آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت تمام تر عوامی مخالفت کے باوجود زیڈ پلس سرکاری تحفظ میں امریکہ گھوم آئے جبکہ تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی کو وہاں جانے سے روک دیا گیا۔ سنگھ کے اشارے پر چلنے والی سرکار کے اس معاندانہ رویہ نے موہن بھاگوت کے میڈیسن اسکوائر پر دیے گئے بھاشن کی پول کھول دی۔ اس نے بتا دیا کہ عام ہندوستانی کا ڈی این اے کثرت میں وحدت والا ہو نہ ہو سنگھ پریوار کا تو ہرگز نہیں ہو سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ مودی سرکار موہن بھاگوت کے لیے تو سات سمندر پار جا کر سرخ قالین بچھا دیتی ہے مگر تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ کے پیروں میں بیڑیاں ڈال دیتی ہیں۔ یو پی کا گنوار وزیر اعلیٰ اگر سنگاپور اور جاپان جا کر ریاست کو ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانے اور عالمی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کی کوشش کر سکتا ہے تو تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ کو امریکہ جانے سے کیوں روک دیا جاتا ہے جبکہ مواقع اور امکانات یو پی سے کہیں زیادہ تلنگانہ میں ہیں؟
موہن بھاگوت نے نیویارک جا کر بڑی ڈھٹائی سے کہ دیا کیا کہ ہندوستان کے ڈی این اے میں ’تنوع میں اتحاد‘ پایا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا مودی سرکار کا ڈی این اے ہندوستانی نہیں ہے جو ریونت ریڈی کے تنوع کو برداشت نہیں کرسکا جبکہ گجرات کے وزیر اعلیٰ بھوپندر پٹیل کو انہیں تاریخوں میں امریکہ کے ساتھ ساتھ کینیڈا بھی جانے کی اجازت مل گئی؟ بھوپندر پٹیل نے اگست 2026 میں امریکہ اور کینیڈا کا دورہ کیا تاکہ جنوری 2027 میں ہونے والی "وائبرنٹ گجرات گلوبل سمٹ 2027" کے لیے عالمی سرمایہ کاروں، کاروباری رہنماؤں اور تکنیکی کمپنیوں کو مدعو کیا جاسکے۔ ایک سوال یہ بھی ہے کہ کیا اس کام کے لیے وزیر اعلیٰ کا خود دورہ کرنا ضروری تھا؟ وہ اپنے اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ 17؍ سے 26 اگست تک ٹورنٹو، سان فرانسسکو، واشنگٹن ڈی سی اور نیویارک کی سیر کرتے رہے مگر میڈیا میں کوئی خبر تک نہیں بنی۔ سوال یہ ہے کہ اگر بھوپندر پٹیل کا گوگل، مائیکرون، اپلائیڈ مٹیریلز، والمارٹ اور پرپلیکسٹی جیسی بڑی کمپنیوں کے سربراہوں سے ملنا گجرات کی معاشی ترقی کے لیے ضروری ہے تو ریونت ریڈی کا ایسا کرنا تلنگانہ کے لیے کیوں ضروری نہیں ہے؟ ملک کے اندر سیمی کنڈکٹرز، آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) ڈیٹا سنٹرز اور ایڈوانسڈ مینوفیکچرنگ کا مرکز احمد آباد نہیں حیدرآباد ہے۔ ایسے میں تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ کو روکنا عوام کی حق تلفی اور موہن بھاگوت کی دعوے کی تردید ہے۔
وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے اس دورے کی تیاری نو ماہ قبل شروع کی تھی۔ انہوں نے خود دسمبر 2025 میں امریکہ سے تعلقات کو بہتر بنانے کا ایک منصوبہ پیش کیا تھا لیکن پھر امریکہ کے تجارتی محصولات (ٹیرف) سے متعلق تنازع سے عالمی سطح غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی۔ جب وہ کسی طرح قابو میں آئی تو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث اس تجویز کو عارضی طور پر مؤخر کرنا پڑا لیکن جون کے آتے آتے جب حالات میں نسبتاً بہتری آئی تو تلنگانہ کی حکومت نے اس منصوبے کو دوبارہ فعال کرتے ہوئے پھر پیش قدمی کی۔ وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے 16؍ جون کو تلنگانہ اور امریکہ کے درمیان اقتصادی و سفارتی تعلقات کو مضبوط کرنے کے لیے حیدرآباد میں واقع امریکی قونصل خانے کے قریب ایک اہم سڑک کا نام ’’ڈونالڈ ٹرمپ ایونیو‘‘ رکھا، اس شاہراہ کا باقاعدہ افتتاح 23 جون کو ہو گا۔ اس تقریب میں دہلی سے امریکہ کے سفیر سرجیو گور سمیت متعدد اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ان لوگوں کی تفریح طبع کے لیے سفارتی کے ساتھ ثقافتی سرگرمیاں یعنی ناچ رنگ کا بھی انعقاد ہوا تاکہ امریکی یومِ آزادی (4 جولائی) کی تقریبات سے قبل دونوں ممالک کے تعلقات بہتر بنائے جائیں۔
حکومتِ تلنگانہ نے اس پیش رفت کی بابت اعلان کیا کہ ’’ڈونالڈ ٹرمپ ایونیو‘‘ کا نام صرف ایک علامتی اقدام نہیں بلکہ یہ امریکہ اور حیدرآباد کے درمیان مضبوط تجارتی اور سرمایہ کاری شراکت داری کا عکاس ہے۔ سرکاری ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکہ تلنگانہ میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے، نئی سرمایہ کاری لانے اور ریاستی معیشت کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ حکومت نے اس اقدام کے ذریعے عالمی سرمایہ کاروں کو یہ پیغام دیا کہ بلا شبہ حیدرآباد بین الاقوامی کاروبار اور ٹیکنالوجی کا ایک اہم مرکز بن چکا ہے۔ اس وقت یہ انکشاف بھی کیا گیا کہ حکومت مستقبل میں بعض سڑکوں کو عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں جیسے گوگل اور مائیکروسافٹ سے منسوب کرنے پر بھی غور کر رہی ہے تاکہ حیدرآباد کی شناخت ایک جدید، اختراعی اور سرمایہ کاری دوست شہر کے طور پر مزید مضبوط ہو سکے۔ تلنگانہ میں اگر ڈبل انجن سرکار ہوتی تو بی جے پی والے ان اقدامات کو خوب سراہتے مگر چونکہ کانگریس کی حکومت ہے اس لیے ان کے پیٹ میں مروڑ ہونے لگی۔
تلنگانہ بی جے پی کے صدر رام چندر راؤ نے کانگریس حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا کہ ایک امریکی صدر کے نام پر سڑک کا نام رکھنا کس حد تک مناسب ہے؟ ارے بھائی! اگر مودی بوسٹن جا کر ٹرمپ کی انتخابی مہم میں حصہ لیتے ہوئے ’اب کی بار ٹرمپ سرکار‘ کا نعرہ لگا سکتے ہیں اور انہیں کورونا کے خطرات کے باوجود اپنی کرم بھومی احمد آباد بلا کر ’نمستے ٹرمپ‘ کے لیے لاکھوں لوگوں کو جمع کر سکتے ہیں تو ایک سڑک کی کیا بساط ہے؟ اس ملک میں بھگوا بھگتوں نے تو ٹرمپ کی جیت کے لیے ہوون تک کر دیا تھا یہ اور بات ہے کہ تمام تر نوٹنکی کے باوجود وہ پچھلا الیکشن ہار گئے۔ رام چندر راو نے کہا کہ راہل گاندھی کا ڈونالڈ ٹرمپ کے بارے میں سخت موقف اختیار کرنا اور ریونت ریڈی کا ’’ڈونالڈ ٹرمپ ایونیو‘‘ کا افتتاح کرنا دونوں متضاد ہے۔ انہوں نے کانگریس سے اس معاملے میں پارٹی کا اصل موقف واضح کرنے مطالبہ کیا اور پوچھا کہ آیا یہ اقدام سیاسی مفادات کے تحت کیا جا رہا ہے یا واقعی بین الاقوامی تعلقات کو فروغ دینے کے لیے؟ یہ سوال وہ مودی سے متعلق نہیں پوچھ سکتے کیونکہ ساری دنیا انہیں جی حضوریا مانتی ہے۔
رام چندر راو کے سوال کا تلنگانہ حکومت نے جواب دیا کہ یہ امریکہ-بھارت اسٹریٹجک پارٹنرشپ فورم اور ’’تلنگانہ رائزنگ گلوبل سمٹ 2025‘‘ کے دوران کیے گئے وعدوں کا تسلسل ہے۔ وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے ان بین الاقوامی فورموں میں متعدد بار اس بات پر زور دیا تھا کہ عالمی کمپنیوں نے حیدرآباد کو بھارت کے نمایاں ٹیکنالوجی مراکز میں تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ حکومت کے مطابق اس نوعیت کے علامتی اقدامات عالمی کاروباری اداروں کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے اور ریاست کی بین الاقوامی شناخت کو مزید مستحکم کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ یہ محض ہوائی باتیں نہیں ہیں بلکہ گزشتہ دو برسوں کے دوران دنیا کی کئی بڑی فارچیون 500 کمپنیوں نے حیدرآباد میں اپنے گلوبل کیپیبلٹی سنٹرز (GCCs) قائم کیے ہیں یا ان کے قیام کا اعلان کیا ہے۔ان میں کوسٹکو ہول سیل، ایلی للی، ایچ سی اے ہیلتھ کیئر، میکڈونلڈز اور نیشن وائیڈ انشورنس شامل ہیں۔ اس کے علاوہ وینگارڈ، یو ایس بینکارپ، ٹی موبائل، ایل پی ایل فائنانشل اور ریجینیرون فارماسیوٹیکلز جیسی کمپنیاں بھی دلچسپی لے رہی ہیں۔
فی الحال ملک کا سب سے بڑا مسئلہ تعلیم یافتہ نوجوانوں میں پھیلی ہوئی بیروزگاری ہے۔ ایسے میں تلنگانہ حکومت یو پی یا گجرات کی مانند ہندو مسلم کارڈ کھیل کر اپنی سیاست چمکانے کے بجائے ان عالمی اداروں کے اشتراک سے ریاستی معیشت کو مستحکم کرنے اور اس کے ذریعہ ہزاروں نئی ملازمتیں پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے تو مرکزی سرکار کو اس میں تعاون کرنا چاہیے نہ کہ رکاوٹ ڈالنا چاہیے؟ صوبائی سرکار کی کوششوں کے سبب نہ صرف سافٹ ویئر بلکہ بینکنگ، مالیاتی خدمات اور انشورنس (BFSI) شعبے کے گلوبل کیپیبلٹی سنٹرز کا پسندیدہ مقام بھی حیدرآباد بن گیا ہے۔ناسکام جی سی سی لینڈ اسکیپ رپورٹ 2026 کے مطابق 2025 کے دوران ملک میں قائم ہونے والے نئے BFSI گلوبل کیپیبلٹی سنٹرز میں سے تقریباً نصف نے حیدرآباد کا انتخاب کیا ہے۔ اس رجحان کی وجہ سے شہر میں دستیاب اعلیٰ معیار کی افرادی قوت، جدید انفراسٹرکچر اور تیزی سے ترقی پذیر کاروباری ماحول ہے۔جبکہ یو پی یا گجرات میں دور دور تک ایسی فضا نہیں ہے۔
حیدرآباد کو گزشتہ ایک دہائی کے دوران ہندوستان کے سب سے اہم ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری مراکز میں شمار ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ اس کا جیتا جاگتا ثبوت یہاں مائیکروسافٹ، گوگل، ایمیزون، فیس بک اور دیگر عالمی کمپنیوں کے بڑے دفاتر ہیں۔ ایسے میں مرکزی حکومت کی جانب سے کی جانے والی حوصلہ شکنی شرمناک اور بغض و عناد کی غماز ہے۔ حیدرآباد میں ’’ڈونالڈ ٹرمپ ایونیو‘‘ کے افتتاح پرخود امریکی صدر نے خود اظہار تشکر کرتے ہوئے ٹروتھ سوشل پر لکھا تھا "حیدرآباد، انڈیا میں نیا ڈونالڈ ٹرمپ ایونیو ۰۰ اس طرح کا اعزاز پانے والا پہلا امریکی صدر ۰۰ آپ کا شکریہ" اپنی پوسٹ میں ٹرمپ نے تلنگانہ کے نائب وزیر اعلیٰ ملو بھٹی وکرمارکا اور ہندوستان میں امریکی ایلچی سرجیو گور کی سڑک کے نام کی رسمی تختی کی نقاب کشائی کرتے ہوئے ایک تصویر شیئر کی تھی۔ ٹرمپ کے ساتھ تعلقات کی استواری کا معاملہ لفظی بیان بازی تک محدود نہیں رہا بلکہ اگست میں حیدرآباد کے ترقی پذیر علاقے کوکاپیٹ کے گولڈن مائل روڈ پر ٹرمپ ٹاورز حیدرآباد کے نام سے دو بلند و بالا رہائشی ٹاورز تعمیر کے منصوبے کا اعلان بھی ہوا۔
ٹریبیکا ڈیولپرز نے اِرا ریئلٹی کے اشتراک سے جنوبی ہند میں ٹرمپ برانڈ کے رہائشی منصوبوں کے میدان میں پہلی بڑی پیش رفت کی۔ اس کے تحت دو 65 منزلہ ٹاوروں تعمیر کا کام شروع ہوا جن کو 28ویں منزل پر ایک معلق پل کے ذریعے آپس میں جوڑا جائے گا۔ اس پل پر بننے والے ٹرمپ کلب سے شہر حیدرآباد کے خوبصورت نظاروں سے لطف اندوز ہونے کی سہولیات فراہم کی جائیں گی نیز 450 سے زائد لگژری رہائشی یونٹس تعمیر کیے جائیں گے۔ ان تفصیلات کو پیش کرنے کا مقصد یہ ظاہر کرنا ہے کہ یہ کوئی ہوائی کام نہیں ہے کہ جعلی ایم او یو پر دستخط کرکے سرکاری امداد کو نگل لیا جائے جیسا کہ حال میں اتر اکھنڈ میں ہوا۔ وزارت خارجہ کی جانب سے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی کے امریکی دورے کی اجازت سے انکار کو مندرجہ بالا حقائق کی روشنی میں دیکھنا چاہیے۔ تلنگانہ رائزنگ ٹیم کے دورہ امریکہ کا منسوخ کرنا مرکز کی جانب سے تلنگانہ کے تئیں سیاسی کینہ پروری ہے۔
ریاستی حکومت نے وزیر اعلیٰ کے برطانیہ اور امریکی دورہ کی مرکز سے سرکاری طریقہ کار اور پروٹوکول کے مطابق اجازت طلب کی تھی۔ ابتدا میں برطانیہ کے دورہ کی اجازت دی گئی مگر امریکہ کی بابت خاموشی رہی۔ سرکاری وفد جب برطانیہ کے دورے پر تھا تو اطلاع دی گئی کہ امریکہ کے دورہ کی اجازت نہیں ہے۔ کسی وزیر اعلیٰ کے ساتھ ایسا سلوک کرنا مرکزی حکومت کی تنگ نظری کا مظہر ہے۔ اس دورے کا ایک مقصد مرکز کی نئی تعلیمی پالیسی کے تحت دنیا کی معروف یونیورسٹیوں کو تلنگانہ اور حیدرآباد میں سرگرمیوں کے آغاز کی ترغیب دینا تھا۔ مختلف یونیورسٹیوں کے ساتھ ابتدائی مرحلہ کے مذاکرات مکمل ہوچکے تھے اور دنیا کی نامور آئی وی لیگ یونیورسٹیوں اور عالمی سطح کے تعلیمی اداروں سے معاہدات کا امکان تھا۔مرکزی حکومت کو کم ازکم ملک کی تعمیر اور نوجوانوں کے مستقبل کے معاملہ میں ہر کسی کو سیاست اور الیکشن سے بالا تر ہوکر سوچنا چاہیے۔ملک کے نوجوان خصوصاً جین زی کو سوچنا چاہیے کہ ایک طرف ریونت ریڈی جیسا وزیر اعلیٰ برطانیہ میں آکسفورڈ، کیمبرج، لندن اسکول آف اکنامکس، لندن بزنس اسکول، یونیورسٹی آف لندن اور دیگر اداروں کا دورہ کر کے اسپورٹس کے علاوہ اسکل ڈیولپمنٹ کے شعبہ کے ماہرین سے ملاقات کرتا ہے اور دوسری جانب خود ساختہ نظریاتی و ثقافتی تنظیم کا سربراہ امریکہ جا کر صنعت کاروں سے ملاقات کرتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ موہن بھاگوت امریکہ کی کسی مشہور یونیورسٹی میں کیوں نہیں گئے؟ وہاں کے طلبا سے گفتگو کیوں نہیں کی؟ اس لیے کہ انہیں خوف ہے کہ نوجوانوں کے سوالات کے جواب وہ نہیں دے پائیں گے۔ اس سے بھی اہم سوال یہ ہے کہ موہن بھاگوت کے پاس تو کوئی سرکاری عہدہ نہیں ہے، وہ ریونت ریڈی کی طرح کسی صنعت کار کا کوئی مسئلہ حل نہیں کر سکتے پھر بھی ان سے خفیہ میٹنگ کیوں کی؟ کیا یہ بیرونی چندہ جمع کرنے کی کوئی سازش تھی؟ کیا ایف سی آر آئی کا قانون اس چندے پر لاگو نہیں ہوتا؟ کیا وہ جے شنکر کے الفاظ میں حکومت سے ان صنعتکاروں کی دلالی کریں گے؟ سلیکان ویلی کی معروف سرمایہ کار آشا جڈیجا موٹوانی اگر نیویارک میں آر ایس ایس کے سربراہ سے اپنی ملاقات کا ذکر سوزیل میڈیا پر نہیں کرتیں تو لوگ سمجھتے کہ بیمار ہونے کے سبب موہن بھاگوت صرف ایک تقریر کرکے لوٹ آئے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ریونت ریڈی کو، جو واقعی عوام کی فلاح و بہبود کے لیے گئے تھے روکنا اور موہن بھاگوت کے لیے تمام سہولیات فراہم کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ سنگھ پریوار سمیت مودی سرکار کو صرف اور صرف اپنا ڈنکا پیٹنے میں دلچسپی ہے۔ اس سے زیادہ ان کو نہ کچھ آتا ہے اور نہ وہ کرسکتے ہیں۔ اپنی اس کمزوری کو چھپانے کے لیے سنگھ باہر جا کر چکنی چپڑی باتیں کرتا ہے اور ملک کے اندر نفرت انگیزی کرتا ہے اس لیے اس کی مخالفت بھی ہوتی ہے۔
امریکہ میں ظہران ممدانی اور آصف محمود کے علاوہ ہندوز فار ہیومن رائٹس نے بھی موہن بھاگوت کے دورہ امریکہ کی مخالفت کی۔ اس کی ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر سراویات دیپلی نے اپنے بیان میں کہا کہ ’موہن بھاگوت ہندوؤں کی نمائندگی نہیں کرتے۔ وہ ایک انتہا پسند ہندو قوم پرست تحریک کی قیادت کرتے ہیں جس نے اقلیتی برادریوں میں خوف پیدا کیا ہے۔‘ ان کا مطالبہ ہے کہ ’نیویارک کو آر ایس ایس کو ایسا پلیٹ فارم نہیں دینا چاہیے جہاں مذہبی قوم پرستی کو اتحاد کی نئی شکل میں پیش کیا جائے۔ ہم سٹی ہال میں انڈیا کی حقیقی متنوع سوچ کے دفاع کے لیے جمع ہوں گے، جہاں کسی شخص کا مذہب یہ طے کرنے کی بنیاد نہ بنے کہ کون اس ملک کا حصہ ہے یا اقتدار پر کس کا حق ہے۔‘ انہوں نے امریکی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں میں ملوث آر ایس ایس کے ارکان اور انڈین حکام کے خلاف پابندیوں پر غور کرے جن میں موہن بھاگوت کو جاری کیا گیا ویزا منسوخ کرنا بھی شامل ہے۔ موہن بھاگوت نے وزیر اعظم کے ستمبر 2024 میں نیویارک کے میڈیسن سکوائر گارڈن کی سعی پر پانی پھیر دیا۔ اس وقت تقریباً اٹھارہ ہزار کے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے مودی نے پُرجوش انداز میں اعلان کیا تھا کہ ’میں آپ کے خوابوں کا انڈیا بناؤں گا‘ مگر بارہ سال کے بعد مودی نے خوابوں کا ایسا ہندوستان بنایا کہ اسی میڈیسن اسکوائر پر آر ایس ایس سربراہ کو عوام کی شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ بقول سیماب اکبر آبادی ؎
دنیا ہے خواب حاصل دنیا خیال ہے
انسان خواب دیکھ رہا ہے خیال میں
(ڈاکٹر سلیم خان نیوکلیر کیمسٹری میں پی ایچ ڈی ہیں جن کی تحریریں ملک و بیرونِ ملک بڑے پیمانے پر پڑھی جاتی ہیں۔)