اقلیتی آبادی کے اندراج میں غلطیاں،حقوق کے لیے خطرہ
مردم شماری کا اعتماد بحال رکھنے کے لیے شفافیت ناگزیر
بی جے پی زیر قیادت مرکزی حکومت کی جانب سے مردم شماری کے قواعد 1990ء میں ترمیم کرکے نجی اداروں، بشمول سوسائٹیوں، ٹرسٹوں اور غیر سرکاری تنظیموں کے عملے کو مردم شماری کے لیے اعداد و شمار جمع کرنے کی ذمہ داری سونپنے کی اجازت دیے جانے کے بعد سیاسی حلقوں میں بحث چھڑ گئی ہے۔
کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے اس اقدام کو آر ایس ایس اور بی جے پی کے کارکنوں کے لیے روزگار کی ضمانت کی اسکیم قرار دیا ہے۔ ان کا اندیشہ ہے کہ بی جے پی کی حکومت والی ریاستیں آر ایس ایس سے وابستہ اداروں اور تنظیموں کی خدمات حاصل کر سکتی ہیں۔ آر ایس ایس ایک ہندو تنظیم ہے جس کے بارے میں ناقدین کا کہنا ہے کہ وہ بالخصوص مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف انتہا پسندانہ نظریات رکھتی ہے۔
اس صورتِ حال نے مسلمانوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ انہیں اندیشہ ہے کہ آر ایس ایس سے وابستہ تنظیموں کے کارکن مردم شماری کے دوران مسلمانوں سے متعلق درست معلومات درج نہیں کریں گے۔
جے رام رمیش نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر لکھا کہ ’’16 اکتوبر 2026ء کے مردم شماری نوٹیفکیشن کو 10 سے 12 جولائی 2026ء کے درمیان کرناٹک میں منعقدہ آر ایس ایس کے تربیتی کیمپ اور 14 اکتوبر 2026ء کو آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق کمیٹی کی جانب سے تجاویز طلب کیے جانے کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔‘‘ مردم شماری کے لیے اعداد و شمار جمع کرنے والے عملے میں آر ایس ایس کے کارکنوں کی ممکنہ شمولیت اور وزارتِ داخلہ کی جانب سے آبادیاتی تبدیلیوں کے مطالعے کے لیے قائم کردہ کمیٹی، دونوں مل کر ایسا نظام تشکیل دے سکتے ہیں جس کے ذریعے مردم شماری کے اعداد و شمار میں رد و بدل کر کے مسلمانوں کو نقصان پہنچایا جا سکے۔ اس امکان نے مسلم دانش ور حلقوں میں گہری تشویش پیدا کر دی ہے۔
ان انتظامی تبدیلیوں کا طویل مدتی مقصد کیا ہے؟ اس سوال کا جواب حاصل کرنے کے لیے گزشتہ چند برسوں کے واقعات کا گہرائی سے جائزہ لینا ضروری ہے، بالخصوص اس دور کا جب مرکزی حکومت نے شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) نافذ کیا اور اس کے بعد مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے ’’آپ کرونولوجی سمجھیے‘‘ یعنی ’’آپ واقعات کی ترتیب کو سمجھ لیجیے‘‘ کا فقرہ استعمال کیا۔
امیت شاہ کے بیان کردہ سلسلہ واقعات کا مفہوم یہ تھا کہ پہلے شہریت سے متعلق ایسا قانون بنایا جائے جو شہریت کے اہل قرار نہ پانے والے غیر مسلموں کو شہریت دینے کی راہ ہموار کرے، لیکن اسی صورتِ حال سے دوچار مسلمانوں کو اس سہولت سے محروم رکھے۔ اس کے بعد قومی رجسٹر برائے شہریاں (این آر سی) نافذ کیا جائے جس کے ذریعے آبادی کی چھان بین کر کے مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کو غیر ملکی قرار دیا جا سکے۔
آئیے، واقعات کی اس ترتیب کا جائزہ لیتے ہیں۔ پہلے مرحلے میں سی اے اے کے ذریعے قانونی حیثیت کے تعین کا ضابطہ وضع کیا جاتا ہے۔ دوسرے مرحلے میں مردم شماری کے قواعد بدل کر غیر سرکاری عملے کو اعداد و شمار جمع کرنے کی ذمہ داری سونپی جاتی ہے۔ تیسرے مرحلے میں مسلمانوں کی آبادی میں غیر معمولی اضافے، ان کی مذہبی عبادت گاہوں اور تعلیمی اداروں، مثلاً مدارس اور اسکولوں، سے متعلق اعداد و شمار کی جانچ پڑتال کی جاتی ہے۔ چوتھے مرحلے میں ان ’’تصدیق شدہ‘‘ ریکارڈوں کو حلقہ بندیوں، ووٹر فہرستوں پر نظرِ ثانی اور شہری انتظامیہ کے جائزوں سے جوڑ دیا جاتا ہے۔ اگر دوسرے مرحلے، یعنی بنیادی اعداد و شمار جمع کرنے کے عمل میں جانبداری کے باعث خلل پیدا ہو جائے تو اس کے بعد آنے والے تمام مراحل بھی مسخ ہو سکتے ہیں۔
ایک طرف اپوزیشن جماعتوں کے رہنما چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے پر احتجاجی مہم چلانے میں مصروف ہیں تو دوسری طرف نریندر مودی حکومت مبینہ طور پر ’’کرونولوجی سمجھیے‘‘ کے ایجنڈے کو آگے بڑھا رہی ہے۔
کانگریس رہنما جے رام رمیش کے سوا کسی دوسرے اپوزیشن رہنما نے مردم شماری 2027ء کے لیے عملہ بھرتی کرنے کے قواعد میں کی گئی تبدیلیوں پر حکومت سے سوال نہیں اٹھایا ہے۔ رمیش نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر لکھا:
’’مودی حکومت نے اب مردم شماری 2027ء کے لیے اہل شمار کنندگان کی فہرست میں توسیع کر دی ہے۔ اس کے پیچھے بہت سی شرارتیں پوشیدہ ہیں۔ 10 سے 12 جولائی 2026ء کے دوران آر ایس ایس نے بیلگاوی میں اپنے کارکنوں کے لیے ایک بڑا تربیتی کیمپ منعقد کیا، جس کا واحد ایجنڈا مردم شماری 2027ء تھا۔‘‘
طنزیہ انداز میں جے رام رمیش نے مزید کہا ’’یہ بات واضح ہے کہ ہزاروں آر ایس ایس اور بی جے پی کارکنوں کے لیے یہ روزگار کی ضمانت کی اسکیم ہے۔ خصوصی جامع نظرِ ثانی (ایس آئی آر) کی طرح مردم شماری کے اعداد و شمار میں بھی خطرناک حد تک ردوبدل کیا جائے گا۔‘‘ جے رام رمیش کا اعتراض 16 اکتوبر 2026ء کو رجسٹرار جنرل آف انڈیا کی جانب سے جاری کردہ گزٹ نوٹیفکیشن پر مبنی ہے جس کے ذریعے مرکزی حکومت نے مردم شماری کے قواعد 1990ء میں ترمیم کی۔ اخبار دی ہندو کی ایک رپورٹ کے مطابق ’’پہلی مرتبہ مرکزی حکومت نے مردم شماری کے شمار کنندگان کے طور پر مقرر کیے جا سکنے والے ’کسی بھی شخص‘ کی تعریف کو وسعت دی ہے، جس کے تحت نجی اسکولوں کے اساتذہ اور ’اداروں، سوسائٹیوں اور ٹرسٹوں‘ کے ارکان کی تقرری کی اجازت دے دی گئی ہے۔‘
مردم شماری کے قواعد 1990ء میں ’’کسی بھی شخص‘‘ کی اصطلاح پہلے سے موجود تھی لیکن اس کے تحت شمار کنندگان کے طور پر صرف سرکاری محکموں کے ملازمین کی خدمات حاصل کرنے کی اجازت تھی۔ تاہم، نومبر 2026ء کی ترمیم کے ذریعے کسی بھی ادارے کے افراد، بشمول سرکاری اسکولوں کے اساتذہ، مقامی بلدیاتی اداروں، امداد یافتہ یا غیر امداد یافتہ نجی اداروں، سوسائٹیوں اور ٹرسٹوں سے وابستہ افراد کو مردم شماری افسر مقرر کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں سیاسی نظریات سے ہم آہنگ کارکنوں کے لیے مردم شماری کا کام انجام دینے کی راہ ہموار ہو جائے گی۔ اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ایسے افراد مردم شماری کے اعداد و شمار میں ردوبدل کر سکتے ہیں اور گھر گھر جا کر لوگوں کو ہراساں کرنے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
اعلیٰ سطح پر یہ مقامی عمل وزارتِ داخلہ کی جانب سے آبادیاتی تبدیلیوں کے مطالعے کے لیے قائم کردہ اعلیٰ سطحی کمیٹی سے جڑ جاتا ہے۔ یہ کمیٹی آبادی میں غیر معمولی تبدیلیوں، سرحدی علاقوں میں نقل مکانی اور مختلف مقامات کی آبادی میں پائے جانے والے فرق کا مطالعہ کرتی ہے۔
جے رام رمیش سمیت ناقدین کا الزام ہے کہ کمیٹی کے کئی ارکان کے آر ایس ایس سے قریبی روابط ہیں۔ ان کے مطابق اگر نظریاتی وابستگی رکھنے والے فیلڈ افسران اعداد و شمار جمع کریں اور انہیں اسی نوعیت کی نظریاتی وابستگی رکھنے والی کمیٹی کے حوالے کریں تو ایسا نظام وجود میں آ سکتا ہے جس میں معلومات جمع کرنے اور ان کی جانچ، دونوں پر ایک ہی نقطۂ نظر اثر انداز ہو۔ نتیجتاً میدانی عملے کے ذاتی مشاہدات اور آرا کو آبادیاتی تبدیلیوں کے سرکاری ثبوت کے طور پر قبول کیا جا سکتا ہے، جب کہ پورا عمل بظاہر غیر جانب دار اور محض انتظامی کارروائی دکھائی دے گا۔
مردم شماری کے سرکاری اعداد و شمار شہری حقوق، سیاسی نمائندگی اور سرکاری مراعات کے تعین میں براہِ راست کردار ادا کرتے ہیں۔ شمار کنندگان کو گھر گھر جا کر معلومات جمع کرنے کے دوران خاصا صوابدیدی اختیار حاصل ہوتا ہے۔ وہ خاندان کے افراد کی تعداد، سماجی حالات، لسانی ترجیحات اور شناخت سے متعلق تفصیلات درج کرتے ہیں۔
سیاسی مباحث میں اقلیتوں کی مبینہ غیر معمولی شرحِ افزائشِ آبادی، دراندازی اور دانستہ طور پر آبادی کا تناسب بدلنے جیسے دعوؤں کو اکثر سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ آسام، مغربی بنگال، بہار، جھارکھنڈ، حتیٰ کہ مہاراشٹر اور کرناٹک جیسی ریاستوں میں بھی یہ بیانیہ سامنے آتا رہا ہے۔
اگر مردم شماری کا میدانی عمل نظریاتی طور پر مخالف عملے کے ہاتھوں میں چلا جائے تو معلومات درج کرنے میں معمولی فرق، مثلاً عمر کے اندراج میں اختلاف، عارضی نقل مکانی یا دستاویزات کی عدم موجودگی کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح ’’غیر فطری آبادیاتی اضافے‘‘ کے دعوؤں کو بظاہر مستند بنانے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ اعداد و شمار میں ایسی کسی بھی قسم کی تحریف کا ایک سنگین نتیجہ انتخابی جمہوریت پر پڑ سکتا ہے، بالخصوص پارلیمانی اور اسمبلی حلقوں کی حد بندی کے معاملے میں۔ مردم شماری کے اعداد و شمار ہی انتخابی حلقوں کی حدود اور محفوظ نشستوں کی تعداد کے تعین کی بنیاد بنتے ہیں۔ اگر اقلیتی آبادی والے محلوں میں مردم شماری کے دوران دانستہ طور پر کم اندراج کیا جائے یا وہاں غیر معمولی سخت جانچ پڑتال کی جائے تو سرکاری ریکارڈ میں ان کی آبادی مصنوعی طور پر کم ظاہر ہو سکتی ہے۔ بعد ازاں حلقہ بندی کے عمل میں ان گھٹے ہوئے اعداد و شمار کو انتخابی حلقوں کی حدود اپنے سیاسی مفاد کے مطابق مقرر کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس سے اقلیتوں کی اجتماعی قوتِ رائے دہی کمزور پڑ سکتی ہے اور قانون ساز اداروں میں ان کی نمائندگی گھٹ سکتی ہے۔
سرکاری فلاحی اسکیموں کی فراہمی اور شہریت کا تحفظ بھی اسی طرح خطرات سے دوچار ہو سکتے ہیں۔ قومی رجسٹر، قومی غذائی تحفظ قانون کے تحت غذائی اجناس پر سبسڈی، صحتِ عامہ کے لیے وسائل کی تقسیم اور دیگر سماجی مراعات کا انحصار بڑی حد تک مردم شماری کے اعداد و شمار پر ہوتا ہے۔
شہری علاقوں کی غیر رسمی بستیوں اور پسماندہ دیہی علاقوں میں رہنے والے محروم خاندانوں کے پاس اکثر ضروری دستاویزات نہیں ہوتیں۔ سرکاری فلاحی اسکیموں سے فائدہ اٹھانے کے لیے مردم شماری میں ان کا درست اندراج ضروری ہے۔ اگر کوئی متعصب شمار کنندہ کسی خاندان کے افراد کو ’’مشکوک‘‘ یا غیر مصدقہ درج کر دے تو سرکاری ریکارڈ میں ایسی غلطی پیدا ہو سکتی ہے جو انہیں فلاحی اسکیموں اور سرکاری رجسٹروں سے خارج کرنے کا سبب بن سکتی ہے۔
تاریخی طور پر ہندوستان کی دس سالہ مردم شماری نے اپنی ساکھ اس اصول کی بنیاد پر قائم رکھی ہے کہ جماعتی سیاست اور بنیادی اعداد و شمار جمع کرنے کے عمل کو ایک دوسرے سے الگ رکھا جائے۔ کووِڈ-19 کی وبا اور اس کے بعد ہونے والی تاخیر کے باعث اس مرتبہ مردم شماری غیر معمولی تاخیر کا شکار ہوئی ہے۔
سرکاری ملازمین کے بجائے نجی اداروں کے عملے اور نامزد افراد کو یہ ذمہ داری سونپنے سے وہ ادارہ جاتی حفاظتی حصار کمزور پڑ سکتا ہے جو مردم شماری کو سیاسی اثر و رسوخ سے محفوظ رکھتا ہے۔
بالآخر، مردم شماری 2027ء کے قواعد پر یہ تنازع محض سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کو روزگار فراہم کرنے کا معاملہ نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا آبادی کا مستند نقشہ تیار کرنے کا عمل، جو ریاستی منصوبہ بندی کے لیے ایک غیر جانب دار مشق ہونا چاہیے، نظریاتی بنیادوں پر نگرانی اور چھان بین کا ذریعہ بن جائے گا؟ اگر ایسا ہوا تو تمام شہریوں کی مساوی شہریت اور آئینی تحفظات متاثر ہو سکتے ہیں۔
جے رام رمیش نے اپنی بات ان الفاظ میں ختم کی: ’’وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کی جوڑی کے شیطانی منصوبوں کی کوئی حد نہیں ہے۔‘‘