غزہ میں اسرائیلی حملوں کے تین سال مکمل ہونے پر الجزیرہ کے شائع کردہ اعدادوشمار کے مطابق، کم از کم 74 ہزار فلسطینی جاں بحق ہوچکے ہیں، یعنی یہاں آباد ہر 30 میں سے ایک فلسطینی جاں بحق ہو چکا ہے۔ ان میں وہ ہزاروں افراد شامل نہیں جو اب بھی ملبے تلے دبے یا لاپتا ہیں۔ زخمی ہونے والوں کا تناسب 13 میں ایک ہے۔ زخمیوں کی بڑی تعداد زندگی بھر کی معذوری اور طویل بحالی کی محتاج ہے۔
اس ہفتے بھی غزہ پر بمباری، ڈرون حملے، ٹینکوں سے گولہ باری اور نشانچیوں کی فائرنگ جاری رہی۔ جامع مسجد رفح کے قریب حملے میں دو افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ 17 اکتوبر کو وسطی غزہ میں 14 سالہ محمد ابو حماد ڈرون حملے میں جان سے گیا۔ اس کے دوسرے دن صبح کو المغزی کے علاقے میں ایک سات سالہ لڑکی مسک الدالو کو اسرائیلی فوج نے گولی ماردی اور کچھ ہی دیر بعد بیت لاہیہ میں ایک بچہ تعمر صبوح ان درندوں کا نشانہ بن گیا۔ دونوں بچوں پر بہت قریب سے گولی چلائی گئی۔ محلے تفح اور خان یونس پر حملوں میں بھی متعدد افراد مارے گئے۔ خان یونس کی ڈھائی سالہ مریم کی داستان اس انسانی المیے کی ایک اور تصویر ہے۔ اس کے خیمے پر حملے میں مریم کی والدہ زندہ جل گئیں۔ اس کا باپ کچھ عرصہ پہلے ایسے ہی ایک حملے میں جل کر دم توڑ چکا ہے۔ گویا بری طرح جھلسی یہ بچی اب بالکل بے سہارا ہے۔
زیتون کی فصل: فلسطینیوں کے لیے موسمِ برداشت یا موسمِ خوف؟
غربِ اردن میں زیتون کی کٹائی کا وقت فلسطینی کسانوں کے لیے خوشی، محنت اور شکر گزاری کا موقع ہوتا ہے۔ چند ہفتوں بعد امریکہ میں قومی تہوار Thanksgiving منایا جائے گا جس کی روایت شمالی امریکہ میں ابتدائی آبادکاروں کی فصل کی کٹائی سے منسوب ہے۔ لیکن فلسطینی کسانوں کے لیے کٹائی کا موسم تشدد، آتش زنی، لوٹ مار اور بے دخلی کے خوف میں بدل چکا ہے۔
جنوبی نابلس کے علاقے تلفیت میں اسرائیلی آبادکاروں نے ایک گھر پر حملہ کرکے خاتونِ خانہ اور اس کی 14 اور 18 سالہ بیٹیوں کو اغوا کرنے کی کوشش کی۔ مزاحمت پر لڑکیوں کے والد کا ہاتھ توڑ دیا گیا۔ رملہ کے گاؤں راس کرکر میں آبادکاروں کی مزاحمت کرنے والے فلسطینیوں پر اسرائیلی فوج نے ربڑ کی گولیاں چلائیں جس سے دو افراد زخمی ہوئے۔ جنوبی الخلیل کے گاؤں سموع، مسافر یطّا اور رملہ کے قصبے برزیت میں بھی زیتون توڑنے والوں پر حملے ہوئے۔ ان واقعات میں شیرخوار بچے، چار خواتین اور ایک 70 سالہ بزرگ سمیت متعدد افراد زخمی ہوئے۔ کھڑی فصلوں کو آگ لگائی گئی اور گاڑیاں نذرِ آتش کی گئیں۔
بھیڑ بکریاں بھی تشدد سے محفوظ نہیں
سترہ اکتوبر کو رملہ کے گاؤں کفر ملک میں آبادکاروں نے بھیڑیں ہتھیانے کی کوشش کی۔ فلسطینیوں کی مزاحمت پر درندوں نے 20 بھیڑوں کو چھروں سے کاٹ ڈلا اور پھر زمین پر تڑپتے جانوروں کو اپنے بھاری جوتوں تلے کچل کر پیوندِ خاک کردیا۔
امریکی صحافی ہیدی لیوائن پر ہجومی تشدد
سولہ اکتوبر کو رملہ کے گاؤں ابو فلاح میں ہونے والا حملہ اس تشدد کی سنگینی کو دنیا کے سامنے لے آیا۔ نقاب پوش مسلح آبادکاروں نے زیتون کے باغات میں آگ لگائی، فلسطینیوں پر پتھراؤ کیا اور وہاں موجود واشنگٹن پوسٹ کی 64 سالہ فوٹو جرنلسٹ ہیدی لیوائن (Heidi Levine) کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا۔ ان کی جیکٹ پر واضح طور پر ’’صحافی‘‘ درج تھا، لیکن اس شناخت نے بھی انہیں حملے سے محفوظ نہ رکھا۔ ہیدی کی ایک پسلی اور ریڑھ کی ہڈی کے چار مہرے ٹوٹ گئے، جبکہ ان کے دائیں ہاتھ کی ایک انگلی اس قدر شدید زخمی ہوئی کہ جراحی کرنی پڑی۔ ہسپتال سے جاری بصری بیان میں انہوں نے بتایا کہ کم از کم 50 نقاب پوش افراد غلیلیں لیے پہاڑی سے ان کی طرف دوڑے، انہیں زمین پر گرایا اور لاتیں ماریں۔ حملہ آور ان کا موبائل فون اور کیمرے بھی لے گئے۔ عینی شاہدین کے مطابق موقع پر موجود اسرائیلی فوجیوں نے فلسطینیوں پر آنسو گیس پھینکی، لیکن حملہ آوروں کو روکنے کی کوشش نہیں کی۔
بیدی کے بیٹے مائیکل ملنر کے مطابق ان کی والدہ جسمانی تکلیف کے ساتھ شدید ذہنی صدمے سے بھی دوچار ہیں۔ مائیکل کا کہنا ہے کہ اخبار کے ارب پتی مالک جیف بیزوز نے ہیدی سے بات کرنے اور حملہ آوروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ دوسری طرف اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ہیڈی پر حملے کی خبر کو 'مشکوک ' قرار دیا ہے۔ وہ غزہ میں مارے جانے والے ہر صحافی کو حماس کا کارکن قرار دے کر تحقیقات سے انکار کر چکے ہیں۔ ہیڈی لیوائن کوئی نوآموز صحافی نہیں۔ وہ چار دہائیوں سے جنگی علاقوں میں رپورٹنگ اور عکاسی کرتی رہی ہیں۔ انہوں نے افغانستان، شام، یوکرین اور روس سمیت مختلف جنگ زدہ علاقوں میں کام کیا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ کی عکاسی بھی کی۔ کئی جگہ ہیڈی کو ناخوشگوار حالات کا سامنا کرنا پڑا لیکن اسرائیل میں وہ ہجومی تشدد یا Lynching کا نشانہ بنیں۔ یعنی جمہوریت کا دعوے دار اسرائیل، صحافیوں کے لیے ایران، شام اور افغانستان جیسے جنگ زدہ ممالک سے بھی زیادہ خطرناک جگہ بن چکا ہے۔
اگلے ہی روز تشدد کی زد میں سفارت کار بھی آگئے۔ فرانس، بیلجیم اور پولینڈ کے سفارت کار جب زیتون کی کٹائی کا منظر دیکھنے طیبہ پہنچے تو ان کی گاڑیوں پر پتھراؤ کیا گیا۔ یوں یہ معاملہ محض فلسطینی کسانوں یا صحافیوں کی سلامتی تک محدود نہ رہا، بلکہ غیر ملکی سفارت کار بھی اس تشدد سے محفوظ نہ رہے۔
جب ملکیت پر قبضے کو مذہبی جواز دیا جائے
تشدد کے ساتھ ساتھ اسے مذہبی جواز دینے کی کوششیں بھی سامنے آرہی ہیں۔ ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق سابق چیف ربی ڈوو لیور (Dov Lior) نے ایک فتویٰ جاری کیا ہے جس میں فلسطینیوں کے زیتون توڑنے کی اجازت دے دی گئی۔ ان کا استدلال ہے کہ یہودی قوم نے اس سرزمین سے اپنا دعویٰ کبھی ترک نہیں کیا، عربوں نے یہ زمین یہودیوں سے نہیں خریدی، اس لیے زیتون کی فصل حاصل کرنا ملکیت کے دعوے کے اظہار اور اپنی زمین کا قبضہ واپس لینے کے مذہبی فریضے کی تکمیل ہے۔ مجرمانہ فعل کو مذہبی رنگ دینے کا ذکر قرآن میں بھی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ امیوں یا غیر یہودیوں کے معاملے میں ہم پر کوئی مواخذہ نہیں' سورہ آل عمران آیت 75۔ معتدل آرتھوڈوکس ربیوں کی تنظیم تسوہار (Tzohar) نے ڈوو لیور کے مؤقف کی مخالفت کرتے ہوئے واضح کیا کہ چوری کسی صورت جائز نہیں، ملکیت خواہ یہودی کی ہو یا کسی Gentiles (اُمی یا غیر یہودی) کی۔
اوباما اور نیتن یاہو: تاریخی تعلق یا موجودہ حقوق؟
فلسطینیوں کے حقوق کا سوال امریکی سیاست میں بھی اب زیادہ کھل کر اٹھایا جارہا ہے۔ آئرلینڈ کے دارالحکومت بیلفاسٹ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق امریکی صدر باراک اوباما نے اسرائیل کے قیام اور فلسطینیوں کی بے دخلی کے مسئلے پر بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے لوگوں کو ان کی آبائی زمین سے بے دخل کیا چنانچہ فلسطینیوں کا اسے ناانصافی سمجھنا اور اپنی زمین واپس مانگنا قابلِ فہم ہے۔ سابق امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ اگر اسرائیل اپنی فوجی اور تکنیکی برتری کے بل پر جو چاہے ہتھیالینے اور کسی کو رعایت نہ دینے کی پالیسی اپنائے گا تو اسے شاید وقتی فائدہ تو ہو لیکن وہ اخلاقی برتری کھو بیٹھے گا۔ اس بیان پر اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے سخت رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی ریاست چوری کی ہوئی زمین پر قائم نہیں ہوئی۔ یہ ہمارا وطن ہے۔اسرائیلی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ قیامِ امن کی راہ میں رکاوٹ اسرائیل نہیں بلکہ اس کے دشمنوں کا رویہ ہے۔
کسی قوم کا سرزمین سے تاریخی اور مذہبی تعلق تسلیم کرلینے کا مطلب کیا یہ ہے کہ وہاں صدیوں سے آباد دوسرے لوگوں کے حقوق، ملکیت اور بے دخلی کے مسئلے کو نظر انداز کر دیا جائے؟ تاریخی وابستگی اور موجودہ باشندوں کے حقوق دو الگ سوال ہیں۔ اگر تاریخی روایتوں کا ذکر ہو رہا ہو تو یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ارضِ فلسطین میں داخل ہونے کا حکم نظر انداز کر دیا تھا۔ (حوالہ سورہ مائدہ) یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ جب خود ہی وہاں جانے سے انکار کر دیا تو پھر حق کیسا؟
اس واقعے کا ایک اہم سیاسی پہلو بھی ہے۔ امریکی سیاست میں اسرائیل کے قیام، فلسطینیوں کی بے دخلی اور اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید شجرِ ممنوعہ سمجھی جاتی ہے لیکن اب سابق امریکی صدر کی زبان سے بین الاقوامی اجتماع میں اس طرح کی دو ٹوک بات امریکی سیاست میں ایک مثبت تبدیلی ہے۔ تاہم اس سے یہ نتیجہ نہیں نکالا جاسکتا کہ امریکی پالیسی بھی لازماً اسی رفتار سے تبدیل ہو جائے گی۔
برطانیہ میں صیہونیت پر سیاسی بحث
اسی دوران برطانیہ کی گرین پارٹی کے ملک گیر اجتماعِ ارکان نےایک قرارداد منظور کی جس میں صیہونیت کو نسلی قوم پرستی پر مبنی سیاسی منصوبہ قرار دیتے ہوئے اس کی مخالفت، تاریخی فلسطین میں ایک جمہوری ریاست، مساوی حقوق اور فلسطینیوں و ان کی اولاد کے حقِ واپسی کی حمایت کی گئی۔ قرارداد کے حق میں 1,022 اور مخالفت میں 813 ووٹ آئے۔ قرارداد میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ صیہونیت کی سیاسی مخالفت کو یہودیوں سے دشمنی کے مترادف نہیں سمجھنا چاہیے۔ برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم نے پارلیمنٹ میں قرارداد کو غلط اور یہود دشمن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت ایسا موقف رکھنے والی جماعت کے ساتھ سیاسی شراکت نہیں کرے گی۔
غزہ کی ایک بچی: ایک ڈاکٹر کی یاد میں زندہ زخم
اور آخر میں ایک مسیحا کا بیان۔ اردن نژاد امریکی ڈاکٹر تانیہ حاجی حسن نے کہا کہ 'مجھے انتہائی نگہداشت کے شعبے میں کام کرنے کا وسیع تجربہ ہے اور میں نے کئی مریضوں کو دم توڑتے دیکھا ہے۔ ہر موت المناک اور میرے دل پر نقش ہے لیکن غزہ کی ایک بچی کی شکل ہر وقت میرے آنکھوں کے سامنے رہتی ہے۔ یہ گڑیا میری بانہوں میں مجھ سے ایسی چمٹی ہوئی تھی جیسے میں اس کی ماں ہوں۔ اس ننھی پری کی سانسیں اکھڑ رہی تھیں اور میں اسے گود میں میں اٹھائے آکسیجن کے لیے بھاگتی رہی لیکن گھپ اندھیرے میں مجھے آکسیجن سلنڈر نہ مل سکا اور بچی نے تڑپ تڑپ کر میری بانہوں میں جان دے دی۔
تاریخ کے دعوے نہیں، انصاف کا معیار
غزہ کے ملبے تلے دبے انسان، غربِ اردن میں اپنی فصل بچانے والے کسان، حملے کا نشانہ بننے والی صحافی اور ہسپتال میں آکسیجن کے لیے ترستی بچی۔ کیا تاریخ، مذہب یا طاقت کے دعوے انسان کے بنیادی حقوق سے زیادہ اہم ہو سکتے ہیں؟ تاریخی روایات پر اختلاف ہوسکتا ہے، سیاسی مؤقف مختلف ہوسکتے ہیں، لیکن انصاف کا بنیادی تقاضا نہیں بدلتا۔ کسی قوم کی شناخت اور تاریخی وابستگی کا احترام اسی وقت با معنی ہے جب دوسری قوم کے حقِ زندگی، آزادی، ملکیت اور وقار کو بھی تسلیم کیا جائے۔ فلسطین میں پائیدار امن کا راستہ طاقت کے یک طرفہ استعمال سے نہیں، بلکہ حقوق کے تحفظ، قانون کی حکم رانی اور جواب دہی سے ہو کر گزرتا ہے۔
(مسعود ابدالی سینئر کالم نگار ہیں۔ عالم اسلام اور بالخصوص مشرق وسطیٰ کی صورت حال کا تجزیہ آپ کا خصوصی میدان ہے)
masood_abdali@hotmail.com
***
غزہ سے غربِ اردن تک: خونریزی، قبضہ اور انصاف کا سوال

مغربی سیاست میں بدلتی ہوئی آوازیں

