فرانس میں مہنگائی، تعلیم اور عوامی خدمات سے متعلق پالیسیوں اور نجکاری کے خلاف احتجاج میں شدت آگئی ہے۔بعض منچلے ان مظاہروں کو ’’انقلابِ فرانس کا دوسرا ایڈیشن‘‘ قرار دے رہے ہیں۔ یہ درست کہ انقلاب محض نعروں سے برپا نہیں ہوتے۔ ان کے لیے مخصوص حالات، عوامی تنظیم، سیاسی قیادت اور نظام میں بنیادی تبدیلی کے عوامل بھی درکار ہوتے ہیں۔ لیکن ان نعروں میں عوامی بے چینی کی شدت ضرور جھلکتی ہے۔ جب لوگوں کو محسوس ہو کہ روزمرہ زندگی مسلسل مہنگی اور تعلیم و صحت سمیت بنیادی سہولتوں تک رسائی مشکل ہورہی ہے اور حکم راں ان کے مسائل کو ترجیح نہیں دے رہے ہیں تو احتجاج محض وقتی غصے کے بجائے سیاسی نظام سے مایوسی کا اظہار بن جاتا ہے۔
البانیہ، اٹلی اور اسپین: مسائل مختلف، اضطراب مشترک
یورپ کے دوسرے ملکوں میں بھی عوامی احتجاج مختلف وجوہ سے جاری ہیں۔ کہیں بدعنوانی اور حکومتی طرزِ عمل پر سوال اٹھ رہے ہیں تو کہیں روزگار اور اجرتوں کا مسئلہ ہے اور کہیں نوجوانوں کے لئے رہائش کا حصول دشوار ہوتا جارہا ہے۔ ان تمام تحریکوں کو ایک ہی مقصد کے تحت چلنے والی مہم قرار دینا درست نہیں ہے لیکن ان میں ایک قدرِ مشترک ضرور دکھائی دیتی ہے کہ عام شہری محسوس کر رہا ہے کہ معاشی ترقی کے باوجود اس کی زندگی زیادہ محفوظ، آسان اور باعزت نہیں ہو رہی ہے۔
جنگ کا خرچ کون اٹھا رہا ہے؟
مشرقِ وسطیٰ میں جنگ اور کشیدگی نے عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور تیل کی قیمتوں کے بارے میں خدشات کو بڑھایا ہے۔ ایندھن مہنگا ہو تو اس کے اثرات نقل و حمل، اشیائے خورد ونوش اور روزمرہ اخراجات تک پہنچتے ہیں۔ اسی لیے یورپ میں تقریباً ہر جگہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ ختم کرنے اور مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے مطالبات بھی سنائی دیتے ہیں۔
فلسطین کے پرچم اور عالمی ضمیر
یورپ کے بعض مظاہروں میں فلسطینی پرچم بھی دکھائی دے رہےہیں۔ یہ منظر اس بات کی علامت ہے کہ مظاہرین اپنے مقامی مسائل کو عالمی سطح پر جنگ، قبضے اور انسانی حقوق کے سوالات سے جوڑ رہے ہیں۔ ان کے نزدیک فلسطین کا مسئلہ محض ایک دور دراز خطے کا تنازع نہیں بلکہ انصاف، شہری حقوق اور طاقت کے استعمال سے متعلق ایک وسیع تر سوال ہے۔ البتہ ہر ملک اور ہر مظاہرے کے مطالبات یکساں نہیں ہیں۔ کہیں فلسطین مرکزی موضوع ہے تو کہیں معاشی مسائل اور کہیں بدعنوانی یا عوامی خدمات۔ اس فرق کے باوجود ایسا لگ رہا ہے کہ مغرب میں جنگ کے خاتمے، فلسطینیوں کے حقوق اور انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔
پاکستان: بجلی اور ایندھن کے بلوں کے خلاف آواز
ان عالمی تحریکوں کے تناظر میں پاکستان کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ حافظ نعیم الرحمان کی قیادت میں جماعتِ اسلامی بجلی کے بھاری بلوں، ایندھن کی قیمتوں، تعلیم کی نجکاری اور عوام پر بڑھتے ہوئے معاشی بوجھ کے خلاف کئی ماہ سے سڑکوں اور چوراہوں پر ہیں۔ پاکستان اور یورپی ملکوں کے سیاسی و معاشی حالات یقیناً مختلف ہیں لیکن عام شہری کی شکایت میں مماثلت ہے۔ آمدنی کے مقابلے میں اخراجات بڑھ رہے ہیں، بنیادی سہولتیں مہنگی ہورہی ہیں اور حکم رانوں سے جواب دہی کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔
یہ تحریکیں ایک دوسرے سے مربوط ہوں یا نہ ہوں، ان کا تقابل ایک اہم حقیقت سامنے لاتا ہے۔ عوام کے بنیادی مسائل اکثر نظریاتی اختلافات سے زیادہ فوری اور محسوس ہونے والے ہوتے ہیں۔ بجلی کا بل، روزگار، تعلیم اور خوراک کا خرچ شہری سے یہ نہیں پوچھتا کہ اس کا مذہب کیا ہے یا وہ کس سیاسی نظریے کا حامی ہے۔
دہلی کا جنتر منتر: پرچے سے انتخابی شفافیت تک
بھارت میں دہلی کے جنتر منتر پر جاری دھرنے کو بھی اسی وسیع تناظر میں دیکھا جاسکتا ہے۔اس احتجاج کا آغاز امتحانی پرچے کے افشا ہونے کے معاملے سے ہوا لیکن اب اس کے گرد انتخابی نظام کی شفافیت اور حکومتی طرزِ عمل کے سوالات بھی اہمیت اختیار کررہے ہیں۔ امتحانی پرچے کا افشا، قابلیت ، نوجوانوں کے مستقبل اور ادارہ جاتی دیانت کا مسئلہ ہے جبکہ انتخابی شفافیت عوام کے اس حق سے متعلق ہے کہ ان کے ووٹ کی گنتی، انتخابی عمل اور سیاسی نمائندگی پر اعتماد قائم رہے۔ دونوں معاملات الگ ہیں، مگر ان کے پیچھے ایک مشترک سوال موجود ہے کہ کیا ادارے عام شہری کے ساتھ انصاف کر رہے ہیں اور کیا شکایت کی صورت میں اسے قابلِ اعتماد احتساب میسر ہے؟ اگر کسی احتجاج کے شرکا کو محسوس ہو کہ ان کی شکایات نہیں سنی جا رہی ہیں تو مطالبات ایک محدود مسئلے سے نکل کر وسیع تر حکم رانی اور ادارہ جاتی اعتماد کے سوالات تک پہنچ سکتے ہیں۔
بنگلہ دیش: کوٹے سے حکومت کی معزولی تک
اس حوالے سے حکم رانوں کے لیے بنگلہ دیش کا تجربہ ایک اہم سبق رکھتا ہے۔ جولائی 2024 میں وہاں طلبا کی تحریک سرکاری ملازمتوں میں کوٹے کے نظام کی اصلاح کے مطالبے سے شروع ہوئی۔ لیکن احتجاج کے خلاف حکومتی ردِعمل، مظاہرین پر وحشیانہ تشدد، گرفتاریوں اور بڑھتی ہوئی ہلاکتوں نے بحران کو مزید شدید کر دیا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تحریک کے مطالبات کوٹے کی اصلاح سے آگے بڑھ کر حکومتی جواب دہی اور شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے تک پہنچ گئے۔
یہی اس واقعے کا اصل سبق ہے کہ کبھی کبھی ایک محدود اور بظاہر بے ضرر مطالبہ ان مسائل کی علامت بن جاتا ہے جنہیں لوگ طویل عرصے سے اپنے اندر دبائے ہوئے ہوتے ہیں۔ جب حکومت بروقت مکالمہ، شفاف تحقیقات اور اصلاحات کے ذریعے ان شکایات کا ازالہ نہیں کرتی تو معاملہ ابتدائی مطالبے سے کہیں آگے نکل سکتا ہے۔
مختلف نظریات، مگر بنیادی مطالبات مشترک
فرانس سے پاکستان،البنانیہ، اٹلی، اسپین اور دہلی سے ڈھاکا تک ان واقعات میں نہ قیادت ایک ہے، نہ نظریہ، نہ سیاسی نظام اور نہ ہی نتائج یکساں ہیں۔ پھر بھی ان میں بعض مشترک مطالبات نمایاں ہیں: مہنگائی سے نجات، روزگار کے منصفانہ مواقع، معیاری تعلیم، بدعنوانی کا خاتمہ، انتخابی شفافیت، بہتر طرزِ حکم رانی اور جنگ کے بجائے امن۔
یہ مماثلت اس بات کا ثبوت نہیں کہ دنیا بھر میں ایک ہی نوعیت کا انقلاب آنے والا ہے۔ البتہ یہ ضرور بتاتی ہے کہ عوامی اعتماد کسی بھی سیاسی نظام کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ جہاں شہریوں کو محسوس ہو کہ ان کی آواز بے اثر ہے، ادارے غیر شفاف ہیں اور حکم راں جواب دہ نہیں، وہاں ناراضی بتدریج وسیع تر تحریک میں بدل سکتی ہے۔
ان مظاہروں کا انجام کیا ہوگا، یہ کہنا قبل از وقت ہے۔ کچھ حکومتیں اصلاحات کے ذریعے عوامی اعتماد بحال کرسکتی ہیں، کچھ محدود رعایتیں دے کر احتجاج کو ٹالنے کی کوشش کریں گی، جبکہ بعض تحریکیں وقت کے ساتھ کمزور بھی پڑسکتی ہیں۔ لیکن حکم رانوں کے لیے دانش مندی اسی میں ہے کہ وہ عوامی بے چینی کو محض وقتی شور سمجھ کر نظرانداز نہ کریں۔بنگلہ دیش کی مثال یاد دلاتی ہے کہ احتجاج کا آغاز کسی ایک مسئلے سے ہوسکتا ہے، لیکن اگر اس کے پیچھے موجود وسیع تر شکایات کو مسلسل نظرانداز کیا جائے تو سیاسی بحران کی نوعیت بدل سکتی ہے۔
پیرس ہو یا لاہور، دہلی ہو یا ڈھاکا—عوام کی زبان، مذہب اور نظریات مختلف ہوسکتے ہیں، لیکن روٹی، روزگار، تعلیم، انصاف اور باعزت زندگی کی ضرورت مشترک ہے۔ حکومتوں کے لیے اصل امتحان یہ نہیں کہ وہ احتجاج کتنی جلدی ختم کراتی ہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ ان شکایات کا ازالہ کس حد تک کرتی ہیں جنہوں نے لوگوں کو سڑکوں پر آنے پر مجبور کیا۔حکمرانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہر اختلاف کو محض سیاسی مخالفت نہ سمجھیں بلکہ اس کے اسباب کا جائزہ لیں اور شفاف تحقیقات کے ذریعے اعتماد بحال کریں۔
لاہور سے پیرس ، دلی، تیرانہ، میڈڑد اور روم ۔۔ عوامی غصے کی مشترک زبان

مہنگائی، جنگ، نجکاری، انتخابی شفافیت اور خراب طرزِ حکم رانی کے خلاف ابھرتی تحریکیں

