چودہ سالہ پینترا بوشیما امین سے اس کے ایک مسلمان دوست نے اسلام کے بارے میں گفتگو کی اور محض ایک سال کے اندر ہی اس نے اسلام قبول کر لیا، بعد ازاں صرف پانچ ماہ میں قرآن حفظ کیا، قومی مسابقے میں پہلی پوزیشن حاصل کی اور مکہ مکرمہ میں اپنے ملک برونڈی کی نمائندگی کرنے پہنچ گیا۔ مگر اس غیر معمولی سفر کے آغاز میں صرف دو دوست اور اسلام کے بارے میں ایک سادہ سی گفتگو تھی۔
مکہ مکرمہ میں دنیا کے مختلف حصوں سے قرآن کے حفاظ و قراء جمع تھے۔ زبانیں الگ تھیں، ملک الگ تھے، تہذیبی پس منظر الگ تھے لیکن سب کو جس کتاب نے جمع کیا تھا وہ قرآن مجی تھی۔یہ 46واں شاہ عبدالعزیز بین الاقوامی مسابقہ حفظ، تلاوت و تفسیر قرآن کریم تھا۔ 133 ممالک کے 334 شرکاء اس عالمی مسابقے میں شریک تھے۔ انہی میں افریقہ کے ایک چھوٹے سے ملک برونڈی کا ایک نوجوان پینترا بوشیما امین بھی تھا۔ وہ اپنے ملک کی نمائندگی کے لیے مکہ پہنچا تھا۔ سیکڑوں حفاظ کے درمیان بظاہر وہ بھی ایک عام شریک تھا لیکن اس نام اور اس ملک کے پیچھے ایک ایسی کہانی تھی جو اس مسابقے میں اس کی شرکت سے کہیں پہلے شروع ہوئی تھی۔اور حیرت انگیز بات یہ تھی کہ صرف ایک سال پہلے تک پینترا کا اسلام کے ساتھ یہ سفر شروع بھی نہیں ہوا تھا۔
آغاز ایک دوست سے ہوا
پینترا کی عمر صرف چودہ سال تھی جب اس کے ایک مسلمان دوست نے اس سے اسلام کے بارے میں گفتگو کی تھی۔ اس واقعے کی دستیاب تفصیلات بہت مختصر ہیں۔ ہمیں اس مسلمان دوست کا نام معلوم نہیں اور یہ بھی معلوم نہیں کہ دونوں کے درمیان پہلی گفتگو کہاں ہوئی، کتنی دیر ہوئی اور پینترا نے پہلا سوال کیا پوچھا تھا۔ جو کچھ معلوم ہے، وہ شاید اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔ ایک مسلمان نے اپنے غیر مسلم دوست سے اپنے دین کے بارے میں بات کی۔ پینٹرا کے مطابق اس دوست نے اسے اسلام کے عقیدہ توحید، اس کی تعلیمات، اخلاقی قدروں اور اصولوں سے متعارف کروایا۔ پینترا نے بات سنی۔ اسلام کو مزید جاننے کی کوشش کی اور بالآخر اپنی مرضی اور شعور کے ساتھ اسلام قبول کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہاں سے اس کی زندگی نے ایک نیا رخ اختیار کیا۔ اس تبدیلی کا اثر اس کے گھر تک بھی پہنچا۔ بعد میں اس کے خاندان کے چار افراد نے بھی اسلام قبول کیا، جن میں اس کے والدین اور بہن شامل تھی۔ دو دوستوں کے درمیان شروع ہونے والی ایک گفتگو اب ایک خاندان کی زندگی کا حصہ بن چکی تھی۔لیکن پینترا کا سفر ابھی تو شروع ہوا تھا۔ پھر قرآن اس کی زندگی میں آیا جس میں اسلام قبول کرنے والے اس نوجوان کے لیے سیکھنے کو بہت کچھ تھا۔ نماز، عبادات، اسلامی آداب اور دین کی بنیادی تعلیمات—سب کچھ اس کے لیے نیا تھا۔
مگر پینٹرا نے ایک بڑا فیصلہ کیا اور اس نے قرآن مجید حفظ کرنے کا ارادہ کیا۔ حفظِ قرآن محض الفاظ یاد کرنے کا نام نہیں ہے۔ ایک ایک آیت، ایک ایک صفحہ یاد کرنا، اسے درست طور پر دہرانا اور پھر مسلسل دہرانے کے ذریعے اسے محفوظ رکھنا پڑتا ہے۔ یہ سفر عموماً برسوں پر مشتمل ہوتا ہے مگر پینترا نے اسے صرف پانچ ماہ میں مکمل کر لیا۔ چند ماہ پہلے اسلام سے آشنا ہونے والا چودہ سالہ نوجوان اب پورا قرآن اپنے سینے میں محفوظ کرچکا تھا۔ حفظ مکمل ہونے کے بعد بھی اس نے مراجعت جاری رکھی اور اپنے حفظ کو مضبوط کرتا رہا۔ جلد ہی اس محنت کا ایک بڑا امتحان سامنے آگیا۔
پانچ سو شرکاء اور پہلی پوزیشن
برونڈی میں قرآن مجید کا قومی مسابقہ منعقد ہوا۔ تقریباً پانچ سو شرکاء اس میں شریک ہوئے۔ پینترا بھی ان میں شامل تھا۔ان میں بہت سے ایسے حفاظ رہے ہوں گے جن کا قرآن کے ساتھ تعلق برسوں پرانا تھا۔ پینترا کے لیے اسلام اور حفظِ قرآن، دونوں کا سفر ابھی نیا تھا۔ لیکن جب نتائج کا اعلان ہوا تو پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے کا نام تھا پینترا بوشیما امین۔ یہ کامیابی صرف ایک انعام نہیں تھی بلکہ اس نے پینترا کے لیے ترقی کا ایک نیا دروازہ کھول دیا۔ چنانچہ اسے مکہ مکرمہ میں منعقد ہونے والے شاہ عبدالعزیز بین الاقوامی مسابقۂ قرآن میں برونڈی کی نمائندگی کے لیے منتخب کرلیا گیا۔ ایک سال پہلے جو نوجوان اپنے دوست سے اسلام کے بارے میں سن رہا تھا، اب اس شہر کی طرف سفر کر رہا تھا جس کی طرف دنیا بھر کے مسلمان ہر روز نماز میں رخ کرتے ہیں۔
برونڈی سے مکہ
اور اب کہانی دوبارہ وہاں پہنچتی ہے جہاں سے ہم نے اسے شروع کیا تھا۔ مکہ مکرمہ۔ 133ممالک کے شرکاء۔ قرآن کے عالمی مسابقے کا ماحول اور ان کے درمیان برونڈی کا ایک نومسلم نوجوان۔ اعداد بڑے ہی حیرت انگیز ہیں۔ عمر: 14 سال۔حفظِ قرآن: پانچ ماہ۔ برونڈی کا قومی مسابقہ: تقریباً 500شرکاء۔ نتیجہ: پہلی پوزیشن۔ مکہ کا عالمی مسابقہ: 133 ممالک۔
لیکن اعداد اس کیفیت کو بیان نہیں کر سکتے کہ ایک ایسے نوجوان کے لیے مکہ پہنچنا کیا معنی رکھتا ہوگا جس کا اسلام کے ساتھ سفر محض ایک سال پہلے ہی شروع ہوا تھا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پینترا نے خود اپنے مسلمان دوست کا ذکر کیا جس نے اسے اسلام سے متعارف کرایا تھا۔ اس نے قرآن حفظ کرنے کے اپنے سفر کے بارے میں بتایا اور مکہ پہنچنے اور عالمی مسابقے میں شرکت کا موقع ملنے پر خوشی اور تشکر کا اظہار کیا۔
تقریباً ایک سال۔
اتنا ہی عرصہ تھا اس پہلی گفتگو اور مکہ تک پہنچنے کے درمیان۔ اس تصویر میں ایک شخص نہیں ہے بلکہ اس کہانی میں ایک اور کردار بھی ہے۔ مکہ کی تصاویر میں شاید وہ کہیں دکھائی نہیں دیتا۔مسابقے کے شرکاء کی فہرست میں بھی اس کا نام نہیں ہے۔ اس نے برونڈی کے قومی مسابقے میں پہلی پوزیشن حاصل نہیں کی۔ اس نے پانچ ماہ میں قرآن بھی حفظ نہیں کیا اور شاید دنیا کبھی اس کا نام بھی نہ جان پائے۔ وہ پینترا کا مسلمان دوست ہے۔ اس نے صرف اپنے ایک چودہ سالہ دوست سے اسلام کے بارے میں گفتگو کی تھی۔ اس وقت اسے کیا معلوم تھا کہ آگے کیا ہونے والا ہے؟ وہ نہیں جانتا تھا کہ نہ صرف پینترا اسلام قبول کرے گا بلکہ اس کے گھر کے دوسرے افراد بھی اسلام کو اختیار کریں گے۔ وہ یہ بھی نہیں جانتا تھا کہ اس کا دوست محض پانچ ماہ میں پورا قرآن حفظ کر لے گا۔ اور یقیناً اس پہلی گفتگو کے وقت اس نے یہ تصور بھی نہیں کیا ہوگا کہ صرف ایک سال بعد یہی دوست مکہ مکرمہ میں منعقد ہونے والے عالمی مسابقہ قرآن میں برونڈی کی نمائندگی کر رہا ہوگا۔
یہیں پینترا کی کہانی ہم سب کے لیے ایک سوال چھوڑتی ہے۔
ہمارے ارد گرد کتنے پینترا ہوں گے؟ہندوستان جیسے کثیر مذہبی اور کثیر تہذیبی معاشرے میں ہم روزانہ مختلف مذاہب کے لوگوں کے ساتھ رہتے ہیں۔ ہمارا پڑوسی، دفتر کا ساتھی، کالج کا دوست، کاروباری شریک، سفر کا ساتھی، استاد، طالب علم—زندگی ہمیں روز ایسے لوگوں سے ملاتی ہے جو مسلمان نہیں ہیں۔ ہم ان سے سیاست پر بات کرتے ہیں۔ مہنگائی پر گفتگو کرتے ہیں۔ کرکٹ پر بحث کرتے ہیں۔ بچوں کی تعلیم، ملازمت، کاروبار، بیماری، موسم، انتخابات—نہ جانے کتنے موضوعات ہماری گفتگو کا حصہ بنتے ہیں۔لیکن ایک سوال ہم خود سے پوچھ سکتے ہیں کہ کیا کبھی ہم نے اپنے کسی غیر مسلم دوست سے اسلام کے بارے میں بھی اسی سادگی اور اپنائیت سے بات کی ہے؟
اسے قائل کرنے کے لیے نہیں۔ بحث جیتنے کے لیے نہیں۔ اسے مسلمان بنانے کی ذمہ داری اپنے سر لینے کے لیے بھی نہیں۔ صرف اس لیے کہ وہ جان سکے کہ اس کا مسلمان دوست کس بات پر ایمان رکھتا ہے۔ اسلام اللہ، انسان، زندگی، اخلاق، انصاف، رحم اور آخرت کے بارے میں کیا کہتا ہے۔ یہ بات کسی اسٹیج کی محتاج نہیں ہے۔ اس کے لیے ضروری نہیں کہ ہمارے ہاتھ میں مائیکروفون ہو، سامنے مجمع ہو یا ہم بڑے مقرر ہوں۔ کبھی یہ کام دو دوستوں کے درمیان چائے کی ایک پیالی پر بھی ہو سکتا ہے۔ اور شاید یہی پینترا کی کہانی کا سب سے اہم سبق ہے۔ ہمارا کام صرف پہنچا دینا ہے ہدایت دینا ہمارے ہاتھ میں نہیں بلکہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ کسی کے دل کو بدل دینا ہماری ذمہ داری نہیں۔ ہم کسی انسان کے فیصلے کے مالک بھی نہیں ہیں۔ قرآن نے رسول اللہ ﷺ سے بھی صاف کہا: اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَآءُ ’’تم جسے چاہو ہدایت نہیں دے سکتے، بلکہ اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔‘‘
مسلمان کی ذمہ داری اس سے پہلے کی ہے یعنی پیغام پہنچانا۔ اپنے کردار سے اسلام کا تعارف کرانا۔ پوچھے جانے پر جواب دینا۔ موقع ملے تو اپنے ایمان کی بات کرنا۔اور پھر دوسرے انسان کی آزادی، اس کے ضمیر اور اس کے فیصلے کا احترام کرنا۔پینٹرا کے دوست نے شاید یہی کیا تھا۔اس نے اپنے دوست سے اپنے دین کی بات کی تھی۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ اس کے اختیار میں نہیں تھا۔
ایک سال بعد
کہانی کے دونوں سروں کو ایک ساتھ رکھیں تو ان کے درمیان کا فاصلہ حیران کرتا ہے۔ ایک طرف برونڈی میں ایک چودہ سالہ نوجوان اپنے مسلمان دوست سے اسلام کے بارے میں سن رہا ہے۔ دوسری طرف وہی نوجوان مکہ مکرمہ میں کھڑا ہے، پورا قرآن اس کے سینے میں محفوظ ہے اور اس کے نام کے ساتھ اس کے ملک برونڈی کا نام ہے۔
ان دونوں تصویروں کے درمیان ایمان کا ایک ذاتی فیصلہ ہے، پانچ ماہ کی غیر معمولی محنت ہے، ایک خاندان کے فیصلے ہیں، تقریباً پانچ سو حفاظ کا مسابقہ ہے اور وہ پہلی پوزیشن پر ہے۔ لیکن شاید اس پوری کہانی کا سب سے اہم لمحہ پھر بھی وہی سب سے چھوٹا لمحہ ہے۔ ایک دوست نے دوسرے دوست سے اپنے ایمان کی بات کی۔ دونوں میں سے کسی کو معلوم نہیں تھا کہ وہ گفتگو کہاں تک جائے گی۔ ایک سال بعد وہ گفتگو مکہ تک پہنچ چکی تھی۔ کچھ سفر ٹکٹ اور نقشے سے شروع ہوتے ہیں اور کچھ سفر ایک گفتگو سے۔ہمیں نہیں معلوم کہ اخلاص سے کہی گئی ہماری ایک بات کتنی دور تک جائے گی۔ کیا ہم پینترا کے دوست کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں؟