وہ اسکول جو آج بھی یاد ہے
میں نے جماعت اوّل سے پنجم تک مدھیہ پردیش کے شہر جبل پور میں واقع گوہل پور اردو پرائمری اسکول میں تعلیم حاصل کی ہے۔ اس بات کو دو دہائیوں سے زیادہ گزر چکے ہیں۔ اس کے بعد مختلف اداروں میں پڑھا، اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور آج میرا کام بھی اسکولی تعلیم ہی سے وابستہ ہے۔ آئے دن اسکولوں میں جانا ہوتا ہے، اساتذہ اور طلبا سے ملاقاتیں ہوتی ہیں اور اپنا کافی وقت اس سوچ میں گزرتا ہے کہ ہمارے اسکول مزید بہتر کیسے بن سکتے ہیں۔ لیکن جب بھی اپنے بچپن کی طرف پلٹ کر دیکھتا ہوں، تو سب سے پہلے اپنا وہی پہلا اسکول یاد آتا ہے۔
وہ ایک پرانی عمارت تھی جس کی چھت کھپریل کی تھی۔ ہم ڈیسک اور بینچ کے بجائے چٹائیوں پر بیٹھتے تھے۔ ہر صبح جماعتیں شروع ہونے سے پہلے ایک چھوٹا سا اسٹور کھلتا اور ہم سب بچے چٹائیاں لینے کے لیے اس کی طرف دوڑ پڑتے۔ زیادہ تر چٹائیاں پھٹی ہوئی ہوتیں، اس لیے ہر بچہ کوشش کرتا کہ نسبتاً اچھی چٹائی اس کے ہاتھ لگ جائے۔ آج ان باتوں کو یاد کرتا ہوں تو ہنسی آتی ہے۔ اس وقت یہ سب ہماری اسکولی زندگی کا معمول تھا۔
اسکول کے احاطے میں ایک ہینڈ پمپ بھی تھا۔ دوپہر کی چھٹی میں ہم کھلے میدان میں کھیلتے اور اگر جیب میں چند سکے ہوتے تو بکی چچا کی دکان سے نلّی، مٹر، چنا اور سکلہ خرید لیتے۔ مجھے آج ہر سبق یاد نہیں لیکن وہ چھوٹی چھوٹی باتیں اب بھی یاد ہیں۔ شاید بچپن اپنی یادوں کو محفوظ رکھنے کا ہنر جانتا ہے۔
وہ استاد جنہیں میں آج بھی یاد کرتا ہوں
میرے کلاس ٹیچر وسیم ماساب تھے۔ ان دنوں بچے اپنے اساتذہ کو ’’ماساب ‘‘کہہ کر پکارتے تھے۔ آج مجھے یہ یاد نہیں کہ وہ کسی خاص دن کون سا سبق پڑھا رہے تھے، لیکن ان کا نام یاد کرنے کے لیے مجھے ذرا بھی کوشش نہیں کرنی پڑتی۔
شاید ایک اچھے استاد کی اصل پہچان یہی ہے۔ برسوں بعد ہمیں سبق کے عنوان، کتاب کے ابواب اور امتحان کے سوالات یاد نہیں رہتے، لیکن استاد کا نام کہیں دل و دماغ میں محفوظ رہ جاتا ہے۔
بچپن میں ہمیں کبھی خیال نہیں آتا کہ ایک دن ہمارے استاد ہماری یادوں کا حصہ بن جائیں گے۔ اس وقت وہ ہماری روزمرہ زندگی کا ایک معمول ہوتے ہیں۔ ہم انہیں ہر صبح دیکھتے ہیں، ان کی باتیں سنتے ہیں اور ان کی موجودگی کو معمولی سمجھ کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ ہمیں اندازہ نہیں ہوتا کہ انہی معمولی سے دنوں میں ہماری شخصیت کی تعمیر بھی ہو رہی ہے۔
سالوں بعد سمجھ میں آتا ہے کہ استاد کا اثر ناپنا آسان نہیں۔ وہ کسی رپورٹ کارڈ یا امتحانی نتیجے میں نظر نہیں آتا۔ اس کا احساس بہت بعد میں ہوتا ہے، جب انسان اپنی زندگی کے سفر کو پلٹ کر دیکھتا ہے اور سوچتا ہے کہ یہ سفر آخر شروع کہاں سے ہوا تھا۔ آج جب میں اپنی زندگی کے سفر پر نظر ڈالتا ہوں تو اس کے آغاز کے قریب مجھے وسیم ماساب کھڑے نظر آتے ہیں۔
پنجم جماعت کے بعد میری تعلیم اس اسکول میں ختم ہوگئی، کیونکہ وہاں اس سے آگے کی جماعتیں نہیں تھیں۔ میں دوسرے اسکول میں چلا گیا، نئے دوست بنے اور آہستہ آہستہ وہ ابتدائی دن پیچھے رہ گئے۔ زندگی آگے بڑھتی گئی۔ میں نے مختلف اداروں میں تعلیم حاصل کی، اعلیٰ تعلیم مکمل کی اور بالآخر اسکولی تعلیم کے شعبے سے وابستہ ہوگیا لیکن شاید میں نے اپنا وہ پہلا اسکول کبھی چھوڑا ہی نہیں اور شاید اس استاد کو بھی نہیں، جنہوں نے مجھے وہاں پڑھایا تھا۔
واپس لوٹے بغیر واپسی
گزشتہ چند برسوں میں اپنے کام کے سلسلے میں مجھے مختلف ریاستوں کے کئی اردو میڈیم سرکاری اسکولوں میں جانے کا موقع ملا۔ ہر بار یوں محسوس ہوا جیسے میں اپنے پہلے اسکول کی طرف واپس جا رہا ہوں، حالانکہ میں وہاں کبھی واپس نہیں گیا۔
ہر اسکول مجھے کچھ نہ کچھ سکھاتا ہے۔ کہیں بچے شوق سے پڑھ رہے ہوتے ہیں، اساتذہ نئے طریقے آزما رہے ہوتے ہیں اور کلاس روم میں زندگی محسوس ہوتی ہے۔ کہیں تعلیمی مدد اور رہنمائی کی ضرورت دکھائی دیتی ہے۔ دونوں طرح کے اسکول دیکھنے کے بعد میں نے ایک بات سیکھی ہے: اب میں کسی اسکول کو اس کی عمارت سے نہیں پرکھتا۔ جب بھی کسی اسکول میں جاتا ہوں، میری نگاہ پہلے کلاس روم پر جاتی ہے، دیواروں پر بعد میں۔
ہندوستان میں تقریباً 14.7 لاکھ اسکول ہیں اور ان میں لگ بھگ پچیس کروڑ بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ سرکاری اسکول آج بھی لاکھوں بچوں کو تعلیم دے رہے ہیں۔ ان میں بہت سے بچے ایسے ہیں جو اپنے خاندان میں پہلی بار باقاعدہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ان بچوں کا مستقبل ہماری کہیں زیادہ توجہ کا مستحق ہے۔
قومی تعلیمی پالیسی 2020 بھی مضبوط بنیادی تعلیم کی اہمیت کو تسلیم کرتی ہے اور جہاں ممکن ہو، بچوں کی تعلیم گھریلو یا مادری زبان میں شروع کرنے کی سفارش کرتی ہے۔ میری ابتدائی تعلیم اردو میں ہوئی اور یہی تعلیم آگے کی پوری تعلیمی زندگی کی بنیاد بنی۔
آج پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ میرے پہلے اسکول نے مجھے صرف تعلیم نہیں دی بلکہ اس نے مجھے ایک آغاز دیا اور اس آغاز میں ایک ایسے استاد بھی شامل تھے جن کا نام آج بھی مجھے یاد ہے۔وسیم ماساب۔
ان اسکولوں کو کیا چاہیے؟
جب بھی اردو میڈیم سرکاری اسکولوں کی بات ہوتی ہے، گفتگو جلد ہی ان چیزوں کی طرف چلی جاتی ہے جو وہاں موجود نہیں—عمارتیں، طلبا کی تعداد یا وسائل۔ یہ مسائل اپنی جگہ حقیقی ہیں۔ لیکن بہت سے اسکول دیکھنے کے بعد مجھے یقین ہوگیا ہے کہ اصل اہمیت کلاس روم کی ہے۔
جو بچہ اچھی طرح پڑھنا سیکھ جائے، سوال کرنا جان لے اور سیکھنے میں خوشی محسوس کرے وہ اپنے ساتھ ایسی دولت لے کر آگے بڑھتا ہے جو کوئی عمارت اکیلے اسے نہیں دے سکتی۔ اچھے اساتذہ، مطالعے کی عادت، کتب خانے اور مسلسل تعلیمی رہنمائی بچوں کی زندگی پر دیواروں کے نئے رنگ سے کہیں زیادہ گہرا اثر چھوڑتے ہیں۔
اپنے دوروں کے دوران مجھے بہت سے ایسے مخلص اساتذہ سے ملنے کا موقع ملا جو مجھے وسیم ماساب کی یاد دلاتے ہیں۔ وہ روزانہ اسکول آتے ہیں، پوری دیانت داری سے پڑھاتے ہیں اور عموماً کسی تعریف یا اعزاز کی توقع نہیں رکھتے۔ ایسے اساتذہ کو بہتر پیشہ ورانہ تربیت اور مسلسل تعلیمی رہنمائی کی ضرورت ہے۔
اسکولوں کو عمارتیں، کتب خانے، ٹیکنالوجی اور وسائل ضرور چاہیے۔ لیکن سب سے بڑھ کر انہیں ایسے اساتذہ چاہیے جو یہ سمجھتے ہوں کہ ان کے سامنے بیٹھا ہر بچہ ایک ایسے مستقبل کو اپنے اندر لیے ہوئے ہے جو ابھی سامنے آنا باقی ہے۔ ہمارے اسکولوں کو وسیم ماساب جیسے اساتذہ کی ضرورت ہے۔
ایک ذاتی گزارش
بہت سے لوگ سرکاری اسکولوں کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہیں، لیکن انہیں معلوم نہیں ہوتا کہ کہاں سے آغاز کریں۔ میرے خیال میں اس کا سب سے آسان راستہ اپنا وقت دینا ہے۔
حکومتِ ہند کے ودیانجلی پروگرام کے ذریعے شہری اپنے آس پاس کے سرکاری اور سرکاری امداد یافتہ اسکولوں میں رضاکارانہ خدمات انجام دے سکتے ہیں۔ اس کے لیے پیشہ ور استاد ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ کو مطالعے کا شوق ہے تو بچوں کے ساتھ بیٹھ کر کتاب پڑھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر، انجینئر، وکیل، کاروباری شخصیت یا ریٹائرڈ پیشہ ور ہیں تو اپنا تجربہ بچوں کے ساتھ بانٹیں۔ کسی پیشے کے بارے میں گفتگو، سائنس کی کوئی سرگرمی یا کتب خانے میں گزارا ہوا ایک گھنٹہ بھی فرق پیدا کر سکتا ہے۔
سابق طلبا بھی ان اسکولوں سے دوبارہ جڑ سکتے ہیں جنہوں نے ان کی زندگی کی بنیاد رکھی۔ ہم اپنے اسکولوں کو محبت سے یاد تو کرتے ہیں لیکن بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ واپس جا کر یہ دیکھیں کہ آج انہیں کس چیز کی ضرورت ہے۔
آخر میں
میں آج تک اپنے پہلے اسکول واپس نہیں جا سکا۔ مجھے نہیں معلوم کہ اس کی کھپریل کی چھت اب بھی موجود ہے یا نہیں۔ یہ بھی نہیں معلوم کہ بچے آج بھی چٹائیاں لینے کے لیے اسی طرح اسٹور کی طرف دوڑتے ہیں یا نہیں۔ شاید ہینڈ پمپ کی جگہ کوئی نیا انتظام ہوگیا ہو۔ شاید وہ آج بھی وہیں ہو۔ مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ وسیم ماساب آج کہاں ہیں۔ یہ بھی نہیں جانتا کہ انہوں نے کبھی سوچا ہوگا کہ ایک چھوٹے سے اردو میڈیم سرکاری اسکول میں پڑھنے والا ان کا ایک طالب علم کئی دہائیوں بعد بھی انہیں یاد رکھے گا۔
اگر وہ چھوٹا سا اردو میڈیم سرکاری اسکول نہ ہوتا تو شاید آج میں یہ سطور نہ لکھ رہا ہوتا اور اگر اس کلاس روم میں وسیم ماساب نہ ہوتے تو شاید ان دنوں کی میری یادیں بھی کچھ اور ہوتیں۔ ہر بچے کو ایک اچھے آغاز کا حق حاصل ہے۔ ہندوستان کے لاکھوں بچوں کے لیے یہ آغاز آج بھی کسی سرکاری اسکول سے ہوتا ہے۔
اگر اس تحریر نے آپ کو اپنے اسکول کے دن یاد دلائے ہیں تو پھر اپنے قریب کے کسی سرکاری اسکول کا رخ کیجیے۔ وہاں کے ہیڈ ٹیچر سے ملیے اور پوچھیے کہ اسکول کو کس چیز کی ضرورت ہے۔ اگر آپ اپنے وقت کا تھوڑا سا حصہ دے سکتے ہیں تو ودیانجلی کے ذریعے رضاکار کے طور پر اپنا نام درج کرائیے۔
شاید اپنے پہلے اسکول کا شکریہ ادا کرنے کا سب سے خوبصورت طریقہ یہی ہے کہ ہم کسی اور بچے کے سفر کا آغاز آسان بنا دیں اور شاید آج ہمارے اسکولوں کو سب سے زیادہ ایسے ہی اساتذہ کی ضرورت ہے—وسیم ماساب جیسے اساتذہ، جن کے نام شاید کبھی مشہور نہ ہوں لیکن جن کا اثر ان کے شاگردوں کے ساتھ پوری زندگی خاموشی سے چلتا رہے۔
zafarmtb@gmail.com
وہ پہلا اسکول جو آج بھی میرے ساتھ ہے

سرکاری اردو اسکولوں کے نام چند یادیں اور ایک گزارش

