حاصل مطالعہ

اساس دین کی تعمیر

تالیف: مولانا صدر الدین اصلاحیؒ
ڈاکٹر سیدمحی الدین علوی، حیدرآباد

دین کی اہم ترین بنیادیں
دین حق کی علمبرداری یعنی اس کی اطاعت اور اقامت کا نصب العین جس کے لیے امت مسلمہ برپا کی گئی ہے ایک طویل جدوجہد اور قربانیاں چاہتی ہے۔ اس کی بنیادیں اتنی گہری اور پختہ ہوں کہ آگے چل کر اس پر تعمیر ہونے والی عظیم الشان عمارت کا بوجھ پوری طرح سہار جائیں، ناقص تیاریوں سے دین حق کے پھیلاو اور غلبے کی جدوجہد کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی۔ سنت اللہ اب تک یہی رہی ہے اور کوئی وجہ نہیں کہ اب وہ ہمارے اور آپ کے لیے بدل جائے۔ دین کی بنیاد چار باتوں پر رکھی گئی اور قرون اولیٰ سے اسے پر عمل رہا۔
-1 اللہ پر ایمان
-۲ آخرت پر ایمان
-3 ذکر الٰہی (نماز)
-4 صبر
جس وقت اسلام کی دعوت انتہائی ناسازگار اور خطرناک دور سے گزر رہی تھی اور اس کے علمبردار سخت حالات سے دوچار تھے اس وقت داعیان حق کو ان حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے ہدایت فرمائی گئی۔ ’’اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو صبر اور نماز کے ذریعہ مدد حاصل کرو۔ یقیناً اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے‘‘۔
(البقرہ:۱۵۳)
دین میں ایمان باللہ کا مقام
ہم مسلمان ہونے کے باوجود اس بات کے ضرورت مند ہیں کہ ا پنے ایمان باللہ کی روح کو زندہ اور بیدار کریں کیونکہ ہم اس خوش گمانی میں مبتلا ہیں کہ ہمارے اندر ایمان اور اسلام پہلے سے بلکہ ہمیشہ کے لیے موجود ہے۔ اس غلط فہمی اور غلط اندیشی کی وجہ سے اس حقیقت سے بالکل اندھیرے میں ہیں جس کا قرآن ہم سے مطالبہ کرتا ہے۔ اس نام نہاد ایمان باللہ کو بھی جس سے ہر طاغوت کی دوستی ہے بلکہ بعض حالات میں اس کو ان کی حفاظت اور سرپرستی کا فخر حاصل ہے۔ یہ خوش گمانی بلکہ خود فریبی ایک وبا کی طرح ہر سمت پھیلی ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایمان کا دعویٰ اور خواہشات کی پرستش دنووں چیزیں ایک ساتھ جمع کرلینے میں کوئی زحمت محسوس نہیں کی جاتی۔ لہٰذا ضروری ہے کہ اس غلط فہمی کو پہلی فرصت میں نکال باہر کرنا چاہیے اور اپنے ایمان کی تطہیر اور ترقی کی طرف مائل ہونا چاہیے۔
-۱ بیداری ایمان کی عملی تدبیریں
سب سے پہلی اور بنیادی بات چیت کہ رسمی، موروثی اور تقلیدی ایمان کو شعوری ایمان سے بدلنے کی کوشش کی جائے۔ قرآن کی وہ آیتیں جن میں توحید رسالت اور آخرت پر دلیلیں دی گئی ہیں براہ راست ہماری فکری قوتوں کو بھی خطاب کرتی ہیں۔
-۲ صفات باری تعالیٰ کا تفصیلی علم
بیداری ایمان کے سلسلہ میں دوسری ضروری تدبیر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات کا تفصیلی علم ہو صفات الٰہی میں صفت توحید ایک خاص اہمیت رکھتی ہے۔ اس کے لوازمات کا گہری نظر سے جائزہ لیا جائے ۔
-۳ ذکر الٰہی
تیسری ضروری تدبیر اللہ تعالیٰ کی دائمی یاد ہے۔ سچے مومنوں کی قرآن میں تعریف ہی یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ یاد الٰہی سے غافل نہیں ہوتے اور وہ کھڑے بیٹھے اور لیٹے ہر حال میں اللہ کے ذکر میں مصروف رہتے ہیں۔
-۴ محبت الہیٰ
چوتھی چیز اللہ کی محبت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی محبت دل و جان سے ہوا اور ہر وقت اس کی رضا جوئی کے طالب ہوں۔
احادیث میں یہ حقیقت اور نمایاں کی گئی ہے مثلاً تم میں سے کوئی صحیح معنوں میں مومن نہیں ہوسکتا کہ جب تک کہ اسے اللہ اور رسول ہر شے سے زیادہ محبوب نہ ہوجائیں
(بخاری)
اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ انسان اس کے رسول کی پیروی کرے۔ رسول خدا کی پیروی کا دوسرا کام اللہ تعالیٰ کی مرضیات کی پیروی اور اس کے احکام کی خوش دلانا اطاعت ہے۔
’’اے نبی کہہ دو کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو اللہ تم سے محبت کرے گا‘‘ (البقرہ)
اللہ تعالیٰ سے محبت کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اس کے رسول کی اطاعت میں مرضیات الٰہی کا خوگر ہو اور اطاعت کے بغیر محبت کا کوئی تصور ہی نہیں کیا جاسکتا۔ کسوٹی یہ ہے کہ کتاب وسنت کا اتباع ہو۔

 

***

 


ہفت روزہ دعوت – شمارہ 25 فروری تا 2 مارچ 2024