ملک میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران پیش آنے والے ہجومی تشدد اور نفرت پر مبنی جرائم کی جامع دستاویز پر مشتمل 744 صفحات کی تحقیقی رپورٹ ’’Mob Lynching in India – A Record (2014-2024)‘‘ نئی دہلی کے پریس کلب آف انڈیا میں جاری کی گئی۔ سینئر صحافی اور دہلی اقلیتی کمیشن کے سابق صدر ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کی مرتب و مدون کردہ اس رپورٹ میں مئی 2014 سے مئی 2024 کے درمیان پیش آنے والے ہجومی تشدد اور نشانہ بنا کر کیے گئے تشدد کے 1,743 واقعات کو دستاویزی شکل دینے کے ساتھ ان کا مطالعہ اور تجزیہ بھی کیا گیا ہے۔ رپورٹ کی تقریبِ اجراء کا اہتمام اسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (APCR) نے کیا۔
تقریب میں سول سوسائٹی کے نمائندوں، دانشوروں، صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے شرکت کی۔ پینل مباحثے کی نظامت سینئر صحافی پرشانت ٹنڈن نے کی جب کہ ڈاکٹر سیدہ حمید، پروفیسر اپوروانند، ہرش مندر، شاہین نظر، ملک معتصم خان اور ڈاکٹر ظفرالاسلام خان نے اظہار خیال کیا۔
رپورٹ کے پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے ڈاکٹر ظفرالاسلام خان نے بتایا کہ اسے تیار کرنے میں تقریباً سات برس تک دس محققین کی ٹیم نے واقعات جمع کرنے اور ان کے تجزیے پر کام کیا۔ ان کے مطابق 2014 کے بعد، خصوصاً 2016 سے ہجومی تشدد کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا اور یہ ضرورت محسوس ہوئی کہ ان واقعات کو منظم انداز میں محفوظ کیا جائے ورنہ وقت گزرنے کے ساتھ یہ واقعات اجتماعی حافظے سے محو ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اخبارات کی سرخیاں مدھم پڑنے کے بعد لوگ المناک واقعات بھول جاتے ہیں، اس لیے انہیں ریکارڈ پر لانا ایک اخلاقی و قومی فریضہ تھا۔
ڈاکٹر ظفرالاسلام خان نے کہا کہ بھارت میں ہجومی تشدد کوئی نئی بات نہیں ہے، اس کی مثالیں 1984 کے مخالفِ سکھ فسادات اور 2002 کے گجرات تشدد میں بھی ملتی ہیں، جن میں نروڈا پاٹیا اور سابق رکنِ پارلیمنٹ احسان جعفری کے بہیمانہ قتل جیسے واقعات شامل ہیں۔ ان کے مطابق 2014 کے بعد ہجومی تشدد کا ایک مسلسل رجحان نمایاں ہوا جس میں گائے کی حفاظت کے نام پر تشدد اور مسلمانوں پر گائے کا گوشت کھانے یا گائے ذبح کرنے کے الزامات نمایاں رہے۔ رپورٹ میں زیرِ مطالعہ مدت کے واقعات کی ریاست بہ ریاست، سال بہ سال اور ان کے اسباب کی تفصیلات بھی چارٹس کی صورت میں پیش کی گئی ہیں۔
سابق آئی اے ایس افسر اور سماجی کارکن ہرش مندر نے ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کی اس کاوش کو سراہتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی میں ہجومی تشدد ایک خوف ناک عوامی تماشے کی صورت اختیار کر گیا ہے، جس میں بنیادی طور پر اقلیتوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور تشدد کی ویڈیو بنا کر اسے سوشل میڈیا پر پھیلایا جاتا ہے۔ انہوں نے اس رجحان کا موازنہ اٹھارہویں اور انیسویں صدی کی امریکی تاریخ میں افریقی نژاد امریکیوں کو سرِ عام پھانسی دینے کے واقعات سے کیا۔ ان کے مطابق مجرمین اپنے جرائم چھپانے کے بجائے ان کی فلم بندی کرکے اپنی طاقت کا اظہار کرتے ہیں تاکہ نشانہ بننے والی برادری میں خوف و دہشت پیدا ہو
پروفیسر اپوروانند نے جمہوری اداروں اور قانون کی حکم رانی پر ہجومی تشدد کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 2014 کے بعد گائے کی حفاظت کے نام پر پیدا ہونے والی ثقافت میں الزام لگانے والا، تفتیش کار، جج اور جلاد ایک ہی ہجوم میں سمٹ جاتے ہیں۔ ان کے مطابق سائنسی تفتیش، شواہد اور عدالتی کارروائی کو نظر انداز کر کے موقع پر ہی سزا دینے کا رجحان انصاف اور قانون کی حکم رانی کے بنیادی تصور کو نقصان پہنچاتا ہے۔
جماعتِ اسلامی ہند کے نائب صدر ملک معتصم خان نے کہا کہ 1,700 سے زائد واقعات کا منظم تجزیہ تشدد کی روک تھام کے لیے نہایت اہم ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ہجومی تشدد قانون کی حکم رانی کو کمزور کرنے کے ساتھ معاشرے میں بڑے پیمانے پر خوف پیدا کرتا ہے۔ انہوں نے اس رجحان کے تسلسل کو سیاسی سرپرستی اور نظامی بے حسی سے جوڑتے ہوئے سخت قوانین بنانے اور اخلاقی اصلاح کی ضرورت پر زور دیا۔
رپورٹ کی تیاری میں شامل سینئر صحافی شاہین نظر نے کہا کہ منظم ریکارڈ نہ ہونے کی صورت میں بڑے سماجی اور سیاسی مظالم رفتہ رفتہ اجتماعی حافظے سے مٹ جاتے ہیں۔ انہوں نے عدلیہ، پولیس اور پارلیمنٹ سمیت ریاستی اداروں کی کارکردگی پر تشویش کا اظہار کیا۔مرکزی پلاننگ کمیشن کی سابق رکن ڈاکٹر سیدہ حمید نے 1984 اور 2002 کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے نوجوان صحافیوں اور محققین پر زور دیا کہ متاثرین کی گواہیوں کو مسلسل دستاویزی شکل دی جائے۔ انہوں نے امتیازی سلوک کے خلاف فعال مزاحمت اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے فروغ کے لیے متحدہ کوششوں کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ اخلاق احمد، پہلو خان، حافظ جنید، علیم الدین اور مظلوم انصاری سمیت بعض متاثرین کے بہیمانہ قتل کا ذکرکرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان واقعات کی روداد پڑھ کر پیدا ہونے والے صدمے کے باعث وہ کئی راتوں تک سو نہیں سکیں۔ یہ کتاب فاروس میڈیا نے شائع کی ہے اور اسے ادارے کی ویب سائٹ کے ذریعے آرڈر کیا جا سکتا ہے۔