ایران کے بارے میں امریکہ کی ترجیحات میں ایک نمایاں تبدیلی دکھائی دے رہی ہے۔ کل تک واشنگٹن کا مرکزی پیغام یہ تھا کہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے ہر قیمت پر روکا جائے گا لیکن اب ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ صدر ٹرمپ کی فوری ترجیح آبنائے ہرمز کھلوانا اور توانائی کی قیمتوں پر قابو پانا ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے اعلیٰ معاونین کے سامنے یہ خیال پیش کیا ہے کہ ایران اگر آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھول دے تو امریکہ کسی نئے جوہری معاہدے کے بغیر بھی موجودہ جنگ بندی برقرار رکھتے ہوئے ایران پر عائد بحری ناکہ بندی اٹھا سکتا ہے۔ اس طرح صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ ایک نئے جوہری معاہدے کے بغیر جنگ ختم کرکے اسے امریکی کامیابی قرار دینے کی راہ بھی ہموار کرسکتے ہیں۔ اس تبدیلی کی سب سے واضح تصدیق نائب صدر جے ڈی وانس کے حالیہ بیان سے ہوتی ہے۔ فاکس نیوز سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ امریکی انتظامیہ کی پہلی ترجیح امریکیوں کے لیے تیل اور پٹرول سستا رکھنا ہے جبکہ ایران کو جوہری طاقت بننے سے روکنا ’’نمبر دو‘‘ ہدف ہے۔
تیل نے ایٹم بم کو پیچھے چھوڑ دیا؟
یہ تبدیلی محض سفارتی حکمتِ عملی نہیں بلکہ اس کے پیچھے ایک طاقتور معاشی محرک بھی ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں سے ایک ہے۔ اس کی مسلسل بندش یا محدود آمدورفت عالمی تیل و گیس کی رسد کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ امریکہ کے اتحادیوں اور خود امریکی صارفین کے لیے بھی مہنگائی اور ایندھن کی قیمتوں کے مسائل پیدا کر رہی ہے۔ یوں کل تک واشنگٹن کا پیغام تھا ایران کو ایٹم بم نہیں بنانے دیں گے۔ اب ترجیح کچھ یوں دکھائی دیتی ہے: پہلے آبنائے ہرمز کھولو، جوہری تنازعہ بعد میں دیکھا جائے گا۔
تہران نے گیند واپس واشنگٹن کے کورٹ میں پھینک دی
دوسری طرف ایران آبنائے ہرمز کو محض ایک سمندری راستہ نہیں بلکہ اپنے ہاتھ میں موجود ایک بڑے تزویراتی مہرے کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ جب تک اپنا طرزِ عمل درست نہیں کرتا، آبنائے ہرمز نہیں کھولی جائے گی۔ کونسل کے سکریٹری اور پاسداران (IRGC) کے کمانڈر محمد باقر ذوالقدر نے ایک بیان میں کہا کہ تہران، امریکہ سے ایران کو دوبارہ دھمکی نہ دینے، جنگ ختم کرنے، ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی اٹھانے، خطے سے امریکی فوجی انخلا، جنگ میں ہونے والے نقصانات کا مکمل معاوضہ، تمام پابندیوں کا خاتمہ اور منجمد ایرانی اثاثوں کی غیر مشروط واپسی چاہتا ہے۔
ہرمز کا جھٹکا پاناما تک
آبنائے ہرمز کی بندش کا اثر صرف خلیج فارس تک محدود نہیں رہا۔ اس کے جھٹکے تقریباً 8 ہزار میل دور نہرِ پاناما (Panama Canal) تک پہنچ گئے ہیں۔ہرمز بند ہونے پر جب خلیج فارس سے ایشیا جانے والی تیل اور LPG کی ترسیل متاثر ہوئی تو ایشیائی خریداروں نے امریکہ سے توانائی خریدنا شروع کر دی۔ ٹیکساس (Texas) کی بندرگاہوں سے بحرالکاہل کے راستے ایشیا جانے والے جہازوں کے لیے نہر پاناما ایک اہم مختصر راستہ ہے۔ نتیجتاً کینال میں ترجیحی گزرگاہوں کی طلب بڑھی اور ان کے لیے ہونے والی نیلامی میں قیمتیں غیر معمولی سطح تک پہنچ گئیں۔ حالیہ دنوں ایک گیس سپر ٹینکر نے قطار سے پہلے گزرنے کے لیے ریکارڈ 46 لاکھ ڈالر  ادا کیے۔ یہ کینال فیس نہیں بلکہ ترجیحی گزرنے کی قیمت تھی۔ دوسری طرف پاناما کینال، پانی کی کمی اور محدود گنجائش کے مسائل سے دوچار ہے۔ یوں ہرمز کی بندش نے جہاں ایک سمندری راستے کو متاثر کیا، وہیں ہزاروں میل دور دوسرے راستے پر بھی  ’’ٹریفک جام‘‘ پیدا کر دیا ہے۔
امریکی میزائلوں کا ذخیرہ بھی دباؤ میں
خلیج فارس کی جنگ جہاں عالمی معاشی بحران کو جنم دے رہی ہے وہیں اس طویل جنگ نے امریکی فوجی طاقت کے ایک ایسے پہلو کو نمایاں کر دیا ہے جو واشنگٹں کے لیے زیادہ خوش کن نہیں ہے۔ طویل فاصلے کے میزائلوں اور فضائی دفاعی گولوں (Interceptor) کے ذخائر خطرناک حد تک سکڑنے کی خبریں آ رہی ہیں۔ رائٹرز کے مطابق THAAD اور Patriot جیسے دفاعی نظام کے ذخائر میں بھی نمایاں کمی کی باتیں ہو رہی ہیں۔
اب امریکی بحریہ بھی دباؤ میں دکھائی دے رہی ہے۔ طیارہ بردار جہاز ابراہام لنکن مسلسل ڈھائی سو دن سے سمندر میں ہے۔ اس کے بارے میں خوراک، پانی، مرمت اور اہلکاروں کی ذہنی صحت سے متعلق شکایات سامنے آنے پر سینیٹ کے ارکان نے وزیر جنگ اور وزیر بحریہ سے جواب طلب کرلیا ہے۔ امریکی ذرائع ابلاغ پر بعض اہلکاروں کے سمندر میں چھلانگ لگانے کی بھی خبر آئی جس کی امریکی بحریہ کی جانب سے فوری تردید آگئی ہے۔ لیکن ان خبروں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس حوالے سے تازہ ترین خبر یہ ہے کہ بحرالکاہل میں تعینات طیارہ بردار جہاز جارج واشنگٹن کو بحیرہ احمر کی طرف کوچ کا حکم دے دیا گیا ہے تاکہ ابراہام لنکن کے تھکے ہوئے عملے کو رخصت مل سکے۔ ایران کے خلاف جنگ میں واشنگٹن نے اپنی عسکری برتری ضرور دکھائی ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ طویل جنگ جاری رکھنے کی فوجی صلاحیت بھی رکھتا ہے؟
صدر کی حفاظت یا ’’decoy‘‘ طیارہ؟
اسی دوران نیٹو سربراہی اجلاس کے بعد انقرہ سے صدر ٹرمپ کی پراسرار روانگی نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق صدر ٹرمپ وطن واپسی کے لیے انقرہ سے اپنے Air Force One میں سوار ہوئے۔ امریکی وزیر خارجہ اور وزیر خزانہ کے علاوہ صدر ٹرمپ کے ساتھ ترکیہ آنے والے صحافی بھی جہاز پر موجود تھے۔ کچھ دیر بعد طیارے کے دوسرے حصے سے امریکی صدر کو ایئرپورٹ کیٹرنگ ٹرک کے ذریعے باہر نکالا گیا۔ ٹرک نے انہیں ایک دوسرے مقام پر کھڑے چھوٹے فوجی طیارے C-32A تک پہنچایا اور ٹرمپ اس میں سوار ہوکر خفیہ طور پر برطانیہ پہنچ گئے۔ جبکہ Air Force One بھی لندن کے سفر پر روانہ ہوگیا۔ دوسرے دن جناب ٹرمپ نے اس ’واردات‘ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب کچھ سیکیورٹی ماہرین کی سفارش پر کیا گیا۔ اس خبر پر جہاں ایرانیوں نے مذاق اڑایا وہیں امریکی سینیٹ میں حزب اختلاف کے قائد نے بھی تشویش کا اظہار کیا۔ سینٹر چک شومر نے سی آئی اے سے مطالبہ کیا ہے کہ ایران کی جانب سے صدر ٹرمپ کی جان کو لاحق خطرات اور ان خطرات کے ازالے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات سے امریکی قانون سازوں کو آگاہ کیا جائے۔ ناقدین کو اس بات بھی سخت تشویش ہے کہ خطرے سے آگاہی کے باجود اعلیٰ امریکی حکام کو موت کے منہ یعنی Decoy طیارے میں چھوڑ دیا گیا۔
اسرائیلی انٹیلی جنس پر خود امریکہ کو کتنا اعتماد ہے؟
گزشتہ ہفتے یہ کہانی اس وقت ایک نئے اور مزید سنگین موڑ پر پہنچ گئی جب واشنگٹن پوسٹ نے انکشاف کیا کہ ترکیہ میں صدر ٹرمپ کے طیارے کو ایران کی جانب سے نشانہ بنانے کی اطلاع اسرائیلی خفیہ ایجنسی نے فراہم کی تھی۔ تاہم امریکی سراغرساں اداروں کے حوالے سے واشنگٹن پوسٹ کا کہنا ہے کہ CIA کو اسرائیل سے ملنے والی انٹیلیجنس پر گہرے تحفظات تھے اور اس کے تجزیہ کاروں نے اسے اتنا قابلِ اعتماد نہیں سمجھا کہ اس سے کسی فوری ایرانی حملے کا نتیجہ اخذ کیا جاسکے۔ ایک سابق امریکی اہلکار کے مطابق بعض حکام کا خیال ہے کہ اسرائیلی ادارے امریکی صدر کو باور کرانا چاہتے ہیں کہ ایران صدر ٹرمپ کو قتل کرنے کی سازش کر رہا ہے تاکہ صدر ٹرمپ کو ایران کے خلاف سخت عسکری کاروائی کے لیے آمادہ کیا جا سکے۔امریکی ان اطلاعات کو ایسی معلومات بھی سمجھتے ہیں جو صدر کے فیصلوں کو متاثر کرنے کے لیے استعمال ہوسکتی ہیں۔
نیتن یاہو کا مذاق، یا انتخابی سیاست؟
اس تناظر میں نیتن یاہو کا بدلتی برطانوی سیاست پر اسے ’’اسلامی جمہوریہ برطانیہ‘‘ کہنا محض طنز سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اسرائیلی ریڈیو سے باتیں کرتے ہوئے اسرائیلی وزیر اعظم نے ازراہ مذاق کہا کہ اگر برطانیہ جوہری ہتھیار حاصل کرلے تو وہ ’’پہلی جوہری اسلامی جمہوریہ‘‘ ہوگا۔ ساتھ ہی فخر سے بولے کہ وہ اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ایران دوسری ایسی ریاست نہ بن سکے۔ مذاق اپنی جگہ مگر نیتن یاہو کی یہ بات ان کی دلی کیفیت، ایران کے جوہری پروگرام کے خوف کی ایک جھلک اور ان کی انتخابی مہم کا حصہ محسوس ہوتی ہے۔ اسرائیلی سیاست میں ایران کا خطرہ پہلے ہی ایک مؤثر سیاسی بیانیہ ہے اور انتخابات کے قریب اس بیانئے کی اہمیت مزید بڑھ سکتی ہے۔
ایران کے خلاف جنگ نے اب ایک عجیب تضاد پیدا کر دیا ہے۔ امریکہ نے فوجی اعتبار سے اپنی زبردست طاقت کا مظاہرہ کیا ہے لیکن اب اس کے میزائل ذخائر، بحریہ، مالی وسائل اور سیاسی گنجائش دباو میں نظر آ رہے ہیں۔ دوسری طرف ایران، جسے واشنگٹن کمزور اور مذاکرات کے لیے مجبور سمجھ رہا تھا آبنائے ہرمز کو انتہائی مؤثر معاشی اور تزویراتی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ واشنگٹن کے لیے ایران کو شکست دینے سے بڑی ترجیح اب یہ ہوچکی ہے کہ جنگ کو ایسی قیمت پر کیسے ختم کیا جائے جسے امریکی عوام فتح سمجھ سکیں؟