للن یادو نے کلن جوشی سے کہا یار یہ بتاو کہ کہیں تم نے اپنا جیوتشی والا دھندا پوری طرح بند تو نہیں کر دیا؟
کلن ہنس کر بولا بھیا یوں سمجھ لو کہ وہ طوطا ہی مرگیا جو ہمارے بھاگ کے پتے کھولتا تھا۔ اب ہماری تقدیر خود ہمارے ہاتھوں میں ہے۔
اوہو طوطا کیسے مرگیا؟ اس سے تو تمہیں بہت محبت تھی ؟
یار عجیب سوال کرتے ہو۔ کیا وہ لوگ اس جہانِ فانی کو داغِ مفارقت نہیں دیتے جن سے آپ کو محبت ہوتی ہے؟ محبت کسی کو مرنے سے نہیں روک سکتی۔
للن بولا لیکن پنڈت جی میں نے تو سنا تھا کہ موت اور محبت کا بڑا گہرا رشتہ ہے۔
ارے بھیا یہ صحیح ہے کہ پریم کی ہر امر کہانی میں عاشق کو معشوق موت کو گلے لگا لیتے ہیں مگر یہ صرف کہانیوں میں ہوتا ہے حقیقت میں نہیں۔
لیکن تم نے اپنے طوطے کی موت کے بارے کچھ نہیں بتایا۔ وہ مرا کیسے؟
ارے بھائی جیسے کوئی مرتا ہے ویسے ہی مرا ہوگا۔ میں نے اسے دانہ پانی دینا چھوڑ دیا تو وہ اڑ گیا اور مجھے یقین ہے کہ ابھی تک کہیں مر کھپ گیا ہوگا۔
للن نے کہا وہ بھی تمہارے بارے میں یہی سوچ رہا ہوگا مگر تم تو زندہ ہو؟
جی ہاں للن ہم زندہ تو ہیں مگر زندہ بدستِ مردہ سمجھ لو۔ میں تو سوچتا ہوں کہ میں بھی مر جاتا تو اچھا تھا۔
یار ایسی مایوسی کی باتیں کیوں کر رہے ہو؟ آج بیشتر صوبوں میں ہماری ڈبل انجن سرکار ہے۔ ہم لوگ وشو گرو بن چکے ہیں۔
یہی تو قلق ہے۔ جب ہمارے پاس اقتدار نہیں تھا تو مخالفین بھی ہماری ایمان داری کی قسمیں کھاتے تھے لیکن افسوس کہ وہ طوطا اڑگیا اور نہ جانے کہاں جا کر مرگیا۔
للن بولا یار مجھے تو لگتا ہے ہمیں اڈوانی کی بد دعا لگ گئی ہے۔ انہوں نے رام مندر کے لیے کیا نہیں کیا؟ اور ہم نے ۰۰۰۰۰۰
ہاں للن۔ ہم نے انہیں اور ان کے ساتھیوں کو دودھ میں سے مکھی کی طرح نکال کر پھینک دیا۔ اب سمجھ میں آ رہا ہے کہ ان پر کیا گزری ہوگی؟
یہ تو ان کی سمجھ میں بھی آ رہا ہوگا کہ جب ایک جھوٹ گھڑ کر انہوں بابری مسجد کو ڈھا دیا تو مسلمانوں پر کیا گزری ہوگی؟
ہاں بھائی یہ قدرت کا انتقام ہے۔ انہوں نے جو مسجد کے ساتھ کیا وہی مندر والوں نے ان کے ساتھ کر دیا۔ وہ انہیں اس کے پاس پھٹکنے بھی نہیں دیتے۔
لیکن ان کو روکتا کون ہے؟ وہ ہماری طرح درشن کے لیے کیوں نہیں جاتے وہاں؟
ارے بھائی ہم ان کی طرح نائب وزیر اعظم تھوڑی تھے۔ جس اقتدار کی خاطر مسجد گرائی گئی تھی جب وہی چھن گیا تو مندر میں کیوں جائیں؟
کیسی باتیں کرتے ہو کلن۔ فی الحال اتر پردیش اور مرکز میں اقتدار ہمارے پاس نہیں تو کس کے پاس ہے؟
بھائی اقتدار نہ اڈوانی، نہ جوشی، نہ اوما بھارتی اور نہ ونئے کٹیار کے پاس ہے۔ ان میں سے کسی کو رام مندر کی کسی تقریب میں بلایا تک نہیں گیا۔
ارے بھائی پردھان جی اور بھاگوت جی تو تھے نا وہی کافی ہیں۔
اچھا للن ایک بات بتاو جس وقت رام مندر کی تحریک چل رہی تھی یہ دونوں کہاں تھے؟
للن سر کھجا کر بولا یہ بھی کہیں رہے ہوں گے۔ نظر نہیں آئے تو کیا ہوا؟
تو اب بھی نظر نہ آئیں کیا فرق پڑتا ہے۔ ان لوگوں نے سب کو بھگا کر رام مندر کو اپنی اجارہ داری بنا ڈالا۔ اسی لیے ان سب کا دل ٹوٹ گیا۔
اچھا تو تمہیں کیا لگتا ہے؟ پپو یادو نے جب پارلیمنٹ میں چندہ چوری کا ناٹک کیا تو انہیں کیسا لگا ہوگا؟
مجھے تو لگتا خوشی ہوئی ہوگی۔ وہ سوچ رہے ہوں گے ’جیسے کو تیسا ملا بڑا مزہ آیا‘۔
جی ہاں مگر کسی نے وہ بات تو نہیں کہی پھر تم یہ کیسے کہہ سکتے ہو؟
دیکھو بھائی ونئے کٹیار نے تو چندہ چوری پر پہلے دن کھل کر کہا تھا مگر دباو ڈال کر اسے خاموش کر دیا گیا۔ دیگر لوگوں سے کسی نے پوچھا تک نہیں۔
کلن نے سوال کیا اچھا اگر پوچھا جاتا تو؟
تو وہ بھی اپنے من کی بات کہتے یا ڈر کے مارے خاموش رہتے مگر مرلی منوہر جوشی نے جنتر منتر کے نوجوانوں کی حمایت تو کر دی نا؟ وہی کرتے۔
یار کیا بتاوں اس چندہ چوری نے رام مندر سے ہندوؤں کی آستھا پر بہت بڑی چوٹ کر دی ہے۔
یہ نہیں ہوسکتا۔ سنا تنی ہندوؤں کا پیسہ اگر ہندوتوادی کھا جائیں تو اس میں کیا غلط ہے۔ کسی اور کو اس پر اعتراض کرنے کا کیا حق ہے؟
بھیا کوئی اور اعتراض کر ہی کہاں رہا ہے؟ پپو اور اکھلیش یادو مسلمان یا عیسائی تھوڑی ہیں؟
للن نے کہا ارے بھائی وہ جعلی ہندو ہیں اصلی ہندو ہمیشہ رام مندر اور ہم پر بھروسا کرتے رہیں گے کیا سمجھے؟
بھائی یہ تمہاری خوش فہمی ہے۔ ابھی تازہ اعداد و شمار کے مطابق ہندو زائرین کی تعداد پچھلے سال کی پہلی ششماہی کے مقابلے میں ستّر فیصد کم ہوگئی ہے۔
یہ کیسے پتہ چلا؟ مجھے تو لگتا ہے کہ تم دشمنوں کے پروپیگنڈے کا شکار ہوگئے ہو۔
جی نہیں پچھلے سال جہاں دو کروڈ اڑتیس لاکھ عقیدتمند آئے تھے اس کے مقابلے میں اس سال پہلے چھ ماہ میں صرف بہتر لاکھ سیاحوں کی آمد ہوئی ہے۔
للن نے سوال کیا اچھا تب تو اپنے دوستوں کی ہوٹلیں اور دوکانیں خالی پڑی ہوں گی ۔
اور نہیں تو کیا اور اب چندہ کم ہو جائے گا تو ہمارے دفتر کیسے بنیں گے؟ یو پی کے الیکشن میں جو پیسوں کی ضرورت ہے وہ کہاں سے آئے گا؟
یہ تو بہت غلط وقت میں گڑ بڑ ہوگئی۔ الیکشن کے بعد اکھلیش کے وزیر اعلیٰ ہوتے یہ راز کھلتا تو ہم کہہ دیتے کہ سناتن دھرم کو بدنام کرنے کی سازش ہے۔
ہاں بھیا لیکن یہ سارے راز تو یوگی کی ایس آئی ٹی کے ذریعہ کھل رہے ہیں۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ بولیں تو بولیں کیا اور کریں تو کریں کیا؟
اچھا اب سمجھ میں آیا کہ ہمارے سر سنگھ چالک موہن بھاگوت نے اچانک کینیڈا جانے کا منصوبہ کیوں بنالیا؟
کلن نے پوچھا، اچھا تو کیا وہ کینیڈا میں رام مندر بنوائیں گے؟
بن جائے تو اچھا ہے اور نہ بنے تب بھی وہاں کی گرو دکشنا ڈالر میں ہوگی یعنی سو روپے مل جائیں تو دس ہزار کے برابر۔ کیا سمجھے؟
کلن بولا لیکن پنڈت جی اس رنگ میں بھی بھنگ پڑگیا ہے۔
للن نے پوچھا وہ کیسے؟
ارے بھائی وہاں پر دو کینیڈین ارکانِ پارلیمنٹ نے موہن بھاگوت کے دورے کی مخالفت کرنے والوں کا ساتھ دے دیا۔
اچھا سمجھ گیا وہ بھی ظہران ہمدانی کی طرح ہندو مخالف مسلمان ہوں گے؟
جی نہیں بھیا آر ایس ایس پر پابندی کا مطالبہ کرنے والے ارکانِ پارلیمنٹ ہیدر میک فیرسن اور جینی عیسائی ہیں۔
اچھا مگر ان کو ہمارے سنگھ چالک سے کیا تکلیف ہے؟
وہ بھاگوت کی کینیڈا میں موجودگی کو مقامی شہریوں کے لیے خطرہ کہتے ہیں اور آر ایس ایس سمیت اس کے ارکان پر پابندی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
للن بولا یار سمجھ میں نہیں آتا ملک کے اندر پرینک کھرگے ہمارے پیچھے پڑا ہوا ہے اور باہر فیرسن اور جینی۔ اسی لیے میں کہہ رہا تھا ستاروں نکشتر دیکھو۔
بھیا یہ بتاو کہ اچانک موہن بھاگوت کو پہلی بار امریکہ، کینیڈا اور برطانیہ کا دورہ کرنے کی کیا سوجھی؟
بھائی مجھے تو لگتا ہے کہ موہن بھاگوت کو بھی پردھان جی کی مانند سیر سپاٹے کا مزہ لگ گیا ہے۔
نہیں بھائی وہ تو آر ایس ایس کے صد سالہ سالگرہ کے حوالے سے رابطہ پروگرام کے تحت جانے والے ہیں اب پتہ نہیں کہ ہوگا یا نہیں؟
لیکن ان انگریزوں کو ہماری حقیقت کا علم کیسے ہوگیا جبکہ بہت سارے ہندوستانی بھی اپنی لاعلمی کے سبب ہمیں بہت نیک اور شریف سمجھتے ہیں۔
بھیا یہ دونوں کینیڈین ارکانِ پارلیمنٹ نیو ڈیموکریٹک پارٹی کے رکن ہیں، جس کی قیادت حال ہی تک جگمیت سنگھ کر رہے تھے۔
تب تو اور بھی اچھی بات ہے کم از کم پردیس کی حد تک تو ہم ہندوستانی ایک دوسرے سے لڑنے کے بجائے خیال رکھتے ہیں۔
ارے بھیا ہم نے خود جگمیت کا لحاظ نہیں رکھا تو دوسروں سے اس کی توقع کیسے کی جائے؟
میں نہیں سمجھا۔ تم کہنا کیا چاہتے ہو؟ ہم اپنے ہی آدمی کو ویزا نہ دیں یہ کیوں کر ممکن ہے؟
بھائی 2013 میں 1984 کے مخالفِ سکھ فسادات اور خالصتانی سرگرمیوں سے وابستگی کی وجہ سے جگمیت کو ہندوستان کا ویزا نہیں دیا گیا۔ اب تم بولو۔
ارے بھیا اس وقت تو منموہن سنگھ کی حکومت تھی۔ اس میں ہماری کیا غلطی ہے؟
ہم لوگ اس غلطی کو سدھار سکتے تھے مگر ہم نے بھی تو ایسا نہیں کیا۔
لیکن دو ارکان پارلیمنٹ سے کیا ہوتا ہے۔ ہم لوگ تو ڈیڑھ سو کو نکال کر آئینی ترمیم کی منظوری لے لیتے ہیں۔
اوہو سمجھتے کیوں نہیں۔ ان ارکان کے ساتھ انسانی حقوق کی وکالت کرنے والی تنظیم جسٹس فار آل کینیڈا بھی موجود ہے۔
ارے بھائی ہمارے پردھان جی ایسی چھوٹی موٹی تنظیموں کو کب خاطر میں لاتے ہیں۔ وہ سب ٹھیک کر دیں گے۔
بھائی ان کے ساتھ 267 کینیڈین سول سوسائٹی تنظیموں، انسانی حقوق کے علم برداروں نے بھی وزیر اعظم کارنی اور دیگر وزرا کو احتجاجی خط لکھا ہے۔
اچھا تو ان سب کو کیا دقت ہے؟
بھائی وہ سب اپنی حکومت پر بھاگوت کی کینیڈا میں داخلے کی اہلیت کا جائزہ لےکر انہیں کینیڈا میں داخل ہونے سے روکنے پر زور دے رہے ہیں ۔
ارے بھائی یہ دنیا بھر کے سکھ عیسائی اور مسلمان آخر ہندوؤں کے خلاف کیوں ہوگئے ہیں؟
ان کا دعویٰ ہے کہ یہ مہم ہندو مت یا ہندو کینیڈینوں کے خلاف نہیں بلکہ آر ایس ایس اور ہندوتوا کی سیاست کے خلاف ہے۔
اچھا تو کیا وہ ہمیں ایک ثقافتی اور سماجی تنظیم کے طور پر تسلیم نہیں کرتے؟
جی نہیں۔ ہماری نظریاتی بنیادوں اور موجودہ طریقہ کار میں انہیں مذہبی اکثریت پسندی، اخراج اور اقلیتوں کے خلاف دشمنی نظر آتی ہے۔
یار یہ تو سچائی ہے مگر اس کو وہ لوگ اتنی اہمیت دیں گے اس کا اندازہ نہیں تھا۔ اس موقف نے تو بھرے بازار میں ہمارا پول کھول کر رکھ دیا۔
یار ایک بات بتاو پچھلے سال یعنی 2025 میں ہم نے اسکوئر پیٹن نامی لابنگ فرم کو جو 330,000 ڈالر دیے تھے کیا وہ سب مٹی میں مل گئے؟
ارے بھائی وہ تو امریکہ کے لیے تھے لیکن یہ قضیہ تو کینیڈا کا ہے۔ سمجھتے کیوں نہیں؟
تو کچھ روپیہ کینیڈا کے لیے بھی خرچ کر دیتے۔ کیا مسئلہ ہے؟
بھائی یہ معاملہ روپیہ پیسے سے حل نہیں ہوگا۔ جب تک منی پور اور گجرات ہوتا رہے گا۔ مساجد اور گرجا گھروں پر حملے ہوں گے مسئلہ باقی رہے گا۔
لیکن اس کے بغیر تو ہم اقتدار میں نہیں رہ سکیں گے۔ اس لیے کریں تو کریں کیا؟
بھائی ہم لوگ پھنس چکے ہیں۔ ہمارے ایک طرف رسوائی اور دوسری جانب اقتدار ہے ایک کو پکڑو تو دوسرا اپنے آپ چلا آتا ہے۔
اچھا یار یہ بتاو کہ امریکہ کے اندر تو بھاگوت جی کو کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی؟
بھائی وہاں بھی کچھ ٹھیک نہیں ہے کیونکہ امریکا کی بین الاقوامی مذہبی آزادی کے کمیشن نے بھی ہم پر پابندی لگانے کی سفارش کی ہے۔
وہ تو ٹھیک ہے مگر ٹرمپ کی پردھان جی سے دوستی کب کام آئے گی؟
ارے بھائی ٹرمپ تو پردھان جی کا دشمن بنا ہوا ہے۔ اس نے ہمارے شہریوں کو بیڑیاں ڈال کر بھیجا اور پاکستان سے جنگ رکوانے کا دعویٰ کرتا رہا۔
ہاں یار سمجھ میں نہیں آتا کہ پردھان جی اس کو سب مان لیتے پھر بھی وہ عاصم منیر کو وہائٹ ہاؤز میں بلا کر اپنے ساتھ کھانا کھلاتا ہے۔
جی ہاں ہمارے پردھان جی امریکہ کے بغل بچہ اسرائیل سے مل کر آئے مگر اس نے پاکستان کو ایران کے معاملے میں ثالث بنا دیا۔
جی ہاں میں بھی سوچ رہا تھا کہ برکس کی صدارت کے سبب یہ اعزاز ہمیں حاصل ہوگا مگر سب بے کار ہوگیا ۔
بھیا ٹرمپ کی برکس سے بڑی لڑائی ہے اس کے نزدیک برکس کا صدر ہونا خوبی نہیں عیب ہے۔
جی ہاں شاید اسی لیے اس نے پردھان جی کو جی-7 کے اجلاس میں فرشتہ نما قاتل تک کہہ دیا۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ چاہتا کیا ہے؟
وہ دراصل پردھان جی سے کملا ہیرس کی حمایت کا انتقام لینا چاہتا ہے۔ پردھان جی کو اس کی حمایت نہیں کرنی چاہیے تھی۔
بھیا اس وقت تو سب کو لگ رہا تھا کہ ٹرمپ ہار جائے گا اسی لیے پردھان جی نے ہندوستانی نژاد کملا کی حمایت کی تھی۔
پردھان جی کو معلوم ہونا چاہیے تھا کہ امریکی رائے دہندگان نہ تو ماضی میں کسی عورت کو سربراہ مملکت بنایا اور نہ آگے بنائیں گے۔
اچھا بھیا ٹرمپ کو چھوڑو اور یہ بتاو کہ ان سو سالوں میں ہم نے 2,831 ذیلی تنظیمیں بنائیں اور انہیں 40 سے زیادہ ممالک میں پھیلا دیا تو کیا فائدہ ہوا؟
صحیح بات ہے۔ دیکھو ہم نے امریکہ میں ہندو سویم سیوک سنگھ بناکر 33 صوبوں میں 1,600 شاکھائیں قائم کیں مگر وہ ہمارے کسی کام نہیں آئیں ۔
یار کیا بتاوں ہم نے امریکی انتخابات کو متاثر کرنے کے لیے 2012 سے2020 تک 172,000 ڈالر خرچ کیے وہ بھی ڈوب گئے۔
بھیا سچ بتاؤں مجھے تو لگتا ہے ہمارے ستارے گردش میں آچکے ہیں اس لیے کوئی ہوون شوون کرنا چاہیے۔
بھیا امریکا میں ہوون نہیں چلتا۔ ٹرمپ کے لیے جب کیا گیا تو وہ ہار گیا اور نہیں کیا گیا تو وہ جیت گیا ۔
ہاں، یار ہم لوگوں نے تو نیتن یاہو کی جیت کے لیے بھی ہوون کیا تھا مگر ایران نے مار مار کر اس کا بھرکس نکال دیا۔
بھائی مجھے تو لگتا ہے اب نیتن یاہو والی ذلت و رسوائی ہمارا مقدر بن چکی ہے اور ہم اس سے کبھی نہیں نکل سکیں گے۔
مجھے بھی یہی لگتا ہے۔ بھگوان بھلا کرے۔میرے خیال میں تو سر سنگھ چالک کو باہر جانے کے بجائے ملک کے اندر ہی توجہ دینی چاہیے ۔
جی مجھے بھی یہی لگتا ہے۔ چلو چلتے ہیں۔