نفرت بھرے ماحول میں برادرانِ وطن میں بیداری کی ضرورت
اردو شاعری میں نعتوں کی اہمیت ہر قاری پر عیاں ہے۔ نعت لکھنا بڑی سعادت کی بات سمجھی جاتی ہے اور ہو بھی کیوں نہ کہ نبی اکرم ﷺ کی محبت ایمان کا حصہ ہے۔ مدحتِ مصطفیٰ کا یہ سلسلہ قدیم ہے۔ آپؐ کے اصحاب میں حسان بن ثابتؓ اپنی مثال آپ ہیں۔ اردو شاعری میں خوب سے خوب تر نعتیں لکھی گئیں ہیں۔ اردو شعراء میں بہزادؔ لکھنوی، ماہرؔ القادری، مظفرؔ وارثی اور مولانا عامر عثمانیؔ بطور مثال پیش کیے جا سکتے ہیں۔ جس طرح آفتاب رسالت نے ہر خطہ زمین کو منور و مجلہ فرما دیا اسی طرح اردو شاعری میں نعت کی روشنی نے نہ صرف مسلم شعراء و ادبا بلکہ غیر مسلم شعراء کے شعر و سخن کو بھی تابندگی بخشی۔ یہ نعت ہی کا اعجاز ہے کہ اس نے اپنا اثر اس طرح قائم کیا کہ کنور راجندر سنگھ بیدی کہہ اٹھے ع
عشق ہو جائے کسی سے کوئی چارہ تو نہیں
صرف مسلم کا محمد پہ اجارہ تو نہیں
نعت نگاری اور محمد ﷺ کے متعلق اپنی عقیدت کا اظہار نہ صرف برادرانِ وطن شعراء و ادبا بلکہ ملک عزیز کے سنتوں، سماج سدھارکوں اور تحریک آزادی کے رہنماؤں نے بھی کیا ہے۔ جن میں سنت ایکناتھ، سنت نام دیو،سنت تکارام، سنت تکڑوجی مہاراج، جیوتی با پُھلے جنہوں نے محمد ﷺ کی شان اقدس میں غضب کا پواڑا لکھا ہے جسے اہل ادب بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ نیز سوامی وویکا نند، گاندھی جی، سانے گروجی اور ونوبا بھاوے بھی محمد ﷺ کی ذات با برکت کا اعتراف کیے بنا نہ رہ سکے۔ وہیں مراٹھی غزل گو شاعر سریش بھٹ کی شہرہ آفاق نعت ’’اجاڑ ویران واڑ ونٹی کھڑاڑنارا جھرا محمد (ﷺ) ‘‘ اس طرح محبت میں ڈوب کر لکھی گئی ہے کہ جس طرح کوئی سچا محب مصطفیٰ لکھتا ہے ۔یہ نعت اس قدر مقبول ہوئی کہ آج بھی لوگ اسے ایورگرین مانتے ہیں اور دینی و ادبی محفلوں میں عقیدت کے ساتھ پڑھتے ہیں ۔ (بحوالہ ’’سنت مہاتمے وچار ونت آنی اسلام ‘‘سومناتھ دیشکرسندیش لائبریری، پونے )
پَوَوڑا مہاراشٹر کی ایک روایتی لوک فن اور شعری صنف ہے، جس میں عظیم شخصیات، بہادر سپوتوں کی شجاعت و بہادری یا تاریخی واقعات کو پُرجوش، ولولہ انگیز اور رواں زبان میں موسیقی کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔ اس میں نثر اور نظم دونوں کا امتزاج ہوتا ہے۔ پوواڈا کے معنی ہیں ستائش اور بہادری کا موسیقی کے ساتھ بیان، جیسا کہ شیواجی مہاراج اور ان کے سپہ سالاروں کی بہادری اور تعریف میں لکھا گیا پووڈا تاریخ میں مشہور ہے۔
نعتیہ شعر کہنے والے ہندو شعراء میں کچھ قابل ذکر نام یہ ہو سکتے ہیں: کنور راجندر سنگھ بیدی،کرشن بہاری نور، رگھوپتی سہائے فراق گورکھپوری اور جگن ناتھ آزاد وغیرہم۔ اسی طرح ایسے کئی خوش قسمت شعراء گزرے ہیں جنہوں نے یہ سعادت حاصل کی اور مدح خوانِ نبی کی فہرست میں اپنا نام لکھوایا اور نعت کے ایسے ایسے اشعار کہے ہیں کہ قاری حیران رہ جاتا ہے۔ نور احمد میرٹھی نے یہ گراں قدر کارنامہ انجام دیا ہے کہ ہندو پاک کے تقریبا تمام ایسے غیر مسلم شعراء جنہوں نے مدحت رسول میں نعتیہ اشعار کہے ہیں ان کا تذکرہ یکجا کر کے ایک کتاب ہی تالیف کر ڈالی۔ کتاب کا نام ’’بہر زباں بہر زباں ﷺ ‘‘ہے۔ 635 صفحات کی اس کتاب میں 336 شعراء کا تذکرہ ہے۔ کتاب ریختہ پر موجود ہے۔
کچھ اشعار بطور نمونہ پیش کیے جا سکتے ہیں۔ کنور راجیندر سنگھ بیدی کا شعر تو آپ پڑھ ہی چکے ہیں برج ناتھ پرشاد (مخمور لکھنوی) تو شفاعت کے عقیدے تک پہنچ گئے اور کہا:
ہندو ہوں بہت دور ہوں اسلام سے لیکن
مجھ کو بھی محمد کی شفاعت پہ یقیں ہے
جہاں کلمہ گو شعراء اپنی محبت کا اظہار مختلف انداز سے کرتے ہیں اور اپنی عقیدت کو باعث افتخار سمجھتے ہیں وہیں برادرانِ وطن شعراء نے بھی رحمت عالم سے اپنی نسبت قائم کرنے کی کم کوشش نہیں کی ہے۔ کرشن بہاری نورؔ کا انداز دیکھیں کہتے ہیں۔
دہر سے نور چلا اور حرم تک پہنچا
سلسلہ میرے گناہوں کا کرم تک پہنچا
تیری معراج محمد تو ہے قربِ معبود
میری معراج کہ میں تیرے قدم تک نہیں
(رگھوپتی سہائے (فراقؔ گورکھپوری) محمد ﷺ کو رحمت کی شاہراہ گردانتے ہوئے مقام محمد کو امت اسلام کے علاوہ سبھی سے جوڑتے ہیں اور اپنے خیالات اس طرح پیش کرتے ہیں ۔
انوار بے شمار معدود نہیں
رحمت کی شاہراہ مسدود نہیں
معلوم ہے کچھ تم کو محمد کا مقام
وہ امت اسلام میں محدود نہیں
دیدار مصطفی کی تمنا کو ہر شاعر کی نعتیہ شاعری میں پڑھنے کو مل جائے گی۔ مہابیر پنڈت بیرؔ کے جذبات ملاحظہ فرمائیں:
مجھ کو دیدار محمد کا جو حاصل ہوتا
پھر جہاں میں نہ کوئی میرے مقابل ہوتا
خواب ہی میں کبھی شکل اپنی دکھائی ہوتی
یا نبی آپ کا دیدار تو حاصل ہوتا
آپؐ کی محبت جزوِ ایمان ہے قرآن وحدیث میں بھی یہ بات درج ہے اور شعراء نے اس مضمون کو بارہا برتا ہے۔ چندر پرکاش جوہریؔ اس بات کو یوں پیش کرتے ہیں
اتنا کوئی اللہ کو محبوب نہیں ہے
صورت بھی حسیں آپ کی سیرت بھی حسیں ہے
اللہ کے دیدار سے محروم رہے گا
دیدار نبی کا جسے ارمان نہیں ہے
مدینے کی حاضری اور واپس نہ آنے کی چاہت ہر محبِ نبی کی آرزو ہوتی ہے۔ ان دونوں خیالات کو بڑی ہی خوبصورتی سے ہمدمؔ گوری پرشاد نے یوں شعر کے پیکر میں ڈھالا ہے:
شوقِ پا بوسی لیے چل تو مدینے مجھ کو
زہے قسمت کہ بلایا ہے نبی نے مجھ کو
واپسیں دم ہے مجھے ذکر نبی کرنے دو
دوستو موت کے آتے ہیں پسینے مجھ کو
رویندر جین اعتراف کرتے ہیں کہ آپ کے محبین میں صرف مسلمان ہی ہوں یہ ضروری تو نہیں
مشکلیں ہوتی ہیں آسان رسول اکرم
آپ پر لائیں جو ایمان رسول اکرم
آپ کے چاہنے والوں میں ضروری تو نہیں
صرف شامل ہوں مسلمان رسول اکرم
پنڈت بال مکند عرشؔ ملسیانی تو نبی آخر زماں کو دین و دنیا کا آخری سہارا مانتے ہوئے بہت ہی محبت و عقیدت سے رقمطراز ہیں کہ
طوفان زندگی کا سہارا تمہیں تو ہو
دریائے معرفت کا کنارا تمہیں تو ہو
ملتی ہے تم سے ان کی نگاہوں کو روشنی
دنیا و دیں کی آنکھ کا تارا تمہیں تو ہو
آج کے اس پر فتن دور میں تذبذب کا شکار برادرانِ وطن نفرت بھرے ماحول میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اردو شاعری کے حوالے سے ان باتوں کو اجاگر کریں پراگندہ فکر اور غلط فہمی پر مبنی بیانیے کو قرطاس ذہن سے مٹا دینے کی جہد مسلسل کرتے رہیں۔
سلام اس ذات اقدس پر سلام اس فخر دوراں پر
ہزاروں جس کے احسانات ہیں دنیائے امکاں پر
سلام اس ذات اقدس پر حیات جاودانی کا
سلام آزاد کا، آزاد کی رنگیں بیانی کا
(جگن ناتھ آزادؔ)


