بسوا کلیان (کرناٹک) کے ’’سیرت ڈائیلاگ‘‘ کی ایک دل نشین و فکر انگیز روداد
سیرت کی روشنی میں نوجوانوں کی عملی و فکری تربیت کا ایک حوصلہ افزا نمونہ
ایک کم عمر طالبہ ہزاروں سامعین کے سامنے کھڑی تھی۔ اس نے انتخابات میں ووٹوں کی خرید و فروخت کے مسئلے پر اپنی بات پیش کی تھی۔ تقریر ختم ہوئی تو جج کی طرف سے سوال آیا کہ کیا ہمارے معاشرے میں انتخابات کو پیسے کے اثر سے پاک کرنا ممکن ہے؟ طالبہ نے اعتماد سے جواب دیا، پھر گفتگو کے دوران سوال کا رخ سامعین کی طرف موڑ دیا۔ اب سوال ان لوگوں کے سامنے تھا جو چند لمحے پہلے تک اس کی تقریر سن رہے تھے: کیا عوام خود پیسے لیے بغیر ووٹ دینے کے لیے تیار ہیں؟
یہ ایک غیر معمولی لمحہ تھا۔ ایک طالبہ اپنے معاشرے کے سنگین مسئلے پر بڑوں کو سوچنے کی دعوت دے رہی تھی۔ سامنے اساتذہ، والدین، اہلِ علم اور عام شہری تھے۔ جج سوال پوچھ رہے تھے، بچے جواب دے رہے تھے اور سامعین پوری دلچسپی سے اس مکالمے میں شریک تھے۔ ایک بڑے آڈیٹوریم میں ہونے والا تقریری مقابلہ اس لمحے ایک زندہ گفتگو کی صورت اختیار کرگیا تھا۔یہ دل چسپ مکالمہ 28 اکتوبر 2026 کو کرناٹک کے ضلع بیدر کے تاریخی شہر بسوا کلیان میں منعقدہ ’’سیرت ڈائیلاگ‘‘ کی ایک یادگار جھلک تھی۔ پانچ ہزار نشستوں کی گنجائش والے آڈیٹوریم میں طلبا و طالبات، والدین، اساتذہ اور مختلف طبقات کے افراد کی بڑی تعداد موجود تھی۔ بچے بولتے تو ہال میں خاموشی چھا جاتی؛ کوئی برجستہ جواب دیتا تو تالیاں گونج اٹھتیں۔ اس دن دس نوجوان غربت، سودی قرضوں، اخلاقی مسائل، انصاف، ذہنی صحت، فرقہ وارانہ ہم آہنگی، بزرگوں کی تنہائی، انتخابی بدعنوانی اور خاندانی تعلقات جیسے موضوعات پر اپنی تحقیق اور سیرتِ نبوی ﷺ سے حاصل کردہ رہنمائی پیش کررہے تھے۔
ایک چھوٹے شہر کے بڑے حوصلے
جماعت اسلامی ہند بسوا کلیان نے نئی نسل کو سیرتِ رسول ﷺ سے وابستہ کرنے کے لیے ایک منفرد طریقہ اختیار کیا تھا۔ بچوں سے کہا گیا کہ اپنے اطراف کی دنیا کو دیکھیں، لوگوں سے ملیں، ان کے حالات سمجھیں اور سیرت کے مطالعے سے حاصل ہونے والی رہنمائی کو عملی زندگی سے جوڑیں۔ پروگرام کے کنوینر اسداللہ ذکی نے افتتاحی خطاب میں کہا: ’’اس شہر کی پہچان اس کی آبادی سے نہیں، اس کے لوگوں کے حوصلوں سے ہے۔‘‘ چھوٹے شہر میں اتنے بڑے پیمانے پر پروگرام کا انعقاد اس جملے کی عملی تصویر تھا۔منتظمین اسکولوں اور تعلیمی اداروں تک پہنچے اور بچوں کو 25 سماجی موضوعات میں سے انتخاب کا موقع دیا۔ اسداللہ ذکی کے مطابق 312 رجسٹریشن ہوئے، 202 ویڈیو تقاریر موصول ہوئیں، 51 ججوں نے ابتدائی مرحلے میں ان کا جائزہ لیا، 30 طلبا اگلے مرحلے تک پہنچے اور دس فائنل کے لیے منتخب ہوئے۔ انہیں سوال نامے بنانے، لوگوں سے ملاقات کرنے اور تحقیقی مواد پڑھنے کی ترغیب دی گئی۔ پھر مسئلے کا حل سیرتِ نبوی ﷺ کی روشنی میں پیش کرنا اور اگلے 30، 60 یا 90 دن کا عملی منصوبہ بنانا تھا۔ اس طرح تقریر کی تیاری کے ساتھ زندگی کو قریب سے دیکھنے کا موقع بھی ملا۔
اسٹیج کی نظامت بھی بچوں اور بچیوں کے ہم عمر نوجوانوں کے ہاتھوں میں تھی۔ وہ مہمانوں کا تعارف کراتے، مقررین کو بلاتے اور کارروائی آگے بڑھاتے رہے۔ ہزاروں افراد کے سامنے انہیں یہ ذمہ داری سونپنا خود اعتمادی کی تربیت کا حصہ تھا۔ فائنل میں سات طالبات اور تین طلبا تھے؛ ان کی تیاری اور اظہارِ خیال نے حاضرین کی توجہ قائم رکھی۔
جب بچوں نے بزرگوں کے دل کا حال سنا
ایک طالبہ نے بزرگ والدین کی تنہائی اور اولاد کی بے توجہی کو موضوع بنایا۔ وہ اپنے کالج کے ساتھیوں کے ساتھ بزرگوں سے ملنے گئی۔ ان ملاقاتوں میں کچھ ایسے دکھ سامنے آئے جو روزمرہ کی مصروفیات میں اکثر اَن کہے رہ جاتے ہیں۔ ایک 71 سالہ بزرگ نے بتایا کہ ان کے بچے موبائل فون میں زیادہ مصروف رہتے ہیں۔ ایک دوسرے بزرگ نے گھر میں مطلوبہ توجہ نہ ملنے کا شکوہ کیا۔ اولاد گھر میں ہو، مگر پاس بیٹھ کر بات کرنے کی فرصت نہ ہو تو تنہائی کس قدر گہری ہوسکتی ہے!طالبہ نے ان تجربات کو قرآن مجید میں والدین کے ساتھ حسنِ سلوک، خصوصاً بڑھاپے میں نرمی اور احترام کی تعلیم سے جوڑا۔ اس نے یاد دلایا کہ والدین کی خدمت میں ان کے جذبات کو سمجھنا بھی شامل ہے۔ انہیں دوا اور ضروریات کے ساتھ اولاد کا وقت، بات سننے والا کان اور محبت بھرا رویہ بھی چاہیے۔ اس روز اسٹیج پر ایک طالبہ کی آواز کے ساتھ ان بزرگوں کے احساسات بھی پہنچے جن کے دروازوں تک وہ خود گئی تھی۔ ایک مانوس موضوع انسانی زندگی کی ٹھوس حقیقت بن کر سامنے آگیا۔
’’آپ کیسے ہیں؟‘‘ — ایک سوال جو دل تک اتر گیا
ذہنی صحت پر تقریر کرنے والے نوجوان نے پوچھا: “How are you?” پھر اس کا معمول کا جواب دہرایا: “I am fine.” لیکن کیا ہر شخص واقعی ٹھیک ہوتا ہے؟ امتحان میں ناکام طالب علم، خاندانی توقعات سے دباؤ میں مبتلا نوجوان یا تنہائی میں زندگی گزارنے والا بزرگ اپنا دکھ کس سے کہے؟ اس نے ذہنی صحت سے متعلق مطالعات اور اپنے مختصر سروے کی روشنی میں بتایا کہ بہت سے لوگ اس خوف سے خاموش رہتے ہیں کہ دوسرے ان کے بارے میں کیا سوچیں گے۔
اس نے رسول اللہ ﷺ کی وہ دعا یاد دلائی جس میں فکر اور غم سے اللہ کی پناہ مانگی گئی ہے۔ پھر نبی کریم ﷺ کے صاحبزادے حضرت ابراہیم کی وفات کا ذکر کیا، جب آپ ﷺ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے تھے۔ نوجوان کا سوال تھا کہ جب رسول اللہ ﷺ نے اپنے غم کا اظہار فرمایا تو ہم دوسروں سے اپنے آنسو چھپانے کی توقع کیوں رکھتے ہیں؟ اس نے اپیل کی کہ گھروں اور اسکولوں میں ایسا ماحول ہو جہاں پریشان حال انسان بلاخوف اپنی بات کہہ سکے۔ اس کی تجویز تھی کہ لوگوں کو توجہ سے سنا جائے اور ضرورت پڑنے پر مناسب مدد تک پہنچایا جائے۔جج نے پوچھا کہ وہ ذہنی پریشانی میں مبتلا شخص کی خود کیسے مدد کرے گا۔ نوجوان کا صاف جواب تھا: “I am not a professional.” وہ اس کی بات سنے گا، سمجھنے کی کوشش کرے گا، مگر ضرورت پڑنے پر کسی قابلِ اعتماد بڑے یا ذہنی صحت کے ماہر سے رجوع کرنے کا مشورہ دے گا۔ اس نے دوسروں کے دکھ کا احساس بھی کیا اور اپنی صلاحیت کی حد بھی پہچانی۔ وہ چاہتا تھا کہ کسی انسان کے لیے یہ کہنا آسان ہو: میں پریشان ہوں، مجھے مدد چاہیے۔
جب ایک دوسرے سے ملنا کم ہوجائے
فرقہ وارانہ ہم آہنگی پر گفتگو کرنے والے طالب علم نے بسوا کلیان کے مختلف سماجی طبقات کے لوگوں سے ملاقاتیں کیں۔ مسلمانوں، مراٹھا برادری، درج فہرست ذاتوں اور دوسرے طبقات سے بات کرتے ہوئے اس نے باہمی رابطوں میں کمی اور ایک دوسرے کے بارے میں ناواقفیت کو محسوس کیا۔ اس کا سروے محدود تھا، مگر اس سے اسے سوچنے کا موقع ملا کہ جب پڑوسی ایک دوسرے سے کم ملتے ہیں تو غلط فہمیوں کو جگہ مل سکتی ہے۔ سوشل میڈیا کی غیر مصدقہ خبریں ان فاصلوں میں اضافہ کرسکتی ہیں۔ پڑوسیوں کے حقوق سے متعلق سیرتِ نبوی ﷺ کی تعلیمات سے رہنمائی لیتے ہوئے اس نے محلے کی سطح پر امن کمیٹی قائم کرنے کی تجویز دی۔ مختلف طبقات کے افراد باقاعدہ ملیں، ایک دوسرے کی بات سنیں، اشتعال انگیز خبروں کی تصدیق کریں اور اختلاف کی صورت میں گفتگو اور ضرورت پڑنے پر انتظامیہ کے تعاون سے مسئلے کو حل کریں۔ اس نوجوان کی خواہش تھی کہ پڑوسی ایک دوسرے کو پہچانیں اور ان کے درمیان احترام اور اعتماد قائم رہے۔
غربت، قرض اور انصاف کے سوال
غربت سے پاک معاشرے پر گفتگو کرنے والی طالبہ سے پوچھا گیا کہ خواتین کو معاشی طور پر بااختیار کیسے بنایا جائے۔ اس نے جواب دیا کہ گھر اور معاشرے کی سوچ بدلنے اور خواتین کو اپنی صلاحیتیں استعمال کرنے کے مواقع دینے کی ضرورت ہے۔ سودی معیشت پر بولنے والی طالبہ نے ان خاندانوں کی مثال دی جو مہنگی شادیوں اور نمائش کے لیے قرض لیتے ہیں اور برسوں اس کا بوجھ اٹھاتے ہیں۔ اس نے لوگوں کی آرا معلوم کی تھیں اور قرضِ حسنہ اور نفع و نقصان میں شراکت جیسے متبادل طریقوں کا ذکر کیا۔
عدل و انصاف پر ایک نوجوان نے امیر و غریب کے ساتھ مختلف سلوک، تعلیمی اداروں میں امتیاز اور قانون کے یکساں نفاذ کا سوال اٹھایا۔ دوسرے نے جھوٹ، نقل اور بددیانتی کو موضوع بنایا۔ ان بچوں کی مختصر مقامی تحقیقات کو پورے معاشرے کی نمائندہ تحقیق نہیں کہا جاسکتا؛ تاہم لوگوں سے سوال کرنا، بات سننا اور حاصل شدہ معلومات پر غور کرنا اپنے آپ میں ایک قیمتی تعلیمی عمل تھا۔
جب ججوں کے سوالات پر بچے کھل کر بولے
تقاریر کے بعد تین مرد اور چار خواتین ججوں کے پینل نے بچوں سے ان کی تحقیق اور عملی منصوبوں کے بارے میں سوالات کیے۔ بعض سوالات کے لیے تیار شدہ تقریر کافی نہیں تھی؛ انہیں اسی وقت سوچ کر جواب دینا تھا۔ انتخابی بدعنوانی پر بولنے والی طالبہ نے سامعین کو گفتگو میں شریک کیا، ذہنی صحت والے نوجوان نے اپنی حدود تسلیم کیں، اور دوسرے بچوں نے بھی اعتماد سے اپنی رائے پیش کی۔ ہال کبھی پوری توجہ سے خاموش رہتا اور کبھی تالیوں سے گونج اٹھتا۔ یہ سوال و جواب بچوں کی ذہنی تیاری اور مکالمے کی صلاحیت کو سامنے لے آیا۔
’’میں یہ کرسکتا ہوں!‘‘
مہمانِ خصوصی، جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر ایس امین الحسن نے بچوں کی کارکردگی کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ سیرت کے مختلف پروگراموں میں شرکت کے باوجود سماجی مسائل کے انتخاب، تحقیق، لوگوں سے ملاقات اور عملی منصوبوں کو سیرت کے مطالعے سے جوڑنے کا یہ طریقہ انہیں منفرد محسوس ہوا۔ انہوں نے تمام شریک طلبا کو مبارک باد دی: مقابلے میں حصہ لینے کی ہمت اور اپنی صلاحیتوں کو آزمانا بھی اہم ہے؛ انعام بعد کی بات ہے۔ طالبات کی نمایاں شرکت پر انہوں نے خصوصی خوشی ظاہر کی۔بچوں کی نفسیاتی نشوونما پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے خود اعتمادی کے دو جملے دہرائے: “I can do it. I can do it by myself.” یعنی ’’میں یہ کرسکتا ہوں، میں خود یہ کام انجام دے سکتا ہوں۔‘‘ اس کا عملی نمونہ اسی اسٹیج پر تھا، جہاں نوجوان نظامت کررہے تھے، مسائل پر اپنی تحقیق پیش کررہے تھے اور ججوں کے سوالوں کا جواب دے رہے تھے۔ امین الحسن صاحب نے ذات پات، مذہبی منافرت، ناانصافی اور بددیانتی جیسے مسائل کو بھی سیرتِ رسول ﷺ کی انسانی مساوات اور انصاف کی تعلیمات سے جوڑا۔
دس بچے، ایک یادگار منظر
پروگرام کے اختتام پر دسوں فائنلسٹ اسٹیج پر آئے۔ امین الحسن صاحب نے ایک ایک سے بات کی، ان کی محنت سراہتے ہوئے کبھی ’’بہت شاندار بیٹے!‘‘ کبھی “Fantastic!” اور “Congratulations!” کہا۔ ایک بچے نے سرٹیفکیٹ چہرے کے سامنے اٹھایا ہوا تھا تو انہوں نے بے تکلفی سے کہا: ’’بیٹے، سرٹیفکیٹ ذرا نیچے رکھو، تمہارا چہرہ نظر آنا چاہیے۔‘‘ اس چھوٹے سے جملے میں ان کی اپنائیت جھلک رہی تھی۔
پہلے تین مقامات پانے والوں کو اعزازات ملے اور باقی سات بچوں کو حوصلہ افزائی کے انعامات دیے گئے۔ بعض بچوں کی آنکھیں نم ہوگئیں؛ شاید ان کی امیدیں کسی اور نتیجے سے وابستہ تھیں۔ لیکن ان سب کی محنت کو عزت ملی۔ کسی نے بزرگوں کے گھر جاکر بات سنی تھی، کسی نے مختلف طبقات کے لوگوں سے ملاقات کی تھی، کسی نے اپنے موضوع پر مطالعہ اور مشق میں وقت لگایا تھا۔ اس موقع تک پہنچنے میں جماعت اسلامی ہند بسوا کلیان کے ارکان و کارکنان، اساتذہ، ججوں، رہنمائی کرنے والوں، رضاکاروں اور ایس آئی او، جی آئی او اور یوتھ موومنٹ کے وابستگان کی مشترکہ محنت شامل تھی۔
کیا یہ سلسلہ آگے بھی جاری رہے گا؟
پروگرام ختم ہوا، اسٹیج کی سرگرمیاں تھم گئیں اور سامعین گھروں کو لوٹ گئے۔ مگر بچوں نے جن مسائل پر سوال اٹھائے تھے وہ اپنی جگہ موجود ہیں۔ کیا بزرگوں سے ملنے والی طالبہ اور اس کے ساتھی دوبارہ ان کے پاس جائیں گے؟ کیا امن کمیٹی قائم ہوگی؟ کیا ذہنی پریشانی کے شکار لوگوں کو سننے اور مدد دلانے کے لیے قدم اٹھیں گے؟ بچوں کے 30، 60 اور 90 دن کے منصوبے عملی زندگی میں کہاں تک پہنچیں گے؟ ان سوالوں کے جواب ابھی آنے والے وقت کے پاس ہیں۔
جماعت اسلامی ہند بسوا کلیان کے امیرِ مقامی اسلم صاحب نے اپنے تاثرات میں کہا: ’’سیرت ڈائیلاگ کو جس غیر معمولی پذیرائی اور تعاون سے نوازا گیا، اس پر ہم اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہیں۔ اس کامیابی نے ہماری خوشی کے ساتھ ہمارے کندھوں پر ایک بڑی ذمہ داری بھی ڈال دی ہے۔ اب اصل چیلنج اس تجربے کو جاری رکھنا، بچوں کے جذبے اور عملی منصوبوں کو آگے بڑھانا اور اسے دوسروں کے لیے قابلِ تقلید نمونہ بنانا ہے۔ ہم اس کامیابی کو اللہ تعالیٰ کا فضل سمجھتے ہیں اور اسی سے دعا کرتے ہیں کہ وہ اس کوشش کو جاری رکھنے اور اسے وسعت دینے کی توفیق عطا فرمائے۔‘‘
اسداللہ ذکی نے افتتاحی خطاب میں کہا تھا کہ سیرت کسی ایک دن کا جشن نہیں، زندگی کے ہر مرحلے میں رہنمائی کا ذریعہ ہے۔ بسوا کلیان کے بچوں نے اس تصور کو اپنے مطالعے، سوالات اور ملاقاتوں کے ذریعے سمجھنے کی کوشش کی۔ انہیں آگے بڑھنے اور اپنے منصوبوں پر عمل کے مواقع ملیں تو یہ تجربہ دوسرے شہروں کے لیے بھی مفید ثابت ہوسکتا ہے۔ فی الحال اس کے دیرپا نتائج کا فیصلہ کرنا قبل از وقت ہوگا۔اس دن ہزاروں لوگوں نے نئی نسل کی آواز سنی۔ ان بچوں نے اپنے زمانے کے سوالات سیرتِ رسول ﷺ کے سامنے رکھ دیے ہیں۔ ان سوالوں کے جواب ان کی آنے والی زندگیوں میں کس طرح ظاہر ہوں گے، یہی اس خوب صورت تجربے کی اصل آزمائش ہوگی۔
نئی نسل کی تربیت میں سیرتِ رسول ﷺ کا کردار

جب بچوں نے اپنے زمانے کے سوالات سیرتِ رسول ﷺ کے سامنے رکھے

