کیا حکومت اپنی ضد کی قیمت چکائے گی؟
ایوانِ پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس سے قبل وزیر اعظم نے کہا ’’دیش ریفارم ایکسپریس پر سوار ہے‘‘ یہ صحیح بات ہے لیکن اس ریفارم ایکسپریس پر سوار جو نوجوان جنتر منتر سے پارلیمنٹ کی جانب بڑھ رہے ہیں وہ ان کی سرکار کو کچل دیں گے۔ کاکروچ پارٹی کے معاملے میں خود کو دنیا کا سب سے زیادہ طاقتور اور ذہین سمجھنے والی مودی شاہ کی حکومت نے اپنی حماقت سے ملک کے سارے نوجوانوں کو اپنا دشمن بنالیا ہے۔ لیکن یہ کیسے ہوا اس کو ایک مثال سے سمجھیں۔ امیت شاہ پڑوسی ملک بنگلا دیش سے ہونے والی نام نہاد دراندازی کی آڑ میں مسلمانوں کو دیمک کہہ کر ان کا نام و نشان مٹانے کی گیدڑ بھپکی دیتے رہے لیکن قدرت نے خود ان کے گھر میں ابھیجیت دِپکے کی شکل میں ایک کاکروچ بھیج دیا۔ شاہ نے سوچا کہ پہلے اسے کھلا پلا کر اس کے ساتھ کھیلیں گے اور اگر زیادہ گڑبڑ کرے تو کچل دیں گے۔ قدرت کی ستم ظریفی یہ ہوئی کہ کاکروچ کی سرپرستی کے لیے سونم وانگچوک ایک مچھر کی مانند آگے آگئے اور منظر بدلنے لگا۔
شاہ نے سوچا کہ اس کو تو ہم پہلے بھی جیل میں ڈال چکے ہیں یہ کیا بگاڑ لے گا؟ لیکن سونم نے تعلیم سے آگے بڑھ کر حکومت گرانے کی بات شروع کر دی۔ یعنی دھرمیندر پردھان کے ساتھ پردھان منتری مودی کو بھی کاٹنا شروع کردیا۔ اس پر شاہ کو بہت غصہ آیا اور وہ اس کو مارنے کے لیے توپ لے آئے لیکن اس کے گولے نے خود ان کے محل کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ اپنی اس حماقت کے بعد شاہ کا یہ حال ہے کہ وہ اپنے آقا کے ساتھ کھٹمل کی مانند تکیے کے نیچے چھپ کر ٹُکر ٹُکر دیکھ رہے ہیں۔ ملک کے وزیر داخلہ کی زبان سے اپنی ناک کے نیچے ہونے والے احتجاج پر ایک لفظ نہیں نکلتا۔ ان کی حالت پر یہ ضرب المثل صادق آتی ہے "ٹک ٹک دیدم، دم نہ کشیدم" یعنی بس حیرت و خوف سے دیکھو لیکن کچھ بولنے یا کرنے کی ہمت نہ ہو۔ کاکروچ نہ تو سرکار کے خلاف تھے اور نہ وزیر اعظم کی مخالفت کر رہے تھے۔ وہ تو صرف وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ اور امتحانی نظام میں اصلاح کا معمولی مطالبہ لے کر میدان میں اترے تھے۔
بی جے پی کے لیے کسان تحریک کی مانند ان کو بھی اصلاحات کا لالی پاپ پکڑا کر جیسے وزیر زراعت نریندر تومر کو شیوراج چوہان سے بدل دیا گیا ویسے ہی کسی اور کٹھ پتلی کو دھرمیندر پردھان کی جگہ بٹھا دینا کوئی مشکل کام نہیں تھا۔ ایسا کرنے سے ملک کے طلبا و نوجوان سمیت ان کے رہنما دِپکے اور وانگچوک بھی خوش ہو جاتے اور دن بہ دن گھٹنے والی مقبولیت میں تھوڑا بہت اضافہ بھی ہوجاتا لیکن سنسکرت کا مشہور مقولہ ’وناش کالے ویپریت بُدھی‘ (تباہی کے دور میں الٹی عقل) کی مصداق شاہ نے اس طرح اغوا کروایا کہ ساھو کا بھیس بدل کر سیتا کا اغوا کرنے والا راون بھی شرما گیا۔ اس واقعہ کے بعد مشہور کامیڈی فلم ’سادھو اور شیطان‘ کے سیکویل ’ڈاکٹر اور ڈاکو‘ اگر آجائے تو سوپر ہٹ ہو جائے گی کیونکہ اس کو ملک کا ہر نوجوان نہ صرف دیکھے گا بلکہ اس کے بعد سرکار پر لعنت بھیجے گا۔ حکومت کو یہ توقع تھی کہ اس سے ڈر کر سونم وانگچوک کے اہل خانہ ڈر جائیں گے اور اس کے سامنے رحم کی بھیک مانگتے ہوئے آئیں گے لیکن ایسا نہیں ہوا۔
سونم وانگچوک کی بیگم گیتانجلی نے کمال دلیری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے شوہر کو گرفتار کرکے غیر قانونی حراست میں رکھا گیا ہے۔ ان کی صحت ٹھیک ہے اور وہ 20 جولائی کے مظاہرے میں شریک ہوں گے اور اگر اس کی اجازت نہیں ملی تو گیتانجلی خود جلوس کے اندر اپنے خاوند کی نمائندگی کریں گی۔ان کے اس دلیرانہ موقف نے پورے سنگھ پریوار کو پھر ایک بار احساس دلایا کہ دنیا ساورکر کی طرح بزدل نہیں ہے۔ 23 دنوں سے بھوک ہڑتال پر بیٹھنے والے سونم وانگچوک نے ہسپتال کو غیر قانونی حراست کا نام دے کر اپنی ہڑتال ختم کرنے کے لیے تین شرائط رکھی ہیں۔ پہلی یہ کہ حکومت تعلیمی نظام اور پیپر لیک ہونے کے مسئلے کی ذمہ داری قبول کرے۔ دوسری یہ کہ سی جے پی (CJP) کے وفد کو پارلیمنٹ کا دورہ کرنے کی اجازت دی جائے اور اراکینِ پارلیمنٹ اس بات کا یقین دلائیں کہ وہ یہ معاملہ اٹھائیں گے۔ تیسری یہ کہ اگر طبی وجوہات کی بنا پر دورہ ممکن نہ ہو تو اراکینِ پارلیمنٹ کو یہ یقین دہانی کرانے کے لیے صفدر جنگ ہسپتال آنا چاہیے۔ یعنی پارلیمنٹ تک احتجاجی جلوس پر انہوں نے کوئی مصالحت نہیں کی اور اس پر اڑے رہے۔ بی جے پی والے اس خوش فہمی کا شکار تھے کہ کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے تو نا تجربہ کار ہیں وہ خوف زدہ ہوکر فوراً ہتھیار ڈال دیں گے بلکہ امریکہ بھاگ جائیں گے لیکن انہوں نے بھی ثابت کر دیا کہ ہندوتوا کے چہرے رام دیو اور ان میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
ابھیجیت دِپکے نے خواتین کا لباس زیب تن کرکے رام دیو کی مانند فرار ہونے کے بجائے اعلان کیا کہ اب طلبا و نوجوانوں کا مطالبہ وزیر تعلیم کے استعفیٰ تک محدود نہیں رہ گیا بلکہ اب وہ دھرمیندر پردھان کو بچانے والے وزیر اعظم نریندر مودی کا بھی استعفیٰ چاہتے ہیں۔ ابھیجیت دپکے نے دہلی کے جنتر منتر سے ماحولیاتی جہد کار سونم وانگچوک کو زبردستی اٹھا کر دواخانہ منتقل کرنے پر شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نوجوانوں اور طلبا کے مسائل کی سماعت کے لیے تیار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک 60 سالہ شخص نوجوانوں اور طلبا کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے گزشتہ اکیس دنوں سے بھوک ہڑتال کر رہا تھا۔ حکومت نے اس سے بات کرنا تک گوارا نہیں کیا اور اسے پولیس کی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے زبردستی جنتر منتر سے اٹھا کر دواخانہ منتقل کر دیا گیا۔ اس طرح موجودہ حکومت نے ایک نوجوان کے اندر سوئے ہوے باغی کو جگا کر خود اپنے ہی ارتھی کے لیے لکڑیاں جمع کرنے کا کام کر دیا ہے۔
سونم وانگچوک دواخانہ میں بھی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے پر راضی نہیں ہوئے اور علاج کی سہولت سے فائدہ اٹھانے سے انکار کر دیا حالانکہ ان کے پاس بہانہ موجود تھا۔ یہ اس بات ثبوت ہے کہ وہ حکومت کے کٹھ پتلی نہیں ہیں۔ اغوا کے وقت ابھیجیت دپکے جائے واردات پر موجود نہیں تھے مگر جیسے ہی انہیں اطلاع ملی اور وہ جنتر منتر کی جانب دوڑے تو انہیں روکنے کے لیے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔ بمشکل تمام جب وہ جنتر منتر پر پہنچے تو اس وقت تک سونم وانگچوک کو منتقل کر دیا گیا تھا۔ دپکے الزام لگایا کہ پولیس نے جنترمنتر پر طاقت کا استعمال کیا اور طلبا کے ساتھ مارپیٹ بھی کی اور وہ خود بھی اس کا شکار ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ کاکروچ جنتا پارٹی نے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفی کے لیے اپنا احتجاج شروع کیا تھا لیکن حکومت ٹس سے مس نہیں ہوئی جبکہ پردھان کو مسلسل بچایا جا رہا ہے۔ اب سونم وانگچوک کی منتقلی کے بعد سی جے پی کا مطالبہ بدل گیا ہے۔ اب طلبا صرف دھرمیندر پردھان کے استعفی کا نہیں بلکہ نریندر مودی کے استعفیٰ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ دپکے نے پولیس کی ظالمانہ کارروائیوں کے باوجود احتجاج جاری رکھنےکا اعلان کرکے ثابت کر دیا کہ سی جے پی کے حوصلے پست نہیں ہوئے۔
ابھیجیت دپکے پر یہ الزام لگتا تھا کہ سونم وانگچوک تو بھوکے پیاسے پڑے ہیں مگر وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ خوب کھا پی رہے ہیں مگر آزمائش کی اس نازک گھڑی میں انہوں نے خود غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال کا آغاز کرکے تحریک میں نئی روح پھونک دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو طلبا قائدین پہلے ہی سے بھوک ہڑتال جاری رکھے ہوئے تھے اور اب وہ ان کے غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال میں شامل ہوگئے ہیں۔ دپکے نے اپنے عزم کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا کہ حکومت کی ساری کوششوں کے باوجود 20 جولائی کو سی جے پی کا پارلیمنٹ مارچ برقرار ہے۔ انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ اس مارچ میں کثیر تعداد میں شرکت کریں۔ اس اپیل کا پہلا اثر تو یہ ہوا کہ لکھنو سمیت ملک بھر کے کئی شہروں میں وانگچوک کی گرفتاری کے خلاف مظاہرے ہوئے اور پھر نوجوان جوق در جوق جنتر منتر کی جانب چل پڑے۔ یہ لوگ اپنے گھر والوں سے لڑ کر یا چھپ کر وہاں پہنچ رہے تھے۔ ان میں سے ایک نے کیمرے پر کہا میں آر ایس ایس کا رکن ہوں۔ میرے والد بی جے پی کے رہنما ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ تیس طلبا کی خود کشی کا آپ پر کوئی اثر نہیں ہے تو انہوں نے مجھے سمجھایا کہ تم پڑھائی کرو تمہیں باہر بھیج دیا جائے گا۔ اس پر میں نے کہا سمجھ لیں کہ مرنے والوں کی تعداد اکتیس ہوگئی ہے اور ان میں ایک آپ کا بیٹا بھی ہے۔ اس کے بعد میں جنتر منتر چلا آیا۔ بھوک ہڑتال پر بیٹھنے والی نیہا کی بھی یہی کہانی ہے۔
مودی اور شاہ کے اقتدار کی رعونت نے یہ سارا معاملہ بگاڑ دیا ہے۔ ان کو چاہیے تھا کہ وہ اس معاملے میں کانگریسی وزیر اعظم اندرا گاندھی سے سبق سیکھتے۔ سونم وانگچوک کے والد سونم وانگیال جو اس وقت کانگریس سے وابستہ ایک ممتاز لیڈر اور سابق وزیر تھے۔ 1984 میں انہوں نے لداخ کے عوام کو درجہ فہرست قبائل (Scheduled Tribe) کا آئینی درجہ دلانے کے مطالبے پر خود اپنی سرکار کے خلاف غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کی تھی۔ احتجاج کے کئی روز گزرنے کے بعد سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی خود لیہہ پہنچیں، سونم وانگیال سے ملاقات کی اور انہیں یقین دہانی کرائی کہ حکومت ان کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرے گی۔ اس یقین دہانی کے بعد سونم وانگیال نے اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی تھی۔ اندرا گاندھی کی اس یقین دہانی پر ان کے قتل کی وجہ سے عمل نہیں ہو سکا مگر کانگریس نے اس عہد کی پابندی کرتے ہوئے لداخ کے مختلف قبائل کوشیڈول ٹرائبس کا درجہ دے دیا ۔ یہ نہیں کہ کسانوں کو جھوٹا وعدہ کرکے ان کے مظاہرے کو ختم کرنے کے بعد اسے ٹھنڈے بستے میں ڈال دیا گیا۔ وزیر اعظم اندرا گاندھی دہلی سے لداخ گئی تھیں لیکن شرمناک پہلو یہ ہے کہ خود پسند اور مغرور مودی لیہ سے دہلی آنے والے وانگچوک کے پاس بھی نہیں جاسکے۔
وزیر اعظم نریندر مودی کے پیش رو ڈاکٹر منموہن سنگھ کی حکومت نے2011ء میں اختلافات کے باوجود انا ہزارے سے بات چیت کرکے ان کی بھوک ہڑتال ختم کروائی تھی لیکن موجودہ حکومت نے کمال بے حسی کامظاہرہ کیا۔ اس نے تعلیمی اصلاحات کے مطالبے میں شامل ہونے سے صاف انکار کر دیا۔ کانگریس رہنما پون کھیڑا کے مطابق اس طرح کی بے حسی محض تکبر نہیں بلکہ ظالمانہ اور مکمل طور پر غیرجمہوری عمل ہے۔ انہوں نے کانگریس پارٹی کی طرف سے جنتر منتر پر سونم وانگچوک اور مظاہرین سے ملاقات کرکے ان سے بگڑتی ہوئی صحت کے پیش نظر اپنی ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کی۔ پون کھیڑا نے مشورہ دیا کہ تحریک اپنے لوگوں کو کھونے سے مضبوط نہیں ہوتی حالانکہ تحریکات کی تاریخ گواہ ہے کہ وہ قربانیوں کے لہو سے سر سبزو شاداب ہوتی ہیں۔ خیر پون کھیڑا نے سونم کی ہمدردی میں کہا کہ ہمیں لڑنے کے لیے زندہ رہنا پڑتا ہے لیکن اس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ این سی پی رہنما سپریہ سولے نے بھی بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کے ساتھ ملک کو مستقبل میں ان کی آواز اور قیادت کی ضرورت پر زور دیا مگر وہ بھول گئیں کہ اس طرح اچانک بھوک ہڑتال ختم کرنے سے ان کی آواز کمزور ہو جائے گی۔
سپریہ سولے اور پون کھیڑا کا مودی حکومت کی جانب سے طلبا کے ساتھ با معنی بات چیت شروع نہ کرنے پر افسوس بجا ہے مگر یہی اس سرکار کا شعار ہے۔ اس کی سب سے بڑی مثال ڈاکٹر جی ڈی اگروال کی بھوک ہڑتال اور ان کی موت ہے۔ مودی نے جب گجرات کے ساتھ اترپردیش سے انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا تو بنارس آکر کہا مجھے ماں گنگا نے بلایا ہے لیکن الیکشن جیتنے کے بعد گنگا ماتا کا یہ ناخلف بیٹا اپنی ماتا کو بھول گیا۔ دہلی میں اقتدار سنبھالنے کے تین سال بعد یو پی میں یوگی سرکار آگئی مگر پھر بھی گنگا کو نظر انداز کیا گیا تو ہریدوار میں واقع ماتری سدن نامی آشرم کے سادھوؤں نے الزام لگایا کہ نریندر مودی کی بی جے پی جو 2014 میں گنگا کو صاف کرنے کے نعرے پر اقتدار میں آئی تھی ’مغرور ہے اور دریا کی صفائی میں اس کی کوئی دلچسپی نہیں ہے۔‘ اسی کے ساتھ اپنی روایت کو جاری رکھتے ہوئے معروف ماحولیات کے انجنیئر 86 سالہ جی ڈی اگروال نے بھوک ہڑتال شروع کردی۔ اگروال، جنہیں سوامی گیان سوروپ آنند بھی کہا جاتا تھا 111 دن کی بھوک ہڑتال پر بیٹھے رہے مگر سرکار ٹس سے مس نہیں ہوئی یہاں تک کے وہ آنجہانی ہو گئے اور مودی سرکار وارانسی کو کیوٹو نما سیاحتی مرکز بنانے کا خواب دِکھا کر گنگا کے کنارے کاریڈور بنانے میں لگ گئی۔ اس طرح گنگا کے کنارے بڑے بڑے ہوٹل بنوائے گئے کروز شروع ہوگئی اور دوستوں کی کمائی ہونے لگی۔ ظاہر ہے کہ اس میں سے دلالی بھی آنے لگی ہوگی۔
پروفیسر جی ڈی اگروال نے امریکہ میں یونیورسٹی آف کیلیفورنیا برکلے سے تعلیم حاصل کی تھی اور وہ 2011 میں آئی آئی ٹی سے تدریس کی ذمہ داری چھوڑ کر سادھو بن گئے تھے۔ موت سے پہلے انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کو تین خط لکھے لیکن انہیں کوئی جواب نہیں ملا تھا۔یہ عجیب اتفاق ہے کہ پروفیسر اگروال ہندو قوم پرستوں کے زیادہ قریب تھے مگر کانگریس پارٹی نے ان کی جانب زیادہ توجہ دی۔ انہوں نے کانگریس کی حکومت کے دوران آٹھ بار بھوک ہڑتال کی اور ہر بار کوئی نہ کوئی بات منوا لی۔ ان میں ڈیم کے ایک منصوبے کو ختم کروانا اور دریا کے ایک سو کلو میٹر کے ایک حصے کو حساس قرار دلوانا قابل ذکر تھا۔ اس کے برعکس مودی سرکار کی بے حسی نے اکتوبر 2018 میں اپنے ہی ایک نہایت قابل اور مخلص آدمی کو موت کے منہ میں پہنچا دیا لیکن اس بار معاملہ مختلف ہے۔ سونم وانگچوک کسی آشرم سے نہیں آئے بلکہ نوجوانوں کی جماعت سی جے پی کی تائید کر رہے ہیں۔ سونم وانگچوک پر ہونے والے مظالم نے نوجوانوں کے دل میں حکومت کے خلاف ایک آگ بھڑکا دی ہے۔وہ پولیس کی لاٹھیوں سے بے پروا ایوان پارلیمنٹ کی جانب بڑھ رہے ہیں ۔ ابھیجیت دپکے نے کہہ دیا کہ ہمیں کوئی نہیں روک سکتا۔ مودی ان سے بات چیت کر کے اس سونامی کو روک سکتے تھے لیکن ان کی رعونت نے اس آگ میں تیل کا کام کیا اور اب ممکن ہے کہ یہ شعلے ان کی سرکار کو بھسم کرکے ہی بجھیں گے۔ یہ سنگھ پریوار کے اختتام کی ابتدا ہے۔
(ڈاکٹر سلیم خان نیوکلیر کیمسٹری میں پی ایچ ڈی ہیں جن کی تحریریں ملک و بیرونِ ملک بڑے پیمانے پر پڑھی جاتی ہیں۔)
***
جی ڈی اگروال کے بعد سونم وانگ چک

نوجوانوں کی سونامی کے آگے بےبس مودی سرکار

