تعلیم اور عوامی خدمات کے بجٹ میں کٹوتی، احتجاج کی اہم وجہ
حکومتوں کی تبدیلی کافی نہیں، نظام کی اصلاح اورعوامی زندگی میں بہتری ضروری
یورپ سے بھارت تک نوجوانوں کے مستقبل کا سوال، حکم رانوں کے لیے لمحہ فکریہ
دنیا کے بڑے، خوش حال اور ترقی یافتہ ممالک میں نوجوان نسل شدید بے چینی اور اضطراب کا شکار ہے۔ اس کی ناراضی حکومتوں سے بھی ہے اور اپنے مستقبل کے بارے میں بڑھتی ہوئی بے یقینی سے بھی۔ صورتِ حال یہ ہے کہ پیرس جیسے خوب صورت شہر توڑ پھوڑ، تشدد اور آتش زنی کے باعث بدنما ہو رہے ہیں۔ ایک زمانہ تھا جب یہی استعماری طاقتیں افریقہ، ایشیا اور لاطینی امریکہ کے کمزور ممالک کو بے دریغ لوٹتی تھیں۔ بعد ازاں صنعتی انقلاب کے ذریعے انہوں نے بے پناہ دولت کمائی۔ ان ممالک میں خوش حالی کے شادیانے بجتے رہے لیکن قدرت کا قانون حرکت میں آیا اور ’’ہر عروج کو زوال ہے‘‘ کے مصداق، مغربی ممالک آج معاشی بحرانوں کے گرداب میں پھنستے دکھائی دے رہے ہیں۔
نوجوانوں اور شہریوں کی ناراضی کا نشانہ بننے والا پیرس کوئی تنہا شہر نہیں ہے بلکہ یورپ کے نو سے زائد ممالک کے سو سے زیادہ شہروں میں سڑکوں پر افراتفری، تصادم کی کیفیت ہے۔ آخر ان شہروں میں پُرتشدد مظاہرے کیوں ہو رہے ہیں؟ خوب صورت مکانات، دکانیں، ریستورانیں اور عمارتیں کیوں نذرِ آتش کی جا رہی ہیں؟ آخر یہ سب نوجوانوں کے غیظ و غضب کا نشانہ کیوں بن رہے ہیں؟
حقیقت یہ ہے کہ دنیا بھر میں ان تحریکوں کے پس منظر میں معاشی مشکلات، بڑھتی ہوئی عدم مساوات اور سیاسی قیادت پر عدم اعتماد جیسے عوامل کار فرما ہیں۔ یہ بات بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ حکومت مخالف مظاہروں کا ایک بنیادی مقصد موجودہ نام نہاد جمہوری حکومتوں کے طرزِ حکم رانی کو چیلنج کرنا ہوتا ہے۔ فرانس جیسے ممالک میں عوام اکثر عوامی خدمات کے معیار، پنشن، تنخواہوں اور معیارِ زندگی میں گراوٹ کے خلاف سڑکوں پر نکلتے ہیں۔ ان کا بنیادی مطالبہ یہ ہوتا ہے کہ حکومت انہیں معاشی عدم تحفظ سے نجات دلائے اور ان کے مستقبل کو محفوظ بنائے۔
جمہوری نظام میں شہریوں کو اصولی طور پر حکومت پر تنقید کرنے، اجتماعی طور پر جمع ہونے اور تبدیلی کا مطالبہ کرنے کا حق حاصل ہوتا ہے۔ ایسے میں حکومت مخالف مظاہرے جمہوری عمل میں عوام کی شرکت کا ایک ذریعہ بن سکتے ہیں؛ انہیں جمہوریت کی ناکامی قرار دینا درست نہیں۔ جب جمہوری ادارے اپنی ذمہ داریاں مؤثر طور پر ادا کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو شہری منتخب نمائندوں پر دباؤ ڈالنے کے لیے سڑکوں پر اترنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر کسی ملک میں مظاہرے نہیں ہوتے تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہاں سب کچھ ٹھیک ہے اور عوام مطمئن ہیں۔ ممکن ہے کہ حکومت کا جابرانہ رویہ اور اس کا خوف لوگوں کو مخالفت اور احتجاج سے باز رکھتا ہو۔
تاہم، حکومت مخالف مظاہرے خواہ کتنے ہی شدید کیوں نہ ہو جائیں، ان کے ذریعے مسائل کا حل نکالنا آسان نہیں ہوتا۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ پہلی یہ کہ مظاہرے بعض رکاوٹوں کو دور کرنے اور حکومت کو متوجہ کرنے میں تو مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں، لیکن اداروں کی تعمیر اور ان کی اصلاح کا متبادل نہیں بن سکتے۔ بڑے پیمانے پر ہونے والے مظاہرے حکومت کو غیر مستحکم ضرور کر سکتے ہیں لیکن محض اس سے بنیادی مسائل حل ہونے کی ضمانت نہیں ملتی۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ احتجاجی تحریکوں میں شامل افراد اور گروہ اکثر اس بات پر متفق نہیں ہو پاتے کہ متبادل راستہ کیا ہونا چاہیے۔ معاشی پالیسیوں، قوانین میں اصلاحات اور مستقبل کی سمت کے تعین پر اختلافات کے باوجود لوگ حکومت کے خلاف متحد ہو سکتے ہیں لیکن اس اتحاد کو کسی مشترکہ لائحہ عمل میں ڈھالنا ایک الگ چیلنج ہوتا ہے۔
تیسری وجہ یہ ہے کہ سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والے افراد اور ادارے اکثر تبدیلی کی راہ میں مزاحمت کرتے ہیں۔ مزید یہ کہ نئی حکومت کو بھی وہی نوکر شاہی، ترغیبات کا نظام اور سیاسی روابط ورثے میں مل سکتے ہیں جو سابقہ حکومت کے دور میں موجود تھے اور جنہوں نے ان مسائل کو جنم دینے میں کردار ادا کیا تھا۔ اس طرح حکومت کی تبدیلی کے باوجود وہی نظام برقرار رہ سکتا ہے جس کے خلاف عوام نے احتجاج کیا تھا۔
دراصل احتجاجی تحریکوں کا آغاز فرانس میں اسکولوں کی خستہ حالی کے خلاف ہوا۔ گزشتہ 6 اکتوبر کو ڈھائی لاکھ سے زائد مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے۔ فرانسیسی بجٹ میں 43 ارب یورو کی بڑی کٹوتی نے صورتِ حال کو مزید سنگین بنا دیا۔ یہ کٹوتی بجٹ خسارے کو کم کرنے کے لیے کی گئی تھی جو بڑھ کر مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے 5.4 فیصد تک پہنچ چکا تھا۔ خسارے پر قابو پانے کے لیے حکومت نے اساتذہ کی تعداد میں بڑے پیمانے پر کمی کی تجویز پیش کی جس کے خلاف احتجاج شروع ہوا۔ تحریک کا دائرہ وسیع ہوتا گیا اور طلبا کے ساتھ اساتذہ اور دیگر شہری بھی اس میں شامل ہوتے گئے۔ ان حالات میں دائیں بازو کی رہنما میری لی پین نے بائیں بازو کے عناصر پر تشدد بھڑکانے کا الزام عائد کیا ہے۔
مغربی ممالک کا ایک بڑا مسئلہ بڑھتی ہوئی شرحِ سود کے ساتھ قلیل مدتی قرضوں کا بوجھ ہے۔ فرانس، برطانیہ اور امریکہ میں یہ مسئلہ خاص طور پر نمایاں ہے۔ حکومتوں کے لیے پنشن اور طبی نگہداشت جیسے شعبوں پر ہونے والے بھاری فلاحی اخراجات میں کٹوتی کا فیصلہ کرنا آسان نہیں ہوتا۔ تاہم، اگر مالیاتی بحران کو مؤثر انداز میں نہیں سنبھالا گیا تو فرانس جیسے ممالک میں بڑے پیمانے پر حکومت مخالف مظاہرے شدت اختیار کر سکتے ہیں۔
مشکل یہ ہے کہ مغربی حکومتوں نے 2008 کے مالیاتی بحران اور کورونا وبا کے دوران بڑے پیمانے پر اخراجات کیے، لیکن اب ان کی تلافی کے لیے کی جانے والی کٹوتیوں کا بوجھ عوامی خدمات پر پڑ رہا ہے۔ دوسری طرف، حصص بازاروں میں بہتری کے باوجود مکانات کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ فائنانشل ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ دہائی کے دوران اسپین میں فی کس مکانات کی تعمیر دیگر زیادہ آمدنی والے ممالک کے مقابلے میں کم رہی ہے۔ اب نصف سے زائد بالغ افراد اپنے والدین کے ساتھ رہنے پر مجبور ہیں جب کہ 2005 میں یہ تناسب تقریباً ایک تہائی تھا۔
برطانیہ کی لیبر حکومت بھی نئے مکانات کی تعمیر کے مقررہ اہداف سے خاصی پیچھے ہے۔ یورپ میں معاشی نا برابری، رہائش کی قلت اور مکانات کی بڑھتی قیمتوں نے عوامی بے چینی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ایسے حالات میں دائیں بازو ہو یا بائیں بازو، حکومتوں کے سامنے بجٹ میں کٹوتی کے سوا متبادل محدود ہوتے جا رہے ہیں۔ اس صورتِ حال کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ سیاسی مخالفین سوشل میڈیا پر من گھڑت دعووں اور گمراہ کن تشہیر کے ذریعے عوامی ناراضی کو ہوا دیتے ہیں، جب کہ ان دعوؤں کی آزاد ذرائع ابلاغ سے تصدیق نہیں ہوتی۔ مہاجرین کی بڑھتی آمد یا سرکاری اخراجات میں کٹوتی سے متعلق بیانیے بھی عمومی بے اطمینانی سے جڑ جاتے ہیں۔
اس کے ساتھ ترقی یافتہ ممالک میں روزگار پیدا ہونے کی رفتار سست پڑنے سے ملازمت کے متلاشی نوجوانوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ بھارت بھی اس صورتِ حال سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ یہاں تعلیمی نظام کی خستہ حالی اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے محدود مواقع ایک سنگین مسئلہ ہیں۔ اٹلی میں نوجوانوں کی بے روزگاری کی شرح بیس فیصد تک پہنچ چکی ہے جب کہ امریکہ میں بھی جسے روزگار پیدا کرنے کے معاملے میں نسبتاً قابلِ اعتماد سمجھا جاتا ہے، نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح سات فیصد سے تجاوز کر گئی ہے جو بزرگوں کے مقابلے میں تقریباً دوگنی ہے۔
رفتہ رفتہ مہنگائی، بے روزگاری اور تعلیمی بجٹ میں کٹوتی کے خلاف احتجاجی تحریکیں یورپ کے دیگر ممالک سے ہوتی ہوئی یونان تک پہنچ گئی ہیں۔ وہاں اعلیٰ تعلیم اور جامعات میں داخلے کی فیس بڑھانے کے فیصلے نے طلبا میں ناراضی پیدا کر دی ہے۔ یونان کے علاوہ فرانس، بیلجیم، اٹلی، پرتگال اور البانیہ میں بھی ان مسائل پر شدید احتجاج ہو رہا ہے، جو بعض مقامات پر پُرتشدد شکل اختیار کر لیتا ہے۔ البانیہ کے دارالحکومت ترانہ میں احتجاج کے آٹھویں روز پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے گولے داغے اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔ طلبا نے سپریم کورٹ کی عمارت کو بھی آگ لگا دی۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ٹیوشن فیس کم کی جائے اور تعلیمی شعبے میں سرکاری سرمایہ کاری بڑھائی جائے۔ احتجاج کی یہ لہر ایک طرف لاطینی امریکہ تک پھیلتی دکھائی دے رہی ہے تو دوسری طرف تیونس میں بھی مہنگائی، تعلیمی نظام کی بدحالی اور سیاست دانوں کی بدعنوانی کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں۔
گزشتہ سال سری لنکا، بنگلہ دیش اور نیپال میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے سیاسی اعتبار سے نہایت اہم تھے لیکن ان کے نتیجے میں سماجی اور ادارہ جاتی تبدیلیوں کا عمل نا مکمل رہا۔ کسی بھی حکومت مخالف تحریک کی کامیابی کا پیمانہ محض یہ نہیں کہ حکومت تبدیل ہوئی یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ آیا اس تبدیلی سے عوام کی زندگیوں میں پائیدار بہتری آئی یا نہیں۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو ایک جابرانہ نظام کی جگہ دوسرا جابرانہ نظام آ جاتا ہے اور عوام کے مسائل جوں کے توں رہتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ فرانس ہو یا اٹلی، برطانیہ ہو یا امریکہ، بھارت ہو یا افریقہ اور لاطینی امریکہ، ہر خطے میں معاشی بے اطمینانی کے اسباب دور کرنے کے لیے سنجیدہ اور دیانت دارانہ اقدامات کیے جائیں۔ حکومتوں کو عوام کی جائز شکایات دور کرنے اور ان کی معقول توقعات پوری کرنے کے لیے منظم اور مستعد انداز میں کام کرنا ہوگا۔ اب محض بہانوں سے عوام کو زیادہ دیر تک مطمئن نہیں رکھا جا سکتا۔ آج کئی ممالک میں اقتدار طاقت ور رہنماؤں کے ہاتھوں میں ہے لیکن ان کی سیاست عوامی مسائل کے حل پر توجہ دینے کے بجائے دشمنی اور محاذ آرائی کو ہوا دیتی دکھائی دیتی ہے۔ اسی ماحول میں ٹرمپ جیسے رہنما یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ مسلمان فرانس پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔
یورپ میں عرب بہار جیسی احتجاجی تحریکوں کے پس منظر میں بھی بعض سیاست داں ان تحریکوں کو بیرونی سازش سے جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسی تناظر میں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے ٹرمپ کے دعوے کو بے تُکا قرار دیا اور کہا کہ غیر ملکی رہنما فرانس کی کشیدہ صورتِ حال سے اپنے سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
نوجوانوں کی ناراضگی سے سلگتا یورپ

مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی نا برابری نے بڑھائی نئی نسل کی بے چینی

