دنیا میں کچھ نفوس ایسے ہوتے ہیں جن کا وجود پانی، ہوا اور دھوپ کی طرح پوری بستی کے لیے سراپا فیض ہوتا ہے۔ ان کی زندگی ذاتی مفادات، خاندانی تعیشات اور دنیاوی تمناؤں کی حدود سے ماورا ہو کر اللہ کی مخلوق کے درد کا مرہم بن جاتی ہے۔ چنانچہ کیرالا کی معروف علمی و سماجی شخصیت محمد عرف ممونی مولوی صاحب انہی برگزیدہ ہستیوں میں سے ایک تھے جن کی پوری زندگی سراپا حرکت، اخلاص اور بے لوث خدمت سے عبارت رہی۔
خاندانی پس منظر، ولادت اور ابتدائی نشوونما:
ممونی مولوی صاحب کا تعلق کلکندتھل (Kalakkandathil) کے ایک معزز اور علمی گھرانے سے تھا۔ ان کا شجرہ نسب خطہ مالابار کے نامور علماء سے جا ملتا ہے۔ ان کے پردادا سیتھلی موسلیار، پونانی کے مشہور مخدوم خانوادے کے تربیت یافتہ جلیل القدر عالم تھے، جنہیں پٹیکاڈ اور ویٹاتھور جیسے علاقوں کی دینی رہنمائی کے لیے بھیجا گیا تھا۔ ان کے فرزند قاضی عبد الرحمن مسلیار، شانتھاپورم کے پہلے قاضی مقرر ہوئے۔ ممونی مولوی صاحب انہی قاضی عبدالرحمن کے فرزندِ ارجمند تھے۔
1944ء میں پیدا ہونے والے ممونی صاحب نے ابتدائی اسکول کی تعلیم کے بعد 1955ء میں نو قائم شدہ جامعہ شانتاپورم (Santhapuram Islamic College) کے اولین بیج میں باقاعدہ داخلہ لیا۔ بچپن ہی میں والد صاحب روزگار کے سلسلے میں کراچی چلے گئے، جس کی وجہ سے نو عمری میں ہی پورے خاندان کی کفالت اور ذمہ داریوں کا بوجھ ان کے ناتواں کندھوں پر آ پڑا۔ پندرہ برس کی قلیل عمر میں ان کا نکاح بی بی خدیجہ سے ہوا۔ انہوں نے گھریلو ذمہ داریاں، ازدواجی زندگی اور علم کا حصول بیک وقت سنبھالا، حتیٰ کہ دورانِ طالب علمی ہی ان کے دو بچوں کی پیدائش بھی ہو چکی تھی۔ انہوں نے پورے گیارہ برس تک شانتاپورم میں زانوئے تلمذ تہ کیا اور پختہ علمی بنیادوں کے ساتھ فارغ التحصیل ہوئے۔
دعوت، قیادت اور سماجی و خاندانی تربیت
تعلیم مکمل کرنے کے بعد 1966ء میں ان کی عملی زندگی کا آغاز چاوکاڈ کی متھووٹور (Muthuvattur) کی مسجد میں امامت سے ہوا۔ وہ محض منبر و محراب تک محدود نہ رہے بلکہ ایک ہمدرد مربی اور با وقار رہنما کی حیثیت سے ابھرے۔ 1977ء سے 1987ء تک انہوں نے جماعتِ اسلامی کے ناظم علاقہ کے طور پر سرگرم کردار ادا کیا اور عوامی مسائل کے حل کو اپنا مشن بنائے رکھا۔
اپنی مصروفیات کے باوجود انہوں نے نہ صرف اپنے بال بچوں بلکہ اپنے بھائیوں کی تعلیم و تربیت پر بھی خصوصی توجہ دی۔ ان کے تین بھائی شانتاپورم سے فارغ ہوئے، جن میں عبدالرحمن صاحب (معروف بہ اُپو) عربی زبان کے مایہ ناز اسکالر اور الامیہ الاسلامیہ کے وزیٹنگ پروفیسر بنے۔ خاندان کے کئی افراد اور بہنیں، ساحرہ اور عابدہ نے تحریکی اور دعوتی میدان میں ممتاز مقام حاصل کیا۔ ان کی اپنی اولاد بھی اعلیٰ تعلیم سے آراستہ ہو کر تحریک اور سماجی میدان میں سرگرم ہوئی۔
یتامیٰ کی کفالت اور ہمہ گیر رفاہی جدوجہد
ممونی مولوی صاحب کا اصل میدان بے سہاروں، یتیموں اور غریبوں کی دستگیری رہا۔ چھ دہائیوں پر محیط ان کے اس سفر نے ہزاروں زندگیوں کو بدلا۔ یتیم بچوں کو گود لینا، ان کے لیے خوراک اور تعلیم کا انتظام کرنا اور انہیں اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا ان کا محبوب ترین کام تھا۔
شمالی ہند کے دور دراز پسماندہ دیہات میں جب شدید سردی غریب بستیوں کو لپیٹ میں لے لیتی تو مولوی صاحب سرد راتوں میں گرم لحاف لے کر خود جھونپڑیوں تک پہنچتے۔ مساجد، اسکول، کالجوں، ہاسٹلوں اور روزگار مراکز کے طویل سلسلے قائم کرنے کے باوجود وہ ہمیشہ بھیڑ بھاڑ اور نمود و نمائش سے دور، عام بسوں اور پرہجوم ریل گاڑیوں کے ذریعے تن تنہا سفر کرتے رہے۔ جن اداروں کو انہوں نے اپنے خونِ جگر سے سینچا، ان میں اپنے لیے کبھی ایک کمرہ تک مختص نہیں کیا۔
وٹناپلی کا تعلیمی ادارہ اور دل کا درد
ممونی مولوی صاحب نے جن لا تعداد اداروں کی آبیاری کی، ان میں وٹناپلی تعلیمی و یتیم خانے کے ادارے (Vatnapally Group of Educational Institutions) کو ان کے دل میں خاص مقام حاصل رہا۔ اپنے دیرینہ رفیق اور رہنما وی پی کنہی محی الدین کٹی مولوی صاحب کے ساتھ مل کر انہوں نے اس ادارے کو ایک تناور درخت بنایا۔ وٹناپلی اطفال یتیم کمیٹی کے تحت چلنے والے تعلیمی منصوبے مالی دشواریوں کے باوجود ان کی اولین ترجیح رہے۔
زندگی کے آخری برسوں میں بھی وہ اپنے سابق طلبا کے سامنے بار بار یہی وصیت دہراتے رہے کہ ’’اللہ کے بعد اب وٹناپلی کی باگ ڈور تمہارے ہاتھوں میں ہے، اس امانت کو آگے بڑھاؤ۔‘‘ طلبا نے اپنے محسن کی اس صدا پر لبیک کہتے ہوئے ’گریٹر اسرہ‘ (Greater Usra) کے تحت اس جدوجہد کو سنبھالا۔
فقر و استغنا اور ایک نہ ختم ہونے والی بے قراری:
مولوی صاحب عاجزی، توکل، دنیا سے بے رغبتی اور فکرِ آخرت کا بے مثال نمونہ تھے۔ وہ داد و تحسین اور شہرت سے اس قدر گریزاں رہے کہ کئی سالوں تک ایک معروف جریدے کی سوانح عمری کی پیشکش کو بھی یکسر ٹالتے رہے۔
اسّی برس سے زائد عمر پانے اور نیکیوں کے انبار لگانے کے بعد بھی ان کی روح میں ایک بے چینی تلاطم خیز رہی۔ وہ کہا کرتے تھے کہ کام بہت زیادہ ہے اور ابھی جو کچھ کیا گیا ہے وہ ناکافی ہے۔ وہ ہر وقت یتیموں کی سسکیاں سنتے اور پسماندہ بستیوں کے اڑتے ہوئے چھپروں کو اپنی نگاہوں کے سامنے دیکھتے تھے۔ ان کا سینہ نیکیوں سے مالامال، ہاتھ دنیاوی مال سے خالی مگر ان کے کردار کی تابندگی بے داغ تھی۔
ممونی مولوی صاحب کی حیاتِ مستعار کا ہر ورق یہ سبق دیتا ہے کہ بندۂ مومن کا اصل سرمایہ مخلوقِ خدا کی بے غرض خدمت اور اپنے رب کی رضا کے سوا کچھ نہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی تمام تر مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے اور ان کے جلائے ہوئے اس چراغِ الفت کو تا ابد روشن رکھے۔