ابو عفان قاسمی
اس میں کوئی شک نہیں کہ ملک کی سلامتی اور سیکیورٹی کے لیے غیر قانونی شہریوں کی شناخت اور ان کی ملک بدری ہر آزاد ریاست کا بنیادی حق اور آئینی ذمہ داری ہے۔ تاہم، یہ کارروائی جامع قانونی کارروائی کے بعد صرف ان لوگوں کے خلاف ہونی چاہیے جو واقعی غیر قانونی طور پر ملک میں داخل ہوئے ہوں۔ لیکن جب یہی کارروائی اپنے ہی شہریوں کے خلاف ان کی مذہبی یا لسانی شناخت کی بنیاد پر ہونے لگے تو معاملہ انتہائی سنگین اور تشویش ناک ہو جاتا ہے۔
حالیہ برسوں میں بنگالی مسلمان، مشتبہ بنگلہ دیشی کے نام پر جس طرح کی گرفتاری، ہراسانی، غیر قانونی 'پش بیک اور اس کے بعد اپنی ہی وطن واپسی کی جدوجہد کا سامنا کر رہے ہیں، اس نے بھارت کے بنگالی مسلمانوں کے سامنے سیکیورٹی، تحفظ اور وجود کا شدید بحران پیدا کر دیا ہے۔ پہلگام میں ہونے والے ہولناک دہشت گردانہ حملے کے بعد پورے ملک میں غصے اور تشویش کی لہر دوڑا دی تھی۔ لیکن اس غصے کا ایک دردناک اور ناپسندیدہ رخ یہ دیکھنے میں آیا کہ ملک کی مختلف ریاستوں، بالخصوص بی جے پی کے زیرِ اقتدار ریاستوں میں بنگلہ دیشی تارکینِ وطن کے خلاف کارروائی کے نام پر بنگالی مسلمانوں کے خلاف ہراسانی کا نیا سلسلہ شروع ہو گیا۔ یہ محض اتفاق نہیں تھا بلکہ ایک ایسے بیانیے کا نتیجہ تھا جس نے روزگار کی تلاش میں آنے والے غریب محنت کشوں کو راتوں رات مشکوک بنا دیا۔ بنگالی بولنے والے غریب مزدوروں، کباڑیوں، تعمیراتی کارکنوں اور گھریلو ملازمین کو بلا کسی ثبوت کے سیکیورٹی کا خطرہ یا سلیپر سیل کہہ کر نشانہ بنایا گیا۔ محض کسی شخص کا بنگالی بولنا، لنگی پہننا یا ڈاڑھی رکھنا ہی پولیس اور انتظامیہ کے لیے اسے روکنے اور تفتیش کے نام پر ہراساں کرنے کا جواز بن گیا۔
دہلی، راجستھان، گجرات، مہاراشٹر اور اڈیشہ جیسی ریاستوں میں سیکڑوں بنگالی مسلمان اس نفرت انگیز مہم کا شکار ہوئے۔ درجنوں افراد کو تمام تر قانونی دستاویزات اور ثبوت موجود ہونے کے باوجود زبردستی بنگلہ دیش 'پش بیک کر دیا گیا۔ مغربی بنگال میں بھی مئی سے اب تک کم از کم نو مسلم مردوں اور دو بچوں کو بنگال پولیس نے بنگلہ دیشی شہری ہونے کے شبہ میں ان کے گھروں سے اٹھا کر حراستی مراکز (Detention Centers) بھیج دیا ہے۔ ان میں ایک کے علاوہ باقی تمام کا تعلق ضلع مرشد آباد سے ہے۔ ان میں سے کسی کو بھی اپنی شہریت ثابت کرنے یا الزامات کا دفاع کرنے کا موقع نہیں دیا گیا۔ حراست میں لیے گئے افراد میں سے کم از کم چار افراد ایسے تھے جنہوں نے الیکشن کمیشن کی جانب سے حال ہی میں کی گئی ووٹر لسٹوں کی خصوصی نظرثانی (SIR) کو کامیابی سے پورا کیا تھا۔ حال ہی میں شمالی دیناج پور کے ساٹھ سالہ جمیل اختر کی گرفتاری کا معاملہ بھی سامنے آیا ہے، اور اس وقت وہ کہاں اور کس حال میں ہیں، یہ بتانے کے لیے کوئی تیار نہیں ہے۔
آسام میں بنگالی مسلمانوں کی شہریت کا بحران آزادی کے بعد سے ہی قائم ہے۔ این آر سی (NRC) کے عمل کے بعد بھی وہاں بنگالی نژاد مسلمانوں کے مسائل ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔ مئی 2025 میں آسام پولیس نے غیر قانونی شہریوں کے خلاف ایک نیا کریک ڈاؤن شروع کیا جس کا شکار لاکھوں افراد ہوئے—جن میں اکثریت ان لوگوں کی تھی جن کے مقدمات ابھی عدالتوں میں زیرِ التوا ہیں۔ ستمبر کے پہلے ہفتے میں گوہاٹی ہائی کورٹ نے ممتاز بیگم کے ملک بدری کے معاملے میں جو تاریخی فیصلہ سنایا اور فارینرز ٹریبیونل (FT) و ریاستی حکومت کو جو سخت تنبیہ کی اس نے آسام میں غیر ملکیوں کی شناخت کے نام پر جاری حکومتی اداروں اور نیم عدالتی اداروں کی من مانی اور نا انصافی کا پردہ چاک کر دیا ہے۔ گوہاٹی ہائی کورٹ کے جسٹس کلیان رائے سورانا اور جسٹس سسمیتا پھوکن کھانڈ پر مشتمل بنچ نے آئین کے آرٹیکل 21 کی تشریح کرتے ہوئے واضح کیا کہ آئین کا آرٹیکل 21 صرف بھارتی شہریوں کو ہی نہیں بلکہ غیر ملکی شہریوں کو بھی وقار کے ساتھ زندگی گزارنے اور ذاتی آزادی کا تحفظ فراہم کرتا ہے۔ کسی بھی فرد کی زندگی اور آزادی اتنی مقدس ہے کہ قانون کی طے شدہ عمل داری کے بغیر اس میں مداخلت کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ یہ اصول تمام مہذب ممالک میں تسلیم شدہ اور نافذ العمل ہے۔ عدالت عالیہ نے واضح کیا کہ کسی بھی شخص کو قانونی چارہ جوئی کا مکمل موقع دیے بغیر ملک سے نہیں نکالا جا سکتا۔
44 سالہ ممتاز بیگم کا کیس 1997 سے چل رہا تھا، جب انہیں 'ڈی ووٹر' (مشتبہ شہری) قرار دیا گیا تھا۔ 2019 میں ناگاؤں فارینرز ٹریبیونل نے ان کے تمام قانونی کاغذات (مثلاً 1965 اور 1970 کی ووٹر لسٹیں اور خاندانی شواہد) کو نظر انداز کرتے ہوئے انہیں ایک طرفہ طور پر 'غیر ملکی قرار دے دیا۔ ممتاز بیگم نے اس فیصلے کے خلاف گوہاٹی ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی۔ ہائی کورٹ نے اگرچہ ابتدائی طور پر ان کی شہریت بحال نہیں کی لیکن یہ ملاحظہ کیا کہ ناگاؤں ٹریبیونل نے پیش کردہ دستاویزات پر ہمدردانہ اور منصفانہ غور نہیں کیا، لہٰذا عدالت نے ٹریبیونل کو دوبارہ ان کے کاغذات کی جانچ کی ہدایت دی۔
اس کے بعد ممتاز بیگم ناگاؤں ٹریبیونل میں پیش ہوئیں، مگر ٹریبیونل نے ہائی کورٹ کی واضح ہدایات کے باوجود کیس پر دوبارہ سنجیدگی سے غور کرنے کے بجائے محض آدھے گھنٹے کے اندر ان کی درخواست خارج کر دی اور پولیس کو انہیں فوراً گرفتار کرنے کی ہدایت دے دی۔ ممتاز بیگم کو پہلے جوڑیا پولیس اسٹیشن، پھر ایس پی دفتر ناگاؤں اور وہاں سے گوالپارہ کے ماتیہ حراستی مرکز منتقل کر دیا گیا۔ چند ہی دنوں بعد جب ان کا بیٹا حراستی مرکز پہنچا تو اسے بتایا گیا کہ ممتاز بیگم کو وہاں سے کسی نامعلوم مقام پر لے جایا گیا ہے۔ بالآخر ان کے شوہر نے گوہاٹی ہائی کورٹ میں 'حبسِ بے جا (Habeas Corpus) کی درخواست دائر کی، جس پر حکومت نے عدالت کو مطلع کیا کہ ممتاز بیگم کو ضلع کچار کے کالین چیرا کے راستے بنگلہ دیش بھیج دیا یعنی پش بیک کر دیا گیا ہے۔
ممتاز بیگم کے معاملے پر گوہاٹی ہائی کورٹ کا تبصرہ آسام حکومت اور فارینرز ٹریبیونل کے لیے ایک شدید تازیانہ ہے۔ عدالت نے نہ صرف اس غیر قانونی اقدام کی سخت مذمت کی بلکہ تاریخ میں پہلی بار زبردستی پش بیک کے معاملے میں ریاستی حکومت پر دو لاکھ روپے کا عبوری معاوضہ (جرمانہ) عائد کیا۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے وزارتِ خارجہ کو فریق بناتے ہوئے ممتاز بیگم کی بحفاظت ہندستان واپسی یقینی بنانے کی ہدایت دی۔ ہائی کورٹ نے ٹریبیونل جج ببپل کمار ناتھ کے رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملہ پر دوبارہ غور کرنے کی ہدایت کے باوجود ٹریبیونل ممبر نے ذاتی عناد اور بغض کا مظاہرہ کیا۔ عدالت نے مزید کہا کہ ممتاز بیگم کو 30؍ مئی کے حکم کے خلاف اپیل کا موقع ہی نہیں دیا گیا، جو The Immigrants Expulsion from Assam 1950 Act کے طے شدہ طریقہ کار (SOP) کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ قانون کی رو سے کسی شخص کو صرف اسی صورت میں ملک بدر کیا جا سکتا ہے جب کہ اس کے تمام قانونی راستے مکمل طور پر ختم ہو چکے ہوں۔
عدالت نے آسام کے محکمہ داخلہ کو ہدایت دی کہ وہ 30؍ مئی کے آرڈر کی تاریخ اور وقت کی مکمل تحقیقات کرے اور ضرورت پڑنے پر ٹریبیونل ممبر کا کمپیوٹر ضبط کر کے یہ معلوم کرے کہ یہ فیصلہ کب لکھا گیا تھا۔ بیگم کے اہل خانہ کے مطابق وہ دوپہر ساڑھے بارہ بجے پیش ہوئی تھیں اور ایک بجے پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا۔ پولیس اور جج کے اس دعوے پر کہ گرفتاری ٹریبیونل کے باہر سے ہوئی، عدالت نے سوال اٹھایا کہ اگر فاضل ٹریبیونل نے درخواست گزار کو زبانی طور پر بھی فیصلے سے آگاہ کیا ہوتا تو ان کے پاس ٹریبیونل کے احاطے کے قریب رکنے کی کوئی وجہ نہیں تھی کہ وہ پولیس کی حراست میں آتیں۔ ٹریبیونل ممبر نے جان بوجھ کر فیصلہ سنانے میں تاخیر کی تاکہ انہیں اپیل کا موقع دیے بغیر فوراً گرفتار کر کے ملک بدر کیا جا سکے" عدالت نے کہا کہ ریاستی مشینری نے مل کر کام کرتے ہوئے ایک شہری کو عدالت سے رجوع کرنے کے آئینی حق سے محروم کیا۔ اسی لیے عدالت نے آسام کے تمام اضلاع کے ایس پیوں (SPs) کو یہ سخت ہدایت جاری کی کہ کسی بھی شخص کو حراست میں لینے سے پہلے اسے ٹریبیونل کے حتمی فیصلے کی کاپی مہیا کی جائے۔ ضلع سے باہر منتقل کرنے سے قبل اس کے بالغ خاندانی ارکان کو تحریری طور پر مطلع کیا جائے۔
آسام کے فارینرز ٹریبیونلز نے گزشتہ چار دہائیوں میں تقریباً ایک لاکھ تیس ہزار افراد کو ہندوستانی شہریت سے محروم قرار دیا ہے۔ اس عمل پر اعلیٰ عدالتوں، قانونی ماہرین اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بارہا یہ سوال اٹھایا ہے کہ کیا یہ نظام واقعی صرف غير ملکیوں کی شناخت کا ذریعہ ہے یا پھر اس میں ان غریب اور محروم شہریوں کے لیے بھی تباہ کن خطرات موجود ہیں جو صدیوں سے اسی سرزمین کا حصہ ہیں مگر معمولی کاغذی غلطیوں یا وسائل کی کمی کی وجہ سے اپنی شہریت ثابت کرنے میں ناکام ہو جاتے ہیں؟
آسام کے فارینرز ٹربیونل کے بارے میں کئی برس سے قانونی ماہرین، انسانی حقوق کی تنظیموں اور خود عدالتوں کے سامنے مختلف سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ خاص طور پر 2026 کے بعض حالیہ مقدمات نے ان سوالات کو دوبارہ نمایاں کیا ہے۔کسی شخص کو غیر ملکی ثابت کرنے کی ذمہ داری کس پر ہے؟ سب سے بنیادی سوال یہ ہے کہ جب ریاست کسی شخص کی شہریت پر سوال اٹھاتی ہے تو ثبوت پیش کرنے کا بوجھ اسی شخص پر کیوں آ جاتا ہے؟ فارن ٹربیونل کے نظام میں متعلقہ شخص کو یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ وہ غیر ملکی نہیں ہے۔ سپریم کورٹ نے 2026 میں بھی واضح کیا کہ یہ قانونی ذمہ داری اپنی جگہ موجود ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ منصفانہ کارروائی، مناسب نوٹس اور شواہد پر غور کے اصول سب ختم ہو جائیں!
آسام میں شہریت ثابت کرنے کے لیے اکثر 1971 سے پہلے کے والدین یا آباؤ اجداد کے ووٹر لسٹ، زمین کے کاغذات، اسکول ریکارڈ اور خاندانی تعلق کے ثبوت درکار ہوتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ایک غریب دیہی شخص جس کے خاندان نے کئی دہائیوں تک کاغذات محفوظ نہیں رکھے، وہ اپنے والد، دادا یا پردادا سے اپنا رشتہ کس طرح ثابت کرے؟ حالیہ مقدمات میں گوہاٹی ہائی کورٹ نے بعض ٹربیونل فیصلے اس لیے واپس بھیجے کہ اہم دستاویزات پر مناسب غور یا وجہ بیان نہیں کی گئی تھی۔ فارن ٹربیول کے معاملے میں یہ سوال کافی اہم ہے کہ کیا ٹربیونل ہر ایک دستاویز کی جانچ کرتا ہے؟ مثلاً کسی شخص کے پاس متعدد ووٹر لسٹیں، زمین کے کاغذات، اسکول سرٹیفکیٹ اور خاندانی تعلق کے ثبوت ہوں، تو کیا ٹربیونل انہیں مجموعی طور پر دیکھتا ہے یا کسی ایک خامی یا تضاد کی بنیاد پر پورا دعویٰ مسترد کر دیتا ہے؟ گوہاٹی ہائی کورٹ نے 2026 میں ایک معاملے میں کہا کہ اہم دستاویزات کو مسترد کرتے وقت ٹربیونل کو وجوہات بیان کرنا ضروری ہے۔ یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ غیر موجودگی میں بھی ٹربیونل فیصلہ سنا دیا کرتا ہے، تو ایسے میں یہ سوال کافی اہم ہے کہ اگر کسی شخص کو نوٹس صحیح طور پر نہ ملی ہو، وہ نوٹس سمجھ نہ سکا، وکیل سے رابطہ نہ ہو سکا یا کسی مجبوری کے باعث سماعت میں حاضر نہ ہو سکا، تو کیا اسے صرف غیر حاضری کی بنیاد پر غیر ملکی قرار دیا جائے گا؟ 2026 میں سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ محض غیر حاضری خود بخود کسی شخص کے غیر ملکی ہونے کا ثبوت نہیں بن جاتی اور ایسے معاملات میں منصفانہ کارروائی ضروری ہے۔
ممتاز بیگم کے حالیہ معاملے نے اس سوال کو انتہائی اہم بنا دیا ہے۔ اگر کسی شخص کو ٹربیونل غیر ملکی قرار دیتا ہے تو اسے فیصلے کی کاپی ملنے، قانونی مشورہ لینے اور ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کا حقیقی موقع ملنا چاہیے یا نہیں؟ گوہاٹی ہائی کورٹ نے ستمبر 2026 کے اس معاملے میں ریاستی کارروائی پر سخت سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ قانونی راستہ استعمال کرنے کا موقع متاثر نہیں کیا جانا چاہیے۔ ممتاز بیگم کا یہ کیس چند بنیادی سولات بھی کھڑا کرتا ہے کہ اگر کسی شخص کو غیر ملکی قرار دینا ضروری بھی ہو، تو کیا یہ کام مکمل اور شفاف قانونی عمل کے بغیر ہونا چاہیے؟ اگر کسی ٹریبیونل کے فیصلے میں شواہد کو سرے سے نظر انداز کر دیا گیا ہو، تو کیا ایسے فیصلے کو قانونی طور پر درست مانا جا سکتا ہے؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اگر آئین کسی شخص کو اعلیٰ عدالتوں سے رجوع کرنے کا حق دیتا ہے تو انتظامیہ اسے اس حق کے استعمال سے پہلے ہی رات کی تاریکی میں ملک سے باہر کیسے دھکیل سکتی ہے؟ گوہاٹی ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ ان تمام سوالات کا منہ بولتا جواب ہے اور انتظامیہ و ناظرین کے لیے ایک تنبیہ بھی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اور نیم عدالتی ادارے عدالت کے اس تازیانے سے کوئی سبق سیکھتے ہیں اور قانون کی حکم رانی کو قائم رکھتے ہیں یا آئینی اقدار کو پامال کرنے کا یہ سلسلہ یوں ہی جاری رہے گا؟
غیر قانونی ملک بدری پر گوہاٹی ہائی کورٹ کی پھٹکار

کیا حکومتِ آسام سبق سیکھنے کے لیے تیار ہے؟

