غزہ پر اسرائیلی فوج کشی کے تین برس مکمل ہونے والے ہیں، مگر نہ بمباری میں کمی آئی اور نہ امن کے وعدوں میں کوئی سنجیدگی دکھائی دی۔ عالمی اداروں کے اجلاس، سفارتی بیانات اور انسانی حقوق کی اپیلیں سب بے اثر دکھائی دیتی ہیں۔ غزہ آج بھی بارود، بھوک، خوف اور بے بسی کے درمیان سانسیں لے رہا ہے۔
اسرائیلی فوج نے گزشتہ ہفتوں میں اہلِ غزہ کو خوفزدہ کرنے کی ایک نئی حکمتِ عملی اختیار کی ہے۔ رہائشیوں کے مطابق اسرائیلی ڈرون مکانوں کی کھڑکیوں تک آکر لوگوں کو خوف زدہ کر رہے ہیں۔ اگرچہ ان ڈرونوں سے فائرنگ کا کوئی واقعہ سامنے نہیں آیا مگر شہریوں کا خیال ہے کہ یہ غزہ خالی کرانے کی نئی مہم ہے۔ بین الاقوامی اداروں کے مطابق غزہ اب انسانی زندگی کے قابل نہیں رہا۔ بارود نے زمین کو زہر آلود کر دیا ہے؛ نہ صاف پانی ہے، نہ غذا ہے، نہ دوا اور نہ نکاسیِ آب کا نظام۔ مگر ان سب کے باوجود اہلِ غزہ اپنا وطن چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
ڈاکٹر بسان: ایک خواب، ایک ڈائری، ایک المناک انجام
انہی لوگوں میں طب کے آخری سال کی طالبہ، انیس سالہ بسان حلاسہ بھی تھی۔ بچپن سے ڈاکٹر بننے کا خواب دیکھنے والی بسان کو گھر والے محبت سے ’’ڈاکٹر بسان‘‘ کہتے تھے۔ اسے مشورہ دیا گیا کہ غزہ چھوڑ دے مگر اس نے انکار کر دیا۔ اپنی ڈائری میں اس نے لکھا 'میں اپنے پیارے شہر غزہ میں پیدا ہوئی، یہیں پلی بڑھی اور اسی شہر میں مر جاؤں گی' چنانچہ چند دنوں بعد اس کا گھر بمباری کا نشانہ بنا اور وہ اپنی والدہ، بہن بھائی اور دادی سمیت بارہ عزیزوں کے ساتھ جاں بحق ہوگئی۔ عمارتیں شاید دوبارہ تعمیر ہو جائیں، مگر بسان جیسے نوجوانوں کی چھینی ہوئی زندگیاں کبھی واپس نہیں آ سکتیں۔
اسکول کی کھڑکی اور بھوک سے لڑتا بچہ
گزشتہ ہفتے وسطی غزہ کے علاقے نصیرات سے آنے والی ایک تصویر میں ایک فلسطینی لڑکا بستہ پیٹھ پر لٹکائے اپنے اجڑے ہوئے اسکول کی کھڑکیوں سے اندر جھانکتا ہوا دکھائی دیا۔ جنگ نے غزہ کے تعلیمی اداروں کو ختم کرکے رکھ دیا ہے۔ اسی دوران سولہ سالہ ابراہیم ابو سرایا کی تصویر نے بھی دنیا کی توجہ حاصل کی۔ شدید غذائی قلت اور دماغی فالج میں مبتلا ابراہیم کا وزن محض ساڑھے سات کلوگرام رہ گیا ہے۔ غزہ میں کوئی ہسپتال ایسا نہیں بچا جہاں اس کا علاج ممکن ہو۔
خستہ عمارتیں، ملبہ اور بے بسی
لوگ تباہ شدہ عمارتوں کے بچے کھچے حصوں میں سر چھپانے پر مجبور ہیں۔ گزشتہ ہفتے ایک چھ منزلہ خستہ عمارت گر گئی، جس میں عورتوں اور بچوں سمیت بارہ افراد جاں بحق اور تقریباً سو لاپتہ ہوگئے۔ بلدیہ غزہ کی امدادی مشینری تباہ ہو چکی ہے۔ چند خستہ کرینیں ملبہ ہٹانے کی کوشش کررہی ہیں، خدشہ ہے کہ ملبے میں دبے لوگوں کی بڑی تعداد زندہ دفن ہوچکی ہے ۔ امدادی کارکنوں کو نشانہ بنانے کے لیے اسرائیلی ڈرونوں کی پروازیں الگ خوف پیدا کر رہی ہیں۔
غربِ اردن میں آگ، قبضے اور تشدد
غربِ اردن میں مکانوں پر قبضے اور آتشزنی کا سلسلہ جاری ہے۔ زیتون کی فصلیں جلائی جا رہی ہیں۔ الخلیل کے گاؤں توانہ میں آبادکاروں نے مویشیوں کے چارہ گودام کو آگ لگا دی ہے۔ ٹائمز آف اسرائیل کے ایک بصری تراشے میں ایک مسلح آبادکار کو مسافر یطہ میں مویشی چرانے اور مزاحمت کرنے والی خاتون کو لاٹھی سے پیٹتے دیکھا جا سکتا ہے۔ رملہ کے گاؤں بئیرنبالا میں گھر گھر تلاشی کے دوران درجنوں افراد گرفتار کیے گئے۔
قاتل فوجی کو صدارتی معافی
تقریباً دس سال پہلے الخلیل میں زخمی اور بے بس پڑے فلسطینی عبدالفتاح الشریف کو اسرائیلی فوجی ایلور ازاریہ نے سر میں گولی مار کر قتل کیا۔ بصری شواہد سامنے آنے پر عدالت نے اسے اٹھارہ ماہ قید کی سزا سنائی، لیکن وہ صرف نو ماہ بعد رہا ہو گیا۔ گزشتہ ہفتے اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے اسے صدارتی معافی دے کر اس کا مجرمانہ ریکارڈ حذف کرنے کا حکم جاری کر دیا۔
چھینی ہوئی زمین پر عبادت گاہ
جنین کے قریب سیلات الظہر میں فلسطینیوں سے چھینی زمین پر پہلے حومش نامی بستی آباد ہوئی اور اب وہاں یہودی معبد قائم کر دیا گیا ہے۔ یعنی چھینی ہوئی زمین پر خدا کی عبادت کی جائے گی۔
استقامت: ایک غار میں آباد خاندان
اتنی سختیوں کے باوجود فلسطینی اپنی سرزمین چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ مسافر یطہ کے محمد عمار کے دو گھر مسمار کیے گئے تو اس نے علاقہ چھوڑنے کے بجائے پتھریلی غار کے فرش پر کنکریٹ ڈالا، دیواروں پر چونا کیا، شمسی پینل سے بجلی اور کنویں سے پانی کا انتظام کیا اور اسی غار کو اپنے خاندان کا گھر بنا لیا۔ اس کے دو خاندان اور گیارہ بچے اسی جگہ زندگی گزار رہے ہیں۔ یہ خاموش پیغام ہے کہ ہمیں مکان سے محروم کیا جا سکتا ہے، مگر اپنے وطن سے نہیں۔
یورو ویژن کا بائیکاٹ: ثقافت کا احتجاج
آئرلینڈ نے اسرائیل کی شرکت کے خلاف مسلسل دوسری بار یورو ویژن (Eurovision) کا بائیکاٹ کیا ہے۔ سرکاری نشریاتی ادارہ RTÉ، نہ فنکار بھیجے گا، نہ مقابلہ نشر کرے گا۔ نیدرلینڈز بھی 2027 میں شرکت نہیں کرے گا۔ یہ بائیکاٹ اسرائیل کو مقابلے سے باہر نہیں کرے گا، مگر اس کا علامتی اثر نمایاں ہے۔ گزشتہ برس پانچ ممالک کے بائیکاٹ کے بعد یورو ویژن کی ناظرین تعداد میں کمی آئی تھی۔ یورو ویژن محض موسیقی کا مقابلہ نہیں بلکہ یورپی ثقافتی روابط کا ایک بڑا پلیٹ فارم ہے۔ اس لیے ان فیصلوں کا فوری عسکری اثر نہ بھی ہو، تب بھی اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ غزہ کا معاملہ ثقافتی اور عوامی سطح پر یورپ کے اندر بھی بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔
امریکی سینیٹ میں سوالات اور اعتراضات
امریکی سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی میں ڈیموکریٹ سینیٹر جین شاہین نے اسرائیل کو چالیس ہزار بموں کی فروخت پر سوال اٹھایا ہے کہ یہ ہتھیار کہاں استعمال ہوں گے۔ اس اعتراض کے باعث دو ارب اسی کروڑ ارب ڈالر کا سودا عارضی طور پر رک گیا ہے۔ دوسری جانب سینیٹر برنی سینڈرز نے دستاویزی فلم NAZA کے فلم سازوں کے خلاف اسرائیلی کارروائی کو آزادیِ صحافت پر حملہ قرار دیتے ہوئے اسرائیل کی فوجی امداد معطل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
محمود عباس کا امریکہ میں داخلہ ممنوع
امریکہ نے مقتدرہ فلسطین کے صدر محمود عباس کو اقوامِ متحدہ اجلاس میں شرکت کے لیے ویزا دینے سے ایک بار پھر انکار کر دیا ہے۔ گزشتہ برس بھی ان کی درخواست مسترد کی گئی تھی۔ اس بار امریکی وزارتِ خارجہ نے ویزا ضابطے Section 212(a)(3)(B) کا حوالہ دیا ہے، جس کے تحت ’’دہشت گرد یا سہولت کار‘‘ افراد ویزے کے لیے نااہل قرار پاتے ہیں۔
غزہ کی تباہ شدہ عمارتیں، بھوک سے لڑتا ہوا ابراہیم، ڈاکٹر بننے کا خواب دیکھنے والی بسان، مسافر یطہ کے غار کو مسکن بنا لینے والا عمار سب ایک ہی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ فلسطینیوں کی جدوجہد محض زمین کا مسئلہ نہیں، یہ انسانیت کی بقا کا سوال ہے۔ بم، میزائیل اور ڈرون عمارتیں گرا سکتے ہیں لیکن فلسطینیوں کے عزمِ خود مختاری کو ختم نہیں کر سکتے۔