دہلی کے ایک عشائیے سے فلسطین کی جدوجہدِ آزادی تک
یوم آزادی کی آمد آمد ہے، ایسے موقع پر مجھے نئی دہلی میں منعقدہ ایک میٹنگ بار بار یاد آرہی ہے۔ طویل عرصے تک ہندوستان میں اپنی خدمات انجام دے کر ہز ایکسلنسی عدنان ابواللہیجاء واپس اردن جا چکے تھے، ان کی جگہ فلسطین کے سفیر کی حیثیت سے عبدالله محمد أبو شاويس کی آمد ہو چکی تھی۔ ایک دن معزز سفیر کے گھر پر امیر جماعت اسلامی ہند اور دیگر ذمہ داران جماعت کے ساتھ عشائیے پر مدعو تھا۔ مغرب کی نماز سفارت خانے کے ہال میں ادا کی گئی، اس کے بعد تبادلہ خیال کا سلسلہ شروع ہوا۔ فلسطینی سفیر نے تفصیل سے فلسطین کی موجودہ صورت حال پر گفتگو کی۔ وہ اپنی گفتگو میں قرآنی آیات سے استدلال کے ساتھ بائیبل اور تورات سے بھی حوالے دیتے جاتے۔ یہ جان کر خوشی ہوئی کہ وہ صرف خالص بیروکریٹ نہیں بلکہ ایک علمی شخصیت ہیں، تاریخ فلسطین سے صرف لگاؤ نہیں بلکہ جزئیات سے واقفیت ہیں۔ انہوں نے ہندوستان اور فلسطین کی تاریخی وراثت پر سیر حاصل گفتگو کی۔ دونوں ممالک کے گہرے تعقات کی تاریخ، گاندھی جی کا فلسطین کے بارے میں واضح موقف، نہرو کی عربوں، اور خصوصی طور پر فلسطینیوں سے ہمدردی، اور وہ دور جب ہندوستان اقوام متحدہ میں فلسطین کے کھڑا رہتا تھا، سب پر اپنی رائے رکھی۔
باتیں ہو رہی تھیں، ماضی کے اوراق کھنگالے جارہے تھے، یادگار لمحات کا ذکر آ رہا تھا۔ اتنے میں معزز سفیر اچانک کھڑے ہو گئے۔ انہوں نے اپنے پاس رکھے ہوئے ایک چھوٹے سے لکڑی کے بکس کو کھولا۔ بکس کے اندر، سرخ مخمل کے کپڑے پر ایک بڑی سی لوہے کی چابی رکھی تھی۔ پرانی، زنگ آلود مگر تھی اب بھی اپنی پوری آن بان اور شان کے ساتھ۔
فلسطینی سفیر نے چابی کو نکال کر امیر جماعت کی خدمت میں پیش کی اور گویا ہوئے: یہ میرے دادا کے گھر کی چابی ہے۔ میرا گھر حیفا میں تھا۔ ۱۹۴۸ میں جب ہمیں اپنے گھروں سے نکلنے پر مجبور کیا گیا تو دادا نے یہ چابی اپنی جیب میں رکھ لی اور کہا کہ ان شاء اللہ کچھ دن بعد ہم اپنے گھروں کو واپس جائیں گے۔ دادا نہیں رہے، اور ابا بھی نہیں رہے، مگر یہ چابی ہماری ملکیت میں ہے۔ اور کل ہم ضرور اپنے گھروں کو واپس جائیں گے"
یکے بعد دیگر ے ساتھیوں نے اس چابی کے لمس کو محسوس کیا، جب یہ چابی میرے ہاتھوں تک پہنچی بوجھل تھی، سرد تھی، اور میں پورے فلسطین کا درد اس میں محسوس کر رہا تھا۔ ایک لمحے کے لیے میں خاموش رہا۔ پھر میں نے چابی واپس کی اور کچھ نہیں کہہ سکا۔ کہتا بھی کیا؟ وہ چابی محض لوہے کا ایک ٹکڑا نہیں تھی — وہ ایک عہد تھا، ایک وعدہ تھا، ایک امید تھی جو پچہتر سال کے گزرنے کے بعد بھی نہیں ٹوٹی تھی۔
اس ملاقات کو دو سال ہو چکے ہیں مگر اس شام کے بعد میں نے فلسطینی چابی کے بارے میں سوچنا شروع کیا۔ معلوم ہوا کہ یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔ لاکھوں فلسطینی پناہ گزین اپنے گھروں کی چابیاں آج بھی محفوظ رکھتے ہیں۔ یہ چابیاں ۱۹۴۸ کے "نکبہ" سے پہلے کے زمانے کی ہیں، جب لاکھوں فلسطینی اپنے گھروں سے نکالے گئے۔ انہوں نے سوچا تھا کہ کچھ دن بعد واپس آ جائیں گے۔ چابیاں جیبوں میں، میز کی درازوں میں اور دیواروں میں لٹکتی رہیں۔ مگر وہ کچھ دن پچہتر سال سے زیادہ میں تبدیل ہوگئے ۔
فلسطینی کیمپوں میں — لبنان، اردن، شام، غزہ اور مغربی کنارے میں — آج بھی یہ چابیاں دیکھی جا سکتی ہیں۔ بعض فلسطینی بزرگ انہیں اپنے سینوں سے لگائے رکھتے ہیں، بعض انہیں دیواروں میں سجا کر رکھتےہیں۔ ہر فلسطینی خاندان میں ایک "چابی والا بزرگ" ہوتا ہے جو نئی نسل کو اپنی یہ تاریخ منتقل کرتا ہے: "یہ تیرے گھر کی چابی ہے۔ حیفا میں، یافا میں، نابلس میں یا عکہ میں۔ ان شاء اللہ کل ہم وہاں ضرور جائیں گے۔"
چابی محض لوہے کا ایک ٹکڑا نہیں بلکہ یہ ایک مظہر ہے، ایک علامت ہے، سمجھوتہ نہ کرنے اور استعمار کے سامنے نہ جھکنے کا اعلان ہے۔ اقوام متحدہ کی قرارداد حقِ واپسی کی توثیق ہے، اس قرارداد پر عمل درآمد آج تک نہیں ہوا، کیوں کہ اقوام متحدہ خود بڑی طاقتوں کی رکھیل بن گئی ہے۔ یہ چابیاں اس کی گواہ ہیں کہ فلسطینوں نے اپنے وطن سے رشتہ منقطع نہیں کیا ہے، وہ اپنی مٹی کو نہیں بھولے ہیں، اور بھولیں گے بھی کیسے؟ ان کے نزدیک حقِ واپسی کا مطالبہ محض ایک سیاسی نعرہ نہیں — بلکہ ان کے وجود کا سوال ہے، بغیر واپسی کے فلسطین کی شناخت نا مکمل ہے۔
چابی کو ہاتھ میں پکڑ کر میرے ذہن کے نہاں خانے میں ایک اور چابی کا تصور آیا — ہندوستان کی آزادی کی چابی جس کے حصول کے لیے ہمارے آباء و اجداد نے اپنی جانیں نچھاور کر دین، قید خانوں کی صعوبتیں جھیلیں، در بدر کیے گئے، اپنے گھروں کی چابیاں چھوڑ کر نکلے، بے گھر ہوئے، لاکھوں کی تعداد میں مارے گئے اور جنہوں نے اپنا گھر بار چھوڑا، ان کی اولادیں آج بھی وہ چابیاں تلاش کرتی ہیں۔
لیکن دونوں چابیوں میں فرق ہے۔ ہندوستان کو آزادی مل گئی — ۱۹۴۷ میں انگریز ہندوستان سے چلے گئے، استعمار کو منہ کی کھانی پڑی مگر فلسطین میں استعمار آج تک قابض ہے اور اسے ہر طرح کے استعمار کا آشیرواد حاصل ہے، اسی لیے فلسطینی چابیاں — اب بھی اپنے مالکوں کی واپسی کا انتظار کر رہی ہیں۔
گاندھی جی نے ایک موقع پر کہا تھا: "فلسطین عربوں کا ہے، جس طرح انگلستان انگریزوں کا اور فرانس فرانسیسیوں کا ہے۔" نہرو نے فلسطین کو "نوآبادیاتی مسئلہ" قرار دیا تھا۔ ہندوستان کو تل ابیب میں اپنا سفارت خانہ کھولنے میں چالیس سال سے زائد کا وقت لگا۔ ہر موقع پر ہندوستان نے اقوام متحدہ کے اندر فلسطین کے حق میں ووٹ کا استعمال کیا۔ ہندوستان PLO کو تسلیم کرنے والے پہلے ممالک میں شامل تھا۔ یہ وہ ہندوستان تھا جو خود استعمار کا شکار رہا تھا، لہٰذا استعمار کے خلاف نبرد آزما رہا۔
اور آج؟ آج اسی ہندوستان نے اقوام متحدہ میں غزہ میں جنگ بندی کی قرارداد پر غیر جانب دار رہنے کو ترجیح دی۔ وہ ہندوستان جو گاندھی اور نہرو کے دور میں فلسطین کا حمایتی تھا، آج قاتل نیتن یاہو کے ساتھ کھڑا ہے۔
اس شام جب میں عشائیے سے واپس آیا تو دل بھرا ہوا تھا۔ فلسطینی سفیر کی چابی میری آنکھوں کے سامنے تھی اور اس کے ساتھ وہ تلخ حقیقت بھی کہ میرا ملک جس نے خود آزادی کے لیے دو سو سال کی جدوجہد کی تھی آج اسرائیل کی طرف کیوں کر جھکاؤ رکھتا ہے۔ یہ صرف سفارتی تبدیلی نہیں ہے بلکہ ایک اخلاقی زوال کی علامت ہے۔ وہ ہندوستان جو ظلم کے خلاف آواز اٹھاتا تھا، آج ظلم پر خاموش تماشائی بنا ہوا ہے۔
کتنی تکلیف دہ بات ہے کہ ہندوستان اپنی تاریخ سے رخ موڑ رہا ہے۔ وہ ہندوستان جو کبھی انگریزی استعمار کے خلاف لڑا تھا، جس کی آزادی کے لیے لاکھوں ہندوستانیوں نے جان دی تھی، وہ ہندوستان آج ایک اور استعمار — صہیونی استعمار — کا شریک کار ہے۔ یہ محض خارجہ پالیسی کا انحراف نہیں بلکہ آزادی کی روح سے غداری ہے۔
آج بھی فلسطینی سفیر کے گھر کی چابی میرے ذہن میں ہے۔ وہ چابی آج بھی مجھ سے یہ سوال پوچھتی ہے "جب تم اپنی آزادی مناتے ہو تو کیا تم ہماری آزادی کا بھی خیال کرتے ہو؟ جب تم اپنے جھنڈے لہراتے ہو تو کیا ہمارے بچوں کے خون آلود لاشوں کو بھی دیکھتے ہو؟ جب تم اپنے مجاہدین آزادی اور شہداء کو یاد کرتے ہو تو کیا ہمارے مزاحمت کاروں اور شہداء کے لیے تمہارے دل میں ٹیس اٹھتی ہے؟
ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ آزادی کا اصل پیغام عدل ہے نہ کہ مفاد پرستی؟ وہ ملک جو ظلم کے خلاف کھڑا نہیں ہو سکتا وہ قطعی آزاد نہیں ہے۔ اور وہ چابی — فلسطینی چابی، ہمارا بار بار امتحان لیتی رہے گی۔
فلسطینی سفیر نے جب اپنی چابی اٹھائی تو ان کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک تھی — نہ مایوسی کی، نہ غصے کی بلکہ یقین کی۔ وہ یقین جو پچہتر سالوں کی در بدری اور تنگی کے باوجود نہیں ٹوٹا۔ میں نے سوچا: شاید اسی یقین میں آزادی کا راز ہے۔ یہ راز کبھی گاندھی جی کی شخصیت میں پنہاں تھا، نہرو کی جدوجہد میں موجزن تھا، نیلسن منڈیلا کی استقامت میں نمایاں تھا اور آج فلسطینی بزرگوں کی چابی میں پوشیدہ ہے۔