بچوں کی کلکاریاں، کھیلوں کا جوش، ذہنوں کو مہمیز دینے والے مقابلے اور اسلامی تعلیمات کی روشنی—چراغ فیسٹیول 2026 میں یہ سب رنگ ایک ساتھ اس وقت دیکھنے کو ملے جب اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا (ایس آئی او) دہلی کے زیر اہتمام سہ روزہ فیسٹیول 16 تا 18 اکتوبر جماعت اسلامی ہند کے کیمپس، ابوالفضل انکلیو، جامعہ نگر، نئی دہلی میں منعقد ہوا۔ فیسٹیول کے پہلے دن بچوں نے مختلف کھیلوں، معلوماتی مقابلوں، ذہنی آزمائشوں اور دوڑ جیسی سرگرمیوں میں پُرجوش حصہ لیا۔ اسلامی تعلیمات سے متعلق معلوماتی پوسٹروں، کھانے پینے کے اسٹالوں اور کتابوں کے گوشے نے بھی تقریب کو دل چسپ اور بامقصد بنایا۔ بچوں، والدین، مہمانوں، رضاکاروں اور منتظمین سے گفتگو کے ذریعے اس رنگا رنگ میلے کے مختلف پہلوؤں کو قریب سے جاننے کا موقع ملا۔
بچوں کی عمر اور جماعتوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے انہیں دو گروپوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ گروپ اے میں پانچویں، چھٹی اور ساتویں جماعت کے بچے شامل تھے، جب کہ گروپ بی میں آٹھویں، نویں اور دسویں جماعت کے طلبا کو رکھا گیا تھا۔ لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے الگ الگ نشستوں اور سرگرمیوں کا اہتمام کیا گیا تھا۔ اس تقسیم کے باعث بچوں کو اپنی عمر اور صلاحیتوں کے مطابق سرگرمیوں میں حصہ لینے کا موقع ملا۔
کہیں کھیل کا جوش تھا تو کہیں ذہنی آزمائش کا مرحلہ۔ سانپ کا کھیل، ذہنی آزمائشیں، معلوماتی مقابلے، لمبی چھلانگ اور سانپ کی دوڑ جیسی سرگرمیوں نے بچوں کو خوب مصروف رکھا۔ گروپ بی کے بچوں کے لیے لمبی چھلانگ اور دیگر دوڑ کے مقابلے رکھے گئے تھے، جب کہ گروپ اے کے بچوں نے سانپ کی دوڑ جیسی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔ معلوماتی مقابلوں اور ذہنی آزمائشوں میں دونوں گروپوں کے بچے شریک ہوئے۔
ان سرگرمیوں میں صرف جیت اور ہار ہی اہم نہیں تھی بلکہ بچوں کو اپنی معلومات پرکھنے، حاضر دماغی دکھانے، جسمانی صلاحیتیں آزمانے اور دوسرے بچوں کے ساتھ مل کر حصہ لینے کا موقع بھی ملا۔ اس طرح کھیل کود کے ذریعے سیکھنے اور اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کی راہیں ہموار ہوئیں۔
چراغ فیسٹیول کی نمایاں خصوصیات میں اسلامی تعلیمات پر مبنی معلوماتی پوسٹروں کی نمائش بھی شامل تھی۔ مختلف مقامات پر آویزاں ان پوسٹروں میں اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ مع معانی درج تھے، جب کہ انبیائے کرام علیہم السلام کے بارے میں بھی معلومات فراہم کی گئی تھیں۔
ان پوسٹروں نے فیسٹیول کی رونق میں علم و آگہی کا ایک خوب صورت رنگ بھر دیا۔ بچوں اور دیگر شرکا کو ان کے ذریعے اسلامی تعلیمات سے متعلق مختلف باتیں پڑھنے اور جاننے کا موقع ملا۔ یوں کھیلوں اور تفریح کے ماحول میں دینی معلومات کے حصول کو بھی جگہ دی گئی۔ یہ پہلو اس حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ بچوں کی دلچسپیوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے علم و تربیت کے مواقع پیدا کیے جائیں تو سیکھنے کا عمل زیادہ دل چسپ اور اثر انگیز بن سکتا ہے۔
کتابوں کا گوشہ، ذائقوں کی دنیا
رنگا رنگ تقریبات میں کھانے پینے کے اسٹال اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ چراغ فیسٹیول میں بھی مختلف غذائی اشیا کے اسٹال لگائے گئے تھے، جہاں شرکا کے لیے کھانے پینے کا انتظام تھا۔ دوسری جانب کتابوں کے لیے ایک الگ گوشہ مختص کیا گیا تھا جہاں کتابیں رکھی گئی تھیں۔
یوں ایک طرف ذائقوں سے لطف اندوز ہونے کا موقع تھا تو دوسری طرف کتابوں کی دنیا سے آشنائی کا۔ کتابوں کے لیے مخصوص گوشہ اس اعتبار سے بھی اہم تھا کہ اس میں بچوں کو کم عمری ہی سے مطالعے کی طرف راغب کرنے اور کتابوں سے دوستی بڑھانے کا موقع فراہم کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ تفریح، ذوق اور مطالعے کا یہ امتزاج فیسٹیول کے مختلف رنگوں میں ایک بامقصد اضافہ تھا۔
والدین کی امیدیں اور بچوں کے دلچسپ تجربات
فیسٹیول کی تصویر صرف سرگرمیوں کے مشاہدے سے مکمل نہیں ہوتی؛ اس میں شریک لوگوں کے تاثرات بھی اہم ہوتے ہیں۔ اسی مقصد سے مختلف مہمانوں اور بچوں کے والدین سے گفتگو کی گئی۔ والدین سے پوچھا گیا کہ وہ اپنے بچوں کو اس فیسٹیول میں کن توقعات کے ساتھ لائے ہیں اور بچوں کی شرکت پر انہیں کیسا محسوس ہو رہا ہے۔
ان گفتگوؤں سے یہ جاننے کا موقع ملا کہ والدین اپنے بچوں کے لیے اس نوعیت کے پروگراموں سے کیا امیدیں وابستہ رکھتے ہیں اور ان کی سرگرم شرکت کو کتنی اہمیت دیتے ہیں۔ تعلیم کے معمول سے ہٹ کر بچوں کو اپنی صلاحیتیں دکھانے، نئی سرگرمیوں سے واقف ہونے اور دوسروں کے ساتھ مل جل کر کام کرنے کے مواقع فراہم کرنا ایسے پروگراموں کا ایک اہم پہلو ہے۔
بچوں سے گفتگو بھی خاصی دل چسپ رہی۔ ان سے پوچھا گیا کہ انہیں کون سی سرگرمی سب سے زیادہ پسند آئی، فیسٹیول میں شریک ہو کر انہیں کیسا محسوس ہوا اور یہاں انہیں کیا نئی باتیں سیکھنے کو ملیں۔ ان کے تجربات کے ذریعے پروگرام کو بچوں کی اپنی نگاہ سے دیکھنے کا موقع ملا۔ آخرکار کسی بھی بچوں کے میلے کی کامیابی کا ایک اہم پیمانہ یہ بھی ہے کہ بچے وہاں سے کتنی خوش گوار یادیں اور کتنے نئے تجربات لے کر لوٹتے ہیں۔
پردے کے پیچھے محنت اور باہمی تعاون
بچوں کے لیے کھیلوں اور سرگرمیوں سے بھرپور پروگرام ترتیب دینا جتنا دل چسپ دکھائی دیتا ہے، اسے منظم انداز میں چلانا اتنا ہی محنت طلب کام ہے۔ مختلف عمر کے بچوں، الگ الگ گروپوں، کھیلوں، مقابلوں اور دیگر انتظامات کو سنبھالنے کے لیے منصوبہ بندی، ذمہ داری اور باہمی تعاون ضروری ہوتا ہے۔
فیسٹیول میں خدمات انجام دینے والے رضاکاروں اور منتظمین سے گفتگو کے دوران ان ہی پہلوؤں کو سمجھنے کی کوشش کی گئی۔ پروگرام کی تیاری سے لے کر مختلف سرگرمیوں کو منظم انداز میں جاری رکھنے تک ان کی ذمہ داریوں کے بارے میں معلومات حاصل کی گئیں۔ اس سے اندازہ ہوا کہ کسی کامیاب پروگرام کے پیچھے صرف ایک اچھا خیال ہی نہیں ہوتا، بلکہ اسے عملی شکل دینے کے لیے بہت سے لوگوں کی محنت، باہمی تال میل اور ذمہ دارانہ شرکت بھی درکار ہوتی ہے۔
ایک دن، کئی رنگ، سیکھنے کے بے شمار مواقع
چراغ فیسٹیول 2026 کا مجموعی تجربہ خوش گوار اور معلومات افزا رہا۔ مختلف جماعتوں کے بچوں کے لیے الگ گروپ، لڑکوں اور لڑکیوں کی علیحدہ سرگرمیاں، کھیلوں اور مقابلوں کی رنگا رنگ دنیا، اسلامی تعلیمات پر مبنی معلوماتی پوسٹر، کتابوں کا گوشہ اور کھانے پینے کے اسٹال—ان سب نے مل کر پروگرام کو متنوع اور دل چسپ بنایا۔
مہمانوں، والدین، بچوں، رضاکاروں اور منتظمین سے گفتگو نے اس تقریب کے مختلف پہلوؤں کو سمجھنے کا موقع فراہم کیا۔ کہیں بچوں کی صلاحیتوں کے اظہار کا منظر تھا، کہیں نئی معلومات سے شناسائی کا موقع، تو کہیں ان لوگوں کی محنت کی جھلک جو بچوں کے لیے ایک خوش گوار اور بامقصد دن سجانے میں مصروف تھے۔
چراغ فیسٹیول کی دل کشی اسی امتزاج میں تھی—کھیل بھی، علم بھی، تفریح بھی اور اسلامی تعلیمات سے شناسائی بھی۔ بچوں کی مسکراہٹوں سے روشن یہ میلہ اس بات کی یاد دہانی تھا کہ سیکھنے کا عمل صرف کلاس روم کی چار دیواری تک محدود نہیں۔ مناسب منصوبہ بندی کے ساتھ کھیل، مطالعہ، معلوماتی سرگرمیاں اور اجتماعی تجربات بھی بچوں کی ذہنی و جسمانی نشوونما اور تربیت میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔