھ جلالی کو کشمیری پنڈتوں کی بازآباد کاری کا کام سونپا گیا۔ پران ناتھ جلالی ہمیشہ ایک واقعہ سناتے تھے اور سناتے ہوئے رونے لگتے تھے۔ ان کو ایک دن اطلاع ملی کہ ہندواڑہ تحصیل کے کسی گاؤں میں کشمیری پنڈتوں کے کئی خاندان ہفتوں سے غائب ہیں۔ سرینگر سے روانہ ہوکر سوپور تھانے سے سپاہیوں کی کمک لے کر جب وہ اس گاؤں میں پہنچے تو معلوم ہوا کہ اطلاع صحیح تھی۔ گاؤں کے سرکردہ افراد کو بلا کر ان کا انٹروگیشن کیا گیا۔ گاؤں والوں نے کہا کہ پولیس نے ان کی سخت پٹائی کی، حتیٰ کہ ان کی خواتین وبچوں تک کو نہیں بخشا۔ سبھی گاؤں والے عذاب تو سہتے رہے اور یہی کہتے رہے کہ ان کو کچھ نہیں معلوم کہ یہ پنڈت خاندان کہاں چلے گئے ہیں۔ خیر جلالی صاحب کا کہنا تھا کہ ایک پنڈت کے خالی مکان میں انہوں نے اپنے سپاہیوں کے ساتھ ڈیرا ڈالا۔ ایک رات ایک سپاہی نے ان کو بتایا کہ رات دیر گئے گاؤں میں لوگوں کی کچھ غیر معمولی نقل وحرکت محسوس ہوئی تو پران ناتھ جلالی اور ان کے سپاہیوں نے ہوشیاری کے ساتھ ان کا پیچھا کیا۔ چند ایک میل چلنے کے بعد معلوم ہوا کہ نالے کے دوسری طرف ایک محفوظ لیکن تنگ گھاٹی میں کشمیری پنڈت خاندان چھپے ہوئے تھے اور گاؤں والے ہر رات ٹوکریوں میں بھر کر ان کو کھانا پہنچا رہے تھے۔ جلالی صاحب نے کہا کہ یہ منظر دیکھ کر ندامت سے میرے پاؤں زمین میں گڑ گئے۔ گزشتہ کئی روز سے ہم نے ان گاؤں والوں کو جس طرح ٹارچر کیا تھا، اس پر میں پشیمان ہو گیا۔ اِن اَن پڑھ دیہاتیوں نے ٹارچر اور گالیاں کھانا برداشت تو کیا مگر کیا بچے کیا خواتین کسی نے بھی پنڈتوں کے ٹھکانے کا راز افشا نہیں کیا‘۔ بعد میں گاؤں والوں نے جلالی کو بتایا کہ ان کو محسوس ہوا کہ سپاہیوں کے بھیس میں ہم لوگ پنڈتوں کو قتل کرنے اور لوٹ مار کی غرض سے آئے ہیں۔ اس لیے گاؤں والوں نے ان کی جان بچانے کے لیے انہیں گھاٹی میں چھپا دیا تھا۔

افتخار گیلانی کہتے ہیں کہ 1989 سے لے کر 1996 تک کشمیر میں ’گورنر رول‘ تھا۔ اس کے بعد کی حکومتیں بھی مرکزی حکومت کے ساتھ ہی تھیں۔ ان تیس برسوں میں 219 کشمیری پنڈت مارے گئے، ان کے ساتھ ہزاروں کی تعداد میں دیگر افراد بھی مارے گئے۔ اگر صرف 219 کشمیری پنڈتوں کی اموات کو ’نسل کشی‘ کہا جا رہا ہے تو باقی کے جو لوگ مارے گئے وہ کیا ہے؟ افتخار گیلانی مزید کہتے ہیں کہ جب لال کرشن اڈوانی ملک کے مرکزی وزیر داخلہ تھے تب جموں وکشمیر کے کئی علاقوں میں قتل عام ہوا۔ ان میں بھی پندرہ سو کے قریب غیر پنڈت ہندو مارے گئے تھے، اور اس سے کہیں زیادہ مسلمان۔ لیکن ان میں سے کسی نے ہجرت نہیں کی اور نہ ہی ان کے اوپر کوئی آنسو بہا رہا ہے۔

وہ مزید کہتے ہیں کہ کچھ لوگ یہ غلط بیانی کرتے ہیں کہ بی جے پی نے کشمیری پنڈتوں کی وجہ سے اس وقت وی پی سنگھ کی حکومت سے اپنی حمایت واپس لی تھی تھا۔ لیکن یہ بات پوری طرح سے جھوٹ ہے۔ دراصل بی جے پی نے اپنی حمایت منڈل کمیشن کی وجہ سے واپس لی تھی نہ کہ کشمیری پنڈتوں کی وجہ سے۔

میں صحافی ایک کشمیری پنڈت کی وجہ سے ہوں!

ایک طویل گفتگو میں افتخار گیلانی اپنی پرانے دنوں کی یاد میں کھو جاتے ہیں۔ ایک لمبی خاموشی کے بعد کہتے ہیں کہ میرے صحافت کے میدان میں آنے کی ایک وجہ بھی ایک کشمیری پنڈت دوست ہی ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ میں سوپور کے ایک کالج میں تھا۔ وہاں ہمارے ایک سینئر تھے ان کا نام تھا راجیش کرشن۔ ان کا گھر میرے گھر کے بالکل قریب تھا۔ انہی دنوں کشمیر یونیورسٹی میں ماس کمیونیکیشن کا ڈپارٹمنٹ شروع ہوا۔ راجیش کرشن نے اس ڈپارٹمنٹ میں داخلہ لے لیا۔ راجیش سوپور کے پہلے نوجوان تھے جن کا داخلہ ماس کمیونیکیشن میں ہوا تھا۔ اور پھر راجیش کشمیر یونیورسٹی کے ماس کمیونیکیشن شعبہ کے پہلے بیچ کے طالب علم بھی تھے۔ وہ سری نگر سے جب بھی سوپور آتے تھے تو میری حوصلہ افزائی اور رہنمائی کرتے تھے۔ میری تعلیم میں دلچسی کو دیکھتے ہوئے مجھے ماس کمیونیکیشن کرنے کا مشورہ دیتے تھے۔ انہی کی حوصلہ افزائی کے بعد میں نے ماس کمیونیکیشن میں داخلہ لینے کا فیصلہ کیا اور دہلی کے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ماس کمیونیکیشن میں داخلہ پانے میں کامیاب رہا۔

افتخار گیلانی کہتے ہیں کہ میرے اب بھی کئی کشمیری پنڈت دوست ہیں جو میرے ساتھ پڑھتے تھے، جب تک میں دہلی میں تھا عید کے دن میرے گھر آتے تھے۔ وہیں شیوراتری کے موقع پر ان کے گھر سے میرے لیے مچھلی کا سالن آتا تھا۔ شیوراتری کے موقع پر کشمیری پنڈتوں کے گھروں سے مچھلی کھانے کا مزہ ہی کچھ اور ہوتا ہے۔

***

 افتخار گیلانی سوال کرتے ہیں کہ کشمیر سے پنڈتوں کی ہجرت کیوں ہوئی؟ کس کے اشارے پر کشمیر کی وادیوں سے اٹھاکر انہیں جموں بھیج دیا گیا؟ کیسے اتنی بڑی آبادی کو ہجرت کرنے پر مجبور کر دیا گیا؟ پران ناتھ جلالی کا قصہ یہ دنیا کے سامنے کیوں نہیں لاتے؟ پھر وہ آگے کہتے ہیں کہ کشمیر میں اس وقت کوئی بھی گاؤں ایسا نہیں تھا جہاں آرمی کا کیمپ نہ ہو۔ اس کے باوجود اگر ان کو بھاگنا پڑا یا انہیں ٹرکوں میں زبردستی بھر کر جمو ں لایا گیا تو کیا اسے ’ انتظامی ناکامی‘ نہیں کہا جائے گا؟ وہ مزید کہتے ہیں کہ اس وقت مرکز میں وی پی سنگھ کی حکومت تھی، بی جے پی اس حکومت کی حمایت کر رہی تھی۔ اگر بی جے پی کے لوگوں کو کشمیری پنڈتوں کو بچانے کی فکر ہے تو وہ 1990 میں کیوں خاموش تھی؟ اس وقت انہیں بچانے کے لیے بی جے پی کے لوگ آگے کیوں نہیں آئے؟ ان کی ہجرت کو روکنے کی کوشش کیوں نہیں کی؟ اس کے بعد بھی چھ سال بی جے پی کی حکومت رہی اور اب گزشتہ آٹھ سالوں سے ملک میں اسی کی حکومت ہے۔ اب بھی ان کو واپس کشمیر میں کیوں نہیں بسایا گیا؟ وہاں کے لوگ تو ان کا استقبال کے لیے تیار ہیں۔ دراصل یہ لوگ خود نہیں چاہتے کہ کشمیری پنڈت واپس کشمیر جائیں۔ اگر کشمیری پنڈت واپس کشمیر میں بس گئے تو ان کا مقصد اور ان کے نام پر چلنے والی پوری سیاست ختم ہو جائے گی۔


ہفت روزہ دعوت، شمارہ  27 تا 02 اپریل  2022