1947 کے بعد ہندوستانی مسلمانوں کے لیے موجودہ دور شاید سب سے زیادہ آزمائش کا دور ہے۔ اس سے پہلے 1960 کی دہائی کے اوائل اور وسط میں حالات اسی قدر سنگین ہوئے تھے، جب مدھیہ پردیش، بہار اور اڑیسہ میں ہونے والے بڑے پیمانے کے مسلم کش فسادات نے پورے مسلم معاشرے کو اضطراب اور صدمے میں مبتلا کردیا تھا۔ ان واقعات میں سینکڑوں مسلمان جان سے گئے، جبکہ ان کے گھر، دکانیں اور کاروباری املاک تباہ کردی گئیں۔
ہندوستان کے سیکولر آئین اور کانگریس پارٹی و اس کی حکومت کی جانب سے جان و مال کے تحفظ اور قانون کے سامنے مساوات کی ضمانتوں کے پیش نظر مسلمانوں کو کبھی ایسی صورتِ حال کی توقع نہیں تھی۔ تاہم، نہرو کی زندگی ہی میں حکم راں طبقے پر سیکولرازم کا اثر کم ہونا شروع ہوگیا تھا۔ اس صورتِ حال نے آر ایس ایس اور اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد جیسی فرقہ وارانہ اور مسلم مخالف تنظیموں کو ان مسلمانوں کے لیے مشکلات پیدا کرنے کا موقع فراہم کیا جنہوں نے ہندوستان کو اپنا ملک منتخب کیا تھا۔
کانگریس کی زیرِ قیادت ریاستی حکومتوں کی بے حسی کے باعث مسلمانوں کو اکثر فرقہ وارانہ فسادات کا خمیازہ بھگتنا پڑا۔ 1961 کے جبل پور فسادات کے معاملے میں وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے خود اعتراف کیا کہ کانگریس کے رہنما اپنے گھروں تک محدود رہے اور تشدد روکنے یا مسلمانوں کو فسادیوں سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات کرنے میں ناکام رہے۔ جبل پور فسادات میں آر ایس ایس اور اے بی وی پی کے ملوث ہونے کے الزامات بھی عائد کیے گئے تھے۔
لیکن مسلمانوں کو نشانہ بنانے والے یہ پرتشدد واقعات کسی منظم نظریے پر مبنی نہیں تھے۔ یہ بعض فوری وجوہات کے نتیجے میں بھڑکنے والے وقتی واقعات تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ حالات بہتر ہوئے اور حکومت نے متاثرین کو انصاف دلانے اور مجرموں کو سزا دینے کے لیے اقدامات کیے۔ تاہم، حکومتی صفوں میں آر ایس ایس کے ہمدردوں اور ہندو مہاسبھا کے عناصر کی دراندازی کے باعث یہ اقدامات زیادہ تر ناکافی ثابت ہوئے۔ اس کے باوجود حکومت کا عوامی موقف ایک غیر جانب دار اور منصفانہ فریق کا تھا۔ حکومت کھلے طور پر مسلمانوں کے خلاف متعصب نظر نہیں آتی تھی۔ جہاں کہیں مسلمان تعداد کے اعتبار سے مضبوط تھے، انہوں نے فسادیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور انہیں للکارا۔
ان حالات نے مسلم سیاسی رہنماؤں، سماجی کارکنوں، مفکرین، مذہبی رہنماؤں اور تاجروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا۔ انہیں سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا کیا جائے، اور وہ شدید مایوسی کا شکار ہوگئے تھے، کیونکہ مسلم مخالف فسادات، چھوٹے ہوں یا بڑے، ایک معمول بن چکے تھے۔
اس صورتِ حال نے ہر مکتبہ فکر اور ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کو فرقہ وارانہ گروہی وابستگیوں سے بالاتر ہوکر اگست 1964 میں لکھنؤ میں ایک اجلاس طلب کرنے پر آمادہ کیا۔ یہ اجلاس بہار سے کانگریس کے راجیہ سبھا رکنِ پارلیمان سید محمود، جماعتِ اسلامی ہند کے مولانا ابواللیث اور لکھنؤ کے ندوۃ العلماء سے تعلق رکھنے والے مولانا سید ابوالحسن علی ندوی کی قیادت میں طلب کیا گیا تھا۔ اس کا مقصد مسئلے کا حل تلاش کرنا اور مسلمانوں کو جذباتی و نفسیاتی سہارا فراہم کرنا تھا۔
انہوں نے مسلم کمیونٹی پر زور دیا کہ وہ متحد رہے، امید نہ ہارے، بلکہ ہمت اور یقین کے ساتھ نئی صورتِ حال کا سامنا کرے۔ اسی کے نتیجے میں آل انڈیا مسلم مجلسِ مشاورت (AIMMM) کا قیام عمل میں آیا جس نے مسلمانوں کے دلوں سے خوف نکالنے اور پوری بہادری و عزم کے ساتھ مشکلات کا سامنا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
مسلم مجلسِ مشاورت، جو آج تک ایک فعال تنظیم کے طور پر کام کر رہی ہے، نے ان کٹھن اور مشکل حالات میں انتہائی مثبت کردار ادا کیا۔ یہ اس وقت پیدا ہونے والے مشکل حالات پر مسلم دانش وروں اور مفکرین کا ردِعمل تھا۔ انہوں نے تشدد کا سہارا لینے جیسے جارحانہ اقدامات کی تجویز نہیں دی۔ اس کے بجائے، انہوں نے نئے آزاد ہندوستان میں مسلم کمیونٹی کو نقصان پہنچانے کے ایجنڈے رکھنے والے سماج دشمن عناصر کا مقابلہ کرنے کے لیے حکومت کے ساتھ تعاون کیا۔
مئی 2014 میں مرکز میں سابق آر ایس ایس پرچارک اور گجرات کے سابق وزیر اعلیٰ نریندر مودی کے وزیر اعظم بننے کے بعد گزشتہ 12 برسوں کے دوران ہندوستانی مسلمانوں کو ایک ایسی صورتِ حال کا سامنا ہے جسے پہلے کے مقابلے میں زیادہ خطرناک قرار دیا جا سکتا ہے۔ اگرچہ فروری-مارچ 2020 میں شمال مشرقی دہلی کے فسادات کے علاوہ اس عرصے میں کوئی بڑا فرقہ وارانہ فساد نہیں ہوا، تاہم بی جے پی رہنماؤں، ریاستی اور مرکزی وزرا، بی جے پی کے زیرِ اقتدار ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ اور خود وزیر اعظم کی جانب سے عوامی اجتماعات اور انتخابی مہمات کے دوران کیے گئے مسلم مخالف تبصروں اور نفرت انگیز تقاریر سمیت متعدد اقدامات نے ملک بھر میں مسلمانوں کے خلاف ایک ایسا ماحول پیدا کیا ہے جس نے ان کے عدمِ تحفظ کے احساس کو مزید گہرا کیا ہے۔
ریاستی اداروں کی کارروائیاں، مساجد و مدارس نشانے پر، ماب لنچنگ سے خوف
مرکزی اور بی جے پی کے زیرِ اقتدار ریاستی حکومتوں پر الزام ہے کہ وہ مساجد، مزارات، مدارس اور مسلم تعلیمی اداروں کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ یہاں تک کہ مسلمانوں کے رہائشی اور تجارتی مراکز بھی اس دعوے کی بنیاد پر بلڈوز کیے جا رہے ہیں کہ یہ تعمیرات سرکاری زمین پر تجاوزات ہیں یا متعلقہ سرکاری محکموں سے ضروری اجازت حاصل کیے بغیر تعمیر کی گئی ہیں۔
دہلی، اترپردیش، مدھیہ پردیش، راجستھان، گجرات اور دیگر ریاستوں میں حکام کے ہاتھوں مسمار کی جانے والی مساجد کی درست تعداد کے مستند اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں، تاہم مختلف اندازوں کے مطابق یہ تعداد سینکڑوں میں ہے۔ ان مساجد کے انہدام کے لیے حکومت کی جانب سے عموماً سرکاری اراضی پر تجاوز یا شہری اور ضلعی حکام سے اجازت نہ لیے جانے کو جواز بنایا گیا۔ تاہم، مضمون کے مطابق، مسلمانوں کی عبادت گاہوں سے متصل اسی نوعیت کی ہندو مذہبی عمارتیں محفوظ رہی ہیں۔
اتراکھنڈ، اترپردیش، آسام اور دیگر ریاستوں میں بڑی تعداد میں مدارس کو یا تو سیل کیا گیا یا مسمار کر دیا گیا۔ وارانسی کی تاریخی گیان واپی مسجد اور متھرا کی عیدگاہ مسجد کی ملکیت اور مذہبی حیثیت سے متعلق عدالتی مقدمات بھی شروع کیے گئے، جیسا کہ ایودھیا میں بابری مسجد کے معاملے میں ہوا تھا۔ یہ کارروائیاں پلیسز آف ورشپ ایکٹ، 1991 کی روشنی میں بھی اہم سوالات پیدا کرتی ہیں، جس کے تحت 15 اگست 1947 کو موجود مذہبی مقامات کی مذہبی شناخت اور نوعیت کو تبدیل کرنے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ تاہم، حال ہی میں مدھیہ پردیش کی ایک عدالت نے ہندوؤں کو مسجد کمال مولا میں پوجا کی اجازت دی، جبکہ مسلمانوں کے داخلے پر پابندی عائد کردی۔
کٹر ہندو تنظیموں کی جانب سے اسکولوں اور کالجوں میں مسلم طالبات کے اسکارف اور برقع (حجاب) کے استعمال کے خلاف بھی ملک گیر مہم چلائی گئی۔ مضمون کے مطابق، راجیہ سبھا کے رکن نتیش کمار نے، جب وہ بہار کے وزیر اعلیٰ تھے، ایک عوامی تقریب کے دوران ایک مسلم خاتون ڈاکٹر کا اسکارف کھینچ لیا۔ مضمون نگار اسے آئینی عہدوں پر فائز شخصیات کے درمیان بھی مسلم ثقافت کے تئیں پائی جانے والی گہری نفرت کی علامت قرار دیتے ہیں۔
گجرات اور راجستھان کے سرحدی علاقوں میں بھی بڑی تعداد میں مساجد کو یہ کہہ کر منہدم کیا گیا کہ ان سے قومی سلامتی کو خطرہ لاحق ہے۔ اس سے قبل نیپال سے متصل اتر پردیش کے متعدد اضلاع میں بھی درجنوں مساجد کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے کر مسمار کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔
آسام میں سرکاری اراضی پر قبضے کے الزام میں درجنوں مساجد اور مدارس پر بلڈوزر چلائے گئے۔ آسام حکومت کی کارروائیوں کے نتیجے میں پانچ لاکھ سے زائد مسلمانوں کے مکانات بلڈوز کیے جانے اور انہیں اندرونی طور پر بے گھر کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کارروائیوں کے لیے جنگلات یا سرکاری اراضی پر غیر قانونی قبضے کو بنیاد بنایا گیا۔
2014 کے بعد ہندوستان میں تشدد کی ایک نئی صورت بھی نمایاں ہوئی، جسے ماب لنچنگ یا ہجومی تشدد کہا جاتا ہے۔ اس میں تنہا یا دو تین افراد کے گروپ میں سفر کرنے والے مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان پر گائے کا گوشت فروخت کرنے، گائے اسمگل کرنے یا چوری کرنے کے الزامات عائد کرنا اس نوعیت کے تشدد کا عام طریقہ بن گیا۔ کٹر ہندو تنظیموں سے وابستہ افراد کے ہاتھوں ان پر حملے کیے گئے اور کئی واقعات میں انہیں قتل کردیا گیا۔ مضمون کے مطابق، متعدد معاملات میں پولیس نے مسلم متاثرین ہی کے خلاف مقدمات درج کیے، جس کے نتیجے میں ہندو کارکن کارروائی سے بچ نکلے۔ اس صورتِ حال نے مسلمانوں میں خوف و ہراس پیدا کیا۔
اطلاعات کے مطابق 2014 سے 2018 کے اوائل تک ماب لنچنگ کے واقعات میں کم از کم 45 افراد ہلاک ہوئے۔ تاہم، محققین کا خیال ہے کہ 2014 کے بعد ماب لنچنگ اور اس سے متعلق ہلاکتوں کی مجموعی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (NCRB) کے اعداد و شمار سے ملک بھر میں ماب لنچنگ کے واقعات کی درست تعداد معلوم نہیں ہوسکتی، کیونکہ 2018 کے بعد ریاستی پولیس نے ماب لنچنگ کے مقدمات کو اسی مخصوص عنوان کے تحت درج کرنا بند کردیا تھا
مسلم ادارے ریاستی مشینری کے خطرے کی زد میں
بی جے پی کی ریاستی حکومتوں نے مسلمانوں کے زیرِ انتظام اعلیٰ تعلیمی اداروں کے خلاف بھی چن چن کر کارروائیاں کی ہیں۔ ہریانہ حکومت نے بلبھ گڑھ میں الفلاح یونیورسٹی کے بانی کو جیل بھیج دیا ہے اور یونیورسٹی کے انتظام و انصرام کے لیے ایک سرکاری منتظم مقرر کیا ہے۔ اسی طرح اتر پردیش حکومت نے رام پور میں محمد علی جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کی نوٹسیں جاری کیں۔
یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میگھالیہ (USTM) کے چانسلر ڈاکٹر محبوب الحق کو آسام پولیس نے امتحانات میں مبینہ بدعنوانی کے ایک معاملے میں گرفتار کرکے جیل بھیج دیا، اگرچہ ان کے حامیوں نے اس کارروائی کو سیاسی محرکات کا نتیجہ قرار دیا۔ اتر پردیش اور مرکزی ایجنسیوں نے سابق ایم ایل سی محمد اقبال اور ان کے خاندان کے خلاف بھی مقدمات شروع کیے ہیں جو عبدالوحید ایجوکیشنل اینڈ چیریٹیبل ٹرسٹ کے معاملات کی نگرانی کرتے ہیں۔ یہی ٹرسٹ سہارنپور میں گلوکل یونیورسٹی چلاتا ہے۔ یونیورسٹی پر منی لانڈرنگ اور جعلی سرٹیفکیٹ جاری کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
مہاراشٹر کے اکل کوا میں واقع جامعہ اسلامیہ اشاعت العلوم (JIIU) پر بھی غیر ملکی فنڈنگ میں بے ضابطگیوں، غیر ملکی شہریوں کو غیر قانونی پناہ دینے اور قبائلی اراضی پر قبضے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں، جس کے نتیجے میں 15,000 سے زائد طلبا پر مشتمل اس ادارے کو مشکلات کا سامنا ہے۔
مسلمانوں کے زیرِ انتظام کئی دیگر اعلیٰ تعلیمی ادارے بھی مختلف نوعیت کے مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس صورتِ حال میں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے: کیا ضابطوں کی خلاف ورزی صرف مسلمانوں کے زیرِ انتظام اعلیٰ تعلیمی اداروں ہی میں پائی جاتی ہے؟
مختلف میڈیا رپورٹس کے مطابق غیر مسلم گروہوں کے زیرِ انتظام متعدد نجی یونیورسٹیاں اور کالج بھی مختلف خلاف ورزیوں میں ملوث پائے گئے ہیں، اور بعض معاملات میں یہ خلاف ورزیاں کہیں زیادہ سنگین نوعیت کی تھیں۔ اس کے باوجود، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان اداروں کو متعلقہ ریاستی حکام کی جانب سے اس درجے کی جانچ پڑتال، تادیبی کارروائی یا حکومتی سخت گیری کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔
مسلمانوں کے جمہوری، سیاسی اور مذہبی حقوق پر قدغن
اس کے علاوہ، مسلمانوں میں یہ خدشہ بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے کہ نریندر مودی کی حکومت کے دور میں ان کے جمہوری اور سیاسی حقوق محدود کیے جا رہے ہیں۔ بہار، اتر پردیش اور کئی دیگر ریاستوں میں ووٹر فہرستوں کی خصوصی نظرثانی (SIR) نے مسلمانوں کو غیر متناسب طور پر متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں ووٹروں کے حقِ رائے دہی سے محروم کیے جانے کے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔
ریاستی اسمبلیوں اور پارلیمنٹ میں مسلمانوں کی نمائندگی بھی مسلسل کم ہو رہی ہے۔ نریندر مودی کی حکومت پہلی ایسی حکومت ہے جس کی کابینہ میں کوئی مسلم نمائندگی نہیں ہے۔ مسلمانوں کی جانب سے احتجاجی مظاہروں اور ریلیوں کے ذریعے اپنے خلاف ہونے والی مبینہ ناانصافیوں پر آواز اٹھانے کی کوششوں سے بھی پولیس کی جانب سے سختی کے ساتھ نمٹا جاتا ہے۔
’وندے ماترم‘ کو لازمی قرار دینا اور ایسا قانون متعارف کرانا جس کے تحت اسے گانے سے انکار یا اس کے احترام میں ناکامی کو جرم قرار دیا جائے، ہندوستانی آئین کے آرٹیکل 25 کے تحت مسلمانوں کو حاصل مذہبی آزادی کی براہِ راست خلاف ورزی ہوگی۔ مسلمان، جو قرآن کی تعلیمات کے مطابق صرف ایک خدا کی عبادت پر ایمان رکھتے ہیں، یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ ’وندے ماترم‘ میں شرک کا عنصر پایا جاتا ہے اور اسی وجہ سے یہ اسلام کے عقیدۂ توحید سے متصادم ہے۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بی جے پی حکومت رفتہ رفتہ مسلمانوں کے آئینی حقوق محدود کر رہی ہے اور قانون سازی کے ذریعے انہیں اپنے مذہبی عقائد اور رسومات پر سمجھوتہ کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مسلمان ’وندے ماترم‘ کو لازمی قرار دیے جانے کو اپنی مذہبی شناخت اور ہندوستان میں ایک مذہبی برادری کی حیثیت سے آئین کے ذریعے محفوظ آزادیِ ضمیر کے حق کے لیے ایک سنگین چیلنج سمجھتے ہیں۔
’نیو انڈیا‘ میں مسلمانوں کو دوسرے درجے کے شہری بنا دیا گیا ۔مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ پیش رفت اس بڑھتے ہوئے تاثر کی عکاسی کرتی ہے کہ بی جے پی کے ’نیو انڈیا‘ یعنی نئے ہندوستان میں مسلمانوں کو دوسرے درجے کے شہری کی حیثیت دی جا رہی ہے۔ دوسرے لفظوں میں، ان کے ساتھ آئین کے تحت مساوی حقوق رکھنے والے شہریوں کے بجائے ریاستی طاقت کی رعایا جیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔
یہ صورتِ حال ہندوتوا مفکر وی ڈی ساورکر کے پیش کردہ اس نظریے سے ہم آہنگ دکھائی دیتی ہے جس کے مطابق ایسے مسلمان اور عیسائی، جن کی ’پنیہ بھومی‘ یعنی مذہبی سرزمین ہندوستان کی جغرافیائی حدود سے باہر ہے، مساوی شہری نہیں مانے جائیں گے بلکہ انہیں ثانوی حیثیت دی جائے گی اور سیاسی حقوق سے محروم رکھا جائے گا۔
عام الفاظ میں، اس تصور کے تحت انہیں دوسرے درجے کے شہریوں کی حیثیت دی جانی ہے، جنہیں سیاسی حقوق اور آئینی تحفظ حاصل نہ ہو۔ مرکزی بی جے پی حکومت، بالخصوص مسلمانوں کے حوالے سے، اسی مخصوص مقصد کے حصول کے لیے کام کرتی دکھائی دیتی ہے۔ یہ صورتِ حال اس لیے زیادہ تشویش ناک ہے کہ بظاہر یہ محض عارضی واقعات یا فوری حالات کا ردِعمل نہیں، بلکہ مسلمانوں کے خلاف ایک وسیع تر نظریاتی ایجنڈے کا حصہ بنتی دکھائی دے رہی ہے۔
ابھرتے ہوئے چیلنجز پر دہلی میں مشاورت
مجموعی طور پر وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی کی 12 سال سے زائد عرصے پر محیط حکم رانی کے دوران سامنے آنے والے ان واقعات نے ہندوستانی مسلمانوں میں ان کے آئینی حقوق، مذہبی آزادی اور جمہوریہ کے مساوی شہری کی حیثیت کے حوالے سے عدم تحفظ اور تشویش کے احساس کو مزید گہرا کیا ہے۔
چنانچہ کشمیر سے کیرالا تک اور آسام سے گجرات اور مہاراشٹر تک کے سرکردہ ہندوستانی مسلمان، جن میں ارکانِ پارلیمنٹ، سابق وزرائے اعلیٰ، سابق وزرا، قانون داں، اسکالرز، قانونی ماہرین، ریٹائرڈ بیوروکریٹس، پیشہ ور افراد اور سول سوسائٹی کے رہنما شامل تھے، ’انڈین مسلمس فار سول رائٹس‘ (IMCR) کے بینر تلے 24 جولائی 2026 کو نئی دہلی کے کانسٹیٹیوشن کلب آف انڈیا میں جمع ہوئے۔ اجلاس کا مقصد مسلم کمیونٹی کو درپیش مسائل اور ان کے آئینی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں پر غور و خوض کرنا تھا۔
’مسلم رہنماؤں اور دانشوروں کے قومی مشاورتی اجلاس‘ میں شریک نمایاں شخصیات میں اس کے کنوینر محمد ادیب، جموں و کشمیر کے سابق وزرائے اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور محبوبہ مفتی، سابق وزیر سلمان خورشید، جماعتِ اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی، شیعہ رہنما کلبِ جواد اور کیرالا سے انڈین یونین مسلم لیگ (IUML) کے رکنِ پارلیمنٹ ای ٹی بشیر شامل تھے۔
اجلاس میں کم و بیش آٹھ قراردادیں منظور کی گئیں، جنہیں ’ہندوستان میں مسلمانوں کے حقوق کے دعوے پر نئی دہلی ڈیکلریشن‘ کا نام دیا گیا۔ مشاورتی کمیٹی نے معاملے پر مزید غور و خوض اور صدرِ جمہوریہ ہند دروپدی مرمو اور چیف جسٹس آف انڈیا سوریا کانت کے سامنے اپنی شکایات اور مطالبات پیش کرنے کے لیے 51 رکنی کمیٹی بھی تشکیل دی۔
اسرائیلی ماڈل کی پیروی نہ کی جائے
مسلم دانش وروں کا خیال ہے کہ مرکزی بی جے پی حکومت مسلمانوں کے آئینی حقوق کے حوالے سے جو پالیسی اختیار کر رہی ہے، اس کے ہندوستان کے مسلم ممالک کے ساتھ تعلقات پر بھی اثرات مرتب ہوں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ حکومتِ ہند کو اپنے مسلم شہریوں کے لیے پالیسیاں تشکیل دیتے وقت اسرائیلی ماڈل کی پیروی نہیں کرنی چاہیے، بلکہ ہندوستانی آئین کی دفعات اور اس کے بنیادی اصولوں کی بنیاد پر اپنی پالیسی وضع کرنی چاہیے۔
ہندوستانی مسلمانوں کی سوچ جامع اور شمولیاتی ہے۔ انہوں نے کثیرالثقافتی معاشرے میں بقائے باہمی کی اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ کبھی جارح نہیں رہے، انہوں نے کبھی تشدد کی حمایت نہیں کی اور ہمیشہ آئین اور آئینی اقدار پر یقین رکھا ہے۔ وہ مسائل کے حل کے لیے جامع اور بامعنی مذاکرات پر بھی یقین رکھتے ہیں۔
کیا مسلمانوں کو نکال کر ’وکست بھارت‘ ممکن ہے؟
اس پس منظر میں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: کیا گزشتہ 12 برسوں کے دوران مسلمانوں کے حوالے سے اختیار کیے گئے اقدامات واقعی وزیر اعظم نریندر مودی کے ’وکست بھارت‘ یعنی ترقی یافتہ ہندوستان کے وژن کی تکمیل میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں؟
کوئی بھی قوم اس ہدف کو کیسے حاصل کرسکتی ہے، جب اس کی تقریباً 15 فیصد آبادی اپنے سیاسی حقوق سے محروم محسوس کرے اور اسے یہ احساس دلایا جائے کہ وہ دوسرے درجے کے شہری ہیں؟ ایک سلیم الفطرت انسان ان سوالات کا جواب یقیناً ’نہیں‘ میں ہی دے گا۔
حکومتِ ہند کو مسلمانوں کی شکایات سننی چاہئیں اور ایسے اصلاحی اقدامات کرنے چاہئیں جن سے ہندوستان کی مسلم آبادی اپنے سیاسی اور اقتصادی حقوق سے محروم نہ ہو اور اسے قوم کی تعمیر میں اپنی پوری صلاحیتیں بروئے کار لانے کا موقع ملے۔ حکومت کو مسلمانوں کے اس کنونشن کو منفی انداز میں یا اپنے لیے کسی خطرے کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے۔
مسلم نوجوانوں میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ وہ سرکاری ملازمتوں کے پیچھے نہیں بھاگتے اور ان میں سرکاری ملازمت حاصل کرنے کی خواہش بھی نسبتاً کم ہے۔ وہ بے روزگاری کے خلاف ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں بھی نمایاں طور پر شریک نہیں ہوتے۔ ایک سرکاری رپورٹ کے مطابق مسلمان زیادہ تر اپنا روزگار (Self-employment) اختیار کرتے ہیں۔ اگر حکومت مسلمانوں کی اس صلاحیت کو درست سمت فراہم کرے تو مسلم نوجوان نجی شعبے میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں نمایاں کردار ادا کرسکتے ہیں۔
’وکست بھارت‘ اور قومی تعمیر کے لیے شمولیاتی سیاست ناگزیر
ایک اہم تجویز یہ ہے کہ ’وکست بھارت‘ کا خواب محض اقتصادی ترقی کے ذریعے شرمندۂ تعبیر نہیں ہوسکتا۔ ملک کو اس کے ساتھ سیاسی ترقی کی بھی ضرورت ہے۔ حکومت اور برسرِ اقتدار جماعت کو ایسی شمولیاتی سیاست اختیار کرنے کی ضرورت ہے جس میں تمام برادریوں کو، خواہ ان کا عقیدہ، زبان یا علاقہ کچھ بھی ہو، برابری، بھائی چارے اور انصاف کے آئینی اصولوں کی بنیاد پر اپنے خواب پورے کرنے کا موقع حاصل ہو۔
’وکست بھارت‘ کا وژن ایسی استثنائی سیاست کے ذریعے حاصل نہیں کیا جاسکتا جو کسی ایک مخصوص گروہ کی حمایت کرے اور دوسروں کو باہر رکھنے، انہیں پسماندہ کرنے یا مساوی شرکت سے محروم رکھنے کا رجحان رکھتی ہو۔
آج فوری ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاست کا رخ تبدیل کرکے اسے حقیقی شمولیاتی سیاست کی طرف موڑا جائے؛ ایسی سیاست جس میں ہر طبقے کو اپنی صلاحیتوں کو پوری طرح بروئے کار لانے اور قوم کی تعمیر کے اجتماعی منصوبے میں مؤثر کردار ادا کرنے کے مساوی مواقع حاصل ہوں۔
مودی دور میں بھارتی مسلمانوں کو درپیش چیلنجز اور خدشات

خطرناک چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے دہلی میں مسلم رہنماؤں کی مشاورت

