کچھ زندگیاں صرف پڑھی نہیں جاتیں، دل پر اتاری جاتی ہیں۔ ان کے واقعات تاریخ کے اوراق تک محدود نہیں رہتے بلکہ انسانی ضمیر میں اتر جاتے ہیں۔ رسولِ اکرم ﷺ کی حیاتِ طیبہ بھی ایسی ہی زندگی ہے۔ آپ کی بعثت پوری انسانیت کے لیے رحمت تھی۔ اس رحمت کی ایک فکر انگیز جہت یہ ہے کہ جس ہستی نے بے سہاروں کو سہارا دیا، یتیموں کو عزت دی، محروموں کو حق دلایا اور شکستہ دلوں کے لیے مرہم بنی، وہ خود بچپن ہی میں یتیمی کے کرب سے گزری تھی۔
آپ کی ولادتِ باسعادت سے پہلے ہی والدِ گرامی حضرت عبداللہ وفات پاچکے تھے۔ چھ برس کی عمر میں والدہ ماجدہ حضرت آمنہ کا سایہ اٹھ گیا اور آٹھ برس کی عمر میں دادا عبدالمطلب بھی رخصت ہوگئے۔ اس کے بعد حضرت ابوطالب نے آپ کی کفالت کی۔ قرآنِ مجید نے اس زندگی کے ابتدائی مرحلے کو ایک مختصر مگر وسیع مفہوم رکھنے والے جملے میں محفوظ کردیا:
أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيمًا فَآوَىٰ (الضحیٰ: 6)
’’کیا اس نے تمہیں یتیم پایا پھر پناہ نہ دی؟‘‘
یہ آیت محض ماضی کی خبر نہیں، ربانی تربیت کے ایک گہرے فلسفے کی ترجمان ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب پیغمبر کی یتیمی کو محرومی کا آخری عنوان نہیں بننے دیا۔ سہارے اٹھتے گئے، مگر ربانی کفالت باقی رہی۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسانی کرب، ربانی تدبیر کے سامنے نئی معنویت اختیار کرتا ہے۔ دنیا کی نگاہ میں یتیم وہ ہے جس کے سر سے باپ کا سایہ اٹھ جائے، مگر قرآن کی نگاہ میں وہ اللہ کی نگہداشت سے باہر نہیں۔
یہی احساس آگے چل کر رسول اللہ ﷺ کی معاشرتی تعلیمات میں نمایاں ہوا۔ جس نبی ﷺ سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے تمہیں پناہ دی، اسی کے ذریعے امت کو یہ سبق ملا کہ یتیم کو بے سہارا نہ چھوڑو۔
یتیمی بظاہر ایک خلا ہے۔ باپ کی آواز خاموش ہوجاتی ہے، گھر کی ایک مضبوط دیوار گر جاتی ہے اور بچے کے مستقبل پر خدشات سایہ ڈالنے لگتے ہیں۔ لیکن رسول اللہ ﷺ کی زندگی نے اس شخصی کرب کو ایسی بصیرت میں ڈھال دیا جس نے یتیم کے دکھ کو پورے معاشرے کا دکھ بنا دیا۔
فَأَمَّا الْيَتِيمَ فَلَا تَقْهَرْ (الضحیٰ: 9)
’’پس یتیم پر سختی نہ کرو۔‘‘
یہاں سختی محض جسمانی اذیت تک محدود نہیں۔ یتیم کو دھتکارنا، اس کی بے بسی سے فائدہ اٹھانا، اس کے مال پر نگاہ رکھنا یا اسے کمتر سمجھنا بھی اس ممانعت کے دائرے میں آتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات نے یتیم کو ترس کا نہیں، رحمت، عزت اور تحفظ کا مستحق قرار دیا۔
قرآن نے یتیم کے مسئلے کو محض خیرات تک محدود نہیں رکھا، بلکہ اس کے مال کے تحفظ، حقِ ملکیت کی پاسداری اور بلوغت و رشد کے بعد مال اس کے حوالے کرنے کا حکم دیا: وَآتُوا الْيَتَامَىٰ أَمْوَالَهُمْ (النساء: 2)
’’اور یتیموں کو ان کے مال دے دو۔‘‘ مزید فرمایا کہ ان کے مال کو اپنے مال کے ساتھ ملا کر نہ کھاؤ اور اسے ان کے حوالے کردو۔ (النساء: 2، 6)۔ یوں اسلام نے یتیم کی حفاظت کو جذباتی ہمدردی سے اٹھا کر حق، امانت اور عدل کی سطح پر پہنچا دیا۔
یہی امتیاز سیرتِ نبوی کی یتیم پروری کو سمجھنے کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ یتیم کو کھانا کھلانا نیکی ہے، مگر اس کے حقِ ملکیت کی حفاظت عدل؛ سر پر ہاتھ رکھنا محبت ہے، مگر تعلیم دے کر اپنے قدموں پر کھڑا کرنا بصیرت؛ غربت دور کرنا احسان ہے، مگر عزتِ نفس محفوظ رکھنا انسانیت۔ رسول اللہ ﷺ نے یتیم کو محض ترحم کا مستحق نہیں، عدل کا مستحق بنایا۔
سورۂ الماعون کا لہجہ اس معاملے میں اور بھی جھنجھوڑنے والا ہے: فَذَٰلِكَ الَّذِي يَدُعُّ الْيَتِيمَ (الماعون: 2) ’’یہ وہ ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے۔‘‘ قرآن نے یتیم کو دھکا دینے کو محض بدسلوکی نہیں بلکہ دینی بے حسی کی علامت قرار دیا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ انسانوں کے ساتھ ہمارا رویہ ہماری عبادت کے باطن کو ظاہر کرتا ہے۔ نماز پڑھنے والا اگر یتیم کو ذلت دے، مال دار اس کے حق پر قبضہ کرے یا صاحبِ اختیار اس کی بے بسی سے فائدہ اٹھائے تو مسئلہ محض ایک فرد کا نہیں، ایمان کے اخلاقی اثر کا ہے۔
رسول اللہ ﷺ کی زندگی کا ابتدائی تجربہ اس لیے بھی غیر معمولی ہے کہ آپ نے اپنی یتیمی کو شکایت کی دیوار نہیں بننے دیا، بلکہ اپنی محرومی کو دوسروں کے لیے رحمت کا دروازہ بنادیا۔ بعض لوگ اپنے زخم عمر بھر اٹھاتے ہیں، بعض انہی زخموں سے دوسروں کے لیے مرہم تیار کرتے ہیں۔ محمد مصطفیٰ ﷺ کی زندگی اسی عظمت کی مثال ہے۔
سورۂ ضحیٰ اس حقیقت کو مزید روشن کرتی ہے: وَوَجَدَكَ يَتِيمًا فَآوَىٰ • وَوَجَدَكَ ضَالًّا فَهَدَىٰ • وَوَجَدَكَ عَائِلًا فَأَغْنَىٰاس نے تمہیں یتیم پایا تو پناہ دی، راہ کی جستجو میں پایا تو رہنمائی دی اور تنگ دست پایا تو غنی کردیا۔ پھر فرمایا: فَأَمَّا الْيَتِيمَ فَلَا تَقْهَرْ۔ گویا جس ہستی کو اللہ نے پناہ دی، اسے حکم ہوا کہ یتیم کو قہر کا نشانہ نہ بننے دینا؛ جس نے محرومی دیکھی، اسے محروم کے حق کا محافظ بنادیا گیا؛ جسے سہارا ملا، وہ بے سہاروں کا سہارا بن کر آیا۔
یہ نسبت محض جذباتی نہیں، تربیتی بھی ہے۔ کسی دکھ سے گزر جانا کافی نہیں؛ اس سے کیا سبق اخذ کیا گیا، اصل اہمیت اس کی ہے۔ یتیمی انسان کو سخت بھی کرسکتی ہے اور نرم بھی، محرومی خود غرض بھی بنا سکتی ہے اور دوسروں کے دکھ کا ترجمان بھی۔ رسول اللہ ﷺ کی یتیمی نے آپ کے دل میں انسانیت کے لیے رحمت کی وہ وسعت پیدا کی جو کسی خاندان یا قوم تک محدود نہ رہی۔ آپ رحمۃ للعالمین بن کر آئے۔
اسی لیے یتیم کے بارے میں نبوی تعلیم کو محض خیرات کی ترغیب سمجھنا سیرت کے اس عظیم باب کو محدود کردینا ہے۔ بات صرف اتنی سی نہیں ہے کہ ’’یتیم کو کچھ دے دو‘‘، بلکہ اس کے ساتھ ایسا برتاؤ کرو جس سے اس کی عزت نفس مجروح نہ ہو۔ اس کے سر پر ہاتھ رکھو، مگر احسان کا بوجھ نہ رکھو؛ اس کے مال کی حفاظت کرو، مگر اس کی بے بسی سے فائدہ نہ اٹھاؤ؛ اسے تعلیم دو، مگر ہمیشہ محتاج نہ بنائے رکھو؛ اس کے مستقبل کا انتظام کرو اور اس کے حال کی تنہائی بھی سمجھو۔ یہی وہ کردار ہے جو ’’دردِ یتیمی‘‘ کے شخصی تجربے سے اٹھ کر ’’یتیموں کی مسیحائی‘‘ بن جاتا ہے۔
یتیم کے سر پر ہاتھ: نبوی رحمت کا ایک پورا معاشرتی دستور
رسول اللہ ﷺ نے یتیم کی کفالت کو جس مقام پر پہنچایا، اس سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام میں یتیم پروری محض معاشرتی خدمت نہیں، قربِ نبوی کا وسیلہ بھی ہے۔ حضرت سہل بن سعدؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے‘‘، پھر آپ نے شہادت اور درمیانی انگلی کو ملا کر اشارہ فرمایا۔ یہ اشارہ محض مثال نہیں، اس قربت کی تصویر ہے جسے دنیا کی کوئی دولت نہیں خرید سکتی۔ جس بچے کو دنیا بے سہارا سمجھتی ہے، اللہ کے ہاں اس کی کفالت کرنے والے کے لیے ایسی عظیم منزل ہے۔
صحیح مسلم میں بھی حضرت ابوہریرہؓ سے یتیم کی کفالت کرنے والے کے لیے رسول اللہ ﷺ کی قربت کی یہی بشارت منقول ہے۔ اس تعلیم کی وسعت یہ ہے کہ یتیم صرف خاندان کی ذمہ داری نہیں، امت کی ذمہ داری بھی ہے۔ نبوی تعلیم نے اخوت کو نسب کی حدود سے وسیع کردیا: یتیم کی کفالت اس لیے نہیں کہ وہ میرا عزیز ہے، بلکہ اس لیے بھی کہ وہ اللہ کی امانت اور انسانی کرامت کا حامل ہے۔
حضرت انس بن مالکؓ کی زندگی نبوی تربیت کی ایک دل نشیں مثال ہے۔ کم عمری میں ان کی والدہ حضرت ام سلیمؓ انہیں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لے آئیں۔ وہ طویل عرصے آپ کے ساتھ رہے اور بیان کرتے ہیں کہ آپ نے کبھی یہ نہیں کہا کہ تم نے یہ کیوں کیا، نہ کسی رہ جانے والے کام پر ملامت فرمائی۔ اس میں تربیت کا ایک لطیف اصول سامنے آتا ہے: بچے کی اصلاح مسلسل ملامت سے نہیں، اعتماد کے ماحول سے ہوتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ بچوں کو کم سنی کی وجہ سے حقیر نہیں سمجھتے تھے۔ غلطی کو شخصیت کا عیب بنا دینا آپ کے اسلوب کا حصہ نہ تھا۔ یتیم بچے کے لیے یہ رویہ اور بھی اہم ہے، کیونکہ وہ پہلے ہی ایک بڑے فقدان سے گزرا ہوتا ہے۔ مسلسل ملامت، ترحم اور احساسِ کمتری اس کی شخصیت کو سکیڑ سکتے ہیں، جب کہ محبت، ذمہ داری اور اعتماد اسے محرومی کو اپنی شناخت بننے سے روک سکتے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ کی یتیم پروری میں یہی نفسیاتی بصیرت دکھائی دیتی ہے۔ آپ نے یتیم کو معاشرے کے رحم و کرم پر چھوڑنے کے بجائے اس کے گرد محبت اور ذمہ داری کا حصار قائم کیا۔ قرآن نے فرمایا: وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْيَتَامَىٰ قُلْ إِصْلَاحٌ لَّهُمْ خَيْرٌ (البقرہ: 220) ’’وہ آپ سے یتیموں کے بارے میں پوچھتے ہیں، کہہ دیجیے: ان کے معاملات کی اصلاح بہتر ہے۔‘‘ اصلاح کا مفہوم صرف آج کی ضرورت پوری کرنا نہیں؛ اس میں تعلیم، کردار سازی، حقوق کا تحفظ اور ایسا مستقبل شامل ہے جس میں وہ خود اپنے قدموں پر کھڑا ہوسکے۔
اسی لیے قرآن نے یتیم کے مال کے بارے میں ایسی ہدایات دیں جو محض حفاظت نہیں، خود کفالت کی تیاری بھی ہیں۔ سرپرست کو حکم دیا گیا کہ یتیموں کو آزمائے، ان میں رشد دیکھے اور جب وہ مال سنبھالنے کے قابل ہوجائیں تو ان کا مال ان کے حوالے کردے۔ (النساء: 6)۔ یہ اسلامی کفالت کا بلند تصور ہے: کسی کو ہمیشہ محتاج رکھنا کفالت نہیں؛ اسے اس مقام تک پہنچانا جہاں وہ اپنے حقوق و ذمہ داریاں خود سنبھال سکے، حقیقی کفالت ہے۔
آج یتیموں کے لیے رفاہی نظام تشکیل دیا جائے تو تعلیم، پیشہ ورانہ تربیت، مالی شفافیت، نفسیاتی نگہداشت، قانونی تحفظ اور باعزت روزگار اس کے بنیادی اجزا ہونے چاہییں۔ سالانہ کپڑے دے دینا ایک تصویر بنا سکتا ہے، مستقبل نہیں۔
قرآن نے یتیم کے مال میں خیانت پر سخت وعید سنائی: إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَىٰ ظُلْمًا إِنَّمَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ نَارًا (البقرہ: 220) ’’جو لوگ ظلم کے ساتھ یتیموں کا مال کھاتے ہیں، وہ اپنے پیٹ میں آگ بھرتے ہیں۔‘‘ اس وعید سے یتیم کے مال کی حرمت واضح ہوتی ہے۔ جس کے پاس اپنے حق کے تحفظ کی طاقت کم ہو، اس کے حق کی حفاظت کی ذمہ داری طاقت ور پر اتنی ہی زیادہ عائد ہوتی ہے۔
قرآن نے یتیم لڑکیوں کے حقوق کے معاملے میں بھی سرپرستوں کے مفاداتی رویے کی اصلاح کی۔ حضرت عائشہؓ نے آیاتِ نساء کی تفسیر میں بیان کیا کہ بعض سرپرست یتیم لڑکی کے مال یا حسن کی وجہ سے اس سے نکاح چاہتے، مگر مناسب مہر اور حقوق ادا کرنے میں انصاف نہیں کرتے۔ قرآن نے انہیں عدل کا پابند کیا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ یتیم کی مسیحائی صرف آنسو پونچھنے کا نام نہیں؛ اس کے خلاف طاقت کے ہر ناجائز استعمال کو روکنا بھی مسیحائی ہے۔
سورۂ نساء میں وراثت کی تقسیم کے موقع پر رشتہ داروں، یتیموں اور محتاجوں کے موجود ہونے کی صورت میں انہیں کچھ دینے اور ان سے اچھی بات کرنے کی ہدایت دی گئی۔ (النساء 8:)۔ اس مختصر حکم میں انسانی نفسیات کی گہری رعایت ہے۔ محروم کو صرف چیز دینا کافی نہیں؛ عزت سے دینا بھی ضروری ہے۔ کسی یتیم کی ضرورت پوری کرتے ہوئے اس کی خود داری محفوظ رکھنا بھی صدقہ ہے۔
یہی نبوی مزاج بتاتا ہے کہ یتیم کی کفالت میں ’’کیا دیا؟‘‘ کے ساتھ ’’کیسے دیا؟‘‘ بھی اہم ہے۔ تحقیر سے دیا ہوا مال دل میں ایک نیا زخم چھوڑ سکتا ہے، جب کہ محبت سے دیا ہوا معمولی سہارا بھی زندگی بھر کا اعتماد بن سکتا ہے۔ نبوی معاشرت میں مال اور اخلاق ایک دوسرے سے جدا نہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے یتیم کی کفالت کو جنت میں اپنی قربت سے جوڑ کر کفالت کرنے والے کی ذہنیت بھی بدل دی۔ یتیم بوجھ نہیں رہا، جنت تک پہنچنے کا وسیلہ بن گیا؛ اس کی ضروریات پوری کرنا محض خرچ نہیں، آخرت کی سرمایہ کاری بن گیا؛ اور اس کے سر پر ہاتھ رکھنا کمزور پر احسان نہیں، اپنے لیے رحمت کا دروازہ بن گیا۔
اسی لیے نبوی تعلیم میں یتیم سے تعلق محض مالی نہیں، قلبی بھی ہے۔ اسے خاندان کی طرح جگہ دینا، تربیت کرنا، محبت دینا اور اس کے دکھ کو سمجھنا اس معاشرتی اخلاق کا حصہ ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے کمزوروں کو مرکز میں جگہ دی۔ آپ نے سکھایا کہ کسی بچے کی شناخت اس کے والد کی موجودگی سے نہیں، اللہ کی عطا کردہ انسانیت اور اس کی اپنی عزت سے ہے۔
یتیموں کی مسیحائی سے رحمت پرور معاشرے تک
رسول اللہ ﷺ کی یتیم پروری کا سب سے بلند پہلو یہ ہے کہ آپ نے ایک فرد کی محرومی کو پوری امت کی ذمہ داری میں بدل دیا۔ یتیم کی کفالت کی فضیلت بیان کرکے اسے جنت میں اپنی قربت کی بشارت دینا دراصل معاشرے کے ضمیر کو جھنجھوڑنا تھا۔ آپ نے یتیم پر محض احسان کی ترغیب نہیں دی بلکہ ایسا اخلاق پیدا کیا جس میں اس کی کفالت احسان سے بڑھ کر سعادت بن گئی۔
یتیموں کے لیے قائم کسی بھی رفاہی نظام کا معیار صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ کتنے بچوں کو کھانا ملا، بلکہ یہ بھی کہ کتنے تعلیم یافتہ ہوئے، کتنے اپنے پاؤں پر کھڑے ہوئے، کتنوں نے اپنی صلاحیت پہچانی اور ذہنی طور پر مضبوط ہوکر آگے بڑھے۔حضرت انسؓ کی مثال اس زاویے کو مزید روشن کرتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ طویل رفاقت نے انہیں محض خدمت گار نہیں بنایا؛ وہ بعد میں فیضان نبوت کے ایک معتبر راوی بنے۔ ان کی زندگی بتاتی ہے کہ کم عمر بچے کو محبت اور اعتماد کا ماحول ملے تو وہ صرف محتاج نہیں رہتا، آنے والی نسلوں کا استاد بھی بن سکتا ہے۔
یہی نبوی تربیت ہمیں یتیم کے بارے میں ایک گہری فکر دیتی ہے: یتیم صرف مدد کا مستحق نہیں، مستقبل کا سرمایہ بھی ہے۔ اس کے اندر بھی وہی عقل، صلاحیت اور تخلیقی قوت ہے جو کسی خوش حال گھرانے کے بچے میں ہوسکتی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اسے راستہ دکھانے کے لیے کسی ہاتھ کی ضرورت زیادہ ہوسکتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے معاشرے کے کمزور طبقات کو کنارے سے اٹھا کر مرکزِ اخلاق میں جگہ دی۔ یتیم، مسکین، غلام، بیوہ اور مسافر سب نبوی رحمت کے دائرے میں آئے۔ اس معاشرتی انقلاب کا بنیادی اصول یہ تھا کہ انسان کی قدر اس کی معاشی حیثیت سے نہیں ہوتی۔ جو کمزور ہے، وہ اسی لیے زیادہ توجہ کا مستحق ہے کہ اس کا حق چھیننے والا طاقت ور ہوسکتا ہے۔
قرآن نے یتیم کا مال کھانے کو ’’آگ‘‘ سے تعبیر کیا۔ (النساء: 10) اس میں ایک تہذیبی انقلاب پوشیدہ ہے۔ جاہلی معاشرے میں کمزور کا مال طاقت ور کے لیے آسان شکار تھا؛ وحی نے اعلان کیا کہ یتیم کا مال تمہارے ہاتھ میں رکھی ہوئی امانت ہے، اس سے خیانت اپنے انجام کو خطرے میں ڈالنا ہے۔
آج جب ہم یتیموں کے لیے رفاہی منصوبے بناتے ہیں تو سیرتِ نبوی ایک بنیادی سوال سامنے رکھتی ہے: کیا ہم یتیم کی ضرورت پوری کر رہے ہیں یا اس کی شخصیت بھی بنا رہے ہیں؟ صرف خوراک سے جسم بچے گا، تعلیم سے ذہن بنے گا، محبت سے دل سنبھلے گا، عزت سے شخصیت اٹھے گی اور تربیت سے مستقبل سنورے گا۔ جب یہ سب یکجا ہوں تو یتیمی محرومی کی شناخت نہیں رہتی۔
سیرتِ نبوی ہمیں دکھاتی ہے کہ رحمت جذبات کا نام نہیں، ذمہ داری کا دوسرا نام ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے یتیموں کے لیے صرف نرم الفاظ نہیں فرمائے؛ ان کے حقوق کے لیے احکام دیے، کفالت کرنے والوں کے لیے اجر بتایا، ان کے مال کی حفاظت کی، عزت پامال کرنے سے روکا اور معاشرے کے ضمیر کو ان کی طرف متوجہ کیا۔
آج کسی یتیم بچے کی آنکھ میں مستقبل کا خوف ہو تو سیرت ہمیں اسے امید میں بدلنے کی دعوت دیتی ہے۔ اس کے پاس کتاب نہیں تو کتاب پہنچانا، سرپرست نہیں تو سرپرستی اختیار کرنا، اس کے مال پر کسی کی نگاہ ہو تو اس کی حفاظت کرنا اور احساسِ کمتری ہو تو اس میں عزتِ نفس جگانا—یہی سیرت کی روح ہے۔ اسے یہ یقین دلانا بھی ضروری ہے کہ اس کا ماضی اس کا فیصلہ نہیں۔
دردِ یتیمی سے گزر کر یتیموں کی مسیحائی تک پہنچنے والی محمد مصطفیٰ ﷺ کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ زخم اگر اللہ کے سپرد کردیا جائے تو شکایت نہیں، بصیرت بن جاتا ہے؛ محرومی صبر سے گزرے تو خود غرضی نہیں، رحمت بن سکتی ہے؛ اور جس دل نے تنہائی دیکھی ہو، وہ نبوی اخلاق سے روشن ہوکر ہزاروں تنہا دلوں کا سہارا بن سکتا ہے۔
( مضمون نگار سے رابطہ: 7875836830 )
حضرت محمد ﷺ: دردِ یتیمی سے یتیموں کی مسیحائی تک

یتیم صرف محتاج نہیں، معاشرے کی ذمہ داری ہے: سیرتِ نبوی کا سبق

