امریکی فوج کے اعلیٰ کمانڈروں جانب سے اہم ترین عسکری دستاویز Secretary of Defense Orders Book (SDOB) میں ایران کے خلاف طویل عرصے تک جنگ جاری رکھنے کے مضمرات پر انتباہ کے باوجود صدر ٹرمپ خلیج فارس میں عسکری کاروائی کاروائی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ بری، بحری اور فضائی افواج کے سربراہوں کے علاوہ متعدد چار ستارہ جرنیلوں نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف بڑے پیمانے کی فوجی کارروائیوں کو طول دینا امریکی عسکری صلاحیت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔
شہری ہلاکتیں
امریکی حملوں میں شہری نقصان کی خبریں بھی ہیں۔ دو ستمبر کو کوہستک بندرگاہ کے قریب شادی کی ایک تقریب پر امریکی طیاروں نے بم برسائے جس میں ایک بچے سمیت چار افراد جاں بحق اور پچاس زخمی ہوگئے۔ جنگ کے آغاز پر 28؍ فروری کو اسی صوبے ہرمزگان میں کم سن لڑکیوں کا ایک اسکول امریکہ اور اسرائیلی بمباروں کا نشانہ بنا جس میں سینکڑوں بچیاں زندہ دفن ہوگئیں تھیں۔ایران نے جواباً کویت میں علی السالم اڈے پر امریکی کمانڈ پوسٹ اور ڈرون اڈہ تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے اور اس حملے میں بھی شہری نقصانات کی اطلاعات ہیں۔
آبنائے ہرمز: کھلی ہے یا عملاً رکی ہوئی؟
آبنائے ہرمز کے معاملے میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ یہ اہم بحری راستہ کھلا ہوا ہے اور روزانہ لاکھوں بیرل تیل بلا روک ٹوک اس سے گزر رہا ہے۔ تاہم بحری ٹریفک پر نظر رکھنے والے حلقے اس دعوے سے پوری طرح اتفاق نہیں کرتے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ بھی آبنائے ہرمز کے ذریعے آمدورفت میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں اور غیر یقینی صورت حال کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ دلچسپ بات کہ گزشتہ ہفتے صدر ٹرمپ نے اپنے نجی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر آبنائے ہرمز کا نام بدل کر آبنائے ٹرمپ  رکھنے کی تجویز بھی پیش کر دی۔ جنگی بحران کے دوران نام بدلنے کی یہ تجویز شاید سیاسی طنز کے لیے دلچسپ ہو، لیکن عالمی تجارت اور توانائی کی سلامتی کے لیے یہ آبنائے محض ایک نام نہیں بلکہ دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں سے ایک ہے۔
بہتوں کی جان گئی، آپ کی ادا ٹہری
امریکی صدر اس تصادم کو جنگ کہنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ گزشتہ ہفتے انہوں نے ایران کے ساتھ جاری چھ ماہ سے زائد عرصے کے فوجی تصادم کو small potatoes for us یعنی ’’ہمارے لیے معمولی سی بات‘‘ قرار دیا۔ اسی روز نائب صدر جے ڈی وانس نے بھی کہا کہ اسے جنگ نہیں کہا جائے گا کیونکہ فائرنگ نہیں ہو رہی ہے۔ امریکی وزیر تجارت ہاورڈ لٹنک دو ستمبر کو یہاں تک کہ گئے کہ یہ جنگ ہے ہی نہیں اور اس میں کوئی امریکی فوجی ہلاک نہیں ہوا ہم تو بس ایرانی معیشت کا گلا گھونٹ رے ہیں۔ جنگ کے آغاز پر صدر ٹرمپ نے اسے  Excursion کہا جس کا اردو ترجمہ تو محدود کارروائی ہے لیکن یہ لفظ تفریح کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ یوں چھ ماہ سے جاری ایک بڑے فوجی تصادم کے لیے کبھی ’’Excursion‘‘ اور کبھی Small Potatoesجیسے الفاظ کا انتخاب سفاکیت اور بے حسی کا اظہار ہے۔ تاہم الفاظ خواہ کچھ بھی ہوں، میدان جنگ کے اعداد و شمار اپنی الگ زبان بولتے ہیں۔ اس تصادم میں اب تک اٹھارہ امریکی فوجی ہلاک اور 790 زخمی ہوچکے ہیں۔ ایران میں ہلاک اور زخمی ہونے والے شہریوں کی تعداد بھی ہزاروں میں بتائی جا رہی ہے۔
امریکی صدر کے  بیاں پر شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے سینیٹ میں قائد حزب اختلاف سیننٹر چک شومر نے کہا کہ جس جنگ میں ہمارے اٹھارہ کڑیل جوان مارے گئے ہوں اسے small potatoes کہنا فوج کے کمانڈر انچیف کو زیب نہیں دیتا۔ ریاست ایریزونا کے سینیٹر اور امریکی بحریہ کے سابق افسر مارک کیلی نے کہا کہ سڑک پر چلتا ایک عام آدمی (Randos) بھی اس جنگ کو ٹرمپ انتظامیہ کے مقابلے بہتر طریقے سے لڑ سکتا ہے۔ ٹرمپ صاحب کے ہر small potatoes کے پیچھے ایک انسان، ایک خاندان اور ایک المیہ ہے، ماوں کے لیے ایسا سانحہ جو وہ کبھی نہیں نہیں سکیں گی
امریکی زخمیوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے
صدر ٹرمپ اس تصادم کو کوئی بھی عنوان دیں، امریکی فوجیوں کے زخمی ہونے کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ پانچ ستمبر کو ABC ٹیلی ویژن کی ایک رپورٹ کے مطابق ایران کے ساتھ جاری تصادم میں زخمی ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد 790 ہوگئی۔ اس سے ایک روز قبل یہی تعداد 767 بتائی گئی تھی، جبکہ 28 اگست کو 758 اور 21 اگست کو 756 تھی۔ واشنگٹن اب بھی اس تصادم کو ’’جنگ‘‘ کہنے سے گریزاں ہے۔کہیں ایسا تو نہیں کہ تھکی ہوئی امریکی سپاہ بھی اس ’غیر جنگ‘ کے خاتمے کی منتظر ہے؟
ایران کی اسلامی حکومت کا خاتمہ: اصل ہدف؟
ادھر عبرانی سالِ نو، روش ہشنا پر فوجی جرنیلوں سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل کا بنیادی مشن ایران سے اسلامی حکومت کا خاتمہ ہے اور اب یہ ہدف بہت زیادہ دور نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی حکومت کمزور ہو کر لڑکھڑا رہی ہے جس کا خاتمہ اب ‘بالکل قریب’ ہے۔ یہ کوئی معمولی سیاسی جملہ نہیں بلکہ سالِ نو کے فوجی جشن میں جرنیلوں سے خطاب اسرائیل کی عسکری حکمتِ عملی کا اعلان ہے۔ اب یہ بات بالکل واضح ہو گئی ہے کہ اسرائیل کا اصل ہدف ایران کا جوہری پروگرام نہیں بلکہ اسلامی حکومت کا خاتمہ ہے۔
کیا امریکہ اور اسرائیل اس معاملے میں ایک صفحے پر ہیں؟
 اسرائیل کی طرح امریکہ کھلے لفظوں میں تبدیلی اقتدار یا رجیم چینج کی بات نہیں کرتا مگر ایران کو کمزور کرنے، اس کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے اور اس کی علاقائی طاقت کو گھٹانے میں دونوں ممالک کی تزویراتی ہم آہنگی نمایاں ہے۔ فرق صرف طریقہ کار کا ہے۔ امریکہ کی ترجیح سفارتی دباؤ اور اقتصادی پابندیاں ہیں جبکہ اسرائیل براہِ راست فوجی کارروائی کو اپنی حکمت عملی کا نمایاں حصہ بنائے ہوئے ہے۔
خونریز جنگ کو Excursion  کہیں یا Small Potatoes الفاظ بدلنے سے اس کی حقیقت نہیں بدلتی۔ اٹھارہ امریکی فوجیوں کی قبریں، 790 زخمی فوجیوں کے خاندان، ایرانی شہریوں کی ہلاکتیں اور اسکولوں و گھروں میں جان سے جانے والے بے گناہ انسان کسی لغت کے محتاج نہیں۔ صدر ٹرمپ کے لیے شاید یہ تنازعہ ایک بڑے عالمی کھیل کا محض ایک مرحلہ ہو، فوجی حکمت عملی کا ایک باب ہو یا معاشی دباؤ کا ذریعہ، لیکن جس گھر میں تابوت پہنچتا ہے وہاں Small Potatoes نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی۔ جس جنگ میں مائیں اپنے بیٹے، بچے اپنے باپ اور خاندان اپنے پیارے کھو رہے ہوں، اسے معمولی کہنا انسانیت کی تذلیل ہے۔