تعلیمی دباؤ، مبینہ امتیاز اور طلبا کی خودکشیاں ہمیں کیا سوچنے پر مجبور کرتی ہیں؟
خودکشی نہیں، جدوجہد راستہ ہے: ساحل واکوڑے کا واقعہ طلبا، حکومت اور تعلیمی نظام کے لیے بڑا سبق
ملک میں آئی آئی ٹی صرف تعلیمی ادارے نہیں بلکہ انہیں کامیابی، ذہانت، محنت اور روشن مستقبل کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ ایک متوسط طبقے کا طالب علم جب آئی آئی ٹی میں داخلہ لیتا ہے تو اس کے ساتھ صرف اس کا خواب نہیں ہوتا بلکہ پورے خاندان کی امیدیں وابستہ ہوتی ہیں۔ والدین برسوں کی محنت، کوچنگ، فیس اور قربانیوں کے بعد اپنے بچے کو اس مقام تک پہنچاتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جس نظام میں داخلہ حاصل کرنا ہی زندگی کی سب سے بڑی کامیابی سمجھا جاتا ہو، وہاں اگر وہی طالب علم اپنی زندگی ختم کرنے پر مجبور ہو جائے تو ہمیں صرف اس طالب علم کی طرف دیکھنا چاہیے یا اس پورے نظام کی طرف بھی سوال اٹھانا چاہیے؟
آئی آئی ٹی ممبئی کے طالب علم ساحل واکوڑے کی خودکشی کے معاملے کی تفتیش میں اب اس کا آئی فون-17 اہم کڑی بن گیا ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق بائیس سالہ ساحل جو انرجی سائنس اینڈ انجینئرنگ کے دوسرے سال کا طالب علم تھا 18 ستمبر کی شام ہاسٹل کے کمرے میں مردہ پایا گیا۔ اس سے چند گھنٹے قبل اس کے وسط مدتی امتحان کے دوران موبائل فون کے ذریعے چیٹ جی پی ٹی استعمال کرتے ہوئے روکے جانے کی بات سامنے آئی تھی۔ ممبئی پولیس کی کرائم برانچ اب اس روز ساحل کی نقل و حرکت اور اس کے رابطوں کی تفصیلات جاننے کی کوشش کر رہی ہے۔ تاہم، اس کے آئی فون پر پیٹرن لاک ہونے کے باعث تفتیش کار فی الحال یہ معلوم نہیں کر سکے ہیں کہ ساحل نے آخری وقت میں کن لوگوں سے فون پر رابطہ کیا یا کن افراد کی جانب سے اسے کال کی گئی۔ دوسری جانب ساحل کے اہل خانہ نے ذات پات کی بنیاد پر ہراسانی کے الزامات عائد کیے ہیں، جبکہ آئی آئی ٹی ممبئی نے معاملے کی تحقیقات کے لیے دس رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ ادارے نے اپنے ایک سابقہ بیان پر بھی باضابطہ معذرت کی ہے جس میں ساحل کے امتحان میں چیٹ جی پی ٹی کے استعمال اور اس کی موت کے درمیان تعلق قائم کیا گیا تھا۔ اب کرائم برانچ کی تفتیش میں ساحل کے موبائل فون سمیت دیگر شواہد سے کیا حقائق سامنے آتے ہیں، یہ معاملے کی سمت طے کرنے میں انتہائی اہم ہوگا۔
آئی آئی ٹی بمبئی کے طالب علم ساحل واکوڑے کی خودکشی نے ایک بار پھر یہ سوال ہمارے سامنے کھڑا کر دیا ہے۔ ساحل کے معاملے میں امتحان کے دوران موبائل فون اور چیٹ جی پی ٹی کے استعمال کا معاملہ سامنے آیا۔ آئی آئی ٹی بمبئی کا کہنا ہے کہ طالب علم کو کونسلنگ دی گئی تھی لیکن اس کے خلاف فوری طور پر کوئی تادیبی کارروائی شروع نہیں کی گئی تھی۔ دوسری جانب ساحل کے والدین نے ذات پات کی بنیاد پر ہراسانی، توہین اور ذہنی اذیت کے الزامات عائد کیے ہیں۔ پولیس تحقیقات کر رہی ہے اور معاملہ اب کرائم برانچ تک پہنچ چکا ہے۔ لہٰذا اس واقعے کا فیصلہ تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن یہاں اصل سوال صرف یہ نہیں کہ ساحل کے ساتھ کیا ہوا۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہمارا تعلیمی نظام اپنے کمزور لمحے میں کھڑے ہوئے ایک طالب علم کے ساتھ کس طرح پیش آتا ہے؟
171 اموات کے اعداد و شمار محض ایک عدد نہیں
تازہ آر ٹی آئی جوابات اور میڈیا رپورٹس پر مبنی ایک کمپائلیشن کے مطابق جنوری 2006 سے ستمبر 2026 تک آئی آئی ٹیز میں طلبا کی خودکشیوں اور غیر فطری اموات کے 171 واقعات ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ 2006 سے 2015 کے درمیان یہ تعداد 51 تھی جبکہ 2016 سے ستمبر 2026 تک یہ تعداد 120 تک پہنچ گئی۔ صرف 2021 سے ستمبر 2026 کے درمیان 74 خودکشیاں اور غیر فطری اموات ریکارڈ کی گئیں۔ 2025 میں یہ تعداد سولہ رہی، جبکہ 18 ستمبر 2026 تک تیرہ واقعات رپورٹ ہو چکے تھے۔ آئی آئی ٹی کھڑگ پور میں انتیس، آئی آئی ٹی مدراس میں چھبیس، آئی آئی ٹی کانپور میں اکیس، آئی آئی ٹی دہلی میں سترہ، آئی آئی ٹی بمبئی میں چودہ اور آئی آئی ٹی گوہاٹی میں چودہ ایسے واقعات کمپائلیشن میں درج ہیں۔
یہ اعداد کسی ایک وجہ کا ثبوت نہیں ہیں۔ یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ ہر طالب علم نے صرف تعلیمی دباؤ، ذات پات، ہراسانی یا ادارہ جاتی رویے کی وجہ سے اپنی زندگی ختم کی ہو۔ لیکن یہ اعداد ایک مسلسل اور سنجیدہ بحران کی طرف ضرور اشارہ کرتے ہیں۔ اور جب ایک ہی نوعیت کے واقعات بار بار مختلف اداروں میں رونما ہوں تو اسے محض انفرادی کمزوری کہ کر نظر انداز کرنا بھی مناسب نہیں ہے۔ کیا ہمارا تعلیمی نظام صرف ذہین طالب علم چاہتا ہے؟ ہم نے تعلیم کو بہت حد تک مقابلے میں تبدیل کر دیا ہے۔ بچپن سے بچے کو بتایا جاتا ہے کہ اچھے نمبر لاؤ۔ پھر کہا جاتا ہے کہ جے ای ای نکالو۔ اس کے بعد آئی آئی ٹی میں داخلہ لو۔ اور پھر اچھی سی جی پی اے حاصل کرو۔ اس کے بعد پلیسمنٹ حاصل کرو۔ یعنی ایک نوجوان کی پوری زندگی مسلسل امتحان بن جاتی ہے۔ لیکن اس پورے سفر میں ہم نے ایک بنیادی سوال شاید بھلا دیا کہ اگر طالب علم ناکام ہو جائے تو کیا ہوگا؟
کیا اسے دوبارہ موقع ملے گا؟ کیا وہ اپنے استاد سے بے خوف ہو کر بات کر سکے گا؟ کیا وہ اپنے گھر والوں سے کہہ سکے گا کہ وہ ذہنی دباؤ میں ہے؟ کیا وہ انتظامیہ کے سامنے شکایت کر سکے گا؟ اور سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا اسے یہ یقین دلایا جاتا ہے کہ امتحان میں ناکامی زندگی کی ناکامی نہیں ہے؟
ذات پات، طبقہ اور تعلیمی ادارے
یہاں ایک اور حساس مسئلہ سامنے آتا ہے۔ بھارت کا آئینی نظام مساوات، سماجی انصاف اور پسماندہ طبقات کے لیے مواقع فراہم کرنے کی بات کرتا ہے۔ لیکن کسی بھی ادارے میں صرف قانونی تحفظ کافی نہیں ہوتا بلکہ اصل امتحان اس وقت ہوتا ہے جب ایک طالب علم کلاس روم، ہاسٹل، لیبارٹری اور روزمرہ کی سماجی زندگی میں داخل ہوتا ہے۔ 21-2020 سے 25-2024 کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تیئی آئی آئی ٹیز میں پینتالیس طلبا کی خودکشیوں کی اطلاع دی گئی، جن میں اٹھائیس ایس سی، ایس ٹی اور او بی سی طبقات سے تعلق رکھتے تھے۔ یہ تعداد کل کا تقریباً باسٹھ فیصد بنتی ہے۔ یہ اعدادوشمار اپنے آپ میں یہ ثابت نہیں کرتے کہ ان طلبا کی موت ذات پات کی وجہ سے ہوئی۔ لیکن یہ سوال ضرور پیدا کرتے ہیں کہ کیا پسماندہ طبقات سے آنے والے طلبا کے تعلیمی، سماجی اور ذہنی تجربات کا الگ سے جائزہ لیا جا رہا ہے؟ کیا صرف یہ کہنا کافی ہے کہ سب کے لیے ایک ہی نظام ہے؟
اگر سب کے حالات ایک جیسے نہیں ہیں تو کیا سب کے ساتھ بالکل ایک جیسا برتاؤ حقیقی مساوات پیدا کر سکتا ہے؟ یہ سوال حکومت، آئی آئی ٹی انتظامیہ اور پورے تعلیمی نظام کے سامنے رکھا جانا چاہیے۔ امتیاز کے الزامات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا لیکن انہیں فیصلہ بھی نہیں بنایا جا سکتا۔
آئی آئی ٹی ممبئی میں تعلیم حاصل کرنے والے ایوت محل کے طالب علم ساحل واکوڑے کے معاملے میں اس کے والدین نے ذات کی بنیاد پر مبینہ توہین اور ہراسانی کے الزامات لگائے ہیں۔ ساحل کے والد نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے اپنے بیٹے کو آئی آئی ٹی ممبئی میں داخل کروانے کو ایک بہت بڑی غلطی بتایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر وہ اپنے بیٹے کو آئی آئی ٹی ممبئی میں داخل نہیں کرواتے تو شاید ان کا بیٹا آج زندہ ہوتا۔ اس کی موت کے لیے وہ کالج انتظامیہ کے متعصبانہ رویے کو ہی ذمہ دار ٹھیرا رہے ہیں۔ دوسری جانب آئی آئی ٹی بمبئی کے فیکلٹی فورم نے متعلقہ پروفیسر کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے امتحانی ضابطے کے مطابق کارروائی کی اور ذات پر مبنی امتیاز کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا۔ معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صحافت اور عوامی بحث میں ہمیں دونوں چیزوں کو الگ رکھنا ہوگا، کیونکہ الزام کو دبانا بھی غلط ہے اور الزام کو تحقیق سے پہلے فیصلہ بنا دینا بھی غلط ہے۔ لیکن ایک بات واضح ہے کہ اگر کسی طالب علم کو واقعی ذات، مذہب، زبان، طبقے، علاقے یا کسی بھی شناخت کی بنیاد پر ہراساں کیا جاتا ہے تو یہ صرف ایک فرد کے خلاف زیادتی نہیں بلکہ تعلیمی ادارے کے بنیادی مقصد کے بھی خلاف ہے۔ آئی آئی ٹی جیسے اداروں میں اینٹی ڈسکریمینیشن میکانزم محض کاغذ پر موجود نہیں ہونا چاہیے۔ انہیں ایسا نظام بننا چاہیے جہاں طالب علم بغیر خوف کے شکایت کر سکے اور شکایت کرنے کے بعد اسے مزید تنہائی یا انتقام کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
حکومت سے صرف آئی آئی ٹی بنانے کا نہیں بلکہ محفوظ تعلیمی ماحول بنانے کا سوال
حکومتیں بڑے بڑے تعلیمی ادارے بنا سکتی ہیں۔ نئی عمارتیں بن سکتی ہیں۔ نئی لیبارٹریاں بن سکتی ہیں۔ نئے آئی آئی ٹی کھولے جا سکتے ہیں۔ لیکن ایک تعلیمی نظام کی کامیابی کا پیمانہ صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ اس نے کتنے آئی آئی ٹی بنائے یا کتنے طلبا کو پلیسمنٹ ملی۔ یہ بھی پوچھنا ہوگا کہ کتنے طلبا نے تعلیم مکمل کرتے ہوئے خود کو محفوظ محسوس کیا؟ کتنے طلبا کو وقت پر کونسلنگ ملی؟ کتنے طلبا کی شکایات سنی گئیں؟ کتنے طلبا کو امتیاز سے تحفظ ملا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کتنے طلبا کو یہ احساس دیا گیا کہ وہ ناکام ہو سکتے ہیں، دوبارہ کھڑے ہو سکتے ہیں اور پھر بھی ان کی زندگی قیمتی ہے؟ اگر تعلیمی پالیسی کا مرکز صرف ’’ایکسِلینس‘‘ ہے لیکن طالب علم کی انسانی ضرورتیں اس کے دائرے سے باہر ہیں تو ہمیں اس تصورِ ایکسِلینس پر بھی نظرِ ثانی کرنی ہوگی۔ مسئلہ صرف طالب علم کا نہیں بلکہ نظام کا بھی ہے۔
ہم اکثر ایسے واقعات سننے کے بعد کہتے ہیں کہ بچے بہت حساس ہو گئے ہیں۔ آج کے نوجوان دباؤ برداشت نہیں کرتے۔ اتنے بڑے ادارے میں پڑھتے ہوئے انہیں مضبوط ہونا چاہیے وغیرہ۔ لیکن شاید ہمیں سوال کا رخ بدلنا چاہیے۔ اگر ایک نوجوان انیس یا بیس سال کی عمر میں اپنی زندگی ختم کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ اس کے اردگرد کا ماحول کیسا تھا۔ کیا اس کے پاس کوئی ایسا شخص تھا جس سے وہ کھل کر بات کر سکتا تھا؟ کیا استاد صرف نمبر دینے والا شخص تھا یا رہنمائی کرنے والا بھی تھا؟ کیا انتظامیہ صرف ضابطہ نافذ کرنے والی اتھارٹی تھی یا مشکل وقت میں سہارا دینے والا ادارہ بھی؟ کیا والدین نے بچے سے صرف کامیابی مانگی یا اس کی پریشانی بھی سنی؟ اور کیا ہم نے اور ہمارے معاشرے نے اسے یہ بتایا تھا کہ تمہاری سی جی پی اے تمہاری قیمت نہیں ہے؟
طلبا کے لیے ایک بہت ضروری پیغام
اس پوری بحث کا ایک پہلو ایسا بھی ہے جسے ہم کبھی نظر انداز نہیں کر سکتے۔ وہ ہے خود طلبا کی زندگی۔ اگر آپ ایک طالب علم ہیں اور آپ کو لگتا ہے کہ آپ کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے، آپ کو ہراساں کیا جا رہا ہے، آپ کے ساتھ امتیاز برتا جا رہا ہے، آپ اکیڈمک پریشر میں ہیں، آپ کسی استاد یا ادارے سے خوف زدہ ہیں، یا آپ کو لگتا ہے کہ آپ کی زندگی میں کوئی راستہ باقی نہیں بچا ہے تو ایک لمحے کے لیے رک جائیے۔ خودکشی کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ ایک امتحان دوبارہ ہو سکتا ہے۔ ایک سیمسٹر دوبارہ کیا جا سکتا ہے۔ ایک کورس بدلا جا سکتا ہے۔ ایک کالج چھوڑا جا سکتا ہے۔ ایک کریئر بدلا جا سکتا ہے۔ ایک غلط فیصلہ درست کیا جا سکتا ہے۔ لیکن زندگی واپس نہیں آتی۔
اگر آپ کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے تو خاموشی اختیار کرنا ضروری نہیں ہے۔ آواز اٹھائیے۔ والدین سے بات کیجیے۔ دوستوں سے بات کیجیے۔ کسی قابلِ اعتماد استاد سے بات کیجیے۔ کونسلر سے رابطہ کیجیے۔ اسٹوڈنٹ گریوینس میکانزم کا استعمال کیجیے۔ ضرورت پڑے تو قانونی مدد لیجیے۔ اپنے حقوق کے لیے پُرامن اور قانونی طریقے سے جدوجہد کیجیے۔ اپنے حق کے لیے لڑنا کمزوری نہیں ہے، زندگی کو بچانا بھی ایک جدوجہد ہے۔ اور اگر ادارہ آپ کی بات نہیں سنتا تو اپنی بات رکھنے کے اور راستے تلاش کیجیے۔ آپ کی زندگی کسی امتحان کے نتیجے، کسی پروفیسر کے رویے، کسی سی جی پی اے، کسی بیک لاگ، کسی ریجیکشن یا کسی شخص کی توہین سے کہیں زیادہ قیمتی ہے۔
ہمیں ایک ایسا تعلیمی نظام چاہیے جہاں طالب علم صرف کامیاب نہ ہو بلکہ زندہ بھی رہے۔ آئی آئی ٹی کیمپس میں ہونے والی اموات ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہیں کہ تعلیم کا اصل مقصد کیا ہے؟ کیا تعلیم صرف ذہین انجینئر پیدا کرنے کا نام ہے یا تعلیم ایسے انسان تیار کرنے کا نام بھی ہے جو مشکلات کا سامنا کر سکیں، سوال کر سکیں، اختلاف کر سکیں، مدد مانگ سکیں اور ناکامی کے بعد دوبارہ کھڑے ہو سکیں؟
171 واقعات کا عدد ہمیں شاید یہی بتاتا ہے کہ مسئلہ صرف چند افراد کا نہیں رہا۔ اب ضرورت ہے کہ حکومت، آئی آئی ٹی انتظامیہ، اساتذہ، والدین اور طلبا سب اپنی اپنی ذمہ داری قبول کریں۔ حکومت کو صرف نئے ادارے بنانے کے بجائے ذہنی صحت، اینٹی ڈسکریمینیشن، گریوینس ریڈریسل اور اسٹوڈنٹ ویلفیئر کے مؤثر نظام پر بھی اتنی ہی توجہ دینی ہوگی۔ اداروں کو اپنے ضابطوں کے ساتھ انسانی حساسیت بھی پیدا کرنی ہوگی۔ اساتذہ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ان کا ایک جملہ کسی نوجوان کے لیے معمولی نہیں ہوتا۔ والدین کو یہ سمجھنا ہوگا کہ بچے کا مستقبل صرف نمبر نہیں ہوتے۔ اور طلبا کو یہ سمجھنا ہوگا کہ زندگی میں شکست اور زندگی کا خاتمہ ایک چیز نہیں ہے۔ شکست کے بعد راستہ بدل سکتا ہے مگر زندگی ختم ہونے کے بعد کوئی راستہ باقی نہیں رہتا۔
اس لیے اگر نظام میں کوئی خرابی موجود ہو تو نظام سے سوال کیجیے۔ اگر امتیاز پایا جاتا ہے تو اس کے خلاف آواز اٹھائیے۔ اگر ہراسانی کی جا رہی ہے تو شکایت کیجیے۔ اگر ناانصافی ہو رہی ہو تو قانونی اور جمہوری طریقے سے اپنے حق کے لیے جدوجہد کیجیے۔ لیکن اپنی زندگی کو اس لڑائی کی قیمت مت بنائیے۔ کیونکہ کسی بھی مسئلے کا آخری جواب موت نہیں ہے۔ زندگی ہی وہ طاقت ہے جس کے ذریعے انسان اپنے حق کے لیے لڑ سکتا ہے، ناانصافی کو چیلنج کر سکتا ہے اور ایک بہتر نظام کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ کسی اعلیٰ تعلیمی ادارے میں ایک طالب علم کی موت نے ملک بھر میں تعلیمی نظام، ذات پات کے امتیاز اور ادارہ جاتی رویوں پر سوالات کھڑے کیے ہوں۔ حیدرآباد یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر روہت ویمولا کی جنوری 2016 میں خودکشی کے بعد بھی ملک بھر میں شدید احتجاج ہوا تھا۔ روہت ویمولا کے معاملے میں ذات پر مبنی امتیاز، معطلی اور ادارہ جاتی دباؤ سے متعلق سنگین الزامات اور بحث سامنے آئی تھی جبکہ اس کی موت کی وجوہات اور ذمہ داری کے تعین پر مختلف تحقیقات اور فریقین کے درمیان اختلاف بھی رہا۔ تقریباً ایک دہائی گزر جانے کے باوجود روہت ویمولا کا واقعہ آج بھی یہ بنیادی سوال ہمارے سامنے رکھتا ہے کہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں کسی طالب علم کو صرف تعلیم اور تحقیق کا موقع دینا کافی ہے یا اسے عزت، مساوات، تحفظ اور اپنی شکایت بیان کرنے کا مؤثر حق بھی ملنا چاہیے؟
ساحل واکوڑے کا معاملہ ایک بار پھر اسی سوال کو ہمارے سامنے لے آیا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ کسی بھی طالب علم کی شکایت کو اس وقت تک معمولی نہ سمجھا جائے جب تک وہ ایک سنگین بحران میں تبدیل نہ ہو جائے۔ یہی وجہ ہے کہ ساحل واکوڑے کی خودکشی کے معاملے نے ملک بھر کی طلبا برادری میں بے چینی کی لہر دوڑا دی ہے۔ آئی آئی ٹی ممبئی سمیت ملک کے مختلف تعلیمی اداروں میں ساحل واکوڑے کو انصاف دلانے کے لیے احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے ہیں۔ ساحل واکوڑے کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے والے استاد کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ بھی زور پکڑتا جا رہا ہے۔ ایک طرف کالج انتظامیہ اس معاملے میں اپنے ایک استاد کے حق میں صفائی پیش کر رہی ہے تو دوسری طرف طلبہ خاطی افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ وہیں اب یہ معاملہ ممبئی پولیس کی کرائم برانچ کی تفتیش کے دائرے میں بھی آ گیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کرائم برانچ کی تفتیش کے بعد اس معاملے سے متعلق مزید کیا حقائق سامنے آتے ہیں اور کیا اس کے بعد ان سوالات کے جواب بھی مل سکیں گے جو آج صرف ساحل واکوڑے کے خاندان ہی نہیں، بلکہ ملک کے لاکھوں طلبا کے ذہنوں میں گردش کر رہے ہیں۔