مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے درمیان ایک نیا فارمولہ سامنے لایا جا رہا ہے۔ سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے دفاعی معاہدے ’’مکہ پیکٹ‘‘ میں ایران کو شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے لیڈر مہدی رحیمی نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ مکہ پیکٹ میں شامل ہونے پر غور و خوض جاری ہے، جبکہ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ علاقائی دفاع کے معاملات پر گفت و شنید کے لیے بیک ڈور چینل کے ذریعے چند تجاویز ضرور موصول ہوئی ہیں۔
اسی اثنا میں پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایران کا دورہ کیا۔ باوثوق ذرائع کے مطابق منیر ایران-امریکہ جنگ کے فائنل ڈیل پر گفتگو کریں گے۔
اصلاً سات اگست 2026 کو مکہ پیکٹ ہوا تھا۔ اس کے مطابق کسی بھی رکن ملک پر حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ ان تینوں ممالک کی اپنی اپنی الگ حیثیت ہے۔ سعودی عرب کے پاس مالی طاقت ہے، پاکستان ایک جوہری قوت رکھنے والا ملک ہے اور دنیا کی بڑی فوجی طاقتوں میں شمار ہوتا ہے، جبکہ ترکی کی دفاعی صنعت ان تینوں ممالک میں سب سے طاقتور ہے۔
سعودی عرب کو اپنے دفاع کے لیے ان دونوں ممالک کی شدید ضرورت ہے، جبکہ پاکستان اور ترکی کو اقتصادی بحران سے نبرد آزما ہونے کے لیے سعودی مالی امداد درکار ہے۔ ایران بھی پچاس سالہ ناجائز امریکی اقتصادی پابندیوں سے پریشان ہے۔ اس لیے اگر ایران بھی اس پیکٹ میں شامل ہوتا ہے تو مغربی ایشیا میں ایک بالکل مختلف تزویراتی و لاجسٹک تصویر سامنے آ سکتی ہے۔
اس وقت اس خطے میں دو سب سے بڑے کھلاڑی ایران اور اسرائیل ہیں جو خطے کی تقدیر لکھنے میں مشغول ہیں۔ ممکن ہے کہ ایران اس پیکٹ میں شامل ہونے کے لیے آگے بڑھے، مگر اندیشہ ہے کہ امریکہ اس میں رکاوٹ ڈالے گا۔
19 دن قبل سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان نیٹو طرز کا دفاعی معاہدہ ہوا تھا، جس میں بنگلہ دیش کے شامل ہونے کی قیاس آرائیاں بھی جاری ہیں۔ اس سلسلے میں ابھی کوئی باضابطہ اعلان نہیں ہوا مگر دو بنگلہ دیشی وزراء کے بیانات سے اس پر گفتگو شروع ہوئی ہے۔
بنگلہ دیشی وزیر اعظم کے مشیر ہمایوں کبیر 21 اگست کو بنگلہ دیش کی وزارتِ خارجہ کے جونیئر وزیر بنے۔ اسی روز انہوں نے کہا کہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے فریم ورک میں شامل ہونے کے حوالے سے بنگلہ دیش کا رخ مثبت ہے۔ یہ فیصلہ بنگلہ دیش اپنے مفادات کو مد نظر رکھتے ہوئے کرے گا۔
اسی دن وزارتِ خارجہ کی ایک اور جونیئر وزیر شمع عبید نے بھی کہا ’’ہمارا کسی بھی پیکٹ میں شامل ہونا اس بات پر منحصر ہوگا کہ اس سے بنگلہ دیش کے اقتصادی اور دیگر مفادات کس حد تک محفوظ رہیں گے۔ بنگلہ دیش کی اپنی مسلم شناخت کی وجہ سے ہی مشرقِ وسطیٰ اور شراکت دار اسلامی ممالک بنگلہ دیش کو مکہ پیکٹ میں شامل ہونے کی دعوت دے رہے ہیں۔‘‘
ہمایوں کبیر نے یہ بھی بتایا کہ وزیر اعظم طارق رحمان کو سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے ریاض آنے کی دعوت دی ہے۔
دفاعی پیکٹ میں ممکنہ بنگلہ دیشی شمولیت پر مختلف آرا ہیں۔ سینئر دفاعی صحافی منوج جوشی کہتے ہیں ’’اگر یہ سنی ممالک کے درمیان کا پیکٹ ہے تو اس میں بنگلہ دیش بھی شامل ہو سکتا ہے۔ اور اگر اس کا مقصد مشرقِ وسطیٰ کی علاقائی دفاع (Regional Security) ہے تو اس میں بنگلہ دیش کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہے۔‘‘
اسٹریٹجک اینالسٹ برہما چیلانی بھی کہتے ہیں کہ یہ سمجھوتہ چار سنی ممالک کا پیکٹ ہو سکتا ہے۔ حکم راں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے اسلامی طاقتوں کے ساتھ گہرے روابط رہے ہیں۔ رحمان کی خارجہ پالیسی ان کی پارٹی کی اسی پرانی حکمتِ عملی کی طرف مڑتی نظر آ رہی ہے۔ بی این پی اپنے کٹر سنی اسلامی رخ کے حوالے سے پہچانی جاتی ہے۔
ہمایوں کبیر نے سمجھوتے کے تعلق سے وضاحت کرتے ہوئے بیان دیا ہے کہ مکہ بنگلہ دیشیوں کے دل میں بسا ہوا ہے۔ ادھر بنگلہ دیش کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل وقار الزماں نے مئی 2026 میں حج سے واپسی کے بعد داڑھی بڑھا لی ہے۔ دوسری طرف وقار الزماں نے فوج کی چار یونٹس کے نام چار خلفائے راشدین کے نام پر رکھے ہیں۔
پیکٹ میں شامل ہونے کے بعد بنگلہ دیش کو سعودی عرب سے غیر ملکی روزگار، سرمایہ کاری اور تیل مل سکتا ہے، ترکی سے دفاعی ٹیکنالوجی، ہتھیار اور تربیت حاصل ہو سکتی ہے، جبکہ پاکستان اسلامی محاذ پر فوجی و سماجی تعاون فراہم کر سکتا ہے۔
سابق تجزیہ نگار شہید الاسلام لکھتے ہیں کہ سمجھوتے میں شامل دیگر ممالک بنگلہ دیش جیسے چھوٹے ملک پر دباؤ بھی ڈال سکتے ہیں۔ اس میں بنگلہ دیش کو یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا اسے بھارت، پاکستان یا ایران-سعودی عرب کے درمیان جنگ سے الگ رہنے کی آزادی حاصل ہوگی؟
منوج جوشی کہتے ہیں کہ مکہ پیکٹ کا نصب العین واضح نہیں ہے۔ اس کا نشانہ ایران، امریکہ یا کوئی اور ملک ہو سکتا ہے۔ بنگلہ دیش خود تین اطراف سے بھارت سے گھرا ہوا ہے، اس لیے فی الوقت بھارت کے لیے بہتر ہے کہ وہ صرف حالات پر گہری نظر رکھے۔
اصلاً پاکستان کے ذریعے سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ مکہ متحدہ دفاعی سمجھوتے پر دستخط کے بعد پاکستانی وزیرِ دفاع نے کھل کر ’’اسلامی نیٹو‘‘ کی مانگ کو تیز کرتے ہوئے مسلم ممالک کو بھارت اور اسرائیل کی جانب سے درپیش دفاعی چیلنجز کے خلاف متحد ہونے کی تجویز پیش کی ہے۔
مشہور تجزیہ نگار حسین حقانی کے مطابق مغربی ایشیا کی مقابلہ آرائی کے درمیان پاکستان اپنا اسٹریٹجک اثاثہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ پاکستان کی کامیابی اس بات پر منحصر ہوگی کہ وہ پیچیدہ مقابلہ آرائیوں کو کس طرح سنبھالتا ہے اور مغربی ایشیا کے ممالک دفاعی شراکت داری کے لیے پاکستان کا ساتھ دینے کی خاطر بھارت کے ساتھ اپنے معاشی تعلقات کو خطرے میں ڈالنے کے لیے کس حد تک تیار ہیں۔
اگرچہ حوثیوں اور ایران کے ساتھ اسٹریٹجک مقابلہ آرائی ریاض کے لیے باعثِ تشویش ہے، تاہم متحدہ امریکی۔اسرائیلی فوجی قوت کے باوجود ایران کو شکست دینے کی امریکی صلاحیت، اپنی سلامتی کی چھتری پر کمزور ہوتے اعتماد کے ساتھ چین-پاکستان ایکسس اور امریکہ کی مبہم حمایت، مکہ پیکٹ کو کچھ اضافی فائدہ پہنچا سکتی ہے۔
بھارت نے لاجسٹک طور پر خود کو موجودہ تنازع سے الگ رکھتے ہوئے مذاکرات اور سفارتی راستہ اختیار کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ معمہ یہ ہے کہ امریکہ اور ایران کی جنگ میں ایسے علاقائی اور خطے سے باہر کے حلقے بھی شامل ہیں جو بھارت کے اسٹریٹجک پارٹنر ہیں۔ خواہ وہ امریکہ ہو، صہیونی دہشت گرد ریاست اسرائیل، ایران یا خلیج کی متاثرہ ریاستیں، صورتِ حال مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے اور سپلائی چین میں رکاوٹیں بڑھتی ہیں۔
ایسے حالات میں بھارت کے متبادل محدود ہو جاتے ہیں اور توانائی کی سلامتی کے ساتھ مختلف شعبوں میں سپلائی چینز کا بکھراؤ بھی ایک بڑا چیلنج بن جاتا ہے۔ روس سے بھارت کی ہونے والی 40 فیصد سے زائد توانائی درآمدات پر امریکہ کی جانب سے صد فیصد ٹیرف کا دباؤ پڑ سکتا ہے۔
یہ واضح ہے کہ ایک طرف امریکہ-اسرائیل اور دوسری طرف ایران اور اس کے معاونین کے درمیان طویل عرصے سے ٹالی جانے والی کشمکش بالآخر نئی مساوات اور نئی حرکیات کو جنم دے رہی ہے۔ یہ سب ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب طاقتور ممالک اپنے معاونین اور شراکت داروں کے تحفظ کی صلاحیت کھوتے جا رہے ہیں۔
پاکستان ایک طرح سے اقتصادی طور پر کمزور ملک ہے اس لیے پاکستان قطر اور مصر کو بھی اس پیکٹ میں شامل کرنے کی کوشش کرے گا تاکہ خلیجی ممالک سے اسے اقتصادی امداد مل سکے۔ یہ دیکھنا دور کی کوڑی ہوگی کہ ’’مسلم نیٹو‘‘ کا مستقبل کیا رخ اختیار کرتا ہے؟
شیخ حسینہ کو لے کر بنگلہ دیش اور بھارت کے تعلقات میں تلخی پیدا ہو گئی ہے۔ اگر بنگلہ دیش مکہ پیکٹ میں شامل ہوتا ہے تو بھارت پر اس کے کیا اثرات پڑ سکتے ہیں؟
برہما چیلانی کہتے ہیں ’’پیکٹ میں بنگلہ دیش کے شامل ہونے سے بحرِ عرب اور خلیجِ بنگال کے علاقے میں سیکیورٹی سے جڑا پورا انفراسٹرکچر بدل جائے گا۔ بنگلہ دیش کے ساتھ بھارت کے اقتصادی اور سیاسی رشتے بھی بدل سکتے ہیں۔ اس سے ممکنہ طور پر بھارت کی گھیرا بندی بڑھ سکتی ہے، کیونکہ طارق رحمان چین سے بھی رشتے استوار کر رہے ہیں۔ بھارت کو گھیرنے کا ارادہ تو نظر آتا ہے لیکن طویل عرصے تک بھارت جیسی اقتصادی طاقت کی مخالفت کرنا ممکن نہیں ہے۔ حالات خراب ہونے سے قبل ہمیں سعودی عرب کے ساتھ مزید اقتصادی و سیاسی تعلقات بہتر کرنے ہوں گے اور ہم ترکی سے بھی اچھے رشتے بنا سکتے ہیں۔‘‘
ڈاکٹر راجن کمار کہتے ہیں کہ مسلم ممالک سے بھارت کے رشتے اچھے رہے ہیں۔ بھارت چاہے گا کہ اس کے قریبی ممالک، ملیشیا اور انڈونیشیا جیسے ممالک اس پیکٹ سے دور رہیں۔
یاد رہے کہ سعودی عرب، پاکستان، ترکی اور بنگلہ دیش اہم بحری شاہراہوں پر واقع ہیں۔ برہما چیلانی کہتے ہیں کہ ان ممالک کی مضبوط بحری پوزیشن کا مقابلہ کرنے کے لیے بحرِ ہند میں اپنی بحری طاقت بڑھانے پر کام کرنا ہوگا۔
موجودہ تناظر میں امریکی ترجیحات بدل چکی ہیں۔ پھر بھی وہ پاکستان کو مکمل طور پر غیر اہم نہیں دیکھنا چاہتا۔ وہیں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے خلیجی ممالک کے لیے بھی پاکستان ایک اہم سلامتی شراکت دار بنا ہوا ہے۔اس طرح الگ الگ وجوہات کی بنا پر کئی ممالک پاکستان میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
مکہ پیکٹ سے ’’اسلامی نیٹو‘‘ تک: مغربی ایشیا میں نئی صف بندی

سعودی، پاکستان، ترکی دفاعی اتحاد؛ بنگلہ دیش کی ممکنہ شمولیت نے بھارت کی تشویش بڑھا دی

