سرمایہ داری سے سیکولرازم تک، جدید نظریات کا تحقیقی جائزہ
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے متصل نبی نگر، دھورا مافی میں واقع ادارۂ تحقیق و تصنیف اسلامی کا کانفرنس ہال 30 جولائی 2026ء کی صبح ایک غیر معمولی علمی نشست کا گواہ بنا۔ ہال میں نوجوان محققین، اساتذہ اور اہلِ علم کی سنجیدہ موجودگی اس بات کا احساس دلا رہی تھی کہ یہاں محض رسمی تقریریں نہیں بلکہ عصرِ حاضر کے اہم ترین فکری سوالات پر غور و فکر ہونے والا ہے۔ موضوع بھی ایسا تھا جو اکیسویں صدی کے فکری منظر نامے سے براہِ راست وابستہ ہے: ’’عصرِ حاضر کے جاہلی نظریات کا تعارف و تجزیہ‘‘۔
ادارۂ تحقیق و تصنیف اسلامی میں جاری دو سالہ تصنیفی کورس کے تحت ہر دو ماہ بعد ایک علمی سمینار منعقد کیا جاتا ہے تاکہ زیرِ تربیت اسکالروں کے مطالعے میں وسعت، تحقیقی ذوق میں پختگی اور اظہارِ خیال میں اعتماد پیدا ہو۔ اسی سلسلے کی یہ نشست بھی اپنے موضوع، علمی معیار اور پیش کیے گئے مقالات کے باعث معمول کی تعلیمی سرگرمی سے کہیں بڑھ کر محسوس ہوئی۔
سمینار کی صدارت مسلم یونیورسٹی کے اجمل خاں طبیہ کالج کے سابق استاد اور ممتاز دانش ور ڈاکٹر کنور محمد یوسف امین نے کی جب کہ نظامت کے فرائض محمد مطیع اللہ عمری نے انجام دیے۔ پروگرام کا آغاز محمد شاہ فیصل کی پُر سوز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کے بعد علمی مباحث کا باقاعدہ سلسلہ شروع ہوا۔
سمینار کا پس منظر اور مقصد
سمینار کے مرکزی موضوع اور اس کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے راقمِ سطور نے کہا کہ 1924ء میں خلافت کے خاتمے کے بعد امتِ مسلمہ اپنی تاریخ کے ایک نازک ترین دور سے گزر رہی ہے۔ مخالفین و معاندین نے اسلام کے خلاف سازشوں کے ایسے رنگین اور خوش نما جال بچھا رکھے ہیں کہ ہماری اکثریت انہیں اپنے لیے نعمت اور راحت و آسائش کا سامان سمجھنے لگی ہے۔
ایک جانب امریکہ کی قیادت میں مغربی دنیا مسلمان ریاستوں اور ممالک پر سیاسی و عسکری یلغار کر رہی ہے اور انہیں اپنے زیرِ اثر لا چکی ہے، تو دوسری جانب فکری اور نظریاتی میدان میں بھی مسلمانوں کو شکست و ریخت سے دوچار کرنے اور ان کی تہذیب و ثقافت کی بنیادیں کمزور کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ مغرب کی خواہش ہے کہ ہماری نئی نسل کو نظریاتی اور فکری طور پر اس طرح متاثر کیا جائے کہ اسلام کے ایک مکمل نظامِ زندگی ہونے کا تصور اس کے ذہن و دل سے محو، بلکہ مسخ ہو جائے۔
مغرب، جہاں ایک جانب عالمِ اسلام کے مختلف خطوں، بالخصوص فلسطین، لبنان، ایران، شام، یمن اور عراق وغیرہ میں عسکری محاذ پر سرگرم ہے، وہیں دوسری جانب اس نے فکری، نظریاتی اور علمی میدانوں میں بھی ایک محاذ کھول رکھا ہے۔ یہ محاذ بظاہر خاموش ہے لیکن اس کے اثرات انسانی ذہن، معاشرتی اقدار اور تہذیبی ترجیحات پر دور رس انداز میں مرتب ہو رہے ہیں۔
چنانچہ یہود و نصاریٰ کی مشترکہ ریشہ دوانیوں اور ان کی فکری یلغار سے امت کے نو نہالوں اور نوجوان نسل کو محفوظ رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ علماء، مدارسِ اسلامیہ کے فارغین، مسلمان اسکالروں، مصنفین اور محققین عصرِ حاضر کے مروجہ جاہلی نظریات اور باطل افکار و تصورات کا گہرا فہم اور شعور حاصل کریں۔ وہ ان نظریات کو محض نام کی حد تک نہ جانیں بلکہ ان کی فکری بنیادوں، تاریخی پس منظر اور عملی نتائج کو سمجھیں اور دنیا پر ان نظریات و تصورات کے مضر اثرات اور ان کی تباہ کاریوں کا بھی ادراک رکھیں۔
ظاہر ہے کہ کیپٹل ازم، فیمن ازم، سوشل ازم، نیشنل ازم، لبرل ازم، ریشنل ازم، سیکولرازم، کمیونزم اور ہیومن ازم جیسے موضوعات پر گہرے اور سنجیدہ مطالعے کے بغیر ہم اکیسویں صدی میں اپنی تہذیب و ثقافت، اسلامی علوم و افکار اور نظامِ حیات کی حقانیت و صداقت کو اپنی تحریروں اور تقریروں کے ذریعے مؤثر انداز میں پیش نہیں کرسکتے۔ مغرب کے ان نظریات کے مقابلے میں اسلامی نظامِ حیات کی بالا دستی قائم کرنے، نیز احقاقِ حق اور ابطالِ باطل کے دینی فریضے کی ادائیگی کے لیے ان مغربی نظریات کا گہرا مطالعہ ناگزیر ہے۔
اسلامی نظامِ حیات صدیوں تک دنیا پر غالب رہا ہے اور اس نے ایک وسیع خطے پر حکم رانی کی ہے۔ مغربی دنیا کی موجودہ علمی و تہذیبی ترقی کے پس منظر میں آٹھویں سے بارہویں صدی عیسوی تک کا اسلامی عہد انسانی تاریخ کے "سنہری دور" (Golden Age) کے طور پر بھی یاد کیا جاتا ہے۔ اس تاریخی حقیقت سے واقفیت اس لیے بھی ضروری ہے کہ مسلم نوجوان اپنی تہذیبی و علمی روایت کو محض ماضی کا قصہ نہ سمجھیں بلکہ اس کے علمی سرمائے اور فکری قوت کا شعور حاصل کریں۔ اسی پس منظر میں اس اسکالر سیمینار کے انعقاد کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ ہمارے اسکالرز مغرب کے ان نظریاتی چیلنجوں کا سامنا کرنے کے قابل بنیں اور مختلف باطل نظریات و تصورات کے تعاقب، ان کے علمی محاسبے اور ان کی تردید کے لیے اپنے آپ کو علمی طور پر تیار کریں۔
ضروری ہے کہ اسلامی نظامِ زندگی کی نشاۃِ ثانیہ اور اسلامی تہذیب کے ارتقا کے لیے مغربی افکار اور ان کے اجزائے ترکیبی کا فہم و شعور اپنے اندر پیدا کیا جائے۔ صورتِ حال یہ ہے کہ مسلمانوں کی کانوینٹ نژاد اور جدید تعلیم یافتہ نسل مغرب کے مختلف فکری اسکولوں سے مرعوب اور ان کی گرویدہ بنتی چلی جا رہی ہے اور انہی کو دنیا میں ترقی و کامیابی کا واحد ذریعہ سمجھنے لگی ہے۔
اس فکری سیلاب پر بند باندھنے اور اسلام پر ان کے اعتماد و یقین کو بحال کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہمارے اسکالرز اسلامی فکر و ثقافت کو پرکشش، مدلل اور مؤثر انداز میں جدید اسلوب کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کریں۔ محض یہ کہنا کافی نہیں کہ اسلامی نظامِ حیات حق ہے بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس حقانیت کو عصرِ حاضر کے ذہن، اس کی زبان اور اس کے سوالات کو سامنے رکھتے ہوئے علمی استدلال کے ساتھ واضح کیا جائے۔
عصرِ حاضر، یعنی اکیسویں صدی میں سائنس، ٹیکنالوجی، کمیونیکیشن اور ذرائع ابلاغ کی برق رفتاری نے وسیع و عریض دنیا کو ایک گلوبل ولیج میں تبدیل کر دیا ہے۔ ہمارا موجودہ زمانہ ایٹمی توانائی اور مصنوعی ذہانت، یعنی A I کا زمانہ ہے؛ کرۂ ارض سے باہر نکل کر خلا میں تجربات کرنے، سٹیلائٹس، ڈرونز اور روبوٹس کے ذریعے انسانی زندگی کے دائرۂ کار کو وسعت دینے کا زمانہ ہے۔
چنانچہ اس زمانے کے جدید نظریات، الہامی تعلیمات سے بے زار افکار، غیر مذہبی تصورات، آزاد خیالی پر مبنی نظریات، سماجی رسوم و رواج، فکری رجحانات، ٹرینڈز (Trends) اور انسانی جذبات و نفسیات سے واقفیت ناگزیر ہے۔ اگر ہمیں عصرِ حاضر کے تقاضوں کا شعور نہیں، ہم حالاتِ حاضرہ اور انسانی سماج کی حقیقی صورتِ حال سے واقف نہیں، مارکس، لینن، ڈارون، فرائڈ اور ڈیکارٹ جیسے مفکرین کے مقبول نظریات سے متعارف نہیں، نت نئی ایجادات اور ذرائع ابلاغ کے رجحانات پر ہماری نظر نہیں، اخبارات و رسائل اور جدید علمی مباحث سے ہمارا ربط نہیں تو یہ بات طے ہے کہ ہم ایک کامیاب مضمون نگار، مصنف اور مؤلف نہیں بن سکتے۔
ایسی صورت میں ہم کفر و شرک کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں بھٹکتی انسانیت اور ظلم و ستم کی چکی میں پستے بنی نوعِ انسان کی فلاح و نجات کے لیے معتبر دعوتی، علمی، اصلاحی اور تحقیقی لٹریچر بھی فراہم نہیں کرسکتے۔
اس افتتاحی گفتگو کے بعد سمینار باقاعدہ علمی نشست میں تبدیل ہو گیا۔ ایک کے بعد ایک نوجوان محققین نے اپنے تحقیقی مقالات پیش کیے۔ ہر مقالہ کسی نہ کسی ایسے نظریے پر تھا جو آج کی دنیا میں فکری، سیاسی یا سماجی مباحث کا مرکز بنا ہوا ہے۔ مقالات کی ترتیب بھی اس انداز سے رکھی گئی تھی کہ سامعین جدید مغربی فکر کے مختلف پہلوؤں کو ایک مربوط سلسلے کے طور پر سمجھ سکیں۔
سرمایہ داری: ترقی یا عدم مساوات؟
سمینار کا پہلا مقالہ انوار عالم ندوی نے کیپٹل ازم (Capitalism) پر پیش کیا۔ انہوں نے سرمایہ دارانہ نظام کو ایک ایسے معاشی ڈھانچے کے طور پر واضح کیا جس میں تجارت، صنعت اور ذرائع پیداوار پر نجی ملکیت کو بنیادی حیثیت حاصل ہوتی ہے اور منڈی کی قوتیں قیمتوں کا تعین کرتی ہیں۔ مقالے میں اس نظام کے ارتقائی مراحل، بنیادی اصولوں اور موجودہ عالمی معیشت میں اس کے کردار کا جائزہ لیا گیا، جب کہ آخر میں اس امر کی نشان دہی کی گئی کہ دولت کا ارتکاز، معاشی عدم مساوات اور امیر و غریب کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج اس نظام پر ہونے والی اہم تنقیدات میں شامل ہیں۔
فیمن ازم: حقوقِ نسواں سے عالمی تحریک تک
دوسرا مقالہ محمد زبیر الاسرار قاسمی نے فیمن ازم (Feminism) پر پیش کیا۔ انہوں نے اس تحریک کے تاریخی پس منظر کا جائزہ لیتے ہوئے بتایا کہ ابتدا میں اس کا مقصد خواتین کو بنیادی قانونی اور سماجی حقوق دلانا تھا، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ اس کے مباحث میں صنفی شناخت، ثقافتی تصورات اور دیگر جدید موضوعات بھی شامل ہوتے گئے۔ مقالے میں مغربی دنیا کے ساتھ ساتھ مسلم معاشروں میں اس تحریک کے اثرات اور مختلف رجحانات پر بھی روشنی ڈالی گئی۔
سوشل ازم: ردِ عمل سے نظریہ معیشت تک
محمد عبد الدائم فلاحی نے سوشل ازم پر اپنا مقالہ پیش کرتے ہوئے اٹھارویں اور انیسویں صدی کے یورپ کی معاشی و سماجی صورتِ حال کو اس نظریے کے ظہور کا بنیادی پس منظر قرار دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف پیدا ہونے والا ردِ عمل رفتہ رفتہ اشتراکیت کی صورت اختیار کرتا گیا، جبکہ سوشل ازم اور کمیونزم کے باہمی تعلق کو بھی تاریخی حوالوں کے ساتھ بیان کیا۔
ریشنل ازم: عقل پسندی یا عقل پرستی؟
س کے بعد نجیب اللہ اصلاحی نے ریشنل ازم (Rationalism) پر گفتگو کرتے ہوئے اس فلسفیانہ نظریے کی تعریف، تاریخی ارتقا اور اہم مغربی مفکرین کے افکار کا جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اسلامی علمی روایت میں عقل کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے، تاہم عقل کو وحی سے بالا تر قرار دینا ایک الگ فکری رویہ ہے جس پر اسلامی مفکرین نے تفصیلی بحث کی ہے۔
قوم پرستی کا تصور
مطیع اللہ سعید عمری نے نیشنل ازم کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے قوم پرستی کے تاریخی ارتقا، اس کی مختلف اقسام اور جدید ریاستی نظام میں اس کے کردار کا جائزہ لیا۔ انہوں نے متعدد مغربی اور مشرقی دانش وروں کے افکار کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بھی بتایا کہ قومیت کا جذبہ جب اعتدال سے تجاوز کرتا ہے تو وہ برتری کے احساس اور تصادم کا سبب بن سکتا ہے۔
لبرل ازم اور فرد کی آزادی
حسن ثابت بھٹکلی نے لبرل ازم پر اپنے مقالے میں انفرادی آزادی، ریاست اور قانون کے باہمی تعلق کو موضوعِ بحث بنایا۔ انہوں نے اس نظریے کی تاریخی تشکیل، فکری بنیادوں اور جدید معاشروں میں اس کے عملی مظاہر کا جائزہ لیتے ہوئے اس کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کی۔
سیکولرازم کے مختلف ماڈل
محمد آل نبی نے سیکولرازم کے موضوع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے اس نظریے کی تعریف، ارتقا اور مختلف عملی صورتوں کا تعارف کرایا۔ مقالے میں فرانسیسی اور امریکی سیکولرازم کے ماڈلوں، سیاسی، سماجی اور تعلیمی سیکولرازم کی مختلف شکلوں اور مسلم دنیا پر ان کے اثرات کا بھی جائزہ لیا گیا۔
ہندو ازم پر تحقیقی مقالہ
سمینار کے آخری مقالہ نگار محمد شاہ فیصل تھے، جنہوں نے ہندو ازم کے تاریخی پس منظر، بنیادی عقائد، مذہبی متون اور اہم مذہبی تصورات کا تعارف پیش کیا۔ انہوں نے مختلف حوالوں کی روشنی میں ہندو مذہب کی فکری ساخت پر گفتگو کی اور آخر میں اسلامی نقطۂ نظر سے اس کے چند بنیادی عقائد کا مختصر جائزہ بھی پیش کیا۔اگرچہ پروگرام میں کمیونزم اور ہیومن ازم پر بھی مقالات شامل تھے، تاہم وقت کی قلت کے باعث ان پر مقالے پیش نہیں کیے جا سکے۔ البتہ ہر مقالے کے بعد سوال و جواب کا سلسلہ جاری رہا، جس نے علمی ماحول کو مزید متحرک اور بامقصد بنا دیا۔
فکری روایت اور معاصر دنیا کا مکالمہ
تمام مقالات کی پیش کش مکمل ہونے کے بعد صدرِ ادارہ ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی نے اپنے تاثرات میں نوجوان محققین کی علمی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کے تحقیقی سمینار تصنیفی ذوق، تنقیدی فکر اور علمی پختگی پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے مقالہ نگاروں کو مشورہ دیا کہ وہ تحقیق کے سفر کو مزید وسعت دیں، اصل مآخذ سے استفادہ کریں اور علمی دیانت کو ہر مرحلے میں مقدم رکھیں۔
اس کے بعد صدارتی خطاب کرتے ہوئے معروف دانش ور ڈاکٹر کنور محمد یوسف امین نے گفتگو کو ایک وسیع فکری تناظر عطا کیا۔ ان کے بقول مغربی جدیدیت نے گزشتہ چند صدیوں میں عالمی تہذیب پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں، لیکن اسلامی تہذیب آج بھی ایک متبادل فکری و تہذیبی نظام کی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ روایتی دینی علوم اور جدید فکری مباحث کے درمیان مضبوط ربط پیدا کیے بغیر عصرِ حاضر کے علمی چیلنجوں کا مؤثر جواب نہیں دیا جا سکتا۔
انہوں نے نوجوان محققین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مغربی فلسفے اور جدید نظریات کا مطالعہ ضرور کیا جائے مگر محض حوالہ جات نقل کرنے کے بجائے ان کا تنقیدی جائزہ بھی لیا جائے۔ ان کے نزدیک مسلم علمی روایت میں امام غزالی، شاہ ولی اللہ، مولانا اشرف علی تھانوی اور دیگر اکابر کی فکری میراث اس باب میں مضبوط رہنمائی فراہم کرتی ہے۔
صدارتی خطاب کا ایک اہم نکتہ "ریشنلٹی" اور "ریشنلزم" کے درمیان فرق کی وضاحت بھی تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسلام عقل و استدلال کی حوصلہ افزائی کرتا ہے مگر عقل کو وحی سے بالاتر قرار نہیں دیتا۔ اسلام عقل کی قدر کرتا ہے، مگر عقل پرستی اور عقل پسندی کے درمیان فرق کو سمجھنا ضروری ہے"
سمینار کے اختتامی مرحلے میں سکریٹری ادارہ مولانا اشہد جمال ندوی نے تمام شرکاء، مقررین اور مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر دو ماہ قبل منعقد ہونے والے مضمون نویسی کے مسابقے کے کامیاب شرکاء کو کتابیں پیش کی گئیں، جب کہ موجودہ سمینار میں پیش کیے گئے مقالات میں نمایاں کارکردگی پر حسن ثابت کو انعام اول، نجیب اللہ اصلاحی کو انعام دوم اور محمد زبیر الاسرار قاسمی کو انعام سوم سے نوازا گیا۔
یہ سمینار محض چند تحقیقی مقالات کی پیش کش کا نام نہیں تھا بلکہ ایک ایسے علمی سفر کی جھلک تھا جس میں نوجوان محققین نے اپنے عہد کے غالب نظریات کو سمجھنے، ان کے تاریخی و فکری پس منظر کا مطالعہ کرنے اور اسلامی نقطہ نظر سے ان کا تنقیدی جائزہ لینے کی سنجیدہ کوشش کی۔ اس نشست نے یہ احساس تازہ کیا کہ نظریات کی کشمکش سے بھرپور موجودہ دور میں صرف جذباتی ردِ عمل کافی نہیں ہے بلکہ گہرا مطالعہ، مضبوط استدلال اور علمی تحقیق ہی وہ بنیاد ہے جس پر مؤثر فکری مکالمہ استوار ہو سکتا ہے۔
ادارۂ تحقیق و تصنیف اسلامی کی یہ روایت اس اعتبار سے قابلِ تحسین ہے کہ یہاں نوجوان اہلِ قلم کو صرف لکھنے کی تربیت نہیں دی جاتی بلکہ انہیں یہ بھی سکھایا جاتا ہے کہ کسی نظریے کو سمجھنے، اس کا تنقیدی مطالعہ کرنے اور علمی دیانت کے ساتھ اپنے موقف کو مدلل انداز میں پیش کرنے کے لیے تحقیق، مطالعہ اور مکالمہ کس قدر ضروری ہیں۔ ایسے علمی اجتماعات مستقبل کے مصنفین، محققین اور مفکرین کی فکری آبیاری میں یقیناً اہم کردار ادا کرتے رہیں گے۔
عصرِ حاضر کے جاہلی نظریات کا تعارف و تجزیہ

ادارۂ تحقیقاتِ اسلامی علی گڑھ میں نوجوان محققین کا سیمینار

