آج ہمارا ملک غیر یقینی حالات اور بڑھتے ہوئے تیل کے درآمدی بل کے پیشِ نظر بڑی مشکلات سے نبرد آزما ہے۔ اسی کو سامنے رکھتے ہوئے مرکزی حکومت نے ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے آئندہ پانچ سالوں کے لیے 84,084 کروڑ روپے کے نہایت اہم "سمندر منتھن" منصوبے کو منظوری دی ہے۔ اس منصوبے کا ہدف بحری علاقوں میں تیل اور گیس کی تلاش بڑھا کر طویل مدت میں تیل کی درآمدات پر انحصار کم کرنا ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس سے ملک کی توانائی کی سلامتی مضبوط ہوگی اور خود کفالتی میں اضافہ ہوگا۔
ڈیپ واٹر تیل اور گیس کی پیداوار میں اضافہ کرنے والا یہ مشن مالی سال 31-2030 تک نافذ رہے گا۔ وزارت کے مطابق بہتر جیولوجیکل سائنس کے اعداد و شمار، خطرات میں اشتراک کے نظام، مشترکہ بنیادی ڈھانچے اور گھریلو مینوفیکچرنگ صلاحیتوں کے ذریعے یہ منصوبہ ملک میں عمیق بحری تیل اور گیس کی تلاش اور پیداوار کے لیے ایک مضبوط ایکو سسٹم تیار کرے گا جس سے توانائی کی سلامتی مزید مستحکم ہوگی اور ہمارا ملک خود انحصاری کی طرف تیزی سے آگے بڑھ سکے گا۔
یاد رہے کہ ہمارا ملک دنیا کا تیسرا سب سے بڑا خام تیل استعمال کرنے والا ملک ہے اور ملک کا سالانہ تیل کا درآمدی بل تقریباً 144 ارب ڈالر (یعنی 13 لاکھ کروڑ روپے) ہے۔ حالت یہ ہے کہ ملک میں گھریلو سطح پر خام تیل کی پیداوار 16-2015 کے 3.69 کروڑ ٹن سے کم ہو کر 25-2024 میں 2.87 کروڑ ٹن رہ گئی ہے۔ حالیہ مہینوں میں تیل کی درآمدات پر انحصار بڑھ کر ریکارڈ 88.7 فیصد ہو گیا ہے۔ ساتھ ہی جیو پولیٹیکل حالات نے یہ واضح کر دیا ہے کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشت کے لیے توانائی کے وسائل کو محفوظ اور بلا رکاوٹ حاصل کرنا لاجسٹک اعتبار سے نہایت اہم ہے۔ چونکہ آئندہ برسوں میں بھارت کی توانائی کی طلب میں مسلسل اضافے کا اندازہ ہے اس لیے گھریلو سطح پر تیل اور گیس کی پیداوار بڑھانا، درآمدات پر انحصار کم کرنا، شعبہ توانائی کو مزید مضبوط بنانا اور ملک کی طویل المدتی معاشی نمو کو یقینی بنانا بے حد اہم ہے۔
اس "سمندر منتھن" منصوبے سے 68 کروڑ ٹن سے زائد تیل اور گیس کے نئے ذخائر دریافت ہونے کی توقع ہے۔ اس سے بحری علاقوں میں تلاش کی سرگرمیوں میں بہتری آئے گی اور گھریلو تیل و گیس کی پیداوار میں اضافہ ہوگا۔ نتیجتاً بڑے پیمانے پر روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ اس منصوبے سے تلاش اور پیداوار کے شعبے میں بڑی سرمایہ کاری کی بھی امید ہے۔
15 اگست 2025 کو وزیرِ اعظم مودی نے کہا تھا کہ ملک کو ترقی یافتہ بنانے کے لیے اب ہم "سمندر منتھن" کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ بھارت کے ساحل سے متصل تقریباً دس لاکھ مربع کلومیٹر کے ایکسکلوسیو اکنامک زون (EEZ) میں یہ ایکسپلوریشن کی جا سکے گی۔
ملک میں گوداوری، کرشنا، کاویری اور دیگر بڑی دریاؤں کے علاقوں، نیز انڈمان کے گہرے پانی والے بحری علاقوں میں قدرتی گیس اور تیل کے ذخائر موجود ہیں۔ ان علاقوں میں تیل و گیس کی دریافت سے لے کر پیداوار شروع ہونے تک تقریباً پانچ سے دس سال لگ سکتے ہیں، جبکہ تیل کا ایک کنواں کھودنے کی لاگت تقریباً 125 سے 150 ملین ڈالر، یعنی 1192 سے 1431 کروڑ روپے تک ہے۔ اس میں فی کنواں حکومت 675 کروڑ روپے یعنی 50 فیصد فراہم کرے گی جب کہ بقیہ خرچ حکومت کے ساتھ مل کر اس منصوبے پر کام کرنے والی کمپنی برداشت کرے گی۔
حکومت کا کہنا ہے کہ ملک میں پہلے سے موجود تیل اور گیس کے کنوؤں سے پیداوار میں سالانہ چھ سے سات فیصد کی کمی آ رہی ہے۔ اس لیے گھریلو پیداوار کو برقرار رکھنے کے لیے نئے کنوؤں کی تلاش بے حد اہم ہے۔
خام تیل اور گیس سمندر اور دریاؤں کے گہرے پانی کے نیچے چٹانوں میں پائے جاتے ہیں۔ جب کروڑوں سال تک بحری جاندار، پیڑ پودے وغیرہ سمندر کی تہہ میں چٹانوں کے نیچے دبے رہتے ہیں تو ان سے ہائیڈرو کاربن بنتے ہیں اور انہی سے خام تیل اور گیس وجود میں آتے ہیں۔ ایسی دریافت کے لیے کئی مرحلوں سے گزرنا پڑتا ہے۔
پہلے مرحلے میں سیسمک سروے، یعنی زلزالی دریافت کے لیے استعمال ہونے والے جہاز کام آتے ہیں۔ یہ لمبی لمبی کیبلوں کے ذریعے پانی میں ایئر گن (Air Gun) سسٹم یعنی ہوا والی مشینیں ڈال کر کھینچی جاتی ہیں۔ یہ مشینیں پانی کے اندر تیز آواز والی ساؤنڈ ویوز پیدا کرتی ہیں جو سمندر کی تہہ میں موجود چٹانوں سے ٹکرا کر واپس لوٹتی ہیں۔ تیرتی ہوئی کیبلوں میں لگے ہائیڈروفون ان لہروں کو ریکارڈ کرتے ہیں۔ اس سے زمین کے اندرون کا تھری ڈی نقشہ تیار ہوتا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ کہاں کہاں ہائیڈروکاربن پھنسے ہو سکتے ہیں۔
سروے کے بعد پھر ایکسپلوریشن ویل، یعنی دریافت کے لیے کنواں کھودا جاتا ہے۔ کنویں کی ڈرلنگ سب سے مہنگا اور پُرخطر مرحلہ ہوتی ہے۔ اس میں کئی ماہ بلکہ سال بھی لگ سکتے ہیں۔ ایکسپلوریشن ویل سے یہ پتہ لگانا مشکل ہوتا ہے کہ وہاں تیل وغیرہ کا ذخیرہ کتنا بڑا ہے اور اس کی کیفیت کیسی ہے۔ اس کے لیے اس علاقے میں مختلف مقامات پر کئی اپریزل ویل (Appraisal Well) کھودے جاتے ہیں۔
انجینئر ریزرو کے دباؤ، گہرائی وغیرہ کا تجزیہ کر کے طے کرتے ہیں کہ یہاں سے تیل نکالنا سود مند ہے یا نہیں۔ اسی بنیاد پر پروڈکشن ویل یعنی تیل، گیس وغیرہ نکالنے کے کنوؤں کی تعداد اور مقامات کا درست اندازہ لگایا جاتا ہے۔
ہمارا ملک خام تیل کا 88 فیصد بیرونی ممالک سے خریدتا ہے جس کے لیے اسے 144 بلین ڈالر، یعنی تقریباً 13 لاکھ کروڑ روپے خرچ کرنے پڑتے ہیں۔ ضرورت کا محض 12 فیصد تیل بھارت خود پیدا کرتا ہے۔ اس میں سے 47 فیصد پیداوار خشکی سے جبکہ 53 فیصد آف شور، یعنی سمندر میں قائم تیل کے کنوؤں سے ہوتی ہے۔
سمندر منتھن سے ملک کی تیل و گیس کی ضرورت ایک ہی جست میں مکمل طور پر پوری نہیں ہو سکے گی۔ کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی ICRA کے سینئر وائس پریسیڈنٹ پرشانت وششٹھ کا کہنا ہے کہ اس پروجیکٹ سے غیر ملکی تیل و گیس کی خریداری میں محض پانچ فیصد ہی کمی آئے گی کیوں کہ ملک میں روز بروز توانائی کی ضرورت بڑھ رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ منصوبہ گہرے پانی اور انتہائی گہرے پانی والے کنوؤں کی ڈرلنگ کے لیے امداد فراہم کرتا ہے، جہاں گھریلو اپ اسٹریم شعبے کے پاس محدود تجربہ ہے۔ ان ذخائر کا استحصال بہت زیادہ سرمایہ طلب کرتا ہے اور یہ نہایت پُرخطر بھی ہوتا ہے۔
یہ منصوبہ اتنی خطیر رقم کے ساتھ دریافت کے سب سے زیادہ خطرات والے مرحلے سے منسلک ہے۔ منصوبہ بند 60 کنوؤں میں سے ہر ایک پر تقریباً 650 کروڑ روپے لاگت آتی ہے۔
حکومت کو اندازہ ہے کہ اس منصوبے سے تقریباً 600 ملین ٹن تیل کے مساوی ہائیڈروکاربن ذخائر کا پتہ چل سکے گا۔ واضح رہے کہ اتنی بڑی رقم خرچ کرنے کے بعد بھی اس بات کی کوئی ضمانت نہیں ہوتی کہ وہاں سے تیل ضرور ہی نکلے گا۔
ویسے بھارت میں زمینی اور بحری علاقوں میں 26 ایسے خطے ہیں جہاں تیل اور گیس کے ذخائر موجود ہیں۔ ان میں سینکڑوں تیل کے کنویں قائم ہیں۔ مغربی ساحل پر ممبئی ہائی تیل کے کنوؤں کا سب سے بڑا علاقہ ہے۔ آندھرا پردیش کے ساحل کے قریب کرشنا-گوداوری بیسن، اڈیشہ، مغربی بنگال کا مہاندی بیسن اور انڈمان بیسن آف شور علاقے ہیں، جہاں سمندر میں تیل یا گیس کے ذخائر موجود ہیں۔ اس کے علاوہ آسام، گجرات، راجستھان اور تمل ناڈو کے ساحلی علاقے میں کاویری بیسن کے آن شور (زمینی) کنویں بھی موجود ہیں۔
حکومت کا ماننا ہے کہ اگر سمندر منتھن اسکیم کامیاب ہوئی تو ملک کی سالانہ گھریلو تیل و گیس کی پیداوار 62 MMTOE سے بڑھ کر 80 MMTOE ہو جائے گی۔ ملک میں تیل اور گیس کے کل ذخائر میں چھ کروڑ MMTOE کا اضافہ ہوگا۔ ایک MMTOE سے مراد دس لاکھ میٹرک ٹن خام تیل جلانے سے حاصل ہونے والی کل توانائی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت کا ماننا ہے کہ منصوبے کی کامیابی کی صورت میں بھارت کے خام تیل کے درآمدی بل میں ایک لاکھ کروڑ روپے تک کی کمی لائی جا سکتی ہے، حالانکہ اس پروجیکٹ کو مکمل ہونے میں پانچ سے دس سال کا وقت لگے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ دریافت اور پیداوار کے شعبے کو مضبوط بنانے کے لیے حکومت کی سنجیدگی کا اظہار ہے، کیوں کہ اس پروجیکٹ سے جیولوجیکل غیر یقینی کیفیت کو کم کیا جا سکتا ہے۔
ای وائی انڈیا میں پارٹنر، ٹیکس اینڈ اکنامک پالیسی گروپ، رجنیش گپتا نے کہا کہ اچھے نتائج اس شعبے میں مزید سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کر سکتے ہیں۔ پیداوار اور نکاسی کے لیے مشترکہ بنیادی ڈھانچے پر زور دینا نہایت اہم ہے۔ یہ منصوبہ بھارت کی سمندری معیشت کو مضبوط بنانے کی ایک اہم کوشش ہے۔ اگر اس منصوبے کو جدید سائنسی تحقیق، شفاف پالیسی، ماحولیاتی تحفظ اور عوامی مفاد کو مدِنظر رکھتے ہوئے نافذ کیا جائے تو یہ نہ صرف اقتصادی ترقی بلکہ سائنسی تحقیق اور قومی خود انحصاری کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔