غیر ارادی طور پر یا کسی کو مشتعل کرنے کے ارادے کے بغیر مذہب کی توہین کرنا دفعہ 295 اے کے تحت جرم نہیں: تریپورہ ہائی کورٹ

نئی دہلی، مارچ 8: تریپورہ ہائی کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ کسی بھی طبقے کے مذہبی جذبات کو مشتعل کرنے کے لiے جان بوجھ کر یا بدنیتی کے بغیر مذہب کی توہین کرنا تعزیرات ہند کی دفعہ 295 اے کے تحت جرم نہیں ہے۔

اس فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جو شخص بھی ’’جان بوجھ کر اور مذموم ارادے سے‘‘ تحریری یا تقریری کسی بھی طرح ہندوستان کے کسی بھی طبقے کے شہریوں کے مذہبی جذبات کو مشتعل کرنے، اس کی مذمت یا توہین کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اسے ایک معینہ مدت تک قید، جس میں تین سال تک توسیع ہوسکتی ہے، اور جرمانہ یا قید اور جرمانہ دونوں سزا دی جاسکتی ہے۔

چیف جسٹس عقیل قریشی کے سنگل جج بنچ نے 26 فروری کو یہ حکم دیا۔ یہ حکم ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ہندوستان میں تعزیرات ہند کی دفعہ 295 اے کے تحت متعدد مقدمات دائر کیے گئے ہیں۔

جسٹس قریشی نے یہ مشاہدات بھگود گیتا پر اپنے فیس بک پوسٹ کے ذریعہ ہندو برادری کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے الزام میں گرفتار دُلال گھوش کے خلاف دائر پہلی معلوماتی رپورٹ کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کیے۔

اس معاملے میں شکایت کنندہ نے دعویٰ کیا تھا کہ گھوش نے بنگالی میں مقدس مذہب متون کو ’’دھوکہ دہی‘‘ کہتے ہوئے ’’مکروہ‘‘ اور ’’توہین آمیز تبصرے‘‘ کیے تھے۔

اضافی سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اس طرح کے تبصروں سے ہندو برادری کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کی ’’واضح کوشش‘‘ کی جارہی ہے۔

تاہم گھوش نے عرض کیا کہ فیس بک پوسٹ کو شکایت کنندہ نے ’’جان بوجھ کر توڑا مروڑا اور غلط بیانی کے ساتھ پیش کیا۔‘‘

اس نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ اس کا کسی کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا اور شکایت کنندہ نے جھوٹا مقدمہ بنانے کے لیے درخواست گزار کے ذریعہ استعمال ہونے والی اصطلاح کے غلط معنی بیان کیے ہیں۔

عدالت نے گھوش کے ذریعے استعمال کردہ لفظ ’’ٹھک بازی‘‘ کے معنی معلوم کرنے کے لیے بنگالی لغت کی جانچ کی۔ عدالت نے کہا کہ اس لفظ کا مطلب ’’کچھ بھی ہوسکتا ہے لیکن وہ نہیں جو شکایت کنندہ نے بیان کیا ہے۔‘‘

اپنے حکم نامے می جج نے کہا ’’کسی طبقے کے مذہبی جذبات کو مشتعل کرنے کے ارادے یا بدنیتی کے بغیر مذہب کی توہین، مذکورہ سیکشن 295A کے اندر نہیں آئے گی … قانون واضح ہے۔ درخواست گزار اپنے ذاتی اعتقادات کو برقرار رکھ سکتا ہے اور قانون کے دائرہ کار میں رہ کر ان کا اظہار بھی کرسکتا ہے، جب تک کہ وہ اپنی تقریر اور اظہار رائے کی آزادی پر قانون کے ذریعہ عائد پابندیوں میں کسی کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔‘‘