رام مندر چندہ چوری معاملے میں چمپت رائے کی ٹیم بنی وعدہ معاف گواہ، فیض آباد بار کونسل کا چارج سیٹ پر اعتراض
مدھیہ پردیش میں اساتذہ کا احتجاجی دھرنا، نئی بحالیاں کرنے کے ساتھ پرانا پنشن بحال کرنے کا مطالبہ
جامع مسجد کے باہر ہندو ماں کی بیٹی کے علاج کے لیے فریاد، چھ کروڑ روپے سے زائد چندہ ہوا جمع
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف انگریزی اخبار انڈین ایکسپریس کے سنسنی خیز انکشافات نے پورے شمالی بھارت میں تہلکہ مچا دیا ہے۔ اپوزیشن پارٹیاں گیانیش کمار کو برطرف کر کے جیل بھیجنے اور ایس آئی آر کو فریز کرنے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ کاکروچ جنتا پارٹی نے جمہوریت کی بحالی کے لیے الیکشن کمیشن کے خلاف دو اکتوبر گاندھی جینتی سے ملک گیر احتجاجی مہم چھیڑنے کا اعلان کر دیا ہے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کا یو پی دورہ بھی رد ہو گیا ہے۔ وہ 25؍ ستمبر کو میرٹھ اور 28 کو وارانسی میں جین زی سے مکالمہ کرنے والے تھے لیکن بدلے ہوئے حالات میں وہ جین زی کی نشانے پر آگئے ہیں۔ آسا کی صدر نیہا وورا نے ان کے خلاف جنتر منتر پر احتجاجی دھرنے کی اپیل کی تھی لیکن دلی پولیس اور نیم فوجی دستوں نے انہیں جنتر منتر پہنچنے سے پہلے ہی حراست میں لے لیا۔ نیہا وورہ کے ساتھ یوگندر یادو، پرشانت بھوشن، انجلی بھردواج و دیگر سماجی کارکنوں کو بھی احتجاج کرنے کی اجازت نہیں مل سکی۔ جنتر منتر کے آس پاس حکم امتناعی کے تحت دفعہ 163 نافذ کر دی گئی ہے۔ جنتر منتر پر دلی پولیس کے ساتھ آر اے ایف اور بی ایس ایف کو تعینات کر دیا گیا ہے۔ مرکز حکومت پوری طرح سے مستعد ہے۔گیانیش کمار کو بچانے کے لیے حکومت کے ساتھ بی جے پی کے تمام ترجمان سرگرم ہو گئے ہیں۔ پارٹی ترجمان سمبت پاترا نے گنیش کمار پر اٹھنے والے سوالات کا جواب دینے کے بجائے تینوں الیکشن کمیشنوں کے درمیان اختلاف رائے کو جمہوری عمل کا حصہ بتایا ہے۔ سماجی جہدکار یوگیندر یادو نے حکومت کو انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ آپ پارلیمنٹ میں گیانیش کے خلاف مواخذے کی کارروائی روک سکتے ہیں لیکن اب ہر شہر اور چوراہے پر کمیشن کا مواخذہ کیا جائے گا۔ آر ٹی آئی کارکن انجلی بھاردواج نے کہا ہے کہ ایس آئی آر کے دوران پورے ملک میں اب تک تیرہ کروڑ سے زیادہ ووٹ کاٹے جا چکے ہیں لیکن ایک آر ٹی آئی میں جواب ملا ہے کہ الیکشن کمیشن نے ایس آئی آر کا فیصلہ نہیں لیا اور اس فیصلے کا کوئی ریکارڈ کمیشن کے پاس نہیں ہے تو ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ آخر ایس آئی آر کرانے کا فیصلہ کس نے کیا؟ کیا وزارت داخلہ نے یا پی ایم او نے یہ فیصلہ کیا تھا؟
ووٹ کاٹنے اور جوڑنے کا حق کس کے پاس ہے اور کون ہے سیما کھنہ؟ الیکشن کمیشن کے ضابطے کے مطابق ووٹر لسٹ میں نام جوڑنے یا کاٹنے کا بنیادی اختیار ای آر اوز کے پاس ہوتا ہے لیکن کمیشن کے نئے نظام میں ای آر او نیٹ کو ای سی آئی نیٹ سے بدل دیا گیا ہے جس سے ڈیجیٹل ووٹ کے تمام اختیارات آئی ٹی شعبہ میں مرکوز ہو گئے ہیں اور اسی شعبہ کی ڈائریکٹر جنرل ہیں سیما کھنہ۔ انڈین ایکسپریس کی رپورٹر ریتیکا چوپڑا کے مطابق کمیشن کے دونوں کمشنروں ڈاکٹر سندھو اور جوشی نے اسی معاملے میں مرکزی کابینہ سیکرٹری کو خط لکھا کہ ان کے علم میں لائے بغیر یہ فیصلہ کیا گیا جو کہ غیر قانونی ہے۔ اس فیصلے سے سیما کھنہ سب سے زیادہ پاورفل ہو گئی اور انہوں نے گینش کمار کی ہدایت پر سرکار کی پسند کے نام ووٹر فہرستوں میں باقی رکھنے اور دیگر کو ہٹانے کی مہم شروع کر دی ہے۔ ممتا ترنمول کانگریس لیڈر ابھشیک بنرجی نے مغربی بنگال الیکشن کے دوران ہی سیما کھنہ کے کھیل کو پکڑ لیا تھا۔ 17؍ دسمبر 2025 کو انہوں نے پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ سیما کھنہ نے سیکرٹ سافٹ ویئر سے بنگال میں 92 لاکھ ووٹ کاٹے ہیں۔ انڈین ایکسپریس کے انکشافات سے ان کے دعوے کی تصدیق ہوتی ہے۔ گوا کے 97 ووٹروں کے نام شامل نہ کیے جانے کے معاملے سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ ووٹ بنانے یا کاٹنے کا اختیار کاغذی طور پر تو ای آر اوز کے پاس ہے لیکن عملی طور پر ای سی آئی نیٹ کی ڈائریکٹر کی مرضی کے بغیر یہ کام نہیں ہو سکتا جس پر سوالات اٹھنے لازمی ہیں۔ فارم-6 میں اضافی سوال جوڑنے پر بھی اعتراضات اٹھ رہے ہیں اپوزیشن کے علاوہ این ڈی اے کی حلیف جماعتیں لوک جن شکتی پارٹی اور آر ایل ڈی بھی الیکشن کمیشن سے وضاحت پیش کرنے کا مطالبہ کر رہی ہیں جس پر الیکشن کمیشن کو ایک ہنگامی میٹنگ بلا کر مشترکہ بیان جاری کرنا پڑا جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ایس آئی آر سے جڑے سبھی معاملوں میں تینوں کمشنروں کی اتفاق رائے سے اور قانون کے مطابق فیصلے لیے گئے ہیں لیکن ان کی اس بات پر کوئی بھی یقین کرنے کو تیار نہیں ہے۔
نوئیڈا کی ڈی ایم میدھا روپم پر سپریم کورٹ کی مہربانی کیوں ہے؟ وقت جب بدلتا ہے تو اچھے اچھوں کی ہوا اکھڑ جاتی ہے لیکن الیکشن کمشنر گیانیش کمار کتنے طاقتور ہو چکے ہیں اس کا اندازہ ان کی بیٹی اور گوتم بدھ نگر (نوئیڈا) کی ڈی ایم میدھا روپم کے کیس سے لگایا جا سکتا ہے۔ الٰہ آباد ہائی کورٹ نے نوئیڈا مزدور احتجاج کیس کی پیروکار آکرتی چودھری پر این ایس اے لگانے کے معاملے میں میدھا روپم پر پانچ لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا تھا جسے سپریم کورٹ نے معاف کر دیا ہے۔ سپریم کورٹ کی میدھا روپم پر اس مہربانی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ تجربہ کار صحافی پرشانت ٹنڈن اپنی ایکس پوسٹ میں لکھتے ہیں "سپریم سنڈیکیٹ کیسے کام کرتا ہے؟ جسٹس ستیش چند مشرا جن کی کورٹ میں چیف جسٹس سوریہ کانت نے گینش کمار کی بیٹی میدھا روپم کا کیس بنچ بدل کر لگایا اور جیسا کہ امید تھی کہ میدھا روپم پر لگایا گیا پانچ لاکھ روپے کا جرمانہ معاف ہو گیا کیونکہ جسٹس ستیش شرما کا بیٹا مدھیہ پردیش میں الیکشن کمیشن کا اسٹینڈنگ کونسل ہے اور اسی دن جسٹس شرما نے الیکشن کمشنروں کی تقرری کا معاملہ بڑی بنچ کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ یعنی جمہوریت، انصاف، اقدار اور مفادات کے ٹکراؤ کا معاملہ ایک جھٹکے میں باؤنڈری لائن سے باہر کر دیا گیا ہے۔ اس معاملے میں لائیو لا کی ایک رپورٹ کے مطابق جسٹس شرما نے کیمرے کی آواز بند کرکے میدھا روپم کے کیس کا فیصلہ کیا جس سے یہ معاملہ مزید مشکوک ہو گیا ہے۔ پرشانت بھوشن سے لے کر کپل سبل تک بڑے بڑے ماہرین قانون سپریم کورٹ کی اس رویے پر سوال اٹھا رہے ہیں کہ آخر جسٹس ستیس شرما کو کیمرہ کی آواز بند کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
تو صاحبو! یہ تھا شمال کا حال۔ آئندہ ہفتے پھر ملیں گے کچھ تازہ اور دلچسپ احوال کے ساتھ۔ تب تک کے لیے اللہ اللہ خیر سلا۔