انسانی بحران کے سائے میں قبضے کے نئے مرحلے اور خطے کی نئی سیاسی و جغرافیائی تشکیل!
غزہ کی جنگ اب صرف بمباری، میزائل حملوں اور زمینی کارروائیوں تک محدود دکھائی نہیں دیتی۔ اقوامِ متحدہ، امدادی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق محاصرہ، غذائی قلت، بنیادی ڈھانچے کی تباہی اور آبادی کی مسلسل نقل مکانی ایک ایسے بحران کو جنم دے رہے ہیں جس کے اثرات جنگ بندی کے بعد بھی برسوں باقی رہ سکتے ہیں۔ دوسری جانب غربِ اردن میں آبادکاری کی رفتار تیز ہو رہی ہے، جب کہ مسجدِ اقصیٰ کے حوالے سے برسوں سے قائم Status Quo بھی مسلسل دباؤ میں نظر آتا ہے۔ ان تمام واقعات کو الگ الگ نہیں بلکہ ایک وسیع تر سیاسی حکمتِ عملی کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔
غزہ میں بھوک: ایک انسانی المیہ
اقوامِ متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام (WFP) نے خبردار کیا ہے کہ اگر اضافی مالی وسائل فوری طور پر فراہم نہ ہوئے تو اکتوبر سے اہلِ غزہ کے لیے خوراک کی امداد میں نمایاں کمی کرنا پڑے گی۔ ادارے کے مطابق جون میں شدید غذائی قلت (Acute Hunger) کا شکار افراد کی تعداد تقریباً بارہ لاکھ تھی جو دسمبر تک بڑھ کر چودہ لاکھ ہو جائے گی، یعنی غزہ کی تقریباً دو تہائی آبادی غذائی قلت کا عذاب سہہ رہی ہے۔ مسلسل بمباری، پانی اور بجلی کے نظام کی تباہی، ہسپتالوں کی بندش، زرعی زمینوں کی بربادی اور امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹوں نے ایسی صورت حال پیدا کردی ہے کہ متعدد بین الاقوامی ادارے اسرائیل پر بھوک کو بطور جنگی ہتھیار استعمال کرنے کا الزام عائد کر رہے ہیں۔
نا قابلِ رہائش غزہ؟
اگر موجودہ صورت حال برقرار رہی تو غزہ بتدریج ایک ایسے خطے میں تبدیل ہو سکتا ہے جہاں معمول کی انسانی زندگی قائم رکھنا انتہائی دشوار ہو جائے گا۔ بمباری، بیماری، مکانوں کی بربادی اور بھوک کے باعث آبادی کی مسلسل نقل مکانی ایک خاموش مگر گہرا انسانی بحران پیدا کر رہی ہے۔ اسی تناظر میں امریکی دامادِ اول جیرڈ کشنر کا وہ بیان یاد آتا ہے جس میں انہوں نے غزہ کو مستقبل میں ایک پر تعیش ساحلی ترقیاتی علاقے (Waterfront Development) میں تبدیل کرنے کا عزم ظاہر کیا تھا۔
مقامی نظم و نسق بھی ہدف؟
غزہ میں بمباری کا رخ صرف عسکری اہداف تک محدود نہیں رہا۔ شمالی غزہ کے علاقے شیخ رضوان پر ڈرون حملے میں پولیس کے سربراہ بریگیڈیئر جنرل عبد الناصر محمد المقادمة کو نشانہ بنایا گیا۔ اسی روز دیر البلح پر حملوں میں مزید جانی نقصان ہوا۔ ایسے واقعات سے یہ تاثر تقویت پاتا ہے کہ شہری نظم و نسق کو بھی کمزور کیا جا رہا ہے تاکہ جنگ کے بعد بھی غزہ میں معمول کی شہری زندگی کی بحالی دشوار رہے۔
غربِ اردن: آبادکاری اور تشدد کا دائرہ وسیع
غربِ اردن میں بھی کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ نابلوس کے گاوں تلکرم پر مسلح قبضہ گردوں نے درجنوں گھروں کو آگ لگا دی۔ اس واقعہ میں چار فلسطینی زندہ جل گئے۔ حفاظتی پتھراؤ سے ایک اسرائیلی ہلاک ہوا جس پر مسلح قبضہ گرد انتقام کے نعرے لگاتے ہوئے فلسطینی آبادی پر ٹوٹ پڑے۔ حملے کے دوران ایک نہتے فلسطینی نے قبضہ گرد سے رائفل چھین کر اسرائیل فوج کے ایک میجر سمیت دو فوجیوں کو ہلاک کر دیا۔ یہ تو گویا غدر کی ایک کیفیت تھی چنانچہ سارے غرب اردن میں کرفیو لگا کر آپریشن کا آغاز ہوا۔ الخلیل کے علاقے سوسیہ پر مسلح قبضہ گردوں کے حملے میں 25 افراد زخمی ہوئے۔ ایک فلسطینی نے قبضہ گرد سے رائفل چھین کر فضا میں گولی چلائی جس کے بعد قبضہ گرد بھاگ کھڑے ہوئے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ بندوق بردار شخص تعطیلات پر آیا اسرائیلی فوج کا افسر اور اسلحہ سرکاری تھا۔ چنانچہ سوسیہ کے ایک درجن سے زیادہ افراد کے خلاف سرکاری اسلحہ لوٹنے پر دہشت گردی کے پرچے کاٹے گئے۔ جمعہ 24 جولائی کو نابلوس، الخلیل، قلقیلیہ اور دوسرے علاقوں میں دہشت گرد دندناتے رہے، گھروں، گاڑیوں اور زرعی اراضی کو نقصان پہنچایا گیا، مختلف علاقوں سے یہ فسادی سیکڑوں مویشی بھی ہنکا لے گئے۔ نابلوس کے گاوں قصرہ اور تلکرم کے قریب کور میں دو مساجد جلا دی گئیں۔ نئے ہنگامی حکم کے تحت غرب اردن میں فسطینیوں کے جنازوں پر پابندی لگا دی گئی ہے، میتیں صرف رات کو دفن کی جائیں گی اور 25 سے زیادہ افراد کا تدفین کے لیے قبرستان جانا ممنوع قرار دے دیا کیا ہے
مسجدِ اقصیٰ اور بدلتا ہوا ’اسٹیٹس کو‘
یہودی تقویم کے تہوار تِیشا بآو (Tisha B'Av) کے موقع پر دو ہزار سے زائد یہودی زائرین، پولیس کی نگرانی میں مسجدِ اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہوگئے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر ان لوگوں کی قیادت کر رہے تھے۔ نمازیوں کو مسجد جانے سے روکا گیا اور بعض مقامات پر جھڑپیں بھی ہوئیں۔
یہ پیش رفت اس لیے بھی اہم ہے کہ 1967ء میں مشرقی یروشلم پر قبضے کے بعد اسرائیل نے اسلامی مقدسات کے انتظام کو اردنی اوقاف کے سپرد رکھنے اور Status Quo برقرار رکھنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔ اس انتظام کے تحت غیر مسلم، مخصوص اوقات کے دوران بطور سیاح القدس شریف آسکتے ہیں لیکن وہاں اجتماعی عبادت یا مذہبی رسومات ادا کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ تاہم حالیہ برسوں میں یہ انتظام مسلسل کمزور ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ مسجدِ اقصیٰ، مسجدِ ابراہیمی اور دیگر مقدس مقامات پر بار بار پیش آنے والے واقعات سے یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ زمینی حقائق بتدریج تبدیل کیے جا رہے ہیں۔ اگر یہی رجحان جاری رہا تو خدشہ ہے کہ "Status Quo" صرف ایک تاریخی اصطلاح بن کر رہ جائے گا۔
غزہ کی آبادکاری: انتخابی سیاست کا نیا نعرہ
اسی دوران حکم راں جماعت لیکوڈ پارٹی سے وابستہ آباد کار تنظیمیں غزہ میں دوبارہ اسرائیلی بستیاں قائم کرنے کی مہم تیز کر رہی ہیں، جبکہ بعض ارکانِ پارلیمنٹ اور وزرا بھی کھلے عام اس کی حمایت کر رہے ہیں۔ اگر یہ مطالبہ سرکاری پالیسی کی شکل اختیار کرتا ہے تو غزہ کی جنگ محض سلامتی یا حماس تک محدود نہیں رہے گی بلکہ مستقل قبضے اور نئی آباد کاری کا مرحلہ بھی اس کا حصہ بن جائے گا۔ آئندہ اسرائیلی انتخابات میں یہ نعرہ مذہبی اور قوم پرست ووٹروں کو متحرک کرنے کا مؤثر ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔
یہودی دنیا ایک جیسی نہیں
تِیشا بآو کے موقع پر نیویارک میں ایک دل چسپ منظر دیکھنے کو ملا جہاں بعض قدامت پسند حلقوں نے نیویارک کے میئر زہران ممدانی کے لیے بد دعا کی۔ وہیں نطورے کارتا (Neturei Karta) سے وابستہ حریدی یہودیوں نے توریت میں درج وہ دعا پڑھی جو عادل حکم رانوں اور فرماں رواؤں کے لیے کی جاتی ہے، اور اس میں زہران ممدانی کے لیے کامیابی، عدل اور رہنمائی کی دعا مانگی گئی۔ یہ واقعہ اس حقیقت کی یاد دہانی بھی ہے کہ یہودی اور صہیونی مترادف اصطلاحیں نہیں۔ خود یہودی مذہبی دنیا کے اندر ایسے مکاتبِ فکر موجود ہیں جو مذہبی بنیادوں پر موجودہ اسرائیلی ریاست اور صہیونیت سے اختلاف رکھتے ہیں۔
غزہ میں بھوک، غربِ اردن میں آبادکاری، مسجدِ اقصیٰ میں پے در پے در اندازی اور اسرائیلی سیاست میں مذہبی قوم پرستی کا بڑھتا ہوا اثر، بظاہر الگ الگ دکھائی دیتے ہیں لیکن ان کے مجموعی رخ سے اندازہ ہوتا ہے کہ خطے میں ایک نیا جغرافیائی، آبادیاتی اور سیاسی نقشہ ترتیب دیا جا رہا ہے۔ اگر یہ رجحان برقرار رہا تو مستقبل کا سب سے بڑا سوال صرف جنگ بندی نہیں ہوگا بلکہ یہ ہوگا کہ جنگ کے بعد غزہ میں کون کس سیاسی حقیقت و بندوبست کے تحت رہے گا۔