تعلیمی نظام کی زبوں حالی دور کرنے کے لیے جامع اصلاحات پر زور
جماعت اسلامی ہند نے قومی وقار کی توہین (ترمیمی) بل 2026 میں مبہم دفعات کو مذہبی اقلیتوں کے حقوق اور شخصی آزادیوں کے لیے تشویش ناک قرار دیتے ہوئے حکومت سے قانون پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے۔ تنظیم نے واضح کیا کہ حب الوطنی کا معیار کسی مخصوص گیت، نعرے یا علامتی عمل میں شرکت نہیں ہوسکتا۔ جماعت کے مرکزی دفتر میں منعقدہ پریس کانفرنس میں تنظیم کے سینئر رہنماؤں نے قومی وقار، تعلیمی نظام کی زبوں حالی اور ملک کے مختلف حصوں میں سیلاب کی صورت حال پر اظہارِ خیال کیا۔
جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر ملک معتصم خان نے وندے ماترم سے متعلق بل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جماعت آئینی اداروں اور قومی وقار کے احترام پر یقین رکھتی ہے، تاہم وندے ماترم کے بعض اشعار اسلامی عقیدہ توحید سے مطابقت نہیں رکھتے، کیوں کہ ان میں وطن کو معبود کی صورت میں پیش کیا گیا اور بعض دیویوں سے منسوب کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق یہ اعتراض نہ نیا ہے اور نہ فرقہ وارانہ، بلکہ ہندوستان کے جمہوری و آئینی نظام میں مذہبی آزادی کے اصول کے تحت اس نوعیت کے اختلاف کو تسلیم کیا جاچکا ہے۔
ملک معتصم خان نے کہا کہ اگرچہ نئے قانون میں وندے ماترم گانا لازمی قرار نہیں دیا گیا ہے لیکن اس کے خلاف ایسے عمل کو جرم قرار دینے کی گنجائش رکھی گئی ہے جسے ’توہین‘ یا ’بے ادبی‘ تصور کیا جائے۔ قانون میں استعمال ہونے والی مبہم اصطلاحات اس کے غلط استعمال کا خطرہ پیدا کرتی ہیں اور مذہبی اقلیتوں میں بے چینی بڑھ سکتی ہے۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے تاریخی بجوئے ایمانوئیل مقدمے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے واضح کیا تھا کہ کسی شخص کو اپنے مذہبی عقیدے کی بنیاد پر قومی ترانے یا نغمے میں شریک نہ ہونے پر آئینی حقوق سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے زور دیا کہ حب الوطنی کسی مخصوص گیت، نعرے یا علامتی عمل میں شرکت سے ثابت نہیں ہوتی۔ جماعت نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ قانون پر نظرثانی کرتے ہوئے واضح حفاظتی دفعات شامل کی جائیں تاکہ قومی علامات کا احترام بھی برقرار رہے اور آئینی حقوق و شخصی آزادیوں کا تحفظ بھی یقینی بنایا جاسکے۔
تعلیمی نظام میں بنیادی اصلاحات ناگزیر
تعلیمی صورت حال پر گفتگو کرتے ہوئے جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر پروفیسر سلیم انجینئر نے کہا کہ NEET تنازع کے بعد مرکزی وزیر تعلیم کا استعفیٰ عوامی ناراضی کی شدت کو ظاہر کرتا ہے، تاہم صرف ایک فرد کی تبدیلی سے برسوں سے جاری تعلیمی خرابیوں کا ازالہ ممکن نہیں۔ انہوں نے حالیہ نیتی آیوگ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دس برس میں تقریباً 94 ہزار سرکاری اسکول بند ہوئے یعنی اوسطاً روزانہ تقریباً 25 اسکول بند کیے گئے جو تعلیمی عدم مساوات اور سرکاری نظام تعلیم کے مسلسل زوال کی علامت ہے۔
انہوں نے کہا کہ سرکاری اسکولوں کی بندش، جامعات اور تحقیقی اداروں کی گرانٹس میں کمی، تعلیم کی نجکاری، اقلیتی تعلیم اور اسکالرشپ کے بجٹ میں کٹوتی اور تعلیم و روزگار کے درمیان بڑھتا ہوا فاصلہ اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ ملک کی تعلیمی ترجیحات کا از سرنو جائزہ لیا جائے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ تعلیم پر سرکار
ی اخراجات بڑھا کر کم از کم جی ڈی پی کے چھ فیصد تک کیے جائیں، اسکالرشپ اور تعلیمی اسکیمیں بحال ہوں، سرکاری اسکولوں اور جامعات کو مضبوط بنایا جائے، تمام اداروں کے ساتھ منصفانہ سلوک یقینی بنایا جائے اور امتحانات و داخلہ نظام میں اصلاحات کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کو روزگار اور ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے کے ساتھ اداروں کی خود مختاری، آئینی اقدار، سماجی ہم آہنگی اور ہندوستان کی تکثیری وراثت کو بھی تعلیمی نظام کی بنیاد بنایا جانا چاہیے۔
سیلاب سے نمٹنے کے لیے مستقل حکمت عملی اپنانے پر زور
سیلاب کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پروفیسر سلیم انجینئر نے آسام سمیت اڈیشہ، گجرات اور کیرالا میں ہونے والی تباہی کی طرف توجہ دلائی۔ انہوں نے کہا کہ ہر سال آنے والی سیلابی آفات سے نمٹنے کو محض امدادی سرگرمیوں تک محدود رکھنے کے بجائے پیشگی تیاری اور آفات سے بچاؤ پر مبنی جامع حکمت عملی اختیار کی جانی چاہیے۔
انہوں نے سائنسی بنیادوں پر دریاؤں کے انتظام، آبی ذخائر اور دلدلی علاقوں کے تحفظ، بہتر نکاسیٔ آب، موسمیاتی تبدیلیوں کے مطابق بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور خطرے سے دوچار آبادیوں کی منصوبہ بند باز آبادکاری کو ترجیح دینے پر زور دیا۔ انہوں نے سیلاب متاثرین کے لیے جماعت اسلامی ہند کے رضاکاروں اور دیگر تنظیموں کی امدادی خدمات کو سراہتے ہوئے حکومتوں، رفاہی اداروں، کارپوریٹ شعبے اور عوام سے اپیل کی کہ وہ متاثرہ خاندانوں کی بھرپور مدد کریں۔